وجود

... loading ...

وجود

فسانہ طراز حقیقت نگار: حکیم عبدالرؤف کیانی

اتوار 22 اپریل 2018 فسانہ طراز حقیقت نگار: حکیم عبدالرؤف کیانی

وطن سے دوری نے رشتوں، محبتوں اور کتابوں سے بھی دور کرڈالا ہے۔اچھی کتاب نصیب ہونے پر خوش گوار احساس سے زیادہ کسی تہوار کا احساس ہوتا ہے۔حکیم عبدالرؤف کیانی کے افسانوی مجموعے نصیب ہوئے تو آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں۔ افسانے قرأت کرنے پر قلبی سرشاری کا احساس ہوا۔مَیں نے سطر سطر مطالعاتی حظ لیا اور جملوں کی تَہ داریوں میں پنہاں معنوی فکر کو سمجھنے کی کوشش کی۔

یہ میری بدقسمتی کہیے کہ مَیں اب تک حکیم عبدالرؤف کے افسانے پڑھنے سے محروم رہا۔مَیں ان کے افسانوں میں جیتی جاگتی دُنیا دیکھتا ہوں۔مُثبت یا منفی،نیکی یا بدی کی تمہید کے بنا کرداروں کو زندگی سے جڑا پاتا ہوں۔ان کے ہاں کردار مسکراتے ہیں اور قاری کو اُمید کی راہ دکھاتے ہیں،کردار روتے ہیں اور قاری کی یادوں کی راکھ میں دبی چنگاریوں کو ’’آہ‘‘ کی ہوا دہتے ہیں،اچھے یابرے فیصلے کرتے ہیں اور ان فیصلوں کے نتائج بھی بھگتتے ہیں۔دراصل یہی زندگی کا حسن ہے۔

حکیم عبدالرؤف کیانی نے اپنی کہانیوں کے موضوعات اور کردار اپنے علاقے سے ہی انتخاب کیے ہیں۔ سو حکیم عبدالرؤف کیانی کے تفصیلی مطالعے سے ہم افسانہ نگار کے گرد و پیش سے بھی آگاہ رہتے ہیں۔اپنے ماحول اور اپنے لوگوں سے جڑے رہنا اتنااہم وصف ہے کہ شہرہ آفاق عالمی ادب کے اکثر نمونے اس کی مثال بن کر سامنے آتے ہیں۔

حکیم عبدالرؤف کیانی موجودہ ادبی دوڑ سے الگ اپنے مزاج کے منفرد افسانہ نگار ہیں۔ان کے افسانوں میں انسانیت کی طرف داری ہے نہ شیطانیت کی مخالفت۔ان کا قلم جو ہے جیسا ہے کی بنیاد پر افسانہ مکمل کرتا ہے۔وہ اس حد تک غیر جانب داری کے ساتھ کہانی مکمل کرتے ہیں کہ خود اپنے آپ پر چوٹ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

عبدالرؤف کے بعض افسانوں میں تلخی کا تأثرنمایاں ملتاہے۔دراصل تلخی،بدمزاجی، غیر ذمہ داری جیسے ناگوار حقائق ہماری مشینی زندگی کا لازمی جز بن چکے ہیں۔حساس فرد ایسے بدمزہ معاملات کو زیادہ محسوس کرتا ہے۔شاعر ی ہو یا افسانہ نگاری حساسیت کے بنا کسی صنف کی بنیاد ہی نہیں بنتی۔

پیشِ نظر دونوں افسانوی مجموعے پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ افسانہ نگار نے مروّجہ معمول سے ہٹ کر نئے تجربے بھی کیے ہیں۔ان تجربات نے افسانہ نگار کے فن کو پختگی دی ہے۔ان کے کہانی لکھنے کے عمل میں ’’ کاتا اور لے دوڑی‘‘ کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ وہ بے ساختگی کو بھی اُسلوب کے سانچے میں ڈھال کر پیش کرنے کے قائل ہیں۔

حکیم عبدالرؤف کیانی کے افسانوی مجموعے’’خزاں آلودہ بہار‘‘ میں شامل افسانہ ’’بھوک‘‘ ایک اور طرح کا تجربہ ہے۔مجھے اس افسانے میں ماضی ،حال اور مستقبل کی واضح تصویر دکھائی دیتی ہے۔یہ افسانہ حکیم عبدالرؤف کیانی کے عام اسلوب سے ہٹ کر ہے۔ ’’ مسجد‘‘ کے عنوان سے لکھا گیا افسانہ درحقیقت ایسی حقیقت ہے،جو ہم ہر بڑے شہر کی مسلم آبادی میں دیکھ سکتے ہیں۔

’’ بڑا فریضہ‘‘ حکیم عبدالرؤف کیانی کا تخلیق کردہ افسانہ ہے مگر مَیں اسے منشی پریم چند کی ترکیبِ افسانہ نگاری سے جڑا ہوا پاتا ہوں۔یہ افسانے کی ابتدائی صورت تھی۔ موجودہ ، گزشتہ اور گزشتہ سے پیوستہ صدی میں سائنس،سیاسیات،اقتصادیات زمانے پر یوں اثر انداز ہوئے ہیں کہ تینوں صدیوں میں کوئی مماثلت ہی نہیں رہ جاتی۔ اسی طرح منشی پریم چند اورسجاد حیدر یلدرم سے محمد حامد سراج اور حکیم عبدالرؤف کیانی تک اردو افسانے نے بھی اپنا رنگ روپ بدلا ہے۔’’مس کال‘‘ حکیم عبدالرؤف کیانی کی وہ کہانی ہے ، جسے موجودہ صدی میں ہی لکھا اور سمجھا جا سکتا تھا۔

’’ہمدردی ‘‘ اور ’’ احتجاج‘‘ میں ہم اپنی روزمرہ زندگی کے متحرک کرداروں کو اپنے اپنے رنگ ڈھنگ کے ساتھ متحرک دیکھتے ہیں۔یہ افسانے پڑھ کر بالغ نظر قاری یہی کہتا ہے کہ کاش ایسا نہ ہوا کرے۔ افسانہ نگار کو قاری یا عوام کی حسرت سے غرض نہیں ہے ۔اس کا قلم تو ’’ایسا ہوتا ہے جناب!‘‘ کے دعوے کے ساتھ افسانہ مکمل کرتا ہے۔

حکیم عبدالرؤف کیانی کے افسانے ’’ آس کے بادل‘‘ اور ’’ سیاسی خطاب‘‘ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ایک ہی گول دائرے میں سفر کر رہا ہے۔حالات بدلنے کی خواہش ، محض بحث تک محدود ہے۔عملی طور پر ہم دائرے سے باہر نکلنے کی جرأت نہیں رکھتے۔ شاید ہم ایسا کرنا ہی نہیں چاہتے۔قریباً پون صدی کے تلخ تجربات،درجن بھر انتخابات اور سائنسی انقلابات کے باوجود پاکستان کی تیسری نسل اسی راستے پر مستقل مزاجی کے ساتھ چل رہی ہے جو ان کے پرکھوں نے انتخاب کیا تھا۔دوسری طرف رئیسوں ، چودھریوں ، خانوں اور سرداروں نے سیاسی چال بازیوں میں مہارت حاصل کی ہے۔ان کی تیسری نسل اپنے آباواجداد سے زیادہ شاطر اور کام یاب ثابت ہوئی ہے۔افسانہ نگار حکیم عبدالرؤف کیانی کا اشارہ اس طرف ہے کہ حالات بدلنے کے لیے،مُثبت نتائج حاصل کرنے کے لیے ہمیں خود کو بدلنا ہو گا۔وگرنہ دکھاوے کے اعداد و شمار اور کھوکھلے دعوؤں کا سحر ٹوٹنے سے رہا۔

ہم حکیم عبدالرؤف کیانی کے افسانوں کے آئینے میں کئی کردار دیکھتے ہیں۔غور کرنے پرہمیں کوئی نہ کوئی کردارایسا بھی مل جاتا ہے جو ہمارے ارد گرد موجود کسی کردار یا خودہماری ہی تفصیل بیان کر رہا ہوتا ہے۔مثبت یا منفی تأثر کے باوجود ہم ایسے کرداروں میں دل چسپی لیتے ہیں اور سب کچھ جاننے کے باوجودخود کو افسانے کا آخری جملے تک پڑھنے پر مجبور ہیں۔دوسروں کو ہنسانے یا رلانے کے لیے فن اوراپنے آپ پر ہنسنے یا رونے کے لیے حوصلہ درکار ہوتا ہے۔فن کار کی یہی خوبی اسے عام افراد سے نمایاں کرتی ہے۔

افسانہ نگارحکیم عبدالرؤف کیانی نے افسانوی مجموعوں’’ برف میں جلتے لوگ‘‘ سے لے کر ’’ خزاں میں بہار‘‘ تک ارتقا کا سفر کیا ہے۔یہ بات افسانوں کے موضوعات اور رنگِ بیاں سے بھی ثابت ہوتی ہے۔اس حوالے سے حکیم عبدالرؤف کیانی کو کام یاب افسانہ نگار کہا جا سکتا ہے۔مَیں اپنے ممدوح افسانہ نگار محمد حامد سراج کے ان الفاظ کی بھر پور تائید کرتا ہوں: ’’ ان (حکیم عبدالرؤف) کا افسانوی سفر اسی آب و تاب کے ساتھ جاری رہا تواُردو افسانے کو مستقبل میںایک درخشاں ستاراابھی سے چمکتا نظر آ رہا ہے۔‘‘


متعلقہ خبریں


سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم وجود - بدھ 21 جنوری 2026

صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل وجود - بدھ 21 جنوری 2026

داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے وجود - بدھ 21 جنوری 2026

گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 21 جنوری 2026

پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ وجود - منگل 20 جنوری 2026

پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب وجود - منگل 20 جنوری 2026

اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن وجود - منگل 20 جنوری 2026

گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی وجود - منگل 20 جنوری 2026

واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا وجود - پیر 19 جنوری 2026

عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان وجود - پیر 19 جنوری 2026

حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان

مضامین
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود بدھ 21 جنوری 2026
بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود پیر 19 جنوری 2026
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر