وجود

... loading ...

وجود

افغانستان میں دہشت گردی کاتواتر‘ٹرمپ کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائیاں جاری

بدھ 31 جنوری 2018 افغانستان میں دہشت گردی کاتواتر‘ٹرمپ کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائیاں جاری

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تواترکے ساتھ دہشت گرد کے واقعات جاری ہیں اوروہاںسے آ ئے روزکسی نہ کسی بڑی دہشت گردی کی اطلاع سامنے آجاتی ہے ۔ ہفتے کے روز ریڈ زون میں ایمبولینس کے ذریعے سیکیورٹی چیک پوسٹ پرموجوداہلکاروں کودھوکہ دے کراندداخل ہونے والے خودکش بمبارنے خودکودھماکے سے اڑالیاجس میں تقریبا95کے قریب افرادلقمہ اجل بنے اورکم وپیش 158افرادجاں بحق ہوئے ۔افغان وزارت صحت کے ترجمان وحید مجروح نے دھماکے میں اتنی بڑی تعدادمیں ہلاکتوں تصدیق بھی کی ۔سرکاری میڈیا سینٹر کے ڈائریکٹر باریالئی ہلالی نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیاتاہم اگرافغان وزارت صحت کے ترجمان کی بات کوہی درست مان لیاجائے توبھی یہ کابل میں ہونے والی دہشت گردی کی دوسری بڑی واردات ہوسکتی ہے ۔

ایک روزکے وقفے کے بعدافغانستان میں مارشل فہیم ملٹری یونیورسٹی پر مسلح افراد نے دھاوا بول دیا۔ حملے میں 5 فوجی جاں بحق اور 10 زخمی ہوگئے‘اس دوران تمام چار کے چار حملہ آور بھی مارے گئے جبکہ ایک کو گرفتار کر لیا گیا۔افغان فوج کے ترجمان کا ترجمان کا کہنا ہے 5 دہشتگردوں نے صبح 5 بجے کے لگ بھگ یونیورسٹی پر حملہ کیا، سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا اور جوابی کارروائی میں دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔یادرہے کہ اسی یونیورسٹی پر گزشتہ برس اکتوبر میں ایک حملے میں 15 کیڈٹ ہلاک ہوئے تھے۔ دو ہفتوں میں کابل پر یہ تیسرا دہشتگرد حملہ ہے، دو روز پہلے ہوئے حملے میں 103 افراد ہلاک اور 250 کے لگ بھگ زخمی ہوئے تھے۔ گزشتہ ہفتے لگڑری ہوٹل پر حملے میں 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ہفتے کے روزکابل میں ہونے والے ایمبولینس دھماکے کاجائزہ لیاجاتے تواس حوالے سے یادرہے کہ گزشتہ سال 31 مئی کو اسی مقام پر ہونے والے کاربم دھماکے میں بڑی تعدادمیں ہلاکتیں ہوئی تھیں ۔ ہفتے کے روزبھی ریڈ زون میں ایک ایسی جگہ دہشت گرد واقعہ پیش آیا ہے جہاں یورپین یونین سمیت کئی غیرملکی اور عالمی اداروں کے دفاتر قائم ہیں۔دھماکا اس قدر شدید تھا کہ جائے وقوعہ سے کم از کم دو کلومیٹر دور واقع عمارات بھی ہچکولے کھانے لگیں اور شیشے ٹوٹ کر دور دور تک اس کے ٹکڑے پھیل گئے۔افغان وزارتِ داخلہ کے نائب ترجمان نصرت رحیمی کے مطابق حملہ آور نے اپنے مذموم مقصد کے لیے ایمبولینس کا استعمال کیا اور جب اسے پہلی چیک پوسٹ پر روکا گیا تو اس نے سیکیورٹی اہلکاروں کو بتایا کہ وہ مریض کو ہسپتال لے کر جارہا ہے جبکہ دوسری چیک پوسٹ پر اسے روکنے کی کوشش کی گئی تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔اس حملے کی ذمے دار ی طالبان نے قبول کی ہے ۔

ماضی قریب میں اگرکابل میں ہونے والے دھماکو ں کاجائزہ لیاجائے تو رواں ماہ 21 جنوری کوکابل میں واقع انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل میں فوجی لباس میں ملبوس دہشت گردوں کے حملے میں 30 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ۔ 31 مئی 2017 کو کابل کے ریڈ زون میں جرمن سفارت خانے کے قریب کار بم دھماکے میں ایک رپورٹ کے مطابق 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ۔ جس کو کابل شہر کی تاریخ کا خونی ترین حملہ بھی قرار دیا گیا۔ یہ حملہ ایسے مقام پرکیاگیاجہاں متعددممالک کے سفارتخانے ‘سرکاری دفاترہی نہیں اعلی حکومتی شخصیات کی رہائش گاہیں بھی ہیں۔ 31 جنوری 2017 کو افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں سابق گورنر کے جنازے میں خودکش حملے کے نتیجے میں 15 شہری جاں بحق اور 14 زخمی ہوئے۔ 28 دسمبر 2017 کو کابل کے ثقافتی مرکز میں خودکش دھماکوں کے نتیجے میں 40 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے۔اس حوالے سے یادرہے کہ 2001سے امریکی مداخلت کے بعد موجود صدر ڈونلڈٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے افغانستان میں سال 2017 کے دوران سب سے زیادہ قتل و غارت گر ی ہوئی اور یہ سلسلہ 2018 میں بھی جاری ہے۔

افغانستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی پاکستان کی جانب سے بھرپورمذمت کی جارہی ہے ۔ جبکہ ٹوئٹرپرپیغام جاری کرنے کے حوالے سے مشہور امریکی صدرڈونلڈٹرمپ ان حملوں میں شدت پرپیج وتا ب کھارہے ہیں ۔ اپنے تازہ ترین ٹوئٹ میں انھوں نے پیغام جاری کیاہے کہ دنیاکی تمام اقوام کابل میں دہشت گردی کرنے اوراان کی ذمے داری قبول کرنے والے طالبان کے خلاف جنگ کریں ۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ذریعے سامنے آنے والے پیغام میں جہاں انہوں نے کابل حملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم طالبان کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے‘۔وہیں انھوں نے

بعد ازاں وائٹ ہاؤس سے ایک بیان بھی جاری کیا جس میں دنیا کی تمام اقوام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حملے کے پیچھے موجود طالبان دہشت گردوں کے خلاف جنگ کریں۔بیان میں امریکی صدر کے حوالے سے کہا گیا کہ یہ قاتلانہ حملہ ہمارے عزم اور افغان شراکت داروں کے حوصلے کم نہیں کرسکتا جبکہ طالبان کا ظلم کبھی غالب نہیں آسکے گا۔

اپنے بیان میں امریکی صدرنے کہاکہ امریکا ایسا افغانستان چاہتا ہے جو پر امن ہو اور دہشتگردوں سے پاک ہو، جو بھی امریکیوں، ہمارے اتحادیوں اور کسی شخص کو نشانہ بنائے گا وہ ہمارے نظریات کے خلاف ہوگا، لہٰذا تمام ملکوں کو چاہیے کہ وہ طالبان اور دہشتگروں کو سہولت فراہم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں ۔ خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے میں اضافہ کردیا ہے اور اطلاعات یہ بھی ہیں واشنگٹن امریکی فوجیوں کی تعداد کو 8500 سے بڑھا کر 14 ہزار کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے ۔ دوسری جانب امریکی سیکریٹری دفاع ریکس ٹیلرسن کی جانب سے بھی جاری بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ جو قوتیں دہشتگردوں کی حمایت یا انہیں پناہ گاہیں فراہم کرتیں ہیں انہیں اب برداشت نہیں کیا جائے گا۔انھوں نے افغان حکومت کو اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ دہشتگروں کو شکست دینے کے لیے امریکا کابل کی مدد جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ امریکا، افغانستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ہم افغانستان میں امن، سلامتی اور خوشحالی کی بحالی کے لیے جدوجہد کرنے والے عوام کی حمایت جاری رکھیں گے۔ریکس ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ جو ممالک افغانستان میں امن کی حمایت کرتے ہیں انہیں طالبان کی پْرتشدد مہم کو روکنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کرنی چاہیے۔امریکی صدرکی اپیل اورریکس ٹیلرسن کابیان ایک بارپھراس جانب اشارہ ہے جس پاکستانی حکومت ‘فوج اورقوم ڈومورکانام دیتے ہیں ۔ یادرہے کہ ڈونلڈٹرمپ نے اقتدار میں ا ٓنے کے کھل پاکستان ہی مسلم دشمنی اظہارکیاہے ۔ بیت المقدس کواسرائیل کادارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان سمیت ان کے کئی اقدامات ہماری بات کی تائیدہیں۔

اس سلسلے میں واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر اعجاز احمد چوہدری کا کہنا ہے کہ کابل میں دہشتگردوں کے ہر حملے کے بعد اس کا الزام پاکستان پر لگانا امریکی کوششوں میں مدد گار ثابت نہیں ہوگا۔انہوں نے امریکا کے اس دعوے کی تردید کی کہ ہفتے کو کابل میں ہونے والے دہشتگرد حملے کے ذمہ دار پاکستان میں موجود دہشت گرد گروپ ہیں۔ اس حوالے سے کوئی دورائے نہیں کہ افغا نستان میں جب بھی دہشت گردی کے بھیانک واقعات ہوتے ہیں‘ غم و اندوہ سے پاکستانیوں کے دل کٹ کر رہ جاتے ہیں۔ گزشتہ روز افغانستان کے دارالحکومت کے ریڈ زون میں طالبان نے غیر ملکی سفارتخانوں کے قریب ایمبولینس کے ذریعے خودکش دھماکہ کیا جس کے نتیجے میں 95 افراد ہلاک جبکہ 158 زخمی ہوگئے۔ دھماکہ وزارت داخلہ کی پرانی عمارت کے قریب دو چیک پوائنٹس کے درمیان ہوا۔ افغانستان کی طرف سے اس حملے پر پاکستان پر براہ راست الزام تو نہیں لگایا گیا مگر وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے اس میں حقانی نیٹ ورک کو ملوث قرار دیدیا۔ امریکا پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے‘ مگر کوئی ثبوت فراہم نہیں کرتا۔ ثبوت ہوں تو فراہم کرے۔ بھارت اور اسکے طبلچی افغانستان کے کہنے سننے پر پاکستان پر الزام لگایا جاتا ہے۔

افغان سفیر ڈاکٹر عمر زاخیلوال نے کہا ہے دہشت گرد افغان شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ دہشت گردی کا خطرہ افغانستان ہی نہیں پاکستان کو بھی ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا اس میں کوئی شک نہیں افغانستان کے بعض علاقوں میں طالبان کا بھی کنٹرول ہے۔ باہمی ہم آہنگی سے دہشت گردی کے ناسور سے چھٹکارا حاصل ہوگا۔ پاکستان اور افغانستان تعاون کریں تو دونوں ملک دہشتگردی پر قابو پا سکتے ہیں۔عمرزاخیلوال بالکل درست کہتے ہیں پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو ہمہ وقت تیار رہا ہے‘ اب بھی ہے۔ معاملات افغان حکومت کے بھارت کی کٹھ پتلی کا کردار ادا کرنے کے باعث بگڑے ہیں۔ امریکا کی طرف سے گزشتہ دنوں زور دیکر افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر آنے کو کہا گیا تھا۔ پاکستان پہلے بھی طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرچکا ہے۔ اب بھی اہم کردار ادا کرنے پر تیار ہے۔ مذاکرات کچھ دو اور کچھ لو کی بنیاد پر شروع ہو سکتے ہیں۔ طالبان کو اقتدار سے دور رکھ کر نر سرنڈر کی خواہش پوری نہیں ہو سکتی۔ افغان مسئلے کا حل مذاکرات کے سوا کچھ اور ہرگز نہیں ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل وجود - پیر 11 مئی 2026

دشمن جان لے پاکستان کیخلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک اور تکلیف دہ ہوں گے،معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانیوالی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا خاتمہ کرے،بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا...

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا وجود - پیر 11 مئی 2026

مریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ،پہلے مرحلے میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان جبکہ دوسرے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرکے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی تیسرے میں 30 روزہ مذاکراتی دور میں بڑے سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ہوگی، دونوں ممالک آبنائے ہرمز ک...

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم وجود - پیر 11 مئی 2026

بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر بے بنیاد الزامات لگائے ،شہباز شریف اسلام آباد میں معرکہ حق کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کی مرکزی تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔اسلا...

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا وجود - پیر 11 مئی 2026

ایران میں قیمت 6 روپے فی لیٹر،بنگلہ دیش میں 288 روپے میں دستیاب سری لنکا 370 ،بھارت 302 ،چین میں360 روپے فی لیٹرمیں فروخت حکومت نے رواں ہفتے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحرا...

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ وجود - اتوار 10 مئی 2026

پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 10 مئی 2026

9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید وجود - اتوار 10 مئی 2026

ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد وجود - هفته 09 مئی 2026

حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج وجود - هفته 09 مئی 2026

اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے، وجود - هفته 09 مئی 2026

2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے، وزیر خیبر پختونخوا بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بیرونی سازش کے تحت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،خطاب وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد سے پاک...

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے،

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار وجود - هفته 09 مئی 2026

یو اے ای سے پاکستان کے کسی خاص طبقے کو ڈی پورٹ نہیں کیا جارہا، وزارت داخلہ اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو یہ ملکی قوانین کے مطابق معمول کی کارروائی کا حصہ ہے وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خ...

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج وجود - جمعه 08 مئی 2026

بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج

مضامین
سیاسی تماشا وجود پیر 11 مئی 2026
سیاسی تماشا

ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر وجود پیر 11 مئی 2026
ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر

اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا وجود پیر 11 مئی 2026
اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا

کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت وجود پیر 11 مئی 2026
کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت

دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر! وجود اتوار 10 مئی 2026
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر