وجود

... loading ...

وجود

جلسوں اور دعوئوں کی بہار

جمعه 04 مئی 2018 جلسوں اور دعوئوں کی بہار

گزشتہ اتوار کو ملک بھر میں کئی جلسے ہوئے جن میں لاہور میں پی ٹی آئی کا جلسہ شرکاء کی تعداد کے لحاظ سے بہت بڑا تھا۔ اب اس میں اہل لاہور یا اہل پنجاب کی تعداد کتنی تھی اور خیبر پختونخوا سے آنے والے کتنے تھے، یہ متنازع مسئلہ ہے لیکن یہ واضح ہے کہ پی ٹی آئی نے پنجاب میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کردیا جس پر عمران خان کا دعویٰ ہے کہ اب پنجاب میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کا مقابلہ ہو گا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پی ٹی آئی پنجاب میں تیزی سے آگے بڑھی ہے لیکن کیا وہ پنجاب میں ن لیگ کی جگہ حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی، اس میں شبہ ہے کیوں کہ وسطی پنجاب میں اب بھی ن لیگ کا سکہ چل رہا ہے البتہ جنوبی پنجاب میں صورت حال مختلف ہے لیکن وہاں پی ٹی آئی کے علاوہ اور بھی کئی کھلاڑی ہیں۔ جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے تو آصف زرداری پورا زور لگانے کے باوجود پنجاب میں قدم جمانے میں ناکام رہے ہیں۔ اب اس کا حل یہ نکالا ہے کہ پنجاب سے امیدوار کھڑے کرکے ان کی ضمانتیں ضبط کرانے کے بجائے آصف زرداری کا کہنا ہے کہ وہ آزاد امیدواروں پر داؤ لگائیں گے اور ان کی حمایت کریں گے۔ حمایت خالی خولی نہیں ہوتی اس کا ایک مطلب خریدو فروخت بھی ہے اور اس کام میں زرداری صاحب ماہر ہیں۔ سینیٹ کے انتخابات میں وہ اپنا کمال دکھا چکے ہیں کہ اٹھتے بیٹھتے پی ٹی آئی پر تبرّا بھیجنے کے باوجود اس کے گھوڑوں کو خرید لیا اور عمران خان نے، بقول کسے، پورا اصطبل ہی پیپلز پارٹی کے حوالے کر دیا۔

اب آصف علی زرداری پنجاب میں آزاد امیدواروں کو اپنانے کی تیاری کر رہے ہیں فی الوقت تو یہ ہوا ہے کہ بڑے بڑے جلسوں میں بڑے بڑے دعوے کیے گئے ہیں۔ ان دعویداروں میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ وہ ہیں جو اقتدار میں کئی کئی باریاں لے چکے ہیں البتہ پی ٹی آئی کو ابھی صرف ایک صوبے میں اقتدار ملا ہے۔ انہوں نے لاہور کے جلسے میں اپنے منشور کے طور پر 11 نکات کا اعلان کیا ہے لیکن ان کے مخالفین پوچھ رہے ہیں کہ ان نکات کا اعلان خیبر پختون خوا میں کب ہو گا۔ وہاں تو ابھی یہ تعین نہیں ہو سکا کہ ایک ارب پودے لگانے کا دعویٰ کس حد تک پورا ہوا۔ صحت اور تعلیم کی صورت حال پر چیف جسٹس کڑی تنقید کر چکے ہیں۔ عمران خان کے 11 نکات میں کرپشن کا خاتمہ، یکساں تعلیم، صحت، روزگار اور سیاحت کا فروغ قابل ترجیح ہیں۔ یہ وہ نکات ہیں جن سے کوئی بھی اختلاف نہیں کر سکتا لیکن ابھی تو ہر طرف سے دعووں اور وعدوں کا مقابلہ چل رہا ہے۔ بلاشبہ کرپشن نے پاکستان کو کھوکھلا کر دیا ہے لیکن عمران خان تو اپنے 20 ارکان اسمبلی کو بھی کرپشن سے نہیں روک سکے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ان کو فارغ کر دیا گیا اور ان میں سے کئی ایسے ہیں جو قرآن کریم پر حلف اٹھا کر الزامات کی تردید کر رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسے لوگ عمران خان نے اپنی پارٹی میں رکھے ہی کیوں تھے۔ ان کے سب سے بڑے مالی معاون جہانگیر ترین بھی نا اہل ہو چکے ہیں۔ اب عمران خان کرپشن ختم کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں خدا کرے کوئی تو یہ کام کر گزرے۔

جہاں تک ملک بھر میں یکساں نظام تعلیم اور دینی مدارس کو قومی دھارے میں شریک کرنے کا تعلق ہے تو یہ بھی پوری قوم کا برسوں کا مطالبہ ہے خاص طور پر پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم تو بہت ضروری ہے کہ اس وقت ملک میں کئی طرح کے تعلیمی نظام رائج ہیں۔ ایک نظام صرف کلرک بناتا ہے اور دوسرا نظام حکمران طبقہ پیدا کرتا ہے۔ علماء کرام نے دینی مدارس کو سنبھالا ہوا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان علما اور مدارس ہی نے ملک میں اسلام کو سنبھالا ہوا ہے ورنہ تو یہ ملک کبھی کا سیکولر اور لادین نظریات کے سیلاب میں بہہ جاتا۔ عمران خان کے ان نکات میں سب کو روزگار فراہم کرنا تو محض انتخابی نعرہ ہے البتہ سیاحت کو فروغ آسانی سے دیا جا سکتا ہے، خاص طور پر خیبر پختون خوا میں ایسے بے شمار علاقے ہیں جو سیاحوں کے لیے کشش رکھتے ہیں بس آمد ورفت اور قیام کی سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی۔ لوگ خود کھنچے چلے آئیں گے۔ یہ کام دوسرے صوبے بھی کر سکتے ہیں مگر جانے کیوں معمولی سی توجہ بھی نہیں کہ سیاحوں کو سہولتیں فراہم کی جا سکتیں۔ اتوار ہی کو پاکستان پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے فیڈرل کپیٹل یا ایف سی ایریا کو اپنے جلسے کے لیے منتخب کیا تاکہ ایم کیو ایم کا زور توڑا جا سکے۔ نو آموز اور نو عمر بلاول زرداری نے ایم کیو ایم اور لندن قیادت کو خوب خوب لتاڑا کہ اس نے کراچی کو یرغمال بنا رکھا تھا، بوری بند لاشوں اور بھتے کا ذکر بھی کیا۔ لیکن ان کو تقریر لکھ کر دینے والوں نے یہ نہیں بتایا کہ لندن والی ایم کیو ایم پیپلزپارٹی کی وفاقی اور صوبائی حکومت میں کئی بار شریک رہ چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے اس کو اپنے کلیجے سے لگائے رکھا تاکہ صوبائی حکومت بچ جائے۔ سندھ کے سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے جب کھل کر ایم کیو ایم کا کچا چٹھا کھولا تو انہی کو چلتا کر دیا گیا ایم کیو ایم پر بلاول کے الزامات کوئی نئی بات نہیں لیکن ایم کیو ایم والے بھی تو پوچھ رہے ہیں کہ آپریشن پکا قلعہ میں سیکڑوں افراد کا قتل عام کس نے کروایا۔

بلاول نے طالبان کو عمران خان کا بھائی قرار دیا لیکن وہ اگر اپنی والدہ کے ٹی وی پروگرام کی وڈیو نکلوا کر دیکھ لیں تو اچھا ہو گا جس میں بے نظیر نے کہا تھا کہ: ’’میں طالبان کی ماں ہوں‘‘۔ اس رشتے سے تو بلاول طالبان کے بھائی ہوئے۔ پیپلزپارٹی کے جواب میں اب ایم کیو ایم نے اگلے ہفتے اسی مقام پر جلسے کا اعلان کیا ہے، اس دعوے کے ساتھ کہ اس میں صرف علاقے کے لوگ شریک ہوں گے اور سرکاری ملازمین کو سادہ لباس میں لا کر نہیں بٹھایا جائے گا۔ اس معاملے میں ایم کیو ایم زیادہ تجربہ کار ہے۔ بہر حال انتخابی معرکہ گرم ہو چکا ہے اور سب ایک دوسرے کو لتاڑ رہے ہیں۔ ان میں سے سوائے متحدہ مجلس کے کسی نے بھی اسلام اور شریعت کا نام نہیں لیا کہ ان کا کیا لینا دینا۔ ایم ایم اے نے بھی مردان میں بڑا جلسہ کیا ہے۔ انتخابات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے یہ تو مستقبل کے پردے میں ہے لیکن اس دعوے میں بھر پور سچائی ہے کہ کرپشن فری پاکستان صرف مجلس عمل بنا سکتی ہے کہ اس میں شامل کسی پارٹی پر کرپشن کا داغ نہیں۔ عوام داغدار لوگوں کو نظر انداز کرکے ایسے لوگوں کو آزمائیں جو بے داغ کردار کے امین ہوں۔


متعلقہ خبریں


سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے وجود - هفته 21 فروری 2026

آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا وجود - هفته 21 فروری 2026

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف وجود - هفته 21 فروری 2026

میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف

ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار وجود - هفته 21 فروری 2026

ایئرپورٹ سیمسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنیکا انکشاف اے ایس آئی محمد عالم، ایف سی انضمام الحق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل شامل ہیں ،ذرائع نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے رشوت لے کر غیر قانونی طور پر شہریوں کو رشوت لے کر بیرون ممالک اور یورپ بھیجنے والے ...

ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان وجود - جمعه 20 فروری 2026

شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں اور غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے، غزہ میں امن کیلئے کردار ادا کیا جائے گا، امیدیں وابستہ ہیں غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کیخلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے،پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ...

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان

بھارت بند ہڑتال وجود - جمعه 20 فروری 2026

ریاض احمدچودھری سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ او...

بھارت بند ہڑتال

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان وجود - جمعرات 19 فروری 2026

اب منظم عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے، عمران خان رہائی فورس مکمل طور پر پرامن جدوجہد کرے گی جس میں باقاعدہ چین آف کمانڈ ہو گی، یہ نہیں ہو گا کہ ذمہ داری کسی کو دیں اور اعلان کوئی کرتا پھرے مجھے بانی پی ٹی آئی کی طرف سے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری دی گئی ہے، عدالتی احکامات ردی کی...

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری وجود - جمعرات 19 فروری 2026

یہ بات سب یاد رکھیں، عدم اعتماد صرف میں لاسکتا ہوں، میںنے جیل میں کبھی ہڑتال کی کال نہ دی تھی، مجھے بہت سوں نے بہت کچھ کہا، مگر صبرو تحمل سے کام لیا،پیپلزپارٹی کا مفاد پاکستان ہے پنجاب میں بدقسمتی سے گروپنگ اور کوتاہیاں ہماری کمزوری کا نتیجہ ہیں، وزارتیں اس لئے نہیں لیں پارٹی کو...

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار وجود - جمعرات 19 فروری 2026

قاسم اور سلیمان نے دو سال سے زائد عرصے کے بعد ویزے کیلئے درخواست دے دی انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے، دونوں بھائیوں کا مطالبہ،مگر ابھی تک جواب نہیں ملا سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی جیل میں قید اپنے والد کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے...

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم وجود - بدھ 18 فروری 2026

مودی سرکار کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ،دنیا کو موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں،پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،شہباز شریف پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا ا...

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم

عمران خان نے کہا تھا یہ لوگ مجھے ماردیں گے، عظمیٰ خانم کی بہن علیمہ خانم کے ہمراہ پریس کانفرنس وجود - بدھ 18 فروری 2026

اس کا ذمہ دار عاصم منیر ہو گا،ہمیں صبح کال آئی آپ کہیں تو قاسم زمان کو ملاقات کیلئے بھیج دیں ، ہم نے کہا ڈاکٹر کو بھیجنا چاہتے ہیں، کسی سرکاری بندے پر یقین نہیں کرینگے، ڈاکٹر برکی کو بھیجنے سے منع کردیا بانی پی ٹی آئی کا پیغام ملا میری بہنوں کو کہو میرے لیے آواز اٹھائیں، میر...

عمران خان نے کہا تھا یہ لوگ مجھے ماردیں گے، عظمیٰ خانم کی بہن علیمہ خانم کے ہمراہ پریس کانفرنس

کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا،4دہشت گرد ہلاک وجود - بدھ 18 فروری 2026

(رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہواجس کے نتیجے میں 4 دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے،کلاشنکوف اور ہینڈ گرینڈ برآمد کرلیا گیا، ہلاک دہشتگردوں میں جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان شامل...

کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا،4دہشت گرد ہلاک

مضامین
زرداری اور شبنم وجود هفته 21 فروری 2026
زرداری اور شبنم

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس وجود هفته 21 فروری 2026
سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس

عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری وجود جمعه 20 فروری 2026
عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری

کوشش کرکے تو دیکھیں! وجود جمعه 20 فروری 2026
کوشش کرکے تو دیکھیں!

بھارت بند ہڑتال وجود جمعه 20 فروری 2026
بھارت بند ہڑتال

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر