وجود

... loading ...

وجود

بھوپال کی منفرد تہذیب اور چٹوری گلی

اتوار 07 جنوری 2018 بھوپال کی منفرد تہذیب اور چٹوری گلی

شہلا حیات
بھارت کاہر شہر اپنے انواع واقسام کے کھانوں میں ایک دوسرے سے جدا شناخت رکھتاہے، اگرچہ اب بھارت کے ہر بڑے شہر میں بھارت کے مختلف شہروں کے مشہور اورمرغوب کھانے بھی بآسانی دستیاب ہوتے ہیں لیکن ان کھانوں کے ان کے شہروں میں جس اہتمام کے ساتھ پکایا جاتاہے، دوسرے شہروں میں وہ ذائقہ حاصل نہیں ہوپاتا، کھانوں کے اعتبار سے بھارت کے وہ شہر زیادہ مشہور ہیں جہاں نوابوں اورراجہ مہاراجائوں کے حکمرانی رہی ہے کیونکہ ان کو طرح طرح کے کھانوں کاجنون کی حد تک شوق تھا ،یہی وجہ ہے کہ بھارت کی دوسری ریاستوں کی طرح بھوپال بھی طرح طرح کے کھانوںکے لیے اپنی الگ شناخت رکھتاہے،خوبصورت جھیلوں کا شہر، محلات و مساجد کا شہر بھوپال نہ صرف اپنی تاریخ بلکہ اپنے دسترخوان کے لیے بھی شہرت رکھتا ہے۔بھوپال کی معروف مسجد تاج المساجدبھی اپنی مثال آپ ہے جسے نواب بیگم بھوپال نے تعمیر کروایا ہے۔

ہندوستان کی اس شاہی ریاست پر چار بیگمات نے بڑی لیاقت و فراست سے حکمرانی کی۔آخری نواب بیگم نے بالآخر حکومت کی عنان اپنے بیٹے کے سپرد کی جو کہ بھوپال کے آخری نواب ثابت ہوئے۔دوسری بہت سی ریاستوں کی طرح بھوپال بھی ہندوستان کا حصہ بن گیا اور نواب خاندان کو حکومت ہند نے تا زندگی جاگیر عطا کی۔ دہلی کی معروف طباخ سلمیٰ حسین لکھتی ہیں کہ دو جھیلوں کے درمیان آباد یہ شہر ہندو مسلم اتحاد کی بہترین مثال ہے۔ مسجدوں سے آتی مؤذن کی صدا، مندروں کے ناقوس، خوشنما ویران محل، خوبصورت جھیلوں کا خاموش پانی اور با رونق بازار یہ ہے بھوپال کا مختصر تعارف۔قدیم بھوپال میں مسلم تہذیب و ثقافت کا رنگ اب بھی نمایاں ہے۔ 1707 میں مغلیہ فوج کے افغان سردار دوست محمد خان، پرمار خاندان کے راجا بھوج کے بسائے شہر کو حاصل کیا اور اسے دوبارہ مستحکم کیا۔ نئے بھوپال شہر کی بنیاد رکھی اور نوابی دور کا آغاز ہوا۔ چونکہ دوست محمد افغان نژاد تھے اس لیے بھوپال کی ابتدائی تاریخ بہت حد تک اسلامی تہذیب و تمدن میں رچی بسی رہی اور آج بھی بھوپال میں کافی حد تک مسلم معاشرے کی جھلک موجود ہے۔

شاملا پہاڑی پر بنی شاملا کوٹھی جسے جنرل عبیداللہ خان نے 1911 میں بنوایا تھا نوابی دور کے اختتام پر خاندان کی رہائش گاہ بنی۔ 1945 میں سترہ برس کی دلھن بیگم ثریا رشید کے قدم سے یہ کوٹھی آباد ہوئی۔شاملا کوٹھی وسیع رقبے میں پھیلی تھی۔ باورچی خانہ وسیع تھا جہاں پانچ رکابدار اور 15 باورچی انواع و اقسام کی غذائوں کو تیار کرتے تھے۔ ہر رکاب دار اپنے فن میں ماہر تھا۔ رکابدار سراج بیکنگ کے ماہر تھے اور دیگچی کو مہر بند کر کے انگارے کے اوپر رکھ کر مزیدار کیک تیار کرتے تھے۔ چھوٹے موٹے نہیں بلکہ تین تین منزلہ کیک اسی ترکیب سے تیار کیے جاتے تھے۔

شاملا کوٹھی کے اطراف میں پھیلا جنگل بہترین شکار گاہ تھی اور کوٹھی کے مکینوں کا بہترین شغل شکار ہی تھا اور دلچسپ بات یہ تھی کہ شکار کا گوشت پانی میں دھویا نہیں جاتا تھا بلکہ گیلے کپڑے سے صاف کیا جاتا تھا اور باورچی عمدہ کباب، کوفتے، پسندے اور فلفورا بنا کر دسترخوان پر پیش کرتے تھے۔ زائد گوشت دھوپ میں سکھا کر سال بھر استعمال کیا جاتا تھا۔ برسات کے موسم میں جب شکار کرنا دشوار ہوتا تو یہی گوشت مختلف طریقوں سے پکایا جاتا تھا۔گوشت کے علاوہ ترکاریوں کے عمدہ پکوان بھی وہاں بنائے جاتے تھے۔ ہر ترکاری گوشت کے ساتھ پکائی جاتی تھی۔ جب موسمی سبزیوں پر بہار ہوتی تو بڑے اہتمام سے ان کی ہانڈی تیار ہوتی تھی۔

نواب شاہ جہاں بیگم نے لکھنؤ سے رکابدار بلوائے اور نوابی دسترخوان اودھی کھانوں سے سج گیا۔ اودھ اور افغانی کھانوں کے میل جول سے کئی نئے پکوان وجود میں آئے۔بھوپال میں گوشت کا استعمال بہت ہوا ہے۔نوابی دسترخوان اور لذیذ کھانوں سے نظر ہٹائی تو ابراہیم پورہ کی چٹوری گلی سامنے آ گئی۔ چٹوری گلی واقعی چٹوری ہے اور اگر بھوپال میں چٹوراپن نہیں کیا تو بھوپال کا سفر ادھورا رہا۔ ‘کھانے کی اتنی اہمیت کہ روزے کا تصور نہیں۔کھانوں میں زعفران کا استعمال ایران کی دین ہے اور یہ مغل بادشاہوں کے دسترخوان میں مخصوص اہمیت کا حامل رہا ہے اور مغل حکمرانوں کی وساطت سے ہی زعفران ہندوستان پہنچی اورپھر امراکے کھانوں اور طبیبوں کی دوائوں کالازمی جزو بن گئی اپنی تمام تر صفات کے ساتھ ایک قیمتی اثاثہ ہے جو عوام کی دسترس سے باہر ہے۔

زعفران کو نازک پتیوں میں رنگ و نور کا جادو کہا جا سکتا ہے جس کا نہ صرف غذاؤں کو خوشبودار اور رنگین بنانے میں دنیا کے ہرگوشے میں استعمال ہوتا ہے بلکہ اس کے طبی فوائد بھی ہیں۔یونان و مصر و روما بھی اس کے سحر آگوں اور مدہوش کن اثرات سے نہ بچ سکے۔ زعفران کب اور کیسے وجود میں آیا؟ اس کے متعلق مختلف علاقوں کے دلچسپ افسانے ہیں۔یونانی اساطیر میں یہ پایا جاتا ہے کہ کِرکس نامی گبرو جوان سی لیکس نامی خوبصورت حسینہ کے عشق میں گرفتار ہوا لیکن حسینہ نے اس کے جذبات کی قدر نہ کی اور اسے فالسی رنگ کے خوبصورت پھول میں تبدیل کر دیا۔ یہ فالسی رنگ کا پھول اب زعفران کہلاتا ہے۔ بھارت میں کشمیر کا پامپور زعفران کی کاشت کے لیے معروف ہے۔کشمیر کے معروف دانشور محمد یوسف تینگ کا کہنا ہے کہ زعفران اور کشمیر کا پرانا ساتھ ہے۔ کشمیر کے حکمراں یوسف شاہ چک (86-1579) نے پامپور میں زعفران کی کاشت شروع کی تھی۔ حقیقت خواہ کچھ ہو آج پامپور زعفران کی کاشت کا سب سے بڑا مرکز ہے اور وہاں کے دو سو سے زیادہ گاؤں تقریبا ڈھائی ہزار کلو زعفران پیدا کرتے ہیں۔اکتوبر کے دوسرے اور تیسرے ہفتے سے نومبر کے پہلے ہفتے تک زعفران اپنی بہار پر ہوتا ہے۔ آسمان پر چاند تاروں کا جال اور فرش پر زعفران کی رنگین بہار جنت کا منظر پیش کرتی ہے،اور آج بھی بھارت ہی نہیں بلکہ برصغیر کے ہر شہر اورقریئے کے امرا کے کھانوں میں زعفران کی رنگینی لازمی ہوتی ہے۔

بھوپال کی چٹوری گلی میں اگرچہ اب شاید ہی کسی دکان میں کسی مشروب یاکھانے میں زعفران ڈالی جاتی ہو لیکن زعفران کی جگہ زعفرانی رنگ ضرور استعمال کیاجاتاہے، بھوپال کی چٹوری گلی میںکھانے پینے کی چھوٹی چھوٹی دکانیں ہر دم گاہکوں سے بھری رہتی ہیں۔ کوئی سلیمانی چائے کا مزہ لے رہا ہے تو کوئی نہاری کا پیالہ لیے بیٹھا ہے۔ بھوپال کے انوکھے ناشتے کا لطف اٹھانے کے لیے لوگ صبح صبح چٹوری گلی پہنچ جاتے ہیں۔ گرم گرم پھوہا، ساتھ بیکانیری سیو اور سنہری گرم جلیبی، نمکین اور میٹھاپن ہی بھوپال کی خاصیت ہے۔بھوپال میں قسم قسم کے کباب کا رواج ہے۔چٹوری گلی کی مشہور ڈش بن کباب ہے۔ ہاتھ سے کٹے موٹے قیمے کے تلے کباب بن رکھ کر پیاز چٹنی کے ساتھ کھائیے اور باورچی کو دعائیں دیتے آگے بڑھ جائیے جہاں نلی گوشت آپ کو للچانے کے لیے کافی ہے۔ وہاں سائیکل سوپ والا بھی اپنی مثال آپ ہے۔ کہتے ہیں کہ سالوں پہلے ایک نیپالی نوجوان آیا اور سائیکل پر ٹماٹر کا شوربہ بیچنے لگا۔ شوربہ مزیدار تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے سائیکل سوپ والااب وہاں تین چار دکانوں کا مالک ہے۔

گلاوٹی کباب کی کہانی بھی بھوپال سے ملتی ہے۔ پتہ چلا کہ حاجی مراد علی بھوپال کے رکابدار تھے جو بعد میں لکھنؤ جا بسے۔ چونکہ وہ لولے تھے اس لیے یہ کباب ان کے نام سے مشہور ہوا۔ بھوپال میں گلاوٹی کباب رسک بسکٹ پر رکھ کر پیش کیا جاتا ہے۔
چٹوری گلی شیطان کی آنت کی طرح ہے۔ جہاں چلتے چلاتے برفی رس ملائی پر نظر چلی ہی جاتی ہے۔ پتے کے دونے پر برف کا چورا، اس پر ربڑی کی موٹی تہہ اور گلاب کے شربت کا چھڑکاؤ۔ گلی سے باہر نکلتے ہوئے پان کا بیڑا منھ میں رکھیے اور بھوپال کے مکینوں کو دعا دیتے جائیے۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر