وجود

... loading ...

وجود

قدیم ترین شہر ’’نیرون کوٹ‘‘جسے دنیاحیدرآبادکے نام سے جانتی ہے

اتوار 01 اپریل 2018 قدیم ترین شہر ’’نیرون کوٹ‘‘جسے دنیاحیدرآبادکے نام سے جانتی ہے

پاکستان دنیا کا ایسا منفرد ملک ہے جہاں پہاڑ بھی ہیں، صحرا بھی اور سمندر بھی، کہیں برف زاروں سے ڈھکے میدان ہیں تو کہیں دور دور تک پانی کے آثار بھی نظر نہیں آتے، یہاں کے تاریخی مقامات، شمالی علاقہ جات کے دل کو چھو لینے والے مقامات اس سرزمین کو منفرد بناتے ہیں، یہ سب مقامات وطن عزیز کے تمام صوبوں کی رنگا رنگ تہذیبی ثقافت کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔وادی مہران کی قدیم ترین تہذیب کی تو پھر زمانہ قدیم کے مناظر ذہنوں میں اْبھر آتے ہیں۔آج ہم سندھ کے ایک قدیم شہر نیرون کوٹ موجودہ حیدر آباد کے بارے میں ذکر کر ہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اسے سب سے پہلے مقدونیہ کے عظیم سپہ سالار سکندر اعظم نے آباد کیا تھا۔

اگر یہ کہا جائے کہ نیرون کوٹ کا شمار دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے، تو بے جا نہ ہوگا۔ تاریخ کے دریچوں میں جھانکنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سندھ کا دوسرا بڑا شہر حیدرآباد جو کہ 1935 ء تک سندھ کا دارالخلافہ تھا اور اب یہ نہ صرف ضلع بلکہ ایک ڈویڑن کی حیثیت رکھتا ہے، اس کی بنیاد میاں غلام شاہ کلہوڑو نے 1768 ء میں رکھی تھی، اس سے قبل یہ شہر نیرون کوٹ کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔

تاریخی کتابوں میں درج ہے کہ نیرون کوٹ زمین سے بلند ایک اونچی ٹیکری ہوا کرتی تھی، جسے ’’گنجو ٹکر‘‘ کی ٹیکری کہا جاتا ہے،یہاںپہلے پہل جس بستی نے جنم لیا تاریخ میں اس کا نا م ’’رون ‘‘ درج ہے، جسے بعد میں مورخوں نے ’’ارون‘‘ اور بعض نے ارون پور بھی لکھا ہے۔ اس جگہ کا ذکر پٹیالہ، پٹالپور اور پٹالہ بندر کے مختلف ناموں سے بھی ملتا ہے۔تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ ، چوں کہ اس شہر کے قریب دریا بہتا تھا ،لہٰذا یہاں بندرگاہ بھی ہوگی ،چناں چہ اس کا نام پٹالہ بندر ہی ہوگا۔ مورخوں کے مطابق خود سکندر اعظم نے یہاں سے ایک سردار کو جہازوں کابیڑہ دے کر روانہ کیا تھا، ان کے خیال کے مطابق اس بندر گاہ سے شرق اوسط، خلیج فارس، مصر، سیلون (سری لنکا) مالدیپ اور سنگاپور سے تجارت ہوا کرتی تھی۔

پٹالہ، پٹالپور یا پٹالہ بندر نامی شہر بعد میں ختم ہوگیا تو پھر یہاں نیرون کوٹ نامی شہر کا تذکرہ ملتا ہے۔ کپتان ’’میکمر وڈ‘‘ اور ’’سرچارلس ایلیٹ‘‘نے جو مشہور تاریخ دان اور محقق تھے ،انہوں نیاس شہر کو نیرون کا نام دیا ہے۔ سر چارلس ایلیٹ لکھتا ہے کہ یہ شہر ٹھٹھہ سے شمال کی جانب منصورہ اور ٹھٹھہ کے تقریباًدرمیان میں واقع تھا۔ رون نامی بستی نے کب پٹالہ بندر کا روپ دھارا پھر پٹالہ بندر کیسے ’’نیرون کوٹ‘‘ میں تبدیل ہو ا یہ بتانے سے تاریخ قاصر اور تاریخ دان خاموش ہیں۔نیرون کوٹ کے بارے میں تحقیق کرنے سے پتا چلتا ہے کہ چھٹی صدی عیسوی میں رائے گھرانے کا ’’رائے سمیرس ماہی‘‘ اس علاقے کا حاکم تھا۔ اس کی حکمرانی برہمن آباد کے گورنر کے ماتحت تھی ،جو اس علاقے میں اپنا حاکم مقرر کرتا تھا۔ ساتویں صدی عیسوی کے آخری عشرے میں مشہور ہندوراجہ ’’رائے ڈاہر‘‘ کی طرف سے اسی قلعے کا حاکم ’’سمندر سمنی‘‘ نام کا شخص تھا ،جو بدھ مذہب کا پیروکار اور بھکشوتھا اس کا ذکر پہلے بھی آیا ہے۔

قلعے کی اپنی تاریخی اور فوجی اہمیت تھی لہٰذا اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ’’رائے ڈاہر ‘‘ یا ’’ راجہ داہر‘‘ کا بیٹا ’’جیسنہ‘‘یہاں اکثر آتا جاتا رہتا تھا۔مورخین کے مطابق یہ علاقہ خوب صورتی اور حسن و شادابی کا نمونہ تھا۔قلعے کا مغربی حصہ نشیب میں تھا، جہاں ایک خوبصورت جھیل تھی، جس کا شفاف پانی چاروں طرف پھیلا ہوا تھا، سبزہ و پھلواری دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی، اْس وقت دریائے سندھ گنجو ٹکر کے مشرقی حصے میں بہتا تھا۔ یوں مشرق کی طرف پانی اور مغرب میں خشکی سے ملاہوا یہ قلعہ انتہائی دیدہ زیب لگتا تھا۔

آٹھویں صدی کے اوائل میں دیبل فتح کرنے کے بعد فاتح سندھ محمد بن قاسم نیرون کوٹ کی جانب روانہ ہوئے۔ یہاں پہنچ کر انہوں نے جس جگہ پڑائو ڈالا اسے بلہار کہا جاتا ہے، جو نیرون کوٹ کے باہر ایک خوبصورت چراگاہ تھی۔ بلہار کی معانی سر سبز و شاداب علاقہ کے ہیں۔ محمد بن قاسم نے جب اس علاقے کو فتح کیا، تو مسلمان افواج نے صلہ رحمی کا شاندار مظاہرہ کیا جسے مقامی آبادی نے بہت سراہا،انہوں نے قلعے میں ایک مسجد بھی بنانے کا حکم دیا۔ ایک اور مورخ ابو عبداللہ محمد الادریسی نیرون کوٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ شہر دریا کے کنارے آباد ایک محفوظ اور سر سبز وشاداب علاقہ تھا، جب کہ مشہور و معروف مورخ شیر علی قانع ٹھٹھوی نے بھی اپنی کتاب تحفۃ الکرام میں اس کے بارے میں لکھا ہے۔

بعد ازاںمیاں غلام شاہ کلہوڑو نے قلعہ کی نئے سرے سے تعمیرکرائی، اس شہر کے بارے میں بہت ہی کم معلومات منظر عام پر آئی ہیں۔بہت ممکن تھا کہ نیرون کوٹ دیگر ناموں رون یا پٹالہ بندر کی طرح تاریخ کاحصہ بن جاتا ،مگریہ ٹیکری پر واقع تھا، اس لیے موسم کی چیرہ دستیوں سے محفوظ رہا۔ دیبل اور منصورہ کو ملانے والی شاہراہ پر ہونے کی وجہ سے کئی قافلے اکثر اس شہر میں ٹھہرتے تھے۔علاوہ ازیںدریا کی قربت نے اسے دوسرے شہروں سے آبی راستوں کے ذریعے ملایا ہوا تھا، چناں چہ خشکی ہو یا تری دونوں راستوں سے قافلوں کی آمد و رفت جاری رہتی تھی۔ان راستوں سے سیاح، محقق، عالم، تاجر اور دوسرے لوگوں کے آنے جانے کی وجہ سے یہ شہر تاریخ کے اوراق میں گم ہونے کے بہ جائے کسی نہ کسی طرح اپنا وجود برقرار رکھنے میں کام یاب ہوگیا۔ نیرون کوٹ پر عربوں کی حکومت بہت دنوں تک قائم رہی۔ انہوں نے یہاںتقریباً تین سو سال تک حکمرانی کی۔ بعد ازاں دہلی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نوابین نے قلعے کا انتظام سنبھالا۔مشہور مغل بادشاہ اکبر کے دور میں خان خناں کو اس علاقے کا انتظام سنبھالنے کی ذمیداری تفویض کی گئی۔

ایک اور بات بھی مشہور ہے کہ اس شہرمیں مشہور مغل بادشاہ ،شاہ جہاں بھی آیا تھا، اس وقت وہ صرف شہزادہ تھا۔ تخت نشین ہوجانے کے بعد اس نے مکی شاہ بابا کے مزار کی تعمیر کا حکم بھی دیا تھا اس سلسلے کا ایک شاہی فرمان آج بھی بابا کے مزار کے مغرب کی طر قلعہ کی دیوار میں لگا ہوا ہے۔ شاہ جہاں نے اسی زمانے میں ٹھٹھہ کی مشہور شاہجہانی مسجد بنوانے کا بھی حکم دیا تھا۔ دہلی کے حکمران کمزور پڑے تو یہاں سومرو نے طاقت کے زور پر اپنی حکومت قائم کرلی، ان کے دور میں سخاوت، بہادری اور سرفروشی کی بہت سی اعلیٰ مثالیں قائم ہوئیں۔ جام نظام الدین جام تماچی، مخدوم بلاول اور دولہا دریا خان اسی دور کی اہم شخصیات ہیں۔ اس زمانے میں ادب و ثقافت کو بھی فروغ ملا ،پھر یہاں ارغون اور ترخان قابض رہے، ان کے بعد کلہوڑوں نے اس علاقے پر حکمرانی کی۔ یہ لوگ داخلی طور پر خود مختار مگر خارجی طور پر دہلی کے ماتحت تھے۔آج کے موجودہ شہر حیدرآباد کی بنیاد ان ہی کے دور حکومت میں میاں غلام شاہ کلہوڑو نے رکھی تھی۔ اس شہر کو نیرون کوٹ سے حیدرآباد میں بدلنے والے کلہوڑو خاندان نے حکومت کرنے کے لیے اپنے حسن اخلاق اور بہترین کردارسے لوگوں کے دل جیتے، اس طرح لوگ ان کے گرویدہ ہوتے گئے۔ ماضی کا نیرون کوٹ اور موجودہ حیدر آباد تاریخ میں ایک طویل باب کی حیثیت رکھتے ہیں، جس میں امن و آتشی، ادب و تاریخ، تہذیب و تمدن اور صحت مند معاشرے کے انمٹ نقوش واضح ہیں۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر