... loading ...
شہرقائد میں گرمی میں اضافے کے ساتھ پہلے سے جاری لوڈشیڈنگ میں اچانک ہی اضافہ ہوگیا۔ جس کے باعث 41ڈگری سینٹی گریڈدرجہ حرارت میں بجلی کی بندش نے عوام کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ لوڈ شیڈنگ کے باعث مختلف علاقو ںمیں پانی کی بھی شدید قلت پیداہوگئی ۔حیر ت کی بات یہ کہ جن علاقوں میں لوڈشیڈنگ مسلسل جاری تھی وہاں اس کادورانیہ دس گھنٹے سے تجاوزکرگیاجبکہ لوڈشیڈنگ سے مستثنی علاقوں میں بجلی بند کی جارہی ہے ۔ اس حوالے سے کے الیکٹرک حکام نے لوڈشیڈنگ میں اچانک اضافے کاذمے دارسوئی سدرن کمپنی کوقراردیناشروع کردیااس حوالے سے کے الیکٹرک کی ترجمان سعدیہ ڈاڈا کا کہنا ہے کہ ایس ایس جی سی کی جانب سے کے الیکٹرک کو گیس کی فراہمی کو بڑھانے کے بجائے اس میں مسلسل کمی کی جارہی ہے جس کی وجہ سے ادارے کو بجلی کی پیداوار میں رکاوٹیں حائل ہیں۔انہوں نے مزیدکہا کہ موسم گرما میں بجلی کی طلب میں اضافہ ہوجاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ایس ایس جی سی کی جانب سے 276 ملین کیوبک فیٹ روزانہ کی گیس فراہم کو کم کرکے 90 ملین کیوبک فیٹ روزانہ تک محدود کردیا گیا۔ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے کے الیکٹرک ایس ایس جی سی سے رابطے میں ہے تاہم اسے معاملے کو جلد حل کر لیا جائے گا۔
نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے سعدیہ ڈااڈا نے بتایا کہ کے گیس کی ناکافی فراہمی کی وجہ سے کے الیکٹرکے 500 میگا واٹ کے پاور پلانٹ غیر فعال ہیں، لہٰذا ادارے کو شہر میں مجبوراً اضافی لوڈ شیڈنگ کرنی پڑ رہی ہے۔انہوں نے یقین دلایا کہ ان کی کوشش ہے کہ اس شارٹ فال کا بوجھ کسی مخصوص صارف پر نہ ڈالا جائے اسی لیے اضافی لوڈ شیڈنگ تمام علاقوں تک مساوی بنیادوں پر کی جارہی ہے۔
اس حوالے سے سوئی سدرن گیس کمپنی کے ترجمان شہباز اسلام نے بتایا کہ ادارے کے پاس اس وقت گیس کی کمی کا سامنا ہے، اور ایسی صورت میں پہلے گھریلو صارفین کو ترجیح دیتے ہیں اس کے بعد کمرشل صارفین کو ترجیح دی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس جی سی نے کے الیکٹرک کی سپلائی بند نہیں کی، انہیں جتنی گیس دی جارہی تھی اتنی ہی دی جارہی ہے۔جبکہ کے الیکٹرک اور ایس ایس جی سی کے درمیان کوئی کانٹریکٹ نہیں ہے،اور کے الیکٹرک ایس ایس جی سی کی 80 ارب روپے کی نادہندہ ہے، لیکن پھر بھی کراچی کی عوام کی پریشانی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کے بجلی کی تقسیم کار کمپنی کو فراہمی کی جاری ہے۔
میڈیا اطلاعات رپورٹ کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی اور کراچی الیکڑک لمیٹڈ کے مابین واجبات کی ادائیگی پر تنازعہ شدت اختیار کرگیا جس کے باعث شعبہ صنعت کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔یادرہے کہ کے الیکڑک سوئی سدرن گیس کمپنی کا سب بڑا صارف ہے اور گزشتہ دنوں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی کے الیکڑک نے ایس ایس جی سی ایل کو گیس کی فراہمی میں اضافے کی درخواست کی تھی۔
کے الیکڑ ک کی ترجمان سعدیہ ڈاڈا کے مطابق ‘بن قاسم پاور اسٹیشن (بی کیو پی ایس) کو فعال کرنے کے لیے 190 ملین کیوسک فٹ فی دن کے حساب سے درکار ہے جبکہ مذکورہ پاور اسٹیشن صرف گیس پر بھی چل سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘28 مارچ کو بجلی کی طلب 2 ہزار 600 میگا وٹ تک جا پہنچی چنانچہ اگلے دنوں میں طلب میں مزید اضافہ ممکن ہے۔سعدیہ ڈاڈا نے انکشاف کیا کہ گیس کی کمی کے سبب بعض پلانٹ بند ہیں جس کی وجہ سے 500 میگا وٹ بجلی کا شارٹ فال ہے۔
سوئی گیس کمپنی اورکے الیکٹرک کے درمیان لڑائی اورالزام تراشی اپنی جگہ لیکن اس ساری صورت حال میں سب سے زیادہ نقصان کاروباری سرگرمیوں کوپہنچ رہاہے ۔ کیوں کہ لوڈشیڈنگ سے سب سے زیادہ صنعتی علاقے متاثرہیں۔ یادرہے کہ گزشتہ برسوں میں لوڈشیڈنگ میں خاطرخواہ کمی آئی تھی جس کے باعث صنعتی اداروں میں بجلی کے متبادل ذرائع ختم کردیئے گئے تاہم اب گرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے مالی نقصان کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
سائٹ ایسوسی ایشن انڈسٹری کے ایک رکن کے مطابق صنعت کاروں نے ایس ایس جی سی اور کے الیکڑک کے مابین تنازعہ کو حل کرنے کی پیش کش کی ہے اس ضمن میں وزیراعلیٰ سندھ نے بھی ایک قدم اٹھایا ہے لیکن ایس ایس جی سی کے مینجنگ ڈائریکٹر نے دوٹوک کہا ہے کہ 5 اپریل سے پہلے کوئی اجلاس ممکن نہیں ہے۔
بن قاسم ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (بی کیو اے ٹی آئی) کے سابق صدر رشید جان محمد نے کے مطابق لوڈشیڈنگ سے صنعتی امور بری طرح متاثر ہور ہے ہیں کے الیکٹرک کو گیس کی فراہمی ہنگامی بنیادوں پر فراہم کی جائے تاکہ بجلی کی طلب پوری ہو سکے ۔
ایس ایس جی سی حکام نے پہلے موقف اختیار کیا کہ کے الیکڑک کو گیس کی سپلائی محدود نہیں کی گئی لیکن جب اس مسئلے پر بات کی گئی تو ایس ایس جی سی کے ترجمان شہباز اسلام نے کہا کہ گیس کی اضافی طلب کی ڈیمانڈ پوری نہیں کی جا سکتی ہماری پہلی ترجیح حکومت کی مجوزہ پالیسی ہے کہ گھریلو صارفین کی ضرورت پوری کی جائے جبکہ دوسری ترجیح گیس سیلز ایگریمنٹ جبکہ تیسری ترجیح میں کے الیکڑک کی درخواست ہے لیکن کے الیکڑک کی جانب سے عدم ادائیگی کا معاملہ رہا اس لیے بھی گیس کی اضافی فراہمی ممکن نہیں ہے۔
ادھر کے الیکڑ ک کی ترجمان سعدیہ ڈاڈا کا موقف ہے کہ کے الیکڑک کو گیس کمپنی کے ادائیگی کرنی جس کے لیے بھرپور کوشش جاری ہے لیکن اس سے دگنی ادائیگی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (کے ڈبلیو ایس بی) کو کے الیکڑک کی کرنی ہے لیکن کراچی کے شہریوں کے وسیع تر مفاد میں کے ڈبلیو ایس بیکو بجلی کی فراہمی جاری ہے۔ایس ایس جی سی نے دعویٰ کیا کہ کے الیکڑک پر 78 ارب روپے واجب الادا ہیں جبکہ سعدیہ ڈاڈا کا کہنا ہے کہ مذکورہ رقم 13 ارب 70 کروڑ روپے ہے۔
ایس ایس جی سی میں ایک عہدیدار نے بتایا کہ دونوں کمپنیوں کے مابین سارا معاملہ زائد واجبات کے گرد گھوم رہا ہے اور کے الیکڑک کی جانب سے اضافی گیس کی فراہمی کی درخواست بھی موصول ہوئی لیکن ہم نے اضافی گیس کی فراہمی کو بقایات کی ادائیگی سے مشروط کردیا۔
کے الیکڑک کے ذرائع نے بتایا کہ گیس کی فراہمی کے سلسلے میں فروری میں ہی ایس ایس جی سی کو مطلع کیا گیا۔ لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہو تا 28 فروری کو گورنر ہاؤس میں اجلاس ہوا جس کے بعد 7 مارچ کو دوبارہ گیس سے متعلق مراسلہ ارسال کیا گیا۔ مراسلے کی کاپی میں درج ہے کہ ‘20 ملین کیوسک فٹ فی دن کے حساب سے گیس کم فراہم کی تو 100 میگا وٹ بجلی پیدا نہیں کی جا سکے گی۔
یہ ساری صورت حال اپنی جگہ لیکن پاکستان کے معاشی حب کے مکین متعلقہ اداروں سے یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آیاآپس کی لڑائی میں ہمیں کیو ں رونداجارہاہے ۔ ہمارے بچوں کا کیا قصور ہے جوانھیں چلچلاتی دوپہرمیں بجلی سے محروم کرکے بیماریوں کے منہ میں دھکیلاجارہاہے ۔ کاروباری طبقہ ‘تاجراورصنعت کار سوال کررہے ہیں کہ ہمیں کس جرم کی سزادی جارہی ہے ۔ جبکہ مزدورطبقہ اس سوال میں حق بجانب ہے کہ اس مہنگائی کے دورمیں ہمارے لیے روزگارکے دروازے کیوں بند کیے جارہے ہیں ۔ یہاں ضرورت اس امرکی ہے کہ وفاقی اورصوبائی حکومتیں اس معاملے میں مداخلت کریں ۔ خصوصاً گورنر اور وزیر اعلیٰ سندھ متعلقہ محکموں کوطلب کرکے اس بات کاپابندبنائیں کہ وہ آپسی لڑائی میں عوام کوایندھن بنانے سے گریز کریں۔
سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...
انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...
تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...
قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...
تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...
ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...
شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...
حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...
شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...
ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...
پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...