وجود

... loading ...

وجود

مزدوروں کا عالمی دن‘یکم مئی

منگل 01 مئی 2018 مزدوروں کا عالمی دن‘یکم مئی

آج سے ٹھیک 132سال قبل امریکا کے صنعتی شہر شکاگو میں محنت کشوں نے اوقات کار مقرر کر نے کے لیے شان دار اور بے مشال جد و جہد کر تے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے محنت کشوں کا سر فخر سے بلند کر دیا ۔مظلوموں ،غلاموں اور محنت کاروں کی یوں توبڑی طویل اور صبر آزما جدوجہد سیکڑوں اور ہزاروں برس سے جاری ہے،مگر جو کام شکاگو کے محنت کش کر گئے وہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا ۔اس تحریک اور جد وجہد نے پہلی مرتبہ اوقات کار مقرر کروانے کے لیے ایک قانون بنوایا ،جس کے تحت 8گھنٹے اوقات کار مقرر ہوئے ۔دنیا میں یہ پہلا موقع تھا جب محنت کش منظم انداز میں تحریک چلا رہے تھے ۔گو کہ اس سے قبل بھی جدوجہد جاری رہی اور فرانس میں1789؁ میں پیرس کا خونیں انقلاب بھی آیا تھا ،جسے انقلاب فرانس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے دور جدید کی دنیا کو بدلنے میں محکوم اور کچلے ہوئے عوام نے بڑی لمبی اور طویل جدوجہد کی ہے اور جب سے دنیا قائم ہوئی ہے ،یہ جدوجہد جاری ہے دنیا اس وقت طبقاتی نظام میں الجھی ،جب زمین پرموجود طاقت ور اور ظالم انسانوں نے،غریب ،مجبور اور کم زور انسانوں کو اپنا غلام بنایا اور زمین پر لکیر یں کھنچ کر اپنی حق ملکیت کا دعوی کر نا شروع کر دیا ،تو دنیا طبقات میں بٹ گئی گو کہ اس سے قبل لوگ مل جل کر رہتے تھے شکار مل کر کرتے تھے اور مل کر کھاتے تھے یہ ایک اشتراکی معاشرہ تھا لیکن حق ملکیت کی وجہ سے جابر اور ظالموں نے کم زورں کو اپنا غلام بنا لیالیکن انسان کا شعور بڑھتا رہا ۔

سائنس بھی ترقی کرنے لگی اور محنت کشوں نے بھی بغاوتیں شروع کر دی ان کے اوقات کار نہ تھے لیکن18اور19ویں صدی میں مزدور طبقہ ابھرنا اور منظم شروع ہو گیا تھا یہ وہ دور تھا جب صنعتی ترقی ہو رہی تھی بھاپ اور کوئلے سے چلنے والے انجن اور کارخانے مشینی دور میں داخل ہو رہے تھے ۔یورپ ترقی کی راہ پر گامزن تھا ۔فرانس میں ادھورا انقلاب آچکا تھا ۔یورپ کے بعض ترقی پسند دانشوار ،شاعر،ادیب،قلم کار،صحافی محنت کشوں کو منظم کرنے میں لگے ہوئے تھے اشتراکیت کا نعرہ بلند ہو رہا تھا ۔کارل مارکس اور اینگز کے نظریات بڑی تیزی سے پھیل رہے تھے ۔کمیونسٹ پارٹی بن گئی تھی اور ان کا مینی فیسٹو آگیا تھے ،جب کہ سرمایہ دار اور صنعت کار مزدوروں کی انجمن سازی کے خلاف تھے۔یہ وہی وقت تھا،جب شکاگو کے مزدوروں نے بغاوت کر دی اور یکم مئی1986ء کو مشہور زمانہ (HAY)مارکیٹ کی جانب بڑھتے ہوئے نعرے لگا رہے تھے کہ دنیا کے مزدورو! ایک ہو جائو،، ۔وہ بلا رنگ و نسل و مذہب ایک تھے۔پورا صنعتی شہر شکاگوجام ہو گیا ۔ملوں اور کارخانوں کی چمنیوں سے دھواں نکلنا بند ہو گیا۔دنیا میں یہ پہلا موقع تھا ،جب محنت کشوں نے اپنے اتحاد کے زریعے علم بغاوت بلند کر دیا تھا وہ نعرے لگا رہے تھے کہ (ظالم حاکموں ہمیں بھی زندہ رہنے کا حق دو)ہم بھی انسان ہے ہمارے بھی اوقات کار مقرر کرو ۔مگر حکمرانوں ،مل مالکان ،اور صنعت کاروں کو ان کا یہ اتحاد اور نعرے پسند نہ تھے ،مگر مزدور طے کر چکے تھے کہ جب تک ہمارے مطالبات پورے نہ ہو گے ہم کام کرنے نہیں جائیںگے۔ انہوں نے مطالبے میں 24گھنٹوں کو اس طرح تقسیم کیا کہ ہم آٹھ گھنٹے آرام کریں گے اور آٹھ گھنٹے اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہیں گے ۔حکمرانوں نے نہتے اور پر ُ امن مزدوروں پر گولیوں کی بو چھاڑ کر دی ۔شکاگو کی سڑکوں پر خون بہنے لگااور پھر بہہتے خون میں سے ایک مزدور نے اپنے سفید امن کے پرچم کو ڈبو دیا۔ایک مزدور کی قمیض خون میں تر ہو گئی اور پھر زور دار آواز میں مزدوروں نے کہ آج سے یہی سُرخ پرچم ہمارا نشان اور ہمارا جھنڈا ہو گا۔آخر کار حکمرانوں ،کارخانے داروں،اور مل ملکان کو مزدوروں کے مطالبات ماننے پڑے اور ٓٹھ گھنٹے اوقات کار مقرر ہوئے۔اس طرح دنیا بھر میں8گھنٹے کا نظام مقرر ہوا۔بعد میں حکمرانوں نے مزدوروں کے7سرکردہ رہنمائوں پر بغاوت کا جھوٹا مقدمہ بنایا اور4مزدور رہنمائوں کو سزائے موت کا حکم سنایا۔پھانسی کے پھندوں پر چڑھتے ہوئے رہنمائوں نے کہا۔

1۔فشر نے کہا،ہم خوش ہیں کہ ہم ایک اچھے کام کے لیے جان دے رہے ہیں۔

2۔اینجل نے کہا ،تم اس آواز کو بند کر سکتے ہو ،لیکن ایک وقت آئے گا جب ہماری خاموشی ہماری آواز سے زیادہ گرج دار اور زور دار ہو گئی۔

3۔پیٹر نسز نے کہا،تم ہمیں مار سکتے ہو ں لیکن ہماری تحریک کو مار نہیں سکتے۔

4۔اسپائنز نے کہا،حاکموں ،غریب انسانوں کی آواز بلند ہونے دو،نہیں تو پھر ہماری تلواریں بلند ہو گی۔
امریکا کے شہر شکاگو میں جس تحریک نے جنم لیا ،آج وہی امریکا سامراج بن کر دنیا میں تنہا دندتا رہا ہے اور محنت کشوں کا دشمن نمبر ایک بن کر دہشت گردی،لوٹ مار،اسلحے کی منڈی چلا رہا ہے ۔نیو ورڈ آرڈر،آئی ایم ایف،ورلڈ بنک،اور ڈبلیو ٹی او کے تحت اپنے ا حکامات جاری کر کے دنیا کے چھوٹے پسمان دہ،غریب اور ترقی پزیر ممالک پر اپنی حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہے بلکہ کچھ ممالک امریکا کے زیر سایہ ہو چکے ہیں جن میں ہمارے ملک پاکستان کے حکمران بھی امریکاکے اشار وں پر چلتے ہیں یہاں تک کے غریب لوگ کی بیٹیاں سڑکوں اور ہسپتالوں کے باہر بچوں کو جنم دیں اور ہمارے ملک کے حکمران ایک ٹیسٹ کروانے کے لیے بھی لندن کا رُخ کر تے ہیں ہماری خوش قسمتی یہ ہیں کہ اگر امریکا ہمارے ملک کے بارے میں سوچتا ہے تو ہماری افواج اور اس کے جر نیل اس کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں مگر دنیا بھر کے عوام اس کے مکروہ عزائم سمجھ چکے ہیں اور اس کے خلاف علمٰ بغاوت بلند کیا ہو ا ہے ۔

خود آج امریکا معاشی بحران کا شکار بن چکا ہیں معیشت تباہ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔عوام تبدیلی چاہتے ہیں،انقلاب چاہتے ہیں ۔یقینا تبدیلی آئے گی حالات بدلیں گے ۔آج پاکستان میں ٹریڈ یونین تحریک کم زور ہے ،وہ تنزلی کا شکار ہے ۔حکمرانوں ،سرمایہ داروں ،مل مالکان ، حاکموں ، جاگیرداروں اور مذہبی ولسانی فرقہ پرستوں نے مزدورں کو تقسیم کر دیا ہے۔آج کا مزدور ، مذہب ، قوم ، زبان ، علاقے اور نام نہاد سیاست کاروں میں تقسیم ہو گیا ہیں ٹریڈ یونین تحریک دم توڑ رہی ہے ۔ٹھیکے داری کا نظام رائج کیا جا رہا ہے کارخانے بند پڑے ہیں بجلی اور ایندھن کا بحران ہے ۔نج کاری کے نام پر ہزاروں ، بلکہ لاکھوں محنت کشوں کو نکالا جارہا ہے بے روزگاری عام ہو گئی ہے ۔ خود کشیاں کی جا رہی ہیں ۔ بڑے بڑے قومی ادارے فروخت ہو رہے ہیں ۔گلو بلا ئزیشن کے نام پر ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنا مال فروخت کر رہی ہیں مراعات ختم کی جا رہی ہے ۔ٹریڈ یونین زوال پزیر ہے ،نئے آنے والے ٹریڈ یونین رہنما تحریک سے واقف بھی نہیں ہیں۔وہ پیدا گیری اور گروہ بندی کا شکار ہیں ،جب کے دانش ور ، شاعر ، ادیب ، لکھاری مزدوروں سے الگ تھلگ ہیں ۔

CBAکے نام پر مراعات حاصل کر کے لیبر لیڈر لیبر لارڈ بن گئے ہیں ان کا مزدور سے براہ راست رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔دوسری جانب آج بھی کچھ مزدور رہنما ٹحریک منظم کرنے ،جدوجہد کر نے اور انقلابی قوت بننے کی کوششں میں لگے ہوئے ہیں وہ مایوس نہیں ہیں ۔لاطینی امریکا میں تبدیلیاں آرہی ہیںآج پاکستان میں ایک منتخب جمہوری حکومت ہے وہ مزدوروں کے لیے نئی لیبر پالیسی بھی لا رہے تھے لیکن اب الیکشن کا دور شروع ہو چکا ہیں ۔ایک ملک میں دو قانون ،بلکہ کئی ایک قوانین چل رہے ہیں ۔جن میں صوبہ پختونخوا میں نظام عدل یا نظام شریعت ۔بلوچستان میں جرگہ سسٹم ،سرداری نظام ،سندھ میں جرگہ اور کاروکاری۔کاش ااس ملک میں صیحح معنوں میں غیر طبقاتی نظام عدل نافذ ہو ہر انسان کو زندہ رہنے کے لیے تعلیم ،صحت،رہائش،اور روزگار حاصل ہو تب ہی یہ ملک ترقی کر سکے گا اور یکم مئی 1886کو قربانی دینے والے شکاگو کا مقصد پورا ہو سکے گا۔

وہ جس کے نام پہ اک یوم مناتی ہے دنیا
کئی یوم ہوئے اس نے کچھ کھایا نہیں ہے
مدت ہوئی ہے اس دن کو مناتے وسیم
غربت کو کبھی آج تک مٹایا ہی نہیں
(انقلاب زندہ باد)


متعلقہ خبریں


پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک وجود - منگل 17 مارچ 2026

بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ، آگ بھڑک اٹھی ،8 افراد زخمی ،عراقی مزاحمتی تنظیم کی امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوشش،روسی ٹی وی کا دعویٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے17 ویں روز ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ، اسرائیل کے وسطی علاقوں...

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - منگل 17 مارچ 2026

رقم کی وصولی کے سلسلہ میںخواتین دوکان کی چھت پرچڑھ گئیں جس سے کمزورچھت اچانک زمین بوس ہوگئی،ضلعی انتظامیہ متعدد کی حالت تشویشناک علاقہ بھرکی فضاسوگوار،وزیراعلیٰ پنجاب کانوٹس، رپورٹ طلب کرلی، لواحقین سے اظہارتعزیت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصولی کے دوران دوکان کی چھت گر...

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم) وجود - منگل 17 مارچ 2026

بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے،شہباز شریف ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بات چیت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی ق...

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم)

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا وجود - منگل 17 مارچ 2026

سروے میں 100فیصد موٹرسائیکل سوار دھوکا دینے میں ملوث نکلے ،ڈی آئی جی ٹریفک آئی جی سندھ کے احکامات پر عید کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا شہر قائد کے موٹرسائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرادیا ، ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا سروے میں 100 فیصد موٹرسائیکل س...

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

مضامین
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو! وجود جمعه 20 مارچ 2026
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو!

''را''کے خلاف امریکی پابندی وجود جمعه 20 مارچ 2026
''را''کے خلاف امریکی پابندی

امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی وجود جمعه 20 مارچ 2026
امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری وجود جمعرات 19 مارچ 2026
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو وجود جمعرات 19 مارچ 2026
خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر