وجود

... loading ...

وجود

ایم کیوایم میں پھوٹ:رابطہ کمیٹی کے اجلاس پر فارق ستار برہم، ڈمی سربراہی منظور نہیں!

منگل 06 فروری 2018 ایم کیوایم میں پھوٹ:رابطہ کمیٹی کے اجلاس پر فارق ستار برہم، ڈمی سربراہی منظور نہیں!

   متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار  نے رات گئے کارکنان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رابطہ کمیٹی کے خلاف ضابطہ اجلاس کو طلب کرنے والے اراکینِ رابطہ کمیٹی کو معطل کردیا اور آج شام کارکنان کا نیا اجلاس بھی بلا لیا ہے۔ ایم کیوایم میں دھیمے سمجھے جانے والے نرم مزاج  فاروق ستار نے پہلی مرتبہ اپنے ساتھی رہنماؤں کے خلاف سخت لب ولہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اُنہیں ڈمی سربراہی منظور نہیں۔ ایسی سربراہی قبول نہیں جس میں منتیں کرنی پڑیں۔اُنہوں نے کہا کہ میں اب بلیک میل نہیں ہونا چاہتا!میری شرافت کو میری کمزوری نہ سمجھا جائے۔یہ میرے لیے قابل قبول نہیں کہ میں ان کے ساتھ چل سکوں۔میری مرضی کے بغیر اجلاس بلایا گیا  اور بڑے بڑے فیصلے کیے گئے، یہ میری سربراہی پر سوال ہے۔ میں نے سرکلر بھجوایا تھا  جب تک نہ آؤ ںاجلاس نہیں ہوگا۔  اگر کسی بات پر نااتفاقی تھی بھی تو  مل بیٹھ کر حل کیا جاسکتا تھا۔دھوکا دے کر میرے نام سے لوگوں کو بہادر آباد بلایا گیا۔ڈاکٹر فاروق ستار نے سینیٹ کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم اور کامران ٹیسوری پر اُٹھنے والے تنازع کے حوالے سے کہا کہ مجھ سے ایک شخص کو جوڑ کر جو بات کی گئی وہ ایشو ہی نہیں تھا۔جن لوگوں کی سینیٹ پر رال ٹپک رہی ہے تو جسے الیکشن لڑنا ہے لڑلے۔ اُنہوں نے اس پورے معاملے پر کارکنان کو اعتماد  میں لیتے ہوئے کہا کہ رابطہ کمیٹی نے سینیٹ کے لیے چھ نام تجویز کیے تھے جن میں بالترتیب نسرین جلیل ،فروغ نسیم ،امین الحق، عامر خان، شبیر قائم خانی اور کامران ٹیسوری کے نام شامل تھے۔ اُنہوں نے وضاحت کی کہ کامران ٹیسوری کا نام خود رابطہ کمیٹی کے تجویز کردہ ناموں میں شامل تھا۔ چھ ناموں کی اس دوڑ سے عامر خان خود ہی نکل گئے تھے کیونکہ اُنہوں نے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ اب شبیر  قائم خانی اور کامران ٹیسوری میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ اس ضمن میں شبیر قائم خانی نے کسی بھی فیصلے کا اختیار مجھے دے رکھا تھا۔ چنانچہ کامران ٹیسوری  کا نام میں نے تجویز کیا ۔ کیا یہ اختیار بھی میرا نہیں۔

     قبل ازیں ایم کیوایم میں کامران ٹیسوری کے نام پر پڑنے والی پھوٹ کے باعث پہلی مرتبہ رابطہ کمیٹی اور ہم خیال رہنماؤں نے اپنے اپنے الگ الگ اجلاس بلائے۔ ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کی زیر صدارت اجلاس ایک اجلاس پی آئی بی کراچی میں ہوا،جس میں رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی، کامران اختر، وقار شاہ شریک ہوئے۔ جبکہ دوسرا اجلاس بہادرآباد میں عامر خان کی زیر صدارت ہوا جس میں خالد مقبول صدیقی، کنور نوید، امین الحق، فیصل سبزواری، وسیم اختر، نسرین جلیل اور دیگر نے شرکت کی۔مذکورہ اجلاس میں کامران ٹیسوری کو پارٹی سے فارغ کرنے کی منظوری دے دی گئی۔بعدازاں متحدہ پاکستان رابطہ کمیٹی کے رکن خالد مقبول نے اس اجلاس کے فیصلے سناتے ہوئے پریس کانفرنس میں کہا کہ متحدہقومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے اپنے رکن کامران ٹیسوری کو رابطہ کمیٹی سے خارج کرتے ہوئے چھ ماہ کے لیے معطل کردیا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار پارٹی کنوینر ہیں اور ہم سب انہیں تسلیم کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے الیکشن سر پر ہیں، پارٹی نے اپنے اصولوں کے مطابق 6 افراد کےنام سینیٹر کے لیے دیے جس میں بالترتیب نسرین جلیل،فروغ نسیم، امین الحق، شبیر قائم خانی، عامر خان اور چھٹے نمبر پر کامران ٹیسوری کے نام شامل ہیں۔رہنما متحدہ نے کہا کہ عامر خان نے الیکشن میں شرکت سے معذوری ظاہر کی جب کہ ایک اور رکن کو زبردستی کہا گیا کہ وہ دست بردار ہوجائیں تاکہ کامران ٹیسوری کا سینیٹر بننے کا نمبر آجائے کیوں کہ ہمارے چار سینیٹر کی مدت پوری ہورہی ہے، اُمید ہے اگلے چار سینیٹرہمارے منتخب ہوں گے لیکن ترتیب سے ہٹ کر  فاروق ستار دو ساتھیوں کی قربانی دے کر بھی کامران ٹیسوری کو سینیٹر بنانا چاہتے ہیں۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ فاروق ستار بھائی کا یہ فیصلہ بھی سر آنکھوں پر رکھا جاسکتا تھا لیکن جب کامران ٹیسوری کو رابطہ کمیٹی کا ممبر بنایا جارہا تھا تو تب بھی اس فیصلے کی مخالفت ہوئی لیکن ہم نے فاروق ستار کے اس فیصلے کو تسلیم کیا ،انہیں ڈپٹی کنوینر بنایا جانے لگا تب بھی بدترین مخالفت ہوئی اور ہم خاموش رہے۔متحدہ رہنما نے کہا کہ  اب کامران ٹیسوری کو سینیٹر بنانے کا فیصلہ کیا جارہا ہے جنہیں پارٹی میں آئے ہوئے ایک سال بھی نہیں ہوا اور فاروق ستار 30 برس  پرانے اور تعلیم یافتہ لوگوں کو نظرانداز کرکے کامران ٹیسوری کو ٹکٹ دینا چاہتے ہیں جو ہمیں منظور نہیں۔ فاروق ستار کے احکامات مانتے مانتے پارٹی اپنے اصولوں سے ہٹ رہی ہے، پارٹی ڈپٹی کنوینر یا کنوینر کو بھی یہ اختیار نہیں دیتی کہ وہ اصولوں سے ہٹ کر فیصلے کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم فاروق ستار کے منتظر ہیں وہ سربراہ اور کنوینر کی حیثیت سے آئیں اور رابطہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کریں اور جو فیصلہ ہوا سے قبول کریں۔آخر میں انہوں نے رابطہ کمیٹی کی طرف سے اعلان کیا کہ 90 فیصد رابطہ کمیٹی کے ارکان نے فیصلہ کیا ہے کہ اب کامران ٹیسوری رابطہ کمیٹی کے ممبر نہیں ہیں اور ان کی پارٹی رکنیت چھ ماہ کے لیے معطل کی جارہی ہے۔خالد مقبول صدیقی کیپریس کانفرنس میں وسیم اختر، فیصل سبزواری، عامر خان اور متحدہ پاکستان کے دیگر  رہنما بھی موجود تھے۔

        واضح رہے کہ رابطہ کمیٹی کے متنازع دوسرے اجلاس اور  خالدمقبول صدیقی کی مذکورہ پریس کانفرنس  کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار نے کارکنان کا اجلاس بلا کر ان تمام فیصلوں کے خلاف اپنا موقف واضح کرتے ہوئے نہ صرف کامران ٹیسوری کو سینیٹر بنانے کے فیصلے کا پس منظر بیان کیا بلکہ رابطہ کمیٹی کے اس اجلاس میں شریک تمام اراکین کوبھی معطل کردیا۔ اور کارکنان کاایک اور اجلاس آج شام کو طلب کرلیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایم کیوایم میں ٹوٹ پھوٹ کے اب واضح آثار پیدا ہوگئے ہیں ۔ اور عامر خان گروپ ڈاکٹر فاروق ستار کے خلاف مکمل بغاوت کے لیے پر تول رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس تنازع سے ایم کیوایم کے رہنما کس طرح نمٹتے ہیں؟


متعلقہ خبریں


ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ وجود - جمعرات 12 فروری 2026

فیصلے بند کمروں میں نہیں پارلیمانی فورم پر کھل کر مشاورت کرنی چاہیے،قومی یکجہتی کیلئے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوری عمل ناگزیر ہیں، غلط فیصلوں کی مخالفت کی جائے گی، سربراہ جے یو آئی خیبر پختونخوا حکومت بے اختیار ،اہم فیصلے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں،موجودہ حکومت دھاند...

ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ

آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی وجود - جمعرات 12 فروری 2026

خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کرینگے جس میں ہمارا نقصان ہو، میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا، 5 ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا،وزیراعلیٰ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاق کی ذمہ داری ،جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے...

آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی

اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پرحالیہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے، سیکیورٹی ذرائع وجود - جمعرات 12 فروری 2026

سیاست سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا پاکستان کے اندر تمام اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، میڈیا نمائندگان سے ملاقات سیکیورٹی ذرائع نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے پاک فوج کے حوالے سے حالیہ بیان کو ان...

اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پرحالیہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے، سیکیورٹی ذرائع

سولرنیٹ میٹرنگ کے نئے قواعد،پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا وجود - جمعرات 12 فروری 2026

ہم حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن ان کی پالیسی کا حصہ نہیں، شازیہ مری سولرپینل صارفین کیساتھ دھوکا ، وہ کیسے اپنا نقصان پورا کریں گے؟میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی نے نیپرا کے نئے سولر نیٹ میٹرنگ قواعد پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئ...

سولرنیٹ میٹرنگ کے نئے قواعد،پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا

بنوںمیں پولیس فائرنگ کا تبادلہ ، 3 دہشتگرد ہلاک،9 زخمی ہوگئے وجود - جمعرات 12 فروری 2026

دہشتگردوں نے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے بنوں میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی آئی جی سجاد خان کے مطابق دہشت گردوں نے رات گئے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے۔ سجاد خان نے بتایا...

بنوںمیں پولیس فائرنگ کا تبادلہ ، 3 دہشتگرد ہلاک،9 زخمی ہوگئے

خود ساختہ مہنگائی عروج پر،مٹن، بیف،چکن کی قیمتیں بے قابو وجود - جمعرات 12 فروری 2026

شہری خود پریشان ، شہر بھر میں گوشت فروشوں کی من مانے نرخ وصولی انتظامیہ کی کارروائیاں بے سود، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا شہری خود ساختہ مہنگائی سے پریشان ہیں، دکانوں پر مٹن، بیف اور چکن کی قیمتیں بے قابو ہو گئیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں مؤثر دکھائی نہیں ...

خود ساختہ مہنگائی عروج پر،مٹن، بیف،چکن کی قیمتیں بے قابو

کراچی میں دہشت گردی کا خطرہ،قانون نافذ کرنیوالے ادارے الرٹ وجود - بدھ 11 فروری 2026

جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے شہر کو جرائم سے پاک کرنے کی کوششیں جاری ہیں، دہشتگرد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میںزیادہ کارروائیاں کر رہے ہیں،ایڈیشنل آئی جی فرانزک لیب کی سہولت میں وقت لگے گا ، پراجیکٹ کی تکمیل میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے، فتنہ الخوارج اور فتن...

کراچی میں دہشت گردی کا خطرہ،قانون نافذ کرنیوالے ادارے الرٹ

سیاست کیلئے کبھی کسی کے در پر نہیں جاؤں گا،سہیل آفریدی وجود - بدھ 11 فروری 2026

امن ہوگا تو خوشحالی آئیگی، صوبے کے عوام کے حقوق کیلئے ہر شخص کے ساتھ بیٹھوں گا خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے،ہم ڈرنے والے نہیں ،کانووکیشن سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے، صوبے کے عوام کے حقوق کے...

سیاست کیلئے کبھی کسی کے در پر نہیں جاؤں گا،سہیل آفریدی

وزیراعظم غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کرینگے،ذرائع وجود - بدھ 11 فروری 2026

پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت منعقد ہوگا شہباز شریف دورہ جرمنی مکمل کرنے کے بعد وہیں سے واشنگٹن روانہ ہو جائیں گے وزیراعظم شہباز شریف غزہ پیس بورڈ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ذرائع کے مطابق غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ...

وزیراعظم غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کرینگے،ذرائع

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد وجود - پیر 09 فروری 2026

8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

مضامین
پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات وجود جمعرات 12 فروری 2026
پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات

بونوں کا راج وجود جمعرات 12 فروری 2026
بونوں کا راج

مشرقی ایشیا سے پاکستان کیلئے اسباق وجود جمعرات 12 فروری 2026
مشرقی ایشیا سے پاکستان کیلئے اسباق

نالائق کوئی نہیں، صرف توجہ کی کمی ہے! وجود بدھ 11 فروری 2026
نالائق کوئی نہیں، صرف توجہ کی کمی ہے!

وزیراعلیٰ آسام کی دریدہ دہنی وجود بدھ 11 فروری 2026
وزیراعلیٰ آسام کی دریدہ دہنی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر