... loading ...
جب ہم ا ن پڑھ قوم کہلاتے تھے ،پڑھے لکھے بہت کم تھے ،بچے اپنے والدین کی کتنی عزت واحترام کیاکرتے تھے ،جب شہروں اورگاؤں کے مکان کچے تھے رشتے ناطے کتنے سچے اورپکے ہواکرتے تھے ،جب مسجد کا مولوی اورا سکول کا استاد باپ کے رتبے سے پڑھایا کرتا تھا توسارے لوگ کتنی عزت اوراحترام کیا کرتے تھے ،جب تہجد پڑھ کر اماں قرآن کی مدھم تلاوت کے ساتھ ہاتھ والی چکی سے ا ٓٹا پیساکرتی تھی توسارا سال گندم ختم نہیں ہواکرتی تھی،جب گھر کے بڑے فجرکی نماز پڑھ کر آتے اور مال مویشیوں کا دودھ نکالا کرتے تھے تو گھر کے برتن دودھ سے بھرے رہا کرتے تھے،جب ناشتہ کروا کرمائیں بچوں کو سپارہ پڑھنے مساجد بھیجا کرتیں تھیں معصوم بچے توتلی زبانوں سے قرآن کے نام پر اللہ کریم کی پاکی.بزرگی اورشان کے قصے پڑھا کرتے تھے وہ بچے اپنے والدین کے کتنے فرمانبردارہوا کرتے تھے،جب عورت نے فیشن کے نام پر لباس نہیں اتارا تھا نسلیں کیسے اتفاق سے شاد وآباد رہا کرتیں تھیں،جب مرد حرام کے قریب نہیں جاتے تھے عورتیں کتنی پاکدامن اور وفا شعار ہوا کرتیں تھیں ،بیو یاں اپنے شوہر وںکے حکم کی فرمانبردارہوا کرتی تھی ۔بیوی اپنے شوہر کی ایک آواز پر پرخلوص انداز میں ہاں جی کہتی تھی،مگر اب تو دیکھتی آنکھوں سے الٹی گنگا بہہ رہی ہے سب کچھ بدلا بدلا لگتا ہے ،بچوں کی اپنے والدین سے نا فرمانی بیوی کی اپنے شوہر سے نافرمانی ہر دوسرے گھر میں بربادی کا باعث بنی ہوئی ہے ، یہ سب اس وجہ سے ہے کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی سے دور ہوتے جا رہے ہیں ہم پڑھے لکھے ان پڑ ھ بنے ہوے ہیں، اگر ہم قرآن و سنت پر عمل کرتے ہوے زندگی گزاریں تو زندگی بہت عمدہ خوشگوار و گلزار بن جائے گی۔
ازدواجی حقوق میں کوتاہی گھریلو زندگی کے لیے سوہانِ روح ہے،معاشرے کے ارتقاء ، باہمی محبت و رواداری، ایک دوسرے کے مابین مفاہمت و اعتماد، حقوق کی مساویانہ تقسیم اور اس پر عملا ً قایم رہنا ایک مستحکم اور مضبوط گھرانے کی بنیاد ہو تا ہے۔حقوق: (۱)اطاعت: اسلام نے عورت کو شوہر کا مطیع وفرمانبر دار بننے کا حکم دیا ہے اور اس کی نافرمانی سے روکا ہے. نافرمان عورت کے لیے سخت وعید سنائی ہے. البتہ اگر شوہرکا حکم شریعت کے احکام سے متصاد م ہو تو شریعت کا حکم شوہر کے حکم سے برترسمجھاجائے گا. شوہر کا حکم ٹھکرادیا جائے گا اور شریعت کی پیروی کی جائے گی. شوہر کا حق ہے کہ بیوی اس کی اطاعت وفرمانبرداری کرے. (۲) قلبی طمانیت اور ذہنی سکون: بیوی کو اللہ نے سکون کا ذریعہ بنایا ہے. اس لیے عورت کا یہ فرض ہے کہ وہ مرد کے لیے ایسا ماحول فراہم کرے جس میں اس کو ذہنی سکون اور قلبی طمانیت حاصل ہوشوہر کو ذہنی سکون تب حاصل ہوگا جب بیوی اس کی پسندیدگی وناپسندیدگی کا لحاظ رکھے۔
نیز ارشاد باری تعالی ہے : الرِّجَالْ قَوَّامْونَ عَلَی النِّسَاء ِ بِمَا فَضَّلَ اللَّہْ بَعضَھْم عَلَی بَعضٍ وَبِمَا اَنفَقْوا مِن اَموَالِھِم فَالصَّالِحَاتْ قَانِتَات حَافِظَات لِلغَیبِ بِمَا حَفِظَ اللَّہ وَاللَّاتِی تَخَافْونَ نْشْوزَھْنَّ فَعِظْوھنَّ وَا حجْرْوھْنَّ فِی المَضَاجِعِ وَاضرِبْوھْنَّ فَاِن اَطَعنَکْم فَلَا تَبغْوا عَلیھِنَّ سَبِیلًا اِنَّ اللََّہ َانَ عَلِیًّا کَبِیرًا
مرد عورت پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالٰی نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے مال خرچ کیے ہیں (۱) پس نیک فرمانبردار عورتیں خاوند کی عدم موجودگی میں یہ حفاظت الٰہی نگہداشت رکھنے والیاں ہیں اور جن عورتوں کی نافرمانی اور بددماغی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انہیں مار کی سزا دو پھر اگر وہ تابعداری کریں تو ان پر راستہ تلاش نہ کرو (۲) بیشک اللہ تعالٰی بڑی بلندی اور بڑائی والا ہے”۔
حضرت حصین بن محصن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انکی ایک پھوپھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی ضرورت سے آئیں ، ضرورت پوری ہونے پر جانے لگیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : کیا تم شادی شدہ ہو انھوں نے کہا ، ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، اپنے شوہر کے ساتھ تمھارا رکھ رکھاؤ کیسا ہے، انھوں نے فرمایا میں حتی الامکان کوئی کسر باقی نہیں رکھتی ہوں ، آپ صلی االلہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ہاں ان کا پورا خیال رکھنا ، وہی تمھاری جنت بھی ہیں اوروہی دوزخ بھی ہیں۔ ( مسند احمد : 19002 ، حاکم نے اس کو مستدرک 189/2 میں روایت کیا ہے ور صحیح کہا ہے )۔
اجمالی مفہوم :مذکورہ بالا احادیث سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے ، کہ میاں بیوی کے درمیان تعلقات کی خوشگواری و استواری اور اعلی ظرفی و خوش اخلاقی کا برتاؤ ان زریں اسلامی تعلیمات میں سے ہے جو خاندان کی استواری اور پائیداری اور اس کے بقاء اور تحفظ کی نگہبان ہیں ، چنانچہ اسلام نے ازدواجی تعلق کو محکم و منّظم کیا ، اور شوہر و بیوی پر ایک دوسرے کے کچھ حقوق عائد کیے ہیں شوہر کا حق بیوی پر یہ ہے کہ بیوی اپنے خاندان کی فرمانبردار بن کے رہے ، اسکی نافرمانی نہ کرے ، اس پر بڑائی نہ جتائے ، اس کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر قدم نہ رکھے ، اس کے گھر میں کسی کو پھٹکنے نہ دے ، شوہر اگر موجود ہو تو اسکی اجازت کے بغیر نفلی روزے نہ رکھے ، اس کی مرضی کے بغیر اس ک مال خرچ نہ کرے ، وہ کہیں چلا جائے تو اسکی غیر موجودگی میں اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کرے ، اور اس کے مال و اولاد کی نگہداشت میں مکمل خیر خواہی اور وفاداری کا ثبوت دے ، شوہر کا احسان مانے ، اس کی شکر گذار رہے ، اس کے احسانات اور اسکی کاوشوں کو بھی فراموش نہ کرے ، اس کی خدمت کر کے خوشی محسوس کرے ، اس کے ساتھ فراخ دل اور خوش طبعی کا معاملہ کرے ، اس کے لیے بناؤ سنگھار اور ارائش و زیبائش کا بھی پورا پورا اہتمام کرے ، شوہر کے والدین اور اقرباء کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرے۔
بے شمار حدیث پاک موجود ہیں جن میں فرمایا گیا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کی اجازت بغیر گھر سے باہر جائے تو جب تک وہ واپس نہیں آتی اور اپنے شوہر سے معافی نہیں مانگ لیتی ،اس وقت تک فرشتے اْس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں،عورت اپنے شوہر کی بغیر اجازت کے گھر سے کسی کو کوئی چیز نہیں دے سکتیں اور ہی کسی کو اپنے میں داخل کر سکتیں ہیں ،بیوی شوہر کے ماتحت ہوتی ہے اور بیوی پر شوہر کی اطاعت شرعاً لازم ہے،اس لیے بیویوں کو چاہیئے کہ شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سمجھ کراس میں سبقت کریں ، اگر انھوں نے یہ کام دل سوزی ، خلوص اور یکسوئی سے کر لیا تو نہ صرف عائلاتی امور میں خوشگواری او استواری پیدا ہو گی ، اور گھریلو زندگی پیار و محبت اور خیرو برکت سے مالا مال ہو گی بلکہ ایک بیوی کے لیے اپنی عاقبت بنانے اور خدا کو خوش کرنے کا بھی یہی ذریعہ ہے ،مرد حضرات بھی اس بات کو اچھی طرح ذہن نشیں کرلیں کہ بیشک مرد عورت کے لیے قوام یعنی امیر کی حیثیت رکھتا ہے لیکن ساتھ ہی دونوں کے درمیان دوستی کا بھی تعلق ہے، یعنی انتظامی طور پر تو مرد قوام یعنی امیر ہے لیکن باہمی تعلق دوستی جیسا ہے، ایسا تعلق نہیں ہے جیسا مالک اور نوکرانی کے درمیان ہوتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ مومنوں میں کامل ترین وہ ہے جو سب سے زیادہ حسن اخلاق والا ہو اور تم میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لیے بہتر ہے۔‘‘ (ابن ماجہ )یاد رکھیں ، میاں بیوی کی چپقلش گھر کو جہنم بنادیتی ہے، جس میں وہ خود بھی جلتے ہیں اور اولاد کو بھی جلاتے ہیں، یہ تو دْنیا کی سزا ہوئی، آخرت کی سزا ابھی سر پر ہے۔دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی گزارنے کی توفیق عطاء فرمائیں ،آمین۔
琀
وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...
میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...
چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...
وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...
ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...
خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...
گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...