وجود

... loading ...

وجود

بچوں کے ساتھ شفقت اور حسن سلوک کی فضیلت

جمعه 29 دسمبر 2017 بچوں کے ساتھ شفقت  اور حسن سلوک کی فضیلت

مفتی محمد وقاص رفیعؔ
اسلام جس طرح بڑوں ، بوڑھوں اور بزرگوںکی عزت کرنے اور اُن کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی تعلیم دیتا ہے ، اسی طرح چھوٹے ،کم سن،اور معصوم بچوں کے ساتھ بھی شفقت و مہربانی اور حسن سلوک کی ترغیب دیتا ہے۔ اورجس طرح ہمارے بڑے، بو ڑھے، اور عمر رسیدہ بزرگ حضرات ہماری توجہ کا مرکز ہیں اسی طرح ہمارے کم سن ، چھوٹے اور معصوم بچے بھی ہمارے لاڈ پیار، شفقت و محبت اور حسن سلوک کے حق دار ہیں۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر شعبۂ زندگی کے افراد کے ساتھ حسن سلوک مثالی اور قابل تقلید تھا ہی،لیکن کم سن، چھوٹے اور معصوم بچوں کے ساتھ جو آپ کا حسن سلو ک اورلاڈ پیارتھاوہ بھی خاصا قابل رشک و قابل دید تھا۔

چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمروؓ فرماتے ہیں کہ: ’’میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ حضورؐ منبر پر بیٹھے ہوئے لوگوں میں بیان فرمارہے تھے کہ اتنے میں حضرت حسینؓ بن علی ؓ (گھر سے) نکلے ، اُن کے گلے میں کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا، جو لٹک رہا تھا اور زمین پر گھسٹ رہا تھا کہ اُس میں اُن کا پاؤں اُلجھ گیااور وہ زمین پر چہرے کے بل گرگئے ۔ حضورؐ اُنہیں اُٹھانے کے ارادے سے منبر سے نیچے اُترنے لگے۔صحابہؓ نے جب حضرت حسینؓ کو گرتے ہوئے دیکھا تو اُنہیں اُٹھا کرحضورؐ کے پاس لے آئے ، حضور ؐ نے اُنہیں لے کر اُٹھا لیا، اور فرمایا : ’’شیطان کو اللہ مارے ! اولاد تو بس فتنہ اور آزمائش ہی ہے۔ اللہ کی قسم! مجھے تو پتہ ہی نہ چلا کہ میں منبر سے کب نیچے اُتر آیا، مجھے تو بس اُس وقت پتہ چلا جب لوگ اس بچے کو میرے پاس لے آئے۔‘‘(معجم طبرانی)
حضرت ابو سعید ؓ فرماتے ہیں کہ: ’’ایک مرتبہ حضورؐ سجدے میں تھے کہ حضرت حسنؓ بن علیؓ آکر آپؐ کی پشت مبارک پر سوار ہوگئے، پھر حضورؐ اُنہیں ہاتھ سے پکڑ کر کھڑے ہوگئے ، پھر جب حضورؐ رکوع میں گئے تو وہ حضورؐ کی پشت پر کھڑے ہوگئے، پھر حضورؐ نے اُٹھ کر اُنہیں چھوڑدیاتو وہ چلے گئے۔‘‘ (مسند بزار)

حضرت زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ: ’’ میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ حضورؐ سجدے میں ہیں کہ اتنے میں حضرت حسنؓ بن علیؓ آکر حضورؐ کی پشت مبارک پر سوار ہوگئے، آپؐ نے اُنہیں نیچے نہ اُتارا(بلکہ یوں ہی آپؐ سجدے میں رہے) یہاں تک کہ وہ خود ہی نیچے اُترے ۔ اور آپؐ اُن کے لیے دونوں ٹانگیں کھول دیا کرتے اور وہ ایک طرف سے آکر حضورؐ کے نیچے سے گزر کر دوسری طرف سے نکل جاتے۔‘‘(معجم طبرانی)

حضرت اسود بن خلفؓ فرماتے ہیں کہ: ’’ایک مرتبہ حضور ؐ نے حضرت حسن ؓبن علیؓ کو پکڑ کر اُن کا بوسہ لیا ، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: ’’آدمی اولاد کی وجہ سے کنجوسی کرتا ہے اور نادانی والے کام کرتا ہے( بچوں کی وجہ سے لڑ پڑتا ہے) اور اولاد کی وجہ سے آدمی بزدلی اختیار کرلیتا ہے(کہ میں مرگیا تو میرے بعد بچوں کا کیا ہوگا؟)(مسند بزار)
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ: ’’حضورؐ اپنے اہل و عیال کے ساتھ سب لوگوں سے زیادہ شفقت کرتے تھے۔ حضورؐ کا ایک صاحب زادہ تھا جو مدینہ کے کنارے کے محلے میں کسی عورت کا دودھ پیا کرتا تھا ، اس عورت کا خاوند لوہار تھا ، ہم اُسے ملنے جایا کرتے تو اُس لوہار کا سارا گھر بھٹی میں اِذخر نامی گھاس جلانے کی وجہ سے دھوئیں سے بھرا ہوا ہوتا تھا ۔ حضورؐ اپنے اس بیٹے کو چوما کرتے اور ناک لگاکر اسے سونگھا کرتے تھے۔‘‘(الادب المفرد)

حضرت ابو قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ: ’’ایک مرتبہ نبی کریمؐ باہر ہمارے پاس تشریف لائے ، آپؐ کے کندھے پر ( آپؐ کی نواسی) حضرت اُمامہ بنت ابی العاصؓ بیٹھی ہوئی تھیں، آپؐ نے اسی طرح نماز پڑھنی شروع کردی، جب رکوع میں جاتے تو اُنہیں نیچے اُتار دیتے ، اور جب (سجدے سے) سر اُٹھاتے تو اُنہیں پھر اُٹھاکر بٹھالیتے۔‘‘ (صحیح بخاری: ۲/۸۸۷)

حضرت معاویہؓ فرماتے ہیں کہ : ’’میں نے دیکھا کہ حضور ؐ حضرت حسنؓ بن علیؓ کی زبان اور ہونٹ کو چوس رہے تھے،اور جس زبان اور ہونٹ کو حضورؐ نے چوسا ہو اُسے کبھی عذاب نہیں ہوسکتا۔‘‘ (مسند احمد)

حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ: ’’ایک دن ہم (میں، میری والدہ اور میری خالہ اُم حرام) نبی کریم ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے…آپؐ کے گھر والوں نے ہمارے لیے دُنیا و آخرت کی ہر بھلائی کی دعاء کی۔ میری والدہ نے عرض کیا: ’’یارسول اللہؐ! آپؐ کا یہ چھوٹا سا خادم انس ہے،آپؐ اس کے لیے دُعاء فرمایئے! اس پر آپؐ نے میرے لیے ہر طرح کی بھلائی کی دُعاء فرمائی اور آخر میں فرمایا: ’’اے اللہ! اس کے مال اور اس کی اولاد میں میں کثرت عطاء فرمااور اس کو برکت نصیب فرما!۔‘‘ (الادب المفرد)

حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ: ’’ایک آدمی حضور ؐ کی خدمت میں آیا، اُس کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا ، جسے وہ (ازراہِ شفقت) اپنے ساتھ چمٹانے لگا۔ حضورؐ نے پوچھا: ’’کیا تم اِس بچے پر رحم کر رہے ہو؟‘‘اُس نے کہا: ’’جی ہاں!۔‘‘ حضورؐ نے فرمایا: ’’تم اس پر جتنا رحم کھا رہے ہو ، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ تم پر رحم فرمارہے ہیں۔ وہ تو ارحم الراحمین ہیں۔ تمام رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم فرمانے والے ہیں۔‘‘ (الادب المفرد)

حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ایک عورت اپنی دو بیٹیاں لے کرحضرت عائشہ ؓ کے پاس آئی، حضرت عائشہؓ نے اُسے تین کھجوریں دیں ،اُس نے ہر بیٹی کو ایک کھجور دی اور ایک کھجور اپنے منہ میں رکھنے لگی ، وہ دونوں بچیاں اُسے دیکھنے لگیں ، اِس پر اُس نے (اِس کھجور کو نہ کھایا بلکہ) اُس کھجور کے دو ٹکڑے کرکے ہر ایک کو ایک ایک ٹکڑا دے دیا اور چلی گئی۔ پھر حضورؐ تشریف لائے تو اُس عورت کا یہ قصہ اُنہوں نے حضورؐ کو بتایا۔ حضورؐ نے فرمایا: ’’وہ اپنے اِس (مشفقانہ رویہ کی) وجہ سے جنت میں داخل ہوگئی ہے۔‘‘(مسند بزار)

حضرت سائب بن یزیدؓ فرماتے ہیں کہ: ’’ایک مرتبہ نبی کریمؐ نے حضرت حسن کا بوسہ لیا تو حضرت اقرع بن حابسؓ نے حضورؐ سے عرض کیا: ’’میرے تو دس بچے پیدا ہوئے ہیں ، میں نے تو اُن میں سے ایک کا بھی کبھی بوسہ نہیں لیا۔‘‘ حضورؐ نے فرمایا: ’’جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اُس پر رحم نہیں فرماتے۔‘‘(معجم طبرانی)

حضرت نعمان بن بشیرؓ سے مروی ہے ، وہ فرماتے ہیں اُن کے والد (ایک مرتبہ بچپن میں) اُن کو لے کر رسول اللہ ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہ اُنہیں گود میں لیے ہوئے تھے، اُن کے والد نے رسول اللہ ؐ سے عرض کیا : ’’یا رسول اللہؐ! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے نعمان کو یہ یہ چیزیں دے دیں۔‘‘ آپؐ نے پوچھا: ’’تم نے اپنے سارے بچوں کو دیا ہے؟۔‘‘ عرض کیا کہ: ’’نہیں!۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’تو پھر کسی اور کو گواہ بناؤ!۔‘‘اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: ’’کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ تمہارے سارے بچے تمہارے ساتھ حسن سلوک کرنے میں برابر ہوں ؟۔‘‘ عرض کیا: ’’کیوں نہیں!۔‘‘ تو آپؐ نے فرمایاکہ : ’’ پھر ایسا نہ کرو!۔‘‘(الادب المفرد)
حاصل یہ کہ بچوں کے ساتھ لاڈ پیار کرنا،اُن کے ساتھ ہنسی مذاق کرنا، اُن پر شفقت و مہربانی کرنا،اُن کے ساتھ حسن سلوک میں برابری کرنا قرآن و حدیث اوراسلامی تعلیمات کا ایک اہم اور بنیادی حصہ ہے ، اس سے جہاں ایک طرف بچوں سے معمور گھر ہنستا مہکتا ہے تو وہیں دوسری طرف اِس سے خوش ہوکر اللہ تعالیٰ رحمتوں ا ور برکتوں کی ٹھنڈی اور تازہ ہوائیں چلادیتے ہیں۔
ژ ژ


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر