... loading ...
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تواترکے ساتھ دہشت گرد کے واقعات جاری ہیں اوروہاںسے آ ئے روزکسی نہ کسی بڑی دہشت گردی کی اطلاع سامنے آجاتی ہے ۔ ہفتے کے روز ریڈ زون میں ایمبولینس کے ذریعے سیکیورٹی چیک پوسٹ پرموجوداہلکاروں کودھوکہ دے کراندداخل ہونے والے خودکش بمبارنے خودکودھماکے سے اڑالیاجس میں تقریبا95کے قریب افرادلقمہ اجل بنے اورکم وپیش 158افرادجاں بحق ہوئے ۔افغان وزارت صحت کے ترجمان وحید مجروح نے دھماکے میں اتنی بڑی تعدادمیں ہلاکتوں تصدیق بھی کی ۔سرکاری میڈیا سینٹر کے ڈائریکٹر باریالئی ہلالی نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیاتاہم اگرافغان وزارت صحت کے ترجمان کی بات کوہی درست مان لیاجائے توبھی یہ کابل میں ہونے والی دہشت گردی کی دوسری بڑی واردات ہوسکتی ہے ۔
ایک روزکے وقفے کے بعدافغانستان میں مارشل فہیم ملٹری یونیورسٹی پر مسلح افراد نے دھاوا بول دیا۔ حملے میں 5 فوجی جاں بحق اور 10 زخمی ہوگئے‘اس دوران تمام چار کے چار حملہ آور بھی مارے گئے جبکہ ایک کو گرفتار کر لیا گیا۔افغان فوج کے ترجمان کا ترجمان کا کہنا ہے 5 دہشتگردوں نے صبح 5 بجے کے لگ بھگ یونیورسٹی پر حملہ کیا، سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا اور جوابی کارروائی میں دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔یادرہے کہ اسی یونیورسٹی پر گزشتہ برس اکتوبر میں ایک حملے میں 15 کیڈٹ ہلاک ہوئے تھے۔ دو ہفتوں میں کابل پر یہ تیسرا دہشتگرد حملہ ہے، دو روز پہلے ہوئے حملے میں 103 افراد ہلاک اور 250 کے لگ بھگ زخمی ہوئے تھے۔ گزشتہ ہفتے لگڑری ہوٹل پر حملے میں 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ہفتے کے روزکابل میں ہونے والے ایمبولینس دھماکے کاجائزہ لیاجاتے تواس حوالے سے یادرہے کہ گزشتہ سال 31 مئی کو اسی مقام پر ہونے والے کاربم دھماکے میں بڑی تعدادمیں ہلاکتیں ہوئی تھیں ۔ ہفتے کے روزبھی ریڈ زون میں ایک ایسی جگہ دہشت گرد واقعہ پیش آیا ہے جہاں یورپین یونین سمیت کئی غیرملکی اور عالمی اداروں کے دفاتر قائم ہیں۔دھماکا اس قدر شدید تھا کہ جائے وقوعہ سے کم از کم دو کلومیٹر دور واقع عمارات بھی ہچکولے کھانے لگیں اور شیشے ٹوٹ کر دور دور تک اس کے ٹکڑے پھیل گئے۔افغان وزارتِ داخلہ کے نائب ترجمان نصرت رحیمی کے مطابق حملہ آور نے اپنے مذموم مقصد کے لیے ایمبولینس کا استعمال کیا اور جب اسے پہلی چیک پوسٹ پر روکا گیا تو اس نے سیکیورٹی اہلکاروں کو بتایا کہ وہ مریض کو ہسپتال لے کر جارہا ہے جبکہ دوسری چیک پوسٹ پر اسے روکنے کی کوشش کی گئی تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔اس حملے کی ذمے دار ی طالبان نے قبول کی ہے ۔
ماضی قریب میں اگرکابل میں ہونے والے دھماکو ں کاجائزہ لیاجائے تو رواں ماہ 21 جنوری کوکابل میں واقع انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل میں فوجی لباس میں ملبوس دہشت گردوں کے حملے میں 30 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ۔ 31 مئی 2017 کو کابل کے ریڈ زون میں جرمن سفارت خانے کے قریب کار بم دھماکے میں ایک رپورٹ کے مطابق 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ۔ جس کو کابل شہر کی تاریخ کا خونی ترین حملہ بھی قرار دیا گیا۔ یہ حملہ ایسے مقام پرکیاگیاجہاں متعددممالک کے سفارتخانے ‘سرکاری دفاترہی نہیں اعلی حکومتی شخصیات کی رہائش گاہیں بھی ہیں۔ 31 جنوری 2017 کو افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں سابق گورنر کے جنازے میں خودکش حملے کے نتیجے میں 15 شہری جاں بحق اور 14 زخمی ہوئے۔ 28 دسمبر 2017 کو کابل کے ثقافتی مرکز میں خودکش دھماکوں کے نتیجے میں 40 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے۔اس حوالے سے یادرہے کہ 2001سے امریکی مداخلت کے بعد موجود صدر ڈونلڈٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے افغانستان میں سال 2017 کے دوران سب سے زیادہ قتل و غارت گر ی ہوئی اور یہ سلسلہ 2018 میں بھی جاری ہے۔
افغانستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی پاکستان کی جانب سے بھرپورمذمت کی جارہی ہے ۔ جبکہ ٹوئٹرپرپیغام جاری کرنے کے حوالے سے مشہور امریکی صدرڈونلڈٹرمپ ان حملوں میں شدت پرپیج وتا ب کھارہے ہیں ۔ اپنے تازہ ترین ٹوئٹ میں انھوں نے پیغام جاری کیاہے کہ دنیاکی تمام اقوام کابل میں دہشت گردی کرنے اوراان کی ذمے داری قبول کرنے والے طالبان کے خلاف جنگ کریں ۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ذریعے سامنے آنے والے پیغام میں جہاں انہوں نے کابل حملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم طالبان کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے‘۔وہیں انھوں نے
بعد ازاں وائٹ ہاؤس سے ایک بیان بھی جاری کیا جس میں دنیا کی تمام اقوام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حملے کے پیچھے موجود طالبان دہشت گردوں کے خلاف جنگ کریں۔بیان میں امریکی صدر کے حوالے سے کہا گیا کہ یہ قاتلانہ حملہ ہمارے عزم اور افغان شراکت داروں کے حوصلے کم نہیں کرسکتا جبکہ طالبان کا ظلم کبھی غالب نہیں آسکے گا۔
اپنے بیان میں امریکی صدرنے کہاکہ امریکا ایسا افغانستان چاہتا ہے جو پر امن ہو اور دہشتگردوں سے پاک ہو، جو بھی امریکیوں، ہمارے اتحادیوں اور کسی شخص کو نشانہ بنائے گا وہ ہمارے نظریات کے خلاف ہوگا، لہٰذا تمام ملکوں کو چاہیے کہ وہ طالبان اور دہشتگروں کو سہولت فراہم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں ۔ خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے میں اضافہ کردیا ہے اور اطلاعات یہ بھی ہیں واشنگٹن امریکی فوجیوں کی تعداد کو 8500 سے بڑھا کر 14 ہزار کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے ۔ دوسری جانب امریکی سیکریٹری دفاع ریکس ٹیلرسن کی جانب سے بھی جاری بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ جو قوتیں دہشتگردوں کی حمایت یا انہیں پناہ گاہیں فراہم کرتیں ہیں انہیں اب برداشت نہیں کیا جائے گا۔انھوں نے افغان حکومت کو اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ دہشتگروں کو شکست دینے کے لیے امریکا کابل کی مدد جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ امریکا، افغانستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ہم افغانستان میں امن، سلامتی اور خوشحالی کی بحالی کے لیے جدوجہد کرنے والے عوام کی حمایت جاری رکھیں گے۔ریکس ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ جو ممالک افغانستان میں امن کی حمایت کرتے ہیں انہیں طالبان کی پْرتشدد مہم کو روکنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کرنی چاہیے۔امریکی صدرکی اپیل اورریکس ٹیلرسن کابیان ایک بارپھراس جانب اشارہ ہے جس پاکستانی حکومت ‘فوج اورقوم ڈومورکانام دیتے ہیں ۔ یادرہے کہ ڈونلڈٹرمپ نے اقتدار میں ا ٓنے کے کھل پاکستان ہی مسلم دشمنی اظہارکیاہے ۔ بیت المقدس کواسرائیل کادارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان سمیت ان کے کئی اقدامات ہماری بات کی تائیدہیں۔
اس سلسلے میں واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر اعجاز احمد چوہدری کا کہنا ہے کہ کابل میں دہشتگردوں کے ہر حملے کے بعد اس کا الزام پاکستان پر لگانا امریکی کوششوں میں مدد گار ثابت نہیں ہوگا۔انہوں نے امریکا کے اس دعوے کی تردید کی کہ ہفتے کو کابل میں ہونے والے دہشتگرد حملے کے ذمہ دار پاکستان میں موجود دہشت گرد گروپ ہیں۔ اس حوالے سے کوئی دورائے نہیں کہ افغا نستان میں جب بھی دہشت گردی کے بھیانک واقعات ہوتے ہیں‘ غم و اندوہ سے پاکستانیوں کے دل کٹ کر رہ جاتے ہیں۔ گزشتہ روز افغانستان کے دارالحکومت کے ریڈ زون میں طالبان نے غیر ملکی سفارتخانوں کے قریب ایمبولینس کے ذریعے خودکش دھماکہ کیا جس کے نتیجے میں 95 افراد ہلاک جبکہ 158 زخمی ہوگئے۔ دھماکہ وزارت داخلہ کی پرانی عمارت کے قریب دو چیک پوائنٹس کے درمیان ہوا۔ افغانستان کی طرف سے اس حملے پر پاکستان پر براہ راست الزام تو نہیں لگایا گیا مگر وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے اس میں حقانی نیٹ ورک کو ملوث قرار دیدیا۔ امریکا پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے‘ مگر کوئی ثبوت فراہم نہیں کرتا۔ ثبوت ہوں تو فراہم کرے۔ بھارت اور اسکے طبلچی افغانستان کے کہنے سننے پر پاکستان پر الزام لگایا جاتا ہے۔
افغان سفیر ڈاکٹر عمر زاخیلوال نے کہا ہے دہشت گرد افغان شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ دہشت گردی کا خطرہ افغانستان ہی نہیں پاکستان کو بھی ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا اس میں کوئی شک نہیں افغانستان کے بعض علاقوں میں طالبان کا بھی کنٹرول ہے۔ باہمی ہم آہنگی سے دہشت گردی کے ناسور سے چھٹکارا حاصل ہوگا۔ پاکستان اور افغانستان تعاون کریں تو دونوں ملک دہشتگردی پر قابو پا سکتے ہیں۔عمرزاخیلوال بالکل درست کہتے ہیں پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو ہمہ وقت تیار رہا ہے‘ اب بھی ہے۔ معاملات افغان حکومت کے بھارت کی کٹھ پتلی کا کردار ادا کرنے کے باعث بگڑے ہیں۔ امریکا کی طرف سے گزشتہ دنوں زور دیکر افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر آنے کو کہا گیا تھا۔ پاکستان پہلے بھی طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرچکا ہے۔ اب بھی اہم کردار ادا کرنے پر تیار ہے۔ مذاکرات کچھ دو اور کچھ لو کی بنیاد پر شروع ہو سکتے ہیں۔ طالبان کو اقتدار سے دور رکھ کر نر سرنڈر کی خواہش پوری نہیں ہو سکتی۔ افغان مسئلے کا حل مذاکرات کے سوا کچھ اور ہرگز نہیں ہے۔
دشمن جان لے پاکستان کیخلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک اور تکلیف دہ ہوں گے،معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانیوالی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا خاتمہ کرے،بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا...
مریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ،پہلے مرحلے میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان جبکہ دوسرے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرکے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی تیسرے میں 30 روزہ مذاکراتی دور میں بڑے سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ہوگی، دونوں ممالک آبنائے ہرمز ک...
بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر بے بنیاد الزامات لگائے ،شہباز شریف اسلام آباد میں معرکہ حق کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کی مرکزی تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔اسلا...
ایران میں قیمت 6 روپے فی لیٹر،بنگلہ دیش میں 288 روپے میں دستیاب سری لنکا 370 ،بھارت 302 ،چین میں360 روپے فی لیٹرمیں فروخت حکومت نے رواں ہفتے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحرا...
پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...
9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...
ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...
حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...
اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...
2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے، وزیر خیبر پختونخوا بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بیرونی سازش کے تحت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،خطاب وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد سے پاک...
یو اے ای سے پاکستان کے کسی خاص طبقے کو ڈی پورٹ نہیں کیا جارہا، وزارت داخلہ اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو یہ ملکی قوانین کے مطابق معمول کی کارروائی کا حصہ ہے وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خ...
بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...