... loading ...
ابوخضر
مارچ 2016 میں کرپشن ‘پولیس فنڈمیں گھپلوں سمیت کئی الزامات میں ملوث غلام حیدرجمالی کی برطرفی کے بعد حکومت سندھ نے اے ڈی خواجہ کو آئی جی سندھ کے عہدے پر تعینات کیا تھا۔تاہم صوبائی حکومت اورپیپلزپارٹی کی اعلی قیادت کے احکامات ماننے سے انکارکے بعداے ڈی خواجہ سندھ حکومت کی گڈبک سے نکلتے چلے گئے ۔انھوں نے محکمہ پولیس میں نئی بھرتیوں کااعلان کیااورمیرٹ یقینی بنانے کے لیے ایک کمیٹی قائم کردی جس میں پاک فوج کی کور فائیو اور سٹیزنز پولیس لائزن کمیٹی (سی پی ایل سی) کے نمائندے بھی شامل کیے گئے۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی کی قیادت اوراراکین اسمبلی سندھ پولیس میں اپنے ووٹرزکوبھرتی کراکے آئندہ انتخابات میں اپنی جیت کی راہ ہموارکرنے کے ساتھ ساتھ دیگراخراجات بھی پور ے کرناچاہتی تھی لیکن آئی جی سندھ کے اقدامات نے پیپلزپارٹی کے بڑوں کوآگ بگولہ کردیااورآخرکار دسمبر 2016 میں صوبائی حکومت نے اے ڈی خواجہ کو جبری رخصت پر بھیج دیا ۔اس حوالے سے وزیراعلی سندھ سیدمرادعلی شاہ کہناتھاکہ اے ڈی خواجہ اپنی مرضی سے پندرہ روزکی رخصت پرگئے ہیں۔
حکومت سندھ کی جانب سے کیے گئے اقدام کوہائی کورٹ میں چیلنج کیاگیا۔بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو اے ڈی خواجہ کو رخصت پر بھیجنے سے روک دیا تھا، جس کے بعد جنوری 2017 میں اے ڈی خواجہ نے اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھال لی تھیں۔اپریل 2017 میں حکومت سندھ نے پھر اے ڈی خواجہ کی خدمات واپس وفاق کے حوالے کرنے کے بعد 21 گریڈ کے آفیسر سردار عبدالمجید کو قائم مقام انسپکٹر جنرل سندھ مقرر کردیا۔ 30 مئی 2017 کو اے ڈی خواجہ کو آئی جی سندھ کے عہدے سے ہٹائے جانے کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی، جس پر فیصلہ کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی کو کام جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔ سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت سندھ نے ہارنہیں مانی اس فیصلے کو چیلنج بھی کیااور وفاق سے بھی اائی جی کی تبدیلی سے متعلق درخواست کی جس پر وفاقی کابینہ نے رواں سال 10 جنوری کو ایک 22 گریڈ کے افسر عبدالمجید دستی کو سندھ کا نیا آئی جی مقرر کرنے کی منظوری دی تھی۔یوں ایک سال سے زائد عرصے سے اے ڈی خواجہ کی تبدیلی کے لیے سرگرم سندھ حکومت نے سکھ کاسانس لیا۔ لیکن وفاقی کی جانب سے منظوری کے باوجودنوٹیفکیشن جاری نہیں کیاگیاتھا۔جس کا انتظار کیا جا رہا تھا۔دوسری جانب سندھ حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل بھی دائرکررکھی تھی ۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے انسپکٹر جنرل ( آئی جی) سندھ پولیس کی تقرری کے معاملے پر صوبائی حکومت کی اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے موجودہ آئی جی اے ڈی خواجہ کو اپنے عہدے پر کام جاری رکھنے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف صوبائی حکومت کی اپیل سماعت کے لیے منظور کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وفاق کو نئے آئی جی سندھ پولیس کہ تقرری کے معاملے پر اقدامات اٹھانے سے روکنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی کی تقرری کے معاملے پر وفاقی حکومت کے کسی اقدام کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سندھ میں آئی جی پولیس کی تقرری کا معاملہ عدالتی فیصلے سے مشروط ہوگا اور اس سے متعلق وفاقی و صوبائی حکومتوں کے احکامات معطل تصور ہوں گے۔سماعت کے دوران سندھ حکومت کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے پولیس ایکٹ 2011 کو آئینی قرار دیا اور اے ڈی خواجہ کو پولیس میں تبادلوں کا بھی اختیار دے دیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے پاس از خود نوٹس کا اختیار نہیں ہے جبکہ ہائی کورٹ نے درخواست گزار کو وہ حق بھی دے دیا جو اس نے مانگا بھی نہیں تھا۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سندھ ہائی کورٹ نے بہت خوبصورت فیصلہ دیا اور یہ فیصلہ دو تین مرتبہ پڑھنے کے لائق ہے۔
جسٹس میاں ثاقب نثار نے مزید کہا کہ ہمارے پاس تو از خود نوٹس کا اختیار ہے اور اے ڈی خواجہ کو سندھ پولیس میں تبادلے کرنے کا بھی مکمل اختیار ہوگا۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو روسٹرم پر دلائل دینے سے روک دیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس 7 ستمبر کو سندھ ہائی کورٹ میں آئی جی سندھ پولیس کو عہدے سے ہٹائے جانے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے اے ڈی خواجہ کو کام جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ صوبائی حکومت بغیر کسی جواز کے آئی جی سندھ کو عہدے سے نہیں ہٹا سکتی، ساتھ ہی آئی جی کو افسران کی تعیناتی کا مکمل اختیار بھی ہوگا۔بعد ازاں اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے 30 اکتوبر کو سندھ حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور اپیل کی تھی کہ صوبائی حکومت سندھ کے آئی جی کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔حکومت سندھ کی جانب سے فاروق ایچ نائیک نے درخواست جمع کرائی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔
یادرہے کہ جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے رواں برس 30 مئی کو اے ڈی خواجہ کو آئی جی سندھ کے عہدے سے ہٹانے کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے اپنے حکم نامے میں آئی جی سندھ کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے حکم دیاتھا کہ صوبائی حکومت بغیر کسی جواز کے آئی جی سندھ کو عہدے سے نہیں ہٹا سکتی۔سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو پابند کیاتھا کہ آئی جی کو ہٹانے کے لیے انیتا تراب کیس میں دیے گئے نکات پر عمل کیا جائے، جس کے تحت 3 سال سے پہلے آئی جی سندھ کو ان کے عہدے سے ہٹایا نہیں جاسکتا۔اپنے فیصلے میں عدالت عالیہ کا مزید کہنا تھا کہ پولیس افسران کی تعیناتی کا مکمل اختیار بھی آئی جی سندھ کے پاس رہے گا۔دوسری جانب سندھ حکومت بھی اپنے فیصلے پر ڈٹی رہیا ور ایڈووکیٹ جنرل ضمیر گھمر کے عدالتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ جانے کا عندیہ دیا۔ بعدازاں پاکستان ادارہ برائے مزدور، تعلیم و تحقیق (پی آئی ایل ای آر) کے سربراہ کرامت علی نے حکومت سندھ کی جانب سے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، جس پر سماعت کرتے ہوئے عدالت عالیہ نے آئی جی سندھ کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق سندھ حکومت کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے فیصلہ آنے تک اے ڈی خواجہ کو کام جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔
اب سپریم کورٹ کی جانب سے بھی موجودہ آئی جی سندھ کوکام جاری رکھنے اوروفاق کونئے آئی جی کی تقرری روکنے کاحکم سامنے آنے کے بعدحکومت سندھ کے لیے نئی مشکلات پیداہوسکتی ہیں۔کیونکہ ہائی کورٹ کے حکم کے بعدمحکمہ پولیس میں انقلابی اقدامات اوراس میں موجودکالی بھیڑو ں کے صفائی میں مصروف اے ڈی خواجہ پہلے سے زیادہ تندہی سے کام کریں گے اورسندھ حکومت کے ہرغیرقانونی کام کرمستردکردیں گے ۔ دوسری جانب معاملہ سپریم کورٹ میں آنے کے بعدملک کی اعلی ترین عدالت کی نگاہ بھی سارے معاملات پررہے گی۔
حکومتی پالیسیوں سے بلوچستان میں علیحدگی کا نعرہ لگ چکا،نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن آئین بچانے کے لیے آگے آئیں اگر نہیں آئے تو حالات خطرناک ہوتے جائیں گے، اپوزیشن لیڈر ملک خطرناک حالات کی طرف جارہا ہے، طاقت اور پیسے کی بنیاد پر7 پارٹیوں کو اکٹھا کیا گیا، اسرائیلی جیلوں س...
بحریہ ٹاؤن ہلز میں واقع 67ایکڑ پر مشتمل علی ولا کو منجمد کر دیا ، جو مبینہ طور پر علی ریاض ملک کے نام پر تعمیر کی گئی تھی، رہائش گاہ میں جدید سہولیات جیسے ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز شامل ہیں،ذرائع حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات کی ملکیت1338ایکڑ اراضی بھی منجمد،مبینہ طو...
پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم متحرک ہوگئی ثالثی کے دوران ایرانی طیاروں کو پاکستانی ایئربیس پر جگہ دی گئی، ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی موثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم مت...
اجلاس ختم ہونے کے بعداقبال آفریدی اور جنید اکبر میں تلخ کلامی ، ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی کوشش ، جنید اکبر کے روکنے پر سیخ پا ہوگئے،ذرائع قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا ہوگئے جب کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد پی ٹ...
یکم جنوری 2027 سے ماہانہ 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بلوں میں اضافے کا خدشہ گیس اور بجلی پر دی جانے والی رعایتیں صارف کے استعمال کے بجائے اس کی آمدنی کی بنیاد پر دی جائیں گی حکومت نے آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ ی...
فیلڈ مارشل اورشہباز شریف نے ایران جنگ بندی پر بہترین کردار ادا کیا، امریکی صدر پاکستان غیر جانبدار ثالث نہیں رہ سکتا، مجھے پاکستان پر بالکل اعتماد نہیں، لنڈسے گراہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کرتے ہو...
عالمی مالیاتی ادارے کامشکوک مالی ٹرانزیکشن پر اظہار تشویش، آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل حکومت کو منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت کردی،ذرائع کالے دھن، غیر ٹیکس شدہ سرمایہ کاری کی نشاندہی،بینی فیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے میں خامیاں دور کرنے اور مالیاتی نگرانی کا نظام...
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ پر سخت ردِعمل، امریکی میڈیا رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، دفتر خارجہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ ...
7 اکتوبر کے قیدیوں کیلئے سرعام ٹرائل اور سزائے موت کے متنازع قانون کی منظوری اسرائیلی پارلیمنٹ کے نئے قانون کی منظوری سے عالمی سطح پر تنازع مزید بڑھنے کا خدشہ اسرائیلی پارلیمنٹ (نیسٹ) نے ایک متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں زیرِ...
ایک ہفتے میں عمران خان کا درست علاج نہ ہوا اور ملاقاتیں نہ کرائی گئیں تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا،8 فروری کو نوجوان طبقے نے آپ کے سارے پلان الٹ دئیے، اپوزیشن لیڈر بلوچستان سے لے کر کے پی تک بغاوت کی فضا ہے، ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری ہورہی ہے، پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار ...
امریکی فوج افزودہ یورینیم کی نگرانی کر رہی ہے ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ،قیادت کی اے اور بی ٹیم مکمل ختم ، سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے ایران کو جوہری ہتھیار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے،معاہدہ کر کے اسے توڑ دیتا ہے، امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ...
پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے حوالے سے بے پناہ استعداد موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جانا چاہئے، شہباز شریف کی اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،آئی ٹی کے شعبے میں شہری اور دیہی علا...