وجود

... loading ...

وجود

موسم گرماآتے ہی کے الیکٹرک نے کراچی پرقہرڈھاناشروع کردیا

جمعه 30 مارچ 2018 موسم گرماآتے ہی کے الیکٹرک نے کراچی پرقہرڈھاناشروع کردیا

موسم گرماکے آتے ہی کے الیکٹرک نے شہر قائد پر قہر ڈھانا شروع کر دیا ۔ مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ نوگھنٹے سے تجاوز کر گیا۔ بجلی کی طلب بڑھنے کی وجہ سے کے الیکٹرک کا سسٹم بیٹھنے لگا۔ مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 9 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے جب کہ مستثنی علاقوں میں بھی بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے۔ کراچی کاکوئی علاقہ چاہے وہ ڈیفنس ہو یا سرجانی ‘گلشن اقبال ہویااورنگی ٹائون بے رحمانہ لوڈشیڈنگ سے محفوظ نہیں ۔کئی علاقوں کی صورت حال نہایت ابترہے ۔ شدید گرمی اور اوپر سے بجلی کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کا جینا محال کردیا ہے۔ پنکھے، اے سی بند ہونے کے باعث چھوٹے بچے خصوصا زیادہ پریشان ہیں۔ اسکولوں میں بھی تعلیمی عمل میں خلل پڑ رہا ہے تودفاترمیں بھی کام متاثر ہو رہا ہے ۔ بجلی کی بندش کی وجہ سے مختلف علاقوں میں پانی کی قلت بھی شروع ہوگئی ہے۔ پاکستان کے معاشی حب میں کاروباری اورتجارتی سرگرمیاں تقریبامعدوم ہوکررہ گئی ہیں ۔ لوڈشیڈنگ کے حوالے سے کے الیکٹر ک انتظامیہ کاگیس سپلائی میں کمی کے حوالے سے وہی پراناروناجاری ہے ۔حیرت اس بات پرہے کہ پور ے سال اووربلنگ کے نام پرغریب عوام کاخون نچوڑنے والی کمپنی نے بھاری سرمایہ جمع کرنے سواکوئی بھی کام ایسانہیں کیاجس سے وہ موسم گرما میں اپنے صارفین کوغیراعلانیہ لوڈشیڈنگ سے محفوظ رکھ سکیں ۔ ابھی ابتدائے گرمی میں یہ صورت حال ہے تویقینا آنے والے دنوں میں جب گرمی پورے عروج پرہوگی َ‘سورج آگ برسارہاہوگا۔ہیٹ ویوکاخطرہ منڈلا رہا ہو گا تو کے الیکٹرک صارفین کوکیسے ریلیف فراہم کرے گی ۔

موجودہ صورت کراچی کے شہریوں کے لیے نئی نہیں ہے ۔ کئی دہائیو ںسے عوام کے الیکٹرک اورسابقہ کے ا ی ایس سی کے ظلم کاشکار ہیں ۔ اس حوالے سے اعلی حکام کی جانب سے بیانات توجاری کیے جاتے پرکے الیکٹرک حکام سے سختی سے بازپرس نہیں کی جاتی ۔ کوئی اس عفریت نماادارے سے یہ پوچھنے کے لیے تیارنہیں کہ وہ بھاری بلوں کی وصولی کے باوجودعوام کومسلسل بجلی فراہم کرنے سے قاصرکیوں ہے ۔ کیوں وہ حکومت کے کیے گئے معاہدے کے باوجوداب تک اپنے پیداواری یونٹ فعال نہیں کرسکی ۔ ہربار گرمی کی آمد سے قبل لوڈشیڈنگ کم سے کم کرنے کے دعوے کرنے کے باوجودموسم گرماآتے ہی صورت حال قابوسے باہرکردی جاتی ہے ۔ لوڈشیڈنگ سے ہرطبقے کے لوگ متاثرہوتے ہیں ۔ سب سے زیادہ فرق ا ن لوگوں کوپڑتاہے جوکچی بستیوں میں یاکرائے کے چھوٹے مکانات میں رہتے ہیں۔ایک جانب توشدیدگرمی ان کی اوران کے بچوں کی جان کے درپے نظرآتی ہے تودوسری جانب بجلی کی بندش انھیں مزید جھنجھلاہٹ میں مبتلا کردیتی ہے اورروزگارالگ متاثرہوتا۔ایسے میں جب یہ لوگ سڑکوں پرآکراحتجاج کرتے ہیں توامن وامان کامسئلہ پیداہوتا ہے اورپولیس وقانون نافذکرنے والے اداروں کے عناصرانھیں اٹھاکرتھانوں میں بندکردیتے ہیں ۔

افسو س کامقام یہ ہے کہ عوامی ہمدردی کی دعویدارپیپلزپارٹی جس نے مرکز میں بھی حکومت کی اورسندھ میں مسلسل تقریبانوسال سے برسراقتدارہے نے بھی کسی دورحکومت میں کے الیکٹرک کے سرکش گھوڑ ے کولگام ڈالنے کی کوشش نہیں کی ۔ کم وپیش یہی حال موجودہ وفاقی حکومت کابھی ۔ ن لیگ کے سربراہ نوازشریف نے پنجاب بھرمیں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے بڑ ے دعو ے کیے ۔ اورکئی مقامات پربجلی بنانے کی پیدوارکے یونٹ بھی لگائے ۔ لیکن انھوں نے بھی کراچی میں لوڈشیڈنگ کی صورت حال سے بخوبی واقف ہونے کے باوجودکبھی کے الیکٹرک سے نہ خودبازپرس کی زحمت کی اورنہ ان کی کابینہ میں شامل پانی وبجلی کے وزراء کواس مسئلے کے حل کی ہدایت کی ۔وزارت عظمی سے نکالے جانے کے باوجودبھی میاں نوازشریف صاحب ’’مجھے کیوں نکالا‘‘مہم میں مصروف ہیں اوران کی پارٹی کے حکمران بھی ان کے ساتھ احتجاج میں کسی نہ کسی طورشریک رہنے میں مصروف ہیں ۔ وفاقی وزرائے کی بات توچھوڑیں خودوزیراعظم شاہدخاقان عباسی بھی اسی کام میں مصروف نظرآتے ہیں ۔کسی کوبھی عوامی مسائل کے حل کی کوئی فکرنہیں۔

کراچی کی سب سے بڑی جماعت ہونے کی دعویدارایم کیوایم جواب ایم کیوایم پاکستان بن چکی کے رہنماجوآج کل توذاتی لڑائی میں مصروف ہیں لیکن جب یہ ایک ہی جگہ جمع تھے تب بھی انھوں نے ماسوائے لوڈشیڈنگ کے خلا ف احتجاج احتجاج کھیلنے کے کچھ نہیں کیا۔ اب تومعاملہ ہی مختلف ہے ۔کراچی جوملک کاسب سے بڑاشہر ہے ۔ جسے ماضی میں عروس البلادکہاجاتا تھا اب اندھیروں کی نگری میں تبدیل ہوچکاہے ۔کسی گلی محلے میں نکل جائیں عوام کاسب سے بڑامسئلہ لوڈشیڈنگ ہی نظرآئے گااوردوسرابڑامسئلہ پانی کی قلت ۔ شہرقائدکے باسیوں کوہی نہیں ملک بھرکے عوام کواس بات سے کوئی سروکارنہیں کہ نوازشریف کو وزارت عظمی سے یاڈاکٹرفاروق ستار کو کنوینر شپ سے کیوں نکالاگیا۔ نہ ہی لوگوں کواس بات سے غرض ہے کہ آئندہ حکومت بلاول بھٹو بنائیں گے یاعمران خان کانیاپاکستان بنے گا۔

یہی نہیں ایم ایم اے کی بحالی بعد مذہبی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پرجمع نظرآتی ہیں ۔ لیکن ان کی جانب سے بھی لوڈشیڈنگ جیسے سنگین مسئلے پرکوئی آوازبلندہوتی نظرنہیں آرہی ماسوائے جماعت اسلامی کے جس نے کچھ عرصے قبل کے الیکٹرک کی جانب اووربلنگ کے خلاف بھرپوراحتجاج کیاتھا۔ اورعدالتوں میں بھی اس مسئلے کواٹھایاتھا۔ لیکن موجودہ صورت حال میں ابھی تک وہاں سے کوئی آوازسنائی نہیں دے رہی ۔

ایم کیوایم کودیوارسے لگائے جانے اورایم کیوایم پاکستان کی دھڑے بندی سے فائدہ اٹھاکرکراچی فتح کرنے کے خواب دیکھنے والی مختلف سیاسی جماعتیں جن میںپاکستان پیپلزپارٹی اورتحریک انصاف قابل ذکرہیں ۔ کراچی کے عوام سے ووٹ لینے کے لیے سرتوڑکوششو ں میں مصروف ہیں لیکن یہاں کے باسیوں کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کررہیں ۔ پیپلزپارٹی جوصوبائی حکمران بھی نے اب تک اپنی کارکردگی سے عوام کومایوس ہی کیاہے۔رہ گئی بات تحریک انصاف کی توبے شک وہ سندھ میں برسراقتدارنہیں لیکن پانی وبجلی جیسے سنگین مسائل پرآوازتواٹھاسکتی ہے ۔

جہاں تک تعلق ہے ااہالیان کراچی کاتوبلاشبہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتوں اوررہنمائوںسے زیادہ اعلی عدلیہ کی جانب دیکھ رہے ہیں ان کویقین ہے کہ جلد یابدیرعزت مآب جناب چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثارصاحب کراچی میں جاری غیراعلانیہ بے رحمانہ طویل ترین لوڈشیڈنگ کاازخودنوٹس لے کرکے الیکٹرک کے ذمے داران سے جواب طلبی کریں گے ۔


متعلقہ خبریں


کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات وجود - جمعه 13 مارچ 2026

صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان وجود - جمعه 13 مارچ 2026

عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج وجود - جمعه 13 مارچ 2026

مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم وجود - جمعه 13 مارچ 2026

کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط وجود - جمعه 13 مارچ 2026

جنگ صیہونی حکومت اور امریکانے شروع کی ، جنگ میں ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے آئندہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں ہوگی عالمی طاقتیں اس کی ضمانت دیں، ایرانی صدر کا بیان ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے 3 شرائط رکھ دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ...

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد وجود - جمعه 13 مارچ 2026

پورے ہال میں لاتوں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ، ایک دوسرے پر بدزبانی کی، کوئی بھی لڑائی بند کرنے کو تیار نہ تھا حکومتی ارکان نے صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران مجموعی طور پر14 قراردادیں منظور کرا لیں سٹی کونسل کا اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جہاں ارکان ایک...

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی وجود - بدھ 11 مارچ 2026

ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ وجود - بدھ 11 مارچ 2026

آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ

مضامین
امریکا ہار جائے گا! وجود جمعه 13 مارچ 2026
امریکا ہار جائے گا!

ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق وجود جمعه 13 مارچ 2026
ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق

عالمی طاقتوں کا کھیل اور امت ِ مسلمہ کا مستقبل وجود جمعه 13 مارچ 2026
عالمی طاقتوں کا کھیل اور امت ِ مسلمہ کا مستقبل

بھارتی مسلمانوں کی ملک سے وفاداری مشکوک وجود جمعه 13 مارچ 2026
بھارتی مسلمانوں کی ملک سے وفاداری مشکوک

ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت وجود جمعرات 12 مارچ 2026
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر