وجود

... loading ...

وجود

ایف بی آر حکام کی سندھ دشمنی ودھ ہولڈنگ ٹیکس کے نام پر10 ارب روپے کاٹ لئے

هفته 07 اپریل 2018 ایف بی آر حکام کی سندھ دشمنی ودھ ہولڈنگ ٹیکس کے نام پر10 ارب روپے کاٹ لئے

ایف بی آر حکام نے ایک دفعہ پھر سندھ دشمنی پر کمر کس لی ہے، ور انتخابات سے قبل سندھ حکومت کو زیر تکمیل منصوبے مکمل سے روکنے کیلئے صوبے کے کنسولیڈیٹڈ فنڈسے مختلف حیلوں بہانوں سے بھاری کٹوتیاں شروع کردی ہیں،جس کی وجہ سے سندھ جو پہلے ہی وسائل کی شدید کمی کاشکار ہے ،مزید مشکلات کاشکار ہورہاہے،وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے قریبی حلقے نے یہ بات بتائی، ذریعے کے مطابق ایف بی آرنے گزشتہ دنوں سندھ کے کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے ودھ ہولڈنگ ٹیکس کے نام پر یکطرفہ طورپر کم وبیش 10 ارب روپے کی کٹوتی کرلی ہے،جس سے سندھ حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوگیاہے ۔ ذریعہ کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے ایف بی آر حکام کی جانب سے اس طرح کی یکطرفہ کٹوتیوںپر شدید ردعمل کااظہار کرتے ہوئے اس طریقہ کار کو آئینی طور پر ایف بی آر حکام کو حاصل اختیارات سے تجاوز اور غیر آئینی قرار دیاہے۔وزیر اعلیٰ سندھ نے ایف بی آر کی جانب سے وقفے وقفے سے سندھ حکومت کے کنسولیڈیٹڈ فنڈسے ودھ ہولڈنگ ٹیکس اورسیلز ٹیکس کے نام پر کٹوتیوں پر شدید ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے اس حوالے سے وزیر اعظم کو خط لکھ کر اس طرح کی زیادتیوں کاازالہ کرنے کی درخواست کرنے اور اس مسئلے کو ہر سطح پر اٹھانے کافیصلہ کیاہے۔

اطلاعات کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے سندھ کے فنڈ ز سے اس طرح یکطرفہ کٹوتیوںسے پیدا شدہ صورت حال پر غور کیلئے گزشتہ وزیراعلیٰ ہائوس میں اعلیٰ سطح کاایک اجلاس منعقد ہوا جس میںدیگر لوگوں کے علاوہ سندھ کے ایکسائز اورٹیکسیشن کے وزیر اور محکمہ خزانہ کے سینئر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ نے وزارت خزانہ کاقلمدان بھی جن کے پاس ہے بتایا کہ سندھ کے فنڈز سے یکطرفہ کٹوتیاں ایف بی آر نے معمول بنالیاہے جس کی وجہ سے وسائل کی شدید کمی کے شکار اس صوبے کو شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑتاہے اورفنڈز کی کمی کی وجہ سے ترقیاتی منصوبوں کی عدم تکمیل سے صوبے کے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوجاتاہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ایف بی آر نے 2012-13 کے دوران بھی سندھ کے فنڈز سے یکطرفہ اور بلاجواز طورپر 63 کروڑ 31 لاکھ 19 ہزار روپے کاٹ لئے تھے، 2015-16 میں بھی ایف بی آر نے 6 ارب12کروڑ71 لاکھ 15 ہزار روپے کاٹ لئے تھے،وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ 2016-17 کے دوران بھی ایف بی آر نے سندھ کے فنڈز سے 29 کروڑ 45 لاکھ روپے کی کٹوتی کرلی تھی۔اس طرح کی کٹوتیوں کے ذریعہ گزشتہ 3 سال کے دوران سندھ کو مجموعی طورپر 7 ارب 5 کروڑ 47 لاکھ 34 ہزار روپے کی خطیر رقم سے محروم کیاجاچکاہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ وزارت خزانہ کی ٹیم نے انھیں بتایا ہے کہ ایف بی آر صرف ایک ہی مد میں کٹوتیاں نہیں کررہاہے بلکہ مختلف محکموں پر واجبات کے نام پر کٹوتیاں کررہاہے۔ اعدادوشمار کے مطابق ایف بی آر نے 2014-15 کے دوران محکمہ ایکسائز کے 81کروڑ62 لاکھ67 ہزار روپے ریونیو بورڈ کے 66 لاکھ62 ہزار روپے ،مائنز اینڈ منرل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سے 17 لاکھ4 ہزار روپے،اس طرح ایف بی آر نے ماس ٹرانزٹ اور ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ سے 88 کروڑ 15 لاکھ 43ہزار روپے کی کٹوتی کرلی تھی۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ2015-16 میں بھی ایف بی آر نے سندھ کے فنڈز سے سندھ کے ایکسائز اور ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ سے 6 ارب 12 کروڑ71 لاکھ 16 ہزار روپے کی کٹوتی کرلی تھی جبکہ ایف بی آر نے اس کے علاوہ محکمہ اطلاعات سے ایک کروڑ 16 لاکھ 78 ہزار روپے،پی اینڈ ڈی سے 72لاکھ 29ہزار روپے،سندھ ریونیو بورڈ سے 5 کروڑ 90 لاکھ 69 ہزار روپے، مائنز اینڈ منرل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سے 12 کروڑ 23لاکھ24ہزار روپے،محکمہ جیل خانہ جات سے 8 کروڑ 77 لاکھ50لاکھ روپے کی کٹوتی کی اس طرح ایف بی آر نے اپنی یکطرفہ غیر آئینی کارروائیوں کے ذریعہ سندھ کو مجموعی طور پر 6 ارب 41 کروڑ 70لاکھ 76ہزار روپے سے محروم کردیا تھا۔

2016-17 کے دوران ایف بی آر نے سندھ کے فنڈز سے ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے 66لاکھ70 ہزار روپے محکمہ صحت سے ایک کروڑ 11لاکھ 19 ہزار روپے ،محکمہ داخلہ سے 29 کروڑ4 لاکھ 99 ہزار روپے،محکمہ خزانہ سے 42 کروڑ58لاکھ91 ہزار روپے،سندھ ریونیو بورڈ سے 83 کروڑ40لاکھ روپے،اور مائنز اینڈ منرل ڈیپارٹمنٹ سے98 لاکھ21 ہزار روپے کی کٹوتی کی اس طرح زیر نظر سال کے دوران ایف بی آر نے سندھ کو مجموعی طورپر 40کروڑ15 لاکھ 60 ہزار روپے کے وسائل سے محروم کیا۔اس طرح ان تین برسوں کے دوران ایف بی آر نے سندھ کومجموعی طورپر9 ارب83 کروڑ روپے سے محروم کیا۔

سید مراد علی شاہ کاکہناہے کہ آئین کی دفعہ119 کے تحت پی سی ایف فنڈز سے رقم نکالنے کااختیار صرف صوبائی حکومت کے پاس ہے،اور ایف بی آر کی جانب سے یکطرفہ طورپر رقم کی یہ کٹوتی آئین کی صریح خلاف ورزی ہے۔آئین کی دفعہ 121 (ڈی) کے تحت یہ واضح کیاگیاہے کہ پی سی ایف سے کوئی بھی رقم صوبائی حکومت کے خلاف کسی عدالتی یاٹریبیونل کے فیصلے کی صورت میں ہی نکالی جاسکتی ہے جبکہ کسی اور ادارے کے کسی سربراہ یا افسر کو اس فنڈ سے رقم نکالنے کاکوئی اختیار نہیں ہے۔وزیراعلیٰ کاکہناہے کہ کیونکہ یہ رقم ایگزیکٹو آرڈر کے تحت نکالی گئی ہے اس لئے اس کانہ توکسی کو کوئی اختیار ہے اورنہ ہی کسی کو ایسا کرنے کی اجازت ہے اور ایسا کرنا آئین وقانون کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

اطلاعات کے مطابق اسٹیٹ بینک نے3 اپریل2017 کو جاری کردہ اپنے خط میں یہ مسئلہ اٹھایاتھا جبکہ وزیر اعلیٰ کا کہناہے کہ انھوںنے یہ معاملہ مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاس میں بھی اٹھایا تھااور یہ موقف اختیار کیاتھا کہ ایف بی آر کے حکام غیر آئینی طورپر سندھ کے فنڈز سے کٹوتی کررہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے اب اس حوالے سے وزیر اعظم کوایک خط لکھنے کافیصلہ کیاہے جس میں ان سے کہاجائے گا کہ وہ وزارت خزانہ کوسندھ حکومت کو اب تک کاٹی گئی 7ارب5لاکھ40 ہزار روپے کی رقم واپس کرنے کے احکام جاری کریں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کے اس خط پر وزیراعظم کیاکارروائی کرتے ہیں ،جبکہ واقف حال حلقوں کاکہنا ہے کہ چونکہ سندھ کی حکمراں پارٹی اور وفاق پر حکمرانی کرنے والی پارٹی کے درمیان شدید اختلافات موجود ہیں اور دونوں ہی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر تلے ہوئے ہیں اس لئے وزیر اعظم وزیر اعلیٰ سندھ کے اس خط کو زیادہ اہمیت نہیں دیں گے اور عین ممکن ہے کہ اسے طاق نسیاںکے سپرد کردیاجائے ۔


متعلقہ خبریں


پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک وجود - منگل 17 مارچ 2026

بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ، آگ بھڑک اٹھی ،8 افراد زخمی ،عراقی مزاحمتی تنظیم کی امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوشش،روسی ٹی وی کا دعویٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے17 ویں روز ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ، اسرائیل کے وسطی علاقوں...

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - منگل 17 مارچ 2026

رقم کی وصولی کے سلسلہ میںخواتین دوکان کی چھت پرچڑھ گئیں جس سے کمزورچھت اچانک زمین بوس ہوگئی،ضلعی انتظامیہ متعدد کی حالت تشویشناک علاقہ بھرکی فضاسوگوار،وزیراعلیٰ پنجاب کانوٹس، رپورٹ طلب کرلی، لواحقین سے اظہارتعزیت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصولی کے دوران دوکان کی چھت گر...

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم) وجود - منگل 17 مارچ 2026

بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے،شہباز شریف ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بات چیت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی ق...

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم)

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا وجود - منگل 17 مارچ 2026

سروے میں 100فیصد موٹرسائیکل سوار دھوکا دینے میں ملوث نکلے ،ڈی آئی جی ٹریفک آئی جی سندھ کے احکامات پر عید کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا شہر قائد کے موٹرسائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرادیا ، ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا سروے میں 100 فیصد موٹرسائیکل س...

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

مضامین
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو! وجود جمعه 20 مارچ 2026
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو!

''را''کے خلاف امریکی پابندی وجود جمعه 20 مارچ 2026
''را''کے خلاف امریکی پابندی

امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی وجود جمعه 20 مارچ 2026
امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری وجود جمعرات 19 مارچ 2026
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو وجود جمعرات 19 مارچ 2026
خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر