وجود

... loading ...

وجود

صادق آباد کی تاریخی مسجدبھونگ

اتوار 24 دسمبر 2017 صادق آباد کی تاریخی مسجدبھونگ

سلیم ناز
سندھ اورپنجاب کے سنگم پرواقع رحیم یارخان سے متصل شہرصادق آبادروایات کاحامل شہرہے ۔بہاولپورکے نواب سرصادق محمد خان عباسی کے نام پرقائم اس شہرکے چھوٹے قصبے کسی دورمیں تجارتی اورسیاسی لحاظ سے اہم شہروں میں شمارہوتے تھے۔ انہی قصبوں میں ایک تاریخی شہراحمد پولمہ آبادہے جسے حویلیوں ‘قلعوں اورکھنڈروکاشہربھی کہا جاتا ہے ‘روایات سے پتہ چلتاہے کہ سکندراعظم ‘ہلاکوخان اورمحمد بن قاسم اس علاقے سے گزرے تھے۔

عباسیہ خاندان کے ایک سرداراحمد خان نے 1775میں بھتہ واہن کانام اپنے نام پر’’احمد پوررکھا‘شہرکے گردایک دیوار تعمیر کرائی جس کی اونچائی تیس فٹ کے لگ بھگ تھی ِ،جوزمانہ کاساتھ نہ دے سکی اورزمین بوس ہوگئی ۔احمد پورلمہ کو 1939.40تک تحصیل کادرجہ حاصل رہا۔ احمد پورکی ایک بستی رحیم آبادکوڈیرہ غازی خان کے لغاریوں نے آبادکیاتھا اس بستی سے آگے بل کھاتی سڑک سے گزرکربستی بھونگ بازارہے جہاں تاریخی مسجدبھونگ واقع ہے ۔ یہ مسجدفن تعمیر کا خوبصورت شاہکارہے۔اس مسجدکوسرداررئیس غازی محمد مرحوم نے تعمیرکرایا۔ سرداررئیس ایک بہت بڑی ریاست کے مالک تھے۔ 1932میں تعمیرکردہ اس مسجدکے تمام اخراجات انھوں نے خوداداکیے ۔ سردار صاحب مسجدکوایک شاہکاربناناچاہتے تھے اس لیے انھوں برصغیرکے ماہرین تعمیرات سے اس مسجدکے اچھوتے ڈیزائن کے لیے مددحاصل کی۔

مسجدبھونگ کامرکزی دروازہ فن وثقافت کاایک دلکش نمونہ جوعمومابندہی رہتاہے اورکسی اہم شخصیت کی آمد پرہی کھلتاہے ۔ مرکزی دروازے کے اوپرحضورپاک کانام انتہائی خوبصورت اندازمیں تحریر ہے ۔ مسجد میں داخل ہوتے ہی امام مشہدشریف ایران کے گیٹ سے مشابہہ دروازے پرنظرپڑتی ہے ۔ مسجد کا اندرونی وبیرونی منظربھی بے مثال ہے ۔ مرکزی ہال اوربرآمد ے کی چھت پرشیشے اورسونے کاکام کیاگیاہے جس کی چمک دھمک آج بھی اسی طرح برقرارہے جیسی ابتدامیں رہی ہوگی ۔اس تاریخی مسجدکی تعمیر کا آغاز 1951 میں ہوااورتقریبا24سال بعد 1975میں مکمل ہوئی ۔مسجدکے ایک طرف احاطے میں وضوکے لیے تالاب بناہواہے ۔ ساتھ ہی ایک مدرسہ ہے جہاں سینکڑوں بچے دین کی تعلیم سے بہرہ ورہوتے ہیں ۔ اندرونی وبیرونی دیواروں پرلکھی قرآنی آیات فن خطاطی کااعلی نمونہ ہیں۔ مسجدکامنبرسونے تخت معلوم ہوتاہے ۔ لوگ دوردرازسے اس مسجدکی خوبصورتی دیکھنے اورنمازپڑھنے آتے ہیں۔
اسلامی فن تعمیرکی اس خوبصورت مسجدکو20ویں صدی کاشاہ کارقراردیاجاسکتا ہے ۔ بین الاقوامی ماہرین تعمیرنے اسے دنیاکی چھٹی خوبصورت ترین عمارت قرار دیاہے۔یہ مسجداپنی خوبصورتی اورمثالی طرز تعمیر کے باعث آغاخان ایوارڈ بھی حاصل کرچکی ہے۔ مسجدکی تعمیرپرآنے والے اخراجات کے حوالے سے علامہ اجمل مرزانے اپنے مضمون میں لکھاہے کہ مسجدکی تکمیل سے پہلے میری اس معماراعلی استاد ملتانی سے ملاقات ہوئی تومیں اس کی تعمیرپرآنے والے اخراجات کے بارے میں دریافت کیااس پرمعماراعلی نے بتایاکہ یہ دنیاکی واحدعمارت ہے جس کی تعمیرپرآنے والے اخراجات کاکسی کوعلم نہیں ۔ انھوں نے مزید بتایاکہ جس د ن میں مسجدکی تعمیرکاچارج سنبھالا تو سرداررئیس نے نوٹوں سے بھرا ہوا ایک تھیلا مجھے تھمادیا ۔ میں نے جاکرتعمیراتی سامان خریدا اورہرچیزکابل بھی بنواتاگیا۔ کئی ٹرکوں پرسامان لادھ کرلایاگیا۔ جب میں بل رئیس کوپیش کیے توانھوں نے پرزے پرزے کردیے اورمجھ سے کہااستادمیں اپنا نہیں اللہ کا گھر تعمیر کرا رہا ہوں مجھے شرم آتی ہے کہ میں اللہ کے گھر کا حساب کتاب دیکھوں اورقیامت کے دن مجھے جواب دیناپڑے ۔ خدامجھ سے سوال کرے کہ میں نے لاکھوں کروڑوں کی جاگیرتجھے بغیر کسی حساب کتاب اوراہلیت کے عطاکی اور میرا صرف ایک گھرتعمیرکرایااوراس کابھی حساب کتاب ساتھ لائے ہو۔رئیس صاحب نے مجھ سے کہاکہ مستر ی صاحب میں آپ کوہدایت کرتاہوں کہ مسجدپرخرچ کاحساب کتاب بالکل نہ رکھیں اورآئندہ کوئی بل بھی نہ بنوائیں۔ آپ صرف مجھ سے رقم لے کرخرچ کرتے جائیں۔ میں اورمیرامال سب اللہ کاہے ۔برسابرس گزرنے کے باوجودآج بھی مسجدبھونگ کی خوبصورتی میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ مسجد کی انتظامیہ اس کی بہت زیادہ دیکھ بھال کرتی ہے ۔ مسجدکے کسی بھی حصے میں ٹوٹ پھوٹ ہونے کی صورت میں اسے فور ی مرمت کرالیاجاتاہے ۔ عام دنوں کی نسبت تہواروں کے موقع پرمسجد میں بہت رش ہوتاہے ۔ یہاں آنے والے سیاح اس عالیشان مسجد کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔


متعلقہ خبریں


اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

مضامین
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال وجود پیر 23 مارچ 2026
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال

آئی ہے عید ہر سال کی طرح وجود پیر 23 مارچ 2026
آئی ہے عید ہر سال کی طرح

بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی وجود پیر 23 مارچ 2026
بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی

ایرانی ایٹم بم وجود پیر 23 مارچ 2026
ایرانی ایٹم بم

ہمیں اپنے درد کی بو محسوس نہیںہوتی ! وجود پیر 23 مارچ 2026
ہمیں اپنے درد کی بو محسوس نہیںہوتی !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر