... loading ...
اب لیکشن صرف پیسے والے لوگ ہی لڑیں گے اور وہی جیتیں گے۔ اب تو تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر قانون پاس کر دیا ہے جس کے مطابق ایک تو الیکشن کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لیے ہزاروں روپے سیکورٹی ہے اور پھر قانونی طور پر اجازت ہے کہ ایک صوبائی اور قومی اسمبلی کا امیدوار 20سے40لاکھ روپے تک خرچ کر سکتا ہے۔پھر کوئی بھی پارٹی بغیر سرمائے کے ایک دفتر نہیں بنا سکتی۔سیاسی قائدین کہتے ہیں میرٹ پر الیکشن ٹکٹ دیئے جائیں گے۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو کیونکہ عوام واقعتا ًا سٹیٹس کو کو توڑنا چاہتے ہیں اور آپ سے اس کی امید لگائے بیٹھے ہیں لیکن اگر آپ نظریاتی بنیادوں پر اپنی تنظیم سازی نہیں کرتے اور پارٹی چلانے کے لیے ا سٹیٹس کو پر انحصار کریں گے تو نہ کبھی تبدیلی آئے گی اور نہ ہی قانون کی حکمرانی قائم ہوسکتی ہے۔ملک کی سیاسی صورتحال سے ایک مرتبہ تو یہ لگتا تھا کہ شاید سینیٹ کے انتخابات نہ ہوں اور بلوچستان ، کے پی کے اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں۔ عملی مظاہر ہ بھی اس وقت نظر آیا جب سینیٹ الیکشن سے کچھ عرصہ پہلے وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی اور ایک ایسے ممبر صوبائی اسمبلی کو وزیراعلیٰ منتخب کر لیا گیا جو صرف ساڑھے پانچ سو ووٹ لیکر ممبر منتخب ہوئے تھے۔ یہ تو بھلاہو الیکشن کمیشن کا جس نے فوری سینیٹ الیکشن شیڈول کا اعلان کر دیا ، اب اسمبلیاں توڑنے کے امکانات بہت ہی کم ہوگئے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ سیاسی جماعتوں کی لالچ ہے، انہیں معلوم ہے کہ 3مارچ کو ہونیوالے سینیٹ انتخابات میں 52سینیٹرز کاانتخاب ہوگا جس میں 12سندھ، 12پنجاب اور گیارہ گیارہ بلوچستان اور خیبر پختوانخوا جبکہ چار سینیٹرز فاٹا اور دو اسلام آباد سے منتخب ہوںگے، ہر ایک کو ڈر ہے کہ موجودہ سینیٹرز کی اکثریت کا دوبارہ منتخب ہونا مشکل ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سینیٹ الیکشن میں ہمیشہ خصوصاً بلوچستان ، کے پی اور فاٹا میں ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے لیکن اس مرتبہ تو یہ اپنے عروج پر ہے۔ فاٹا کے گیارہ ارکان کو 4سینیٹرز منتخب کرنے ہیں اور خدشہ یہ ہے کہ فی سینیٹر کا خرچہ مبینہ طور پر ڈیڑھ ارب تک ہوگا۔ بلوچستان میں اکثریت آزاد منتخب ہوگی اور حالات یہ بتا رہے ہیں کہ وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو جائیں گے حالانکہ بلوچستان اسمبلی میں ایک بھی رکن پیپلز پارٹی کا نہیں۔ بلاول بھٹو تو یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ تحت لاہور میں لڑائی کا فائدہ سینیٹ انتخابات میں اٹھائیں گے ،ادھرکے پی میں اسفند یار ولی ، مولانا فضل الرحمن ، آصف زرداری اور آفتاب شیر پائو اپنے مفاہمتی انداز میں سیاسی گھوڑوں کی خریدوفروخت کی تاریخ رقم کریں گے۔
اس وقت سینیٹ میں اپنی مدت پوری کرنے والے52ارکان میں سے پیپلز پارٹی کے 18، ن لیگ کے کل 27میں سے 9ریٹائرڈ ہو جائیں گے،ق لیگ کے چاروں سینیٹرز ریٹائر ہو ں گے۔ اسی طرح جے یو آئی ف کے تینوں سینیٹرز فارغ ہوںگے۔ ایم کیو ایم کے 4جبکہ اے این پی کے 6 میں سے 5سینیٹرز ریٹائر ہوںگے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے 2سینیٹرز اپنی مدت پوری کریں گے ، دس آزاد میں سے 5ریٹائر ہو ںگے۔ جبکہ تحریک انصاف کے 7سینیٹرز میں سے ایک ریٹائر ہو رہے ہیں ،عام انتخابات میں بہت ہی کم وقت رہ گیا ہے اور خریدو فروخت کے جدید ترین طریقے ایجاد ہوچکے ہیں اس لیے ’’ہماری بدترین جمہوریت ‘‘ اپنے آخری انجام کو ہے۔ ممکن ہے کہ سینیٹ الیکشن کے بعد جمہوریت کی نئی تعریف سامنے لائی جائے جس کی ذمہ دار حکومت اور تمام سیاسی جماعتیں ہونگیں ، جنہوں نے کئی سال تک الیکشن ریفارمز کے نام پر قوم کا پیسہ ضائع کیا اور ’’ مفادات ریفامز‘‘ بنائیں اور جان بوجھ کے سینیٹ کے الیکشن کے طریقہ کار میں بہتری نہ لائے۔ سیاستدان اپنے آپ کو مقدس گائیں سمجھتے ہیں کہ ان کے خلاف توہین عدالت اور سوموٹو نہیں ہونا چاہئے۔ بس ان سب حکمرانوں اور سیاستدانوں کے حوالے سے اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ اپنے ہاتھوں سے لگائی گئیں گرہ کو دانتوں سے بھی نہیں کھول سکیں گے۔
٭ ٭ ٭
فیصلے بند کمروں میں نہیں پارلیمانی فورم پر کھل کر مشاورت کرنی چاہیے،قومی یکجہتی کیلئے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوری عمل ناگزیر ہیں، غلط فیصلوں کی مخالفت کی جائے گی، سربراہ جے یو آئی خیبر پختونخوا حکومت بے اختیار ،اہم فیصلے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں،موجودہ حکومت دھاند...
خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کرینگے جس میں ہمارا نقصان ہو، میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا، 5 ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا،وزیراعلیٰ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاق کی ذمہ داری ،جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے...
سیاست سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا پاکستان کے اندر تمام اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، میڈیا نمائندگان سے ملاقات سیکیورٹی ذرائع نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے پاک فوج کے حوالے سے حالیہ بیان کو ان...
ہم حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن ان کی پالیسی کا حصہ نہیں، شازیہ مری سولرپینل صارفین کیساتھ دھوکا ، وہ کیسے اپنا نقصان پورا کریں گے؟میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی نے نیپرا کے نئے سولر نیٹ میٹرنگ قواعد پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئ...
دہشتگردوں نے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے بنوں میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی آئی جی سجاد خان کے مطابق دہشت گردوں نے رات گئے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے۔ سجاد خان نے بتایا...
شہری خود پریشان ، شہر بھر میں گوشت فروشوں کی من مانے نرخ وصولی انتظامیہ کی کارروائیاں بے سود، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا شہری خود ساختہ مہنگائی سے پریشان ہیں، دکانوں پر مٹن، بیف اور چکن کی قیمتیں بے قابو ہو گئیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں مؤثر دکھائی نہیں ...
جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے شہر کو جرائم سے پاک کرنے کی کوششیں جاری ہیں، دہشتگرد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میںزیادہ کارروائیاں کر رہے ہیں،ایڈیشنل آئی جی فرانزک لیب کی سہولت میں وقت لگے گا ، پراجیکٹ کی تکمیل میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے، فتنہ الخوارج اور فتن...
امن ہوگا تو خوشحالی آئیگی، صوبے کے عوام کے حقوق کیلئے ہر شخص کے ساتھ بیٹھوں گا خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے،ہم ڈرنے والے نہیں ،کانووکیشن سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے، صوبے کے عوام کے حقوق کے...
پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت منعقد ہوگا شہباز شریف دورہ جرمنی مکمل کرنے کے بعد وہیں سے واشنگٹن روانہ ہو جائیں گے وزیراعظم شہباز شریف غزہ پیس بورڈ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ذرائع کے مطابق غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ...
8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...
اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...
دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...