وجود

... loading ...

وجود
منگل 09 جون 2026

الیکشن کمیشن نے ڈاکٹرفاروق ستارکی چھٹی کردی

منگل 27 مارچ 2018 الیکشن کمیشن نے ڈاکٹرفاروق ستارکی چھٹی کردی

الیکشن کمیشن پاکستان نے ایم کیو ایم پاکستان کے کرائے گئے انٹرا پارٹی الیکشن کو کالعدم قرار دے دیا، جس کے ساتھ ہی ڈاکٹر فاروق ستار پارٹی سربراہ نہیں رہے۔الیکشن کمیشن میں ایم کیو ایم پاکستان کے دونوں دھڑوں کے انٹرا پارٹی انتخابات کے حوالے سے الگ الگ درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی جس میں ای سی پی کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا گیا تھا، تاہم کمیشن نے ان کی درخواست کو مسترد کردیا جبکہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور کنور نوید جمیل کی درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دے دیا۔الیکشن کمیشن نے درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کو ایم کیو ایم پاکستان کی کنوینر شپ کو ہٹا دیا۔

الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایم کیو ایم بہادرآباد گروپ کے رہنما علی رضا عابدی کا کہنا تھا الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہے۔ ہم نے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا تھا کہ الیکشن کمیشن ٹرائل کورٹ نہیں ہے اور ہمارے کیس میں شواہد ریکارڈ کروانے کا ہی مسئلہ ہے۔الیکشن کمیشن کوپارٹی کنوینر شپ کے فیصلے کا دائرہ اختیار نہیں ہے تاہم ڈاکٹر فاروق ستار کو یہ تجویز پیش کی جائے گی کہ اس فیصلے کو بھی چیلنج کیا جائے۔

ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ریڈر نے سنایا جبکہ اس وقت الیکشن کمیشن کی بینچ کو کوئی بھی ممبر موجود نہیں تھا۔یادرہے کہ ایم کیوایم پاکستان میں اختلافات اس وقت کھل کرسامنے آئے تھے جب

کامران ٹیسوری کو فاروق ستارکی جانب سے سینیٹر بنانے کااعلان کیاگیاتھااس معاملے پرکنوینراوررابطہ کمیٹی میں اختلافات کھل کرسامنے اورپارٹی دوواضح دھڑوں میں تقسیم ہوگئی نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک دن میں پارٹی کے دواجلاس ہوئے ایک بہادرآباد میں اوردوسراپی آئی بی کالونی میں ۔پیرالہی بخش کالونی میں ہونے والے اجلاس میں جس کی صدارت فاروق ستارنے کی میں رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی، کامران اختر، وقار شاہ شریک ہوئے۔دوسرا اجلاس بہادرآباد میں عامر خان کی زیر صدارت ہوا جس میں خالد مقبول صدیقی، کنور نوید، امین الحق، فیصل سبزواری، وسیم اختر، نسرین جلیل اور دیگر نے شرکت کی۔

اس دوران مفاہمت کی کوششیں بھی جاری رہیں لیکن فاروق ستارپنی بات پراڑے رہے ۔اسی دوران گیارہ فروری کومتحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کو پارٹی کنوینر کے عہدے سے برطرف کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کو کنوینر مقرر کردیا۔اس بات کااعلان رابطہ کمیٹی کے ارکان نے بہادر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر عامر خان، خالد مقبول صدیقی، کنور نوید جمیل، نسرین جلیل اور دیگر متحدہ رہنما موجود تھے۔ ایم کیو ایم بہادر آباد گروپ نے کہا کہ یہ فیصلہ ہمارے لیے بہت تکلیف ہے لیکن ہم مجبور ہیں اور فاروق ستار کو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی کنوینر شپ سے برطرف کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔

اس موقع پرڈپٹی کنوینر نے کہا کہ رابطہ کمیٹی کے بار بار کہنے کے باوجود پارٹی کے گوشوارے جمع نہیں کرائے گئے جس پر الیکشن کمیشن میں ایم کیو ایم کی پارٹی رجسٹریشن منسوخ ہوگئی تھی اس ساری غلطی کی ذمہ داری فاروق ستار پر عائد ہوتی ہے،فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے اختیارات کئی بار استعمال کیے،ایسی بہت ساری باتیں ہیں تاہم صرف چند فیصد آپ سے شیئر کی جارہی ہیں درحقیقت فاروق ستار نے دھوکے سے خود کو پارٹی کا سر براہ بنایا۔

کنورنویدجمیل نے کہا کہ تنظیم کے اندر پسند نا پسند، اقربا پروری اپنے عروج پر ہے، مطلق العنانی کے ذریعے سارے کام کیے جارہے ہیں، فاروق ستار کے غلط کاموں کو محض انہیں منانے اور پارٹی نہ توڑنے کی خاطر تسلیم کیا، ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے تکلیف ہورہی ہے کہ فاروق ستار آج سے کنوینر نہیں بلکہ پارٹی کے محض ایک کارکن ہیں۔اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان باقاعدہ تقسیم ہوچکی۔ اسی دوران جنرل ورکرزاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستارکہاکہ میں آرٹیکل سکس کے تحت رابطہ کمیٹی کوفارغ کرتاہوں اسی دوران فاروق ستار نے ایک قرارداد پیش کی جس میں انہوں نے 17 فروری کو پارٹی کے الیکشن کرانے کا اعلان کیا اور کہا کہ 17 فروری کو پارٹی الیکشن کرائیں گے جس کے بعد پتا چل جائے گا کارکنان کس کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہاکہ میںمسلسل چھ راتوں سے جاگ کر پارٹی کو بچانے میں لگا ہوا تھا، عاقبت نااندیش ساتھیوں نے پارٹی کے دستور کا معاملہ چھیڑ دیا، ایک چھوٹی موٹی چارج شیٹ میرے پاس بھی ہے، رابطہ کمیٹی کے ارکان نے غیر آئینی اجلاس پر اجلاس بلاکر پارٹی آئین اور انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کی، میں نے بانی ایم کیو ایم کے اختیارات نہیں مانگے لیکن ممنون حسین بن کر بھی نہیں رہنا چاہتا۔

انٹرپارٹی الیکشن میں ڈاکٹرفاروق ستار دوبارہ پارٹی کے کنوینراورکامران ٹیسوری ڈپٹی کنوینرمنتخب ضرورہوگئے لیکن بہادرآبادگروپ نے اسے الیکشن کمیشن میں چیلنج کیا۔ اسی دوران سینیٹ الیکشن میں ایم کیوایم بر ی طرح شکست سے دوچارہوئی فاروق ستارکی جانب سے خواتین اراکین اسمبلی پرووٹ فروخت کیے جانے کاالزام بھی عائد کیاگیا۔ ان کاکہناتھاکہ ہمار ی باجیوں نے پیپلزپارٹی کے امیدواروں کوووٹ دیئے ۔سینیٹ الیکشن میں سوائے فرو غ نسیم کے کوئی دوسراامیدوارکامیاب نہ ہوسکا۔ رواں ایم کیوایم کایوم تاسیس بھی ایم کیوایم پاکستان کے دونوں گروپو ں نے الگ الگ کرایا۔ پی آئی بی گروپ نے لیاقت آبادفلائی اوور پر اور بہادر آبادگروپ نے نشترپارک میں ڈیرہ جمایا۔ دونوں جانب سے کارکنوں کی کثیرتعدادکے آنے کے دعوے کیے گئے

گزشتہ روزالیکشن کمیشن آف پاکستان نے فیصلہ سناکرڈاکٹرفاروق ستارکوایم کیوایم پاکستان کی کنوینرشب سے فار غ اورپی آئی بی گروپ کی جانب سے کرائے گئے انٹرپارٹی الیکشن بھی کالعدم قراردے دیئے ۔ فیصلہ آنے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان پی آئی بی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈاکٹر فاروق ستار کے خلاف کیے جانے والے فیصلہ کو چیلنج کرنے کا حق رکھتے ہیں، ہم اس فیصلہ پر نظرثانی کی درخواست دائر کریں گے۔ پیر کو الیکشن کمیشن میں فیصلہ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی رضا عابدی نے کہا کہ جو ادارہ ٹرائل نہیں کرسکتا وہ فیصلہ کیسے دے سکتا ہے، بینچ موجود نہیں تھا، ریڈرز نے فیصلہ سنادیا۔علی رضا عابدی نے کہا کہ فیصلہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہے، اس کیس کو ٹرائل کورٹ میں سننا چاہئے تھا۔

اس حوالے سے ڈاکٹرفاروق ستار اور ان کے رفقاجوبھی طریقہ کاراختیارکریں وہ ان کاآئینی حق ہے تاہم ایک بات جویہا ں ضروری ہے وہ یہ کہ گزشتہ کئی دنوں سے جاری باہمی لڑائی جھگڑے کے باعث ایم کیوایم کے کارکنان،ذمے داران اورہمدردشدید ذہنی تنائوکاشکار ہے ۔ جب کہ مہاجرووٹرزبھی مخمضے کا شکارہے ۔ہوناتویہ چاہیے کہ دونوں دھڑے اس معاملے کومزید الجھانے کے بجائے آپس میں مل بیٹھ کرمسائل حل کریں ۔ اور ووٹرز کو درتقسیم درتقسیم ہونے سے روکیں اسی میں ان کی اورپارٹی کی بھلائی ہے ۔ ورنہ ٹکڑوں میں بٹی ایم کیوایم 2018کے عام انتخابات میں سینیٹ الیکشن کی طرح شکست سے دوچارہوگی اوربچی کھچی پارٹی کی ساکھ بھی خراب ہوگی۔


متعلقہ خبریں


گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند سطح پر، 11 ماہ میں 34 ارب ڈالر نقصان وجود - جمعه 05 جون 2026

پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، 11 ماہ میں تجارتی خسارہ 34 ارب 75 کروڑ ڈالر ریکارڈ 11 ماہ میں برآمدات 27 ارب 90 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رہیں، برآمدات میں 5۔61 فیصد کی کمی ہوئی،ادارہ شماریات پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا...

تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند سطح پر، 11 ماہ میں 34 ارب ڈالر نقصان

امریکا کو آئندہ جواب مزید سخت ہو گا، پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی وجود - جمعرات 04 جون 2026

خلیج میں رات گئے ہونے والی کارروائیوں کی مزید تفصیلات جاری، ایرانی مفادات پر کسی بھی حملے کا جواب پہلے سے زیادہ شدید انداز میں دیا جائے گا، امریکا کو سخت پیغام ایرانی بحریہ نے پانایا نامی ایک ایسے بحری جہاز پر میزائل داغے جو امریکی اور اسرائیلی مفادات سے وابستہ تھا،ہم پہلے ہی خب...

امریکا کو آئندہ جواب مزید سخت ہو گا، پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی

بجٹ پر مشاورت ، عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاعدالت سے رجوع وجود - جمعرات 04 جون 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوانے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی،خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی کے وژن کو ووٹ دیا وفاق اب کے پی کے لوگوں کو اسی بات کی سزا دے رہا ہے، بانی کی آنکھ کا 25 فیصد نقصان ہو چکا، علاج اور ملاقاتوں میں رکاوٹ تشویشناک ہ...

بجٹ پر مشاورت ، عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاعدالت سے رجوع

سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے معاملے سے پارٹی قیادت کو لاعلم رکھا،ذرائع وجود - جمعرات 04 جون 2026

ذرائع نے سہیل آفریدی کی جانب سے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے اعلان سے متعلق کہا ہے کہ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو احتجاج کے اعلان اور فیصلے سے لاعلم رکھا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماں اورپی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے احتجاج کے حوالے سے مشاورت نہیں کی گئی۔پی ٹی آئی ذرائ...

سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے معاملے سے پارٹی قیادت کو لاعلم رکھا،ذرائع

مضامین
دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

عشقِ رسول ۖ کی تجدید وجود پیر 08 جون 2026
عشقِ رسول ۖ کی تجدید

ہمسایہ ممالک میں بھارتی مداخلت وجود پیر 08 جون 2026
ہمسایہ ممالک میں بھارتی مداخلت

گائے کی سیاست اور مسلمان وجود اتوار 07 جون 2026
گائے کی سیاست اور مسلمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر