وجود

... loading ...

وجود

ثناء اللہ زہری نے عہدے کی قربانی دے کربلوچستا ن اسمبلی کوتحلیل ہونے سے بچالیا

جمعرات 11 جنوری 2018 ثناء اللہ زہری نے عہدے کی قربانی دے کربلوچستا ن اسمبلی کوتحلیل ہونے سے بچالیا

جرات رپورٹ
بلوچستان میں کئی دن سے جاری سیاسی کشمکش اورغیریقینی صورت حال کا وزیر اعلی نواب ثنااللہ زہری کے استعفے سے کسی حدتک خاتمہ ضرورہوگیا لیکن سیاسی بحرا ن برقرارہے ۔ اس حوالے سے اگریہ کہاجائے توغلط نہیں ہوگاکہ نواب ثناء اللہ زہری نے وزارت اعلی کے عہدے کی قربانی دے کر بلوچستان اسمبلی کو تحلیل ہونے سے بچا لیا۔ بلوچستا ن میں حکومتیں گرائے جانے کی روایت خودن لیگ کے سربراہ نوازشریف نے سرداراخترمینگل کی حکومت گرا کر ڈالی۔ اس کے بعد یہ رویت چل پڑی بلوچستان کی حالیہ صورت حال خودن لیگ کی ہی پیداکردہ ہے ۔بلوچستان اسمبلی میں دو جنوری کوو عدم اعتماد کی تحریک چلی تھی حکومت میں شامل کئی ن لیگی اراکین اوروزراء اپنی ہی جماعت وزیراعلی کوہٹانے پرتل گئے ۔ اس ساری صورت حال میں ن لیگ کی مرکزی قیادت خاموش تماشائی بنی رہی ۔ وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کوئٹہ آئے ضرورلیکن تحریک عدم پیش کیے جانے سے صرف ایک دن قبل ان کی آمد وروانگی باغی اراکین پرکوئی خاص تاثرقائم نہ کرسکی اوروہ خالی ہاتھ واپس جاتے ہوئے نواب ثنا ء اللہ زہری کومستعفی ہونے کامشورہ ضروردے گئے جس پرانھوں نے فوری عمل بھی کیا اورگورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے بھی ان کا استعفیٰ منظور کرنے میں دیرنہیں لگائی ۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کے اس طرح اچانک مستعفی ہونے سے یہی واضح ہوا ہے کہ انہیں اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کے کامیاب ہونے کا یقین تھا‘ لہٰذا انہوں نے سوچا ہو گا کہ تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانے سے بہتر ہے‘ خود ہی دستبردار ہو جائیں۔ ان کے مستعفی ہونے کے باعث اپوزیشن اور ان کی اپنی جماعت کے منحرف ارکان کو تحریکِ عدم اعتماد پیش کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی‘ لیکن یہ بات بہرحال قابل غور ہے کہ آیا اس کے نتیجے میں اس صوبے میں پیدا ہونے والا سیاسی بحران ختم ہو گیا اوراسمبلی بھی تحلیل ہونے سے بچ گئی ہے اور زہری کی جگہ جو رکن اسمبلی وزیرِ اعلیٰ کی مسند پر بیٹھے گا‘ اسے حکومتی ارکان کا مکمل اعتماد اور تعاون حاصل رہے گا اور وہ حکومت کی آئینی میعاد ختم ہونے تک اس عہدے پر برقرار رہ سکے گا؟ ان سارے معاملات کے بارے میں فی الحال کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی‘ لیکن اگر ایسا ہوا‘ یعنی نیا وزیر اعلیٰ لایا گیا اور وہ حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے تک اپنی سیٹ پر برقرار رہا تو ان حلقوں اور افراد کے تجزیے غلط ثابت ہو جائیں گے‘ جو بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ بلوچستان میں سیاسی بحران بالقصد پیدا کیا گیا‘ اور اس کا مقصد بلوچستان اسمبلی تحلیل کرنا ہے تاکہ اس کی بنیاد پر باقی صوبائی اسمبلیاں بھی توڑی جا سکیں اور اس طرح امسال مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے الیکشن میں حکمران جماعت کو اکثریت حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔

اگرچہ اس حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان یہ وضاحت کر چکا ہے کہ صوبائی اسمبلی برخاست ہونے سے سینیٹ الیکشن پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور یہ بروقت ہوں گے۔ بلوچستان کی سینیٹ نشستوں پر الیکشن بعد میں بھی کرایا جا سکتا ہے مگر یہ خدشہ موجود تھا کہ معاملہ بلوچستان اسمبلی پر نہیں رکے گا بلکہ دوسری صوبائی اسمبلیاں اور بعد ازاں قومی اسمبلی بھی اس کی زد میں آئے گی۔یاد رہے کہ بلوچستان کے 65 رکنی ایوان میں مسلم لیگ ق کی 5، پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کی 14، نیشنل پارٹی کی 11 اور مسلم لیگ نون کی 21 نشستیں ہیں۔ مسلم لیگ نون، پشتون خوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ق اتحادی ہیں۔ ایوان میں مجلس وحدت المسلمین کی ایک نشست ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) 8 نشستوں کے ساتھ اپوزیشن کی بڑی جماعت ہے۔ اپوزیشن میں بلوچستان نیشنل پارٹی کی 2، اور اے این پی کی ایک نشست ہے۔ اگر آئینی تقاضوں کے مطابق پْرامن طریقے سے نیا وزیر اعلیٰ منتخب کر لیا گیا تو بلوچستان میں پیدا ہونے والا سیاسی بحران خود بخود ختم ہو جائے گا۔ بلوچستان کے معاملات پر غور کے لیے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روز اسلام آباد میں میاں نواز شریف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں وزیر اعلیٰ کے مستعفی ہونے کے بعد کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ یہ سارے صلاح مشورے اپنی جگہ‘ لیکن یہ واضح ہے کہ بلوچستان میں اکثریتی پارٹی کا سربراہ ہونے کے باوجود نواز شریف اپنے وزیر اعلیٰ کو نہ بچا سکے‘ یعنی ثنااللہ زہری پر عدم اعتماد کرنے والے اپنی ہی پارٹی کے ارکان کو رام کرنے اور تحریکِ عدم اعتماد واپس لینے پر رضا مند کرنے میں ناکام رہے۔

دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ اور برسرِ اقتدار جماعت کے باغی ارکان میں اختلافات گہرے ہیں؛ چنانچہ یہ سوال اہم ہے کہ اگلا وزیر اعلی صوبے کے معاملات کو ہموار طریقے سے آگے لے جانے میں کامیاب ہو سکے گا یا نہیں۔ وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا ایک آئینی اور جائز طریقہ ہے؛ لیکن یہ عام طور پر اپوزیشن کی طرف سے پیش کی جاتی ہے‘ بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کے خلاف یہ تحریک پیش کرنے والوں میں کچھ حکومتی ارکان کا شامل ہونا مسلم لیگ ن اور اس کے اتحادیوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ معاملات اس نہج تک کیوں پہنچے اور جب صورتحال خراب ہو رہی تھی تو اس وقت اس کو سدھارنے اور بہتر بنانے پر کیوں توجہ نہیں دی گئی۔

دوسری جانب سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنااللہ زہری کے استعفے کے بعد حکمران جماعت مسلم لیگ کم و بیش 15 اراکین صوبائی اسمبلی کے ‘باغی دھڑے’ کے فیصلے کا انتظار کرے گی جس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ اگلے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے منصب کیلیے کس امیدوار کی حمایت کی جائے۔منگل (9 جنوری) کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے والے نواب ثنااللہ زہری کی جگہ سنبھالنے کے لیے سابق وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی، سابق وزیر اعلیٰ صالح بھوتانی اور نوابزادہ چنگیز مری کو امیدوار قرار دیا جا رہا ہے تاہم مسلم لیگ ن کے باغی دھڑے اور نیشنل پارٹی دونوں کے حمایت یافتہ سرفراز بگٹی کو عہدے کے لیے مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے رہنما جان اچکزئی نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزارت اعلیٰ کے امیدوار کی حمایت یا اپوزیشن میں بیٹھنے کے حوالے سے ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی۔ پارٹی اپنے اتحادیوں کے ساتھ بیٹھ کر مشاورت کرے گی کہ وزارت اعلیٰ کے لیے مشترکہ امیدوار میدان میں اتارا جائے یا پھر اپوزیشن میں بیٹھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت بلوچستان میں ترقیاتی عمل کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حاصل ہونے والی بڑی کامیابیوں کے سلسلے کو جاری رکھنا چاہتی ہے تاکہ اس لعنت سے چھٹکارا پایا جا سکے۔وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری اطلاعات مشاہداللہ خان نے نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے ۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پارٹی باغی اراکین اسمبلی کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ قانون دانوں کی جانب سے پارٹی ڈسپلن کی کہاں خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اگر انہوں نے پارٹی کے وزیر اعلیٰ ثنااللہ زہری کے خلاف ووٹ دیا تو صرف اسی صورت میں ان کے خلاف پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کا سوال اٹھتا ہے۔ ہم صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور ہم اسے مناسبت سے اپنا فیصلہ کریں گے۔

سابق وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ باغی اراکین اسمبلی کو اپنی شکایات پارٹی قیادت کے پاس لے کر آنا چاہیے تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ہم انتظار کریں گے اور دیکھیں گے کہ 15 سے 16 ووٹوں کے حامل یہ لوگ آنے والے دنوں میں کیا کرتے ہیں اور اسی حساب سے اپنی حکمت عملی طے کریں گے۔حکمران جماعت کا اصرار ہے کہ بلوچستان میں جاری قیادت کے بحران کا آنے والے سینیٹ انتخابات کے نتائج پر برا اثر نہیں پڑے گا اور پرویز رشید نے آئندہ دس دنوں کو انتہائی اہم قرار دیا تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جا سکے کہ کہیں ثنااللہ زہری کو عہدے سے پٹانے میں ‘دیگر عناصر’ تو ملوث نہیں۔ادھر جان محمد جمالی کی قیادت میں کام کرنے والے مسلم لیگ (ن) کے باغی دھڑے نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ آئندہ چند دنوں میں ثنااللہ زہری کے جانشین کا انتخاب کر لیں گے۔منگل کی رات نجی ٹی وی چینل گفتگو کرتے ہوئے جان محمد جمالی نے کہا کہ اگلے وزیرِاعلیٰ کا انتخاب ہم کریں گے۔ ہمیں مسلم لیگ ن کے 15 سے زائد قانون دانوں کی حمایت حاصل ہے اور اس سلسلے میں پارٹی اور اتحادیوں کے درمیان مشاورت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ انکشاف کیا کہ وہ اس معاملے پر پارٹی سربراہ نواز شریف سے متفق نہیں تھے۔ ‘نواز شریف بلوچستان سے زیادہ پنجاب کے معاملات میں دلچسپی لیتے ہیں۔ میں مسلم لیگ کا ہی حصہ رہوں گا کیونکہ میرا خاندان 1933 سے اس پارٹی سے منسلک ہے لیکن وزیر اعلیٰ کا انتخاب لاہور میں نہیں کیا جائے گا۔بلوچستان اسمبلی میں 11 نشستوں کے حامل نیشنل پارٹی کے صدر سینیٹر میر حاصل بزنجو نے سابق صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔اس وقت بلوچستان اسمبلی میں پارٹی پوزیشن کے اعتبار سے مسلم لیگ 21 سیٹوں کے ساتھ پہلے، پختونخوا ملی عوامی پارٹی 14 سیٹوں کے دوسرے اور نیشنل پارٹی 11 سیٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام(فضل الرحمان) کی آٹھ، مسلم لیگ ق کی پانچ، بلوچستان نیشنل پارٹی کی دو جبکہ مجلس وحدت المسلمین، بی این پی عوامی اور آزاد امیدوار کی ایک ایک سیٹ ہے۔توقع کی جاتی ہے کہ بلوچستان کا آئندہ وزیر اعلیٰ ان معاملات پر توجہ مبذول اور مرکوز رکھے گا‘ جو زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے کا باعث بنے۔


متعلقہ خبریں


امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی وجود - پیر 30 مارچ 2026

ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق وجود - پیر 30 مارچ 2026

پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی وجود - پیر 30 مارچ 2026

گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف وجود - پیر 30 مارچ 2026

حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف

اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پربمباری،7فلسطینی شہید،4زخمی وجود - پیر 30 مارچ 2026

خان یونس میںتین پولیس اہلکار، تین شہری،ایک بچیشہید ہونے والوں میں شامل غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران سے جنگ کے دوران اسرائیلی حملے جاری اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پرحملوں میں تین اہلکاروں سمیت7 فلسطینی شہید اور 4زخمی ہو گئے۔ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران کے...

اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پربمباری،7فلسطینی شہید،4زخمی

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

مضامین
بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب وجود پیر 30 مارچ 2026
بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب

انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے! وجود پیر 30 مارچ 2026
انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے!

میڈیا آئوٹ لیٹس اور پاکستان کے امیج کی تشکیل نو وجود پیر 30 مارچ 2026
میڈیا آئوٹ لیٹس اور پاکستان کے امیج کی تشکیل نو

تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر