وجود

... loading ...

وجود

فرقہ پرست ہندومحبت کی نشانی تاج محل کے درپے

پیر 06 نومبر 2017 فرقہ پرست ہندومحبت کی نشانی تاج محل کے درپے

دہلی کالال قلعہ ہویاکوئی اورتاریخی مقام بھارت کے جنونی ہندوہروہ نشانی مٹانے پرتلے ہیں جووہاں مغل بادشاہوں نے تعمیر کرائی ۔ ہندوئوں کی خواہش ہے کہ یا تووہ مقام سرے ڈھادیاجائے تومسلمان حکمرانون کے دورمیں فنی تعمیرکانادرشاہکار ہے اگرایسا ممکن نہ ہوتو کم ازکم اس مقام پرمسلمانوں سے چھین کرہندوئوں کی دسترس میں دے دیاجائے ۔ با بری مسجد پر قبضے کے بعد ہندو فرقہ پرستوں کے حوصلے مزید بلندہوچکے ہیں ان کی خواہش کے کسی طرح تاج محل کوبھی کسی مندرکوگراکراس کی جگہ تعمیرکیے جانے کابتاکرملیہ میٹ کرکے کوئی مندرنما عمارت کادرجہ دلادیاجائے ۔اسی لیے تاج محل کو قدیم تیجو مہالیہ مندر کاحصہ قراردینے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔تاج محل کی تاریخی حیثیت بدلنے کی کوششوں میں بھارتی حکمران جماعت بی جے پی سب سے آگے ہے۔اس حوالے سے بی جے پی صدر لکشمی کانت واجپائی کا ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہنا ہے کہ مغل حکمران شاہ جہاں نے اس عمارت کی تعمیر کے لیے کچھ زمین ہند راجہ جے سنگھ سے خریدی تھی۔
واجپائی کا دعویٰ ہے کہ اس سے متعلق دستاویزات اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وقف کی ملکیت پر قبضہ جمائے بیٹھے اتر پردیش کے سینئر وزیراعظم خان کی نظر اب تاج محل پر ہے اور مزید کہا کہ تاج محل میں پانچ وقت کی نماز پڑھنے کا مسلمانوں کا خواب کبھی پورا نہیں ہوپائے گا۔ تاج محل کو مندر قرار دینے کی کوششیں کئی عرصے سے جاری ہیں۔
اب تک کئی مرتبہ تاج محل کو مندر قرار دینے کی سازشیں بنائی جاتی رہی ہیں۔ تاج محل کا نقشہ جس طرح سے بنایا گیا ہے ہندو اسے دید مندر کا حصہ قراردیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تاج محل کے مغرب کی سمت جو مسجد ہے وہ سمجھ میں آتی ہے لیکن مشرق کی جو مسجد نما عمارت ، جسے نقار خانہ کہا جاتا ہے۔ اس کی موجودگی کے بارے میں سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ہندوؤں کا کہنا ہے کہ مقبروں میں نقار خانے نہیں بنائے جاتے۔
نقار خانے پرانے زمانے میں ہندو مندروں میں ہی بنائے جاتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ تاج محل کی عمارت جو عربی آیات کندہ ہیں۔وہ بھی مندر کے نقش ونگار کو چھپانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ تاج محل میں ایک کنواں بھی ہے جس کے بارے میں ہندو انتہا پسندوں کا کہنا ہے کہ پرانے دور میں مندروں میں ایسے کنویں بنائے جاتے تھے تاکہ خزانہ چھپایا جاسکے۔ اس طرح کے اوٹ پٹانگ دعوؤں کے ذریعے تاج محل کو مندر قرار دینے کی سازش کی جارہی ہے۔
حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ آگرہ میں دریائے جمنا کے کنارے نفیس سنگ مرمر سے تعمیر یہ روضہ اپنی محبت کی نشانی کے طور پر پانچویں مغل حکمران شاہ جہاں نے تعمیر کروایا تھا۔ فارسی زبان میں ایسی تاریخوں کی کمی نہیں جس میں اس عمارت کی تفصیلی کیفیات اور بنانے والوں کے نام تک درج ہیں۔ اس ضمن میں عدالت نے اس استدال کو مسترد کردیا۔ ہندو فرقہ پرستوں کا دعویٰ ہے کہ یہ کوئی سو پچاس سال پہلے کی کہانی نہیں۔
یہاں ہندوؤں کا مندر ہوتا تھا لیکن مغل دور میں کچھ مسلمان حکمرانوں نے اپنے عزیزوں کو یہاں دفنایا تھا اس لیے وہ دعویدار ہوگئے ہمایوں اکبر اور صفدر جنگ کو بھی ایسی عمارتوں میں دفن کیا گیا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ شیوا ا مندر تھا تو اس کے دعویٰ میں اربوں ہندوؤں میں سے صرف چند انتہا پسند ہی کیوں واویلا مچا رہے ہیں۔ ان کی وجہ صرف سستی شہرت کا حصول ہے یا پھر ہندو اکثریتی طبقے کو مسلمانوں کے خلاف ورغلایا جارہا ہے۔
تاج محل شاہ جہاں کی محبت کی نشانی کے طور پر زندہ ہے اور تا قیامت رہے گا جس کے پر شکوہ مینار آج بھی اس محبت کی یاد دلاتے ہیں۔ ماہر تعمیرات کے مطابق اس محل کو جیومیٹری کے مسلمہ اصولوں کے عین مطابق بنایا گیا ہے۔ محل میں واقع مقبروں کے مینار کا سائز مختلف ہے۔ شاہ جہاں کے مقبرے کے مینار ممتاز محل کے مقبرے سے زیادہ بلند ہیں۔ستونوں کے راز تاج محل کے چار مینار ہیں۔
چاروں کے چاروں محل کی بنیاد سے اٹھائے گئے ہیں اور ایسا زلزلے کہ ممکنہ نقصانات سے تحفظ کے لیے کیا گیا۔ اگر کبھی کوئی ہولناک زلزلہ آیابھی تو صرف مینار ہی گرے گا باقی عمارت محفوظ رہے گی۔ سیاح ہر طرف سے چاروں میناروں کو ایک ہی زاویے سے دیکھ سکتے ہیں، اس وقت کے ماہر تعمیرات نے اس تعمیر میں فیثا غورث کا فارمولا اپنایا اور توازن کے تمام ریاضیاتی فارمولوں سے استفادہ کیا۔
ماہرین کے مطابق تاج محل کو عجوبہ بنانے کی ایک دلیل یہ ہے کہ سارادن اس کے رنگ بدلتے رہتے ہیں۔ صبح کے وقت اس محل کو گلابی شیڈ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ شام کو دودھیا سفید اور چاندنی رات کوسنہری دکھائی دیتا ہے۔ 22 ہزار مزدوروں نے دن رات اس کی تعمیر پر حصہ لیا۔ سنگ مرمر اور مقبرہ میں خالصتاََ سفید پتھر یعنی سنگ مرمر استعمال ہوا ہے۔ اس ضمن میں عرب،چین،افغانستان اور سر ی لنکا سے مختلف رنگوں کے قیمتی پتھر منگوائے گئے تھے جن میں سے تقریباََ 30 طرح کے پتھروں کو استعمال میں لایا گیا تھا۔
تاہم تاج محل کی خوبصورتی کا منبع اس کا مقبرہ ہے جسے پیاز کی شکل کا بنایا گیا۔ خوبصورت خطاطی میں اللہ پاک کے 99 ناموں کو بھی گندہ کروایا گیا ہے۔ تاج محل کی مجموعی بلندی 171 میٹر ہے۔ یہ شاہکار 22 سال میں مکمل ہوا ہے۔ اس کی تعمیر1631ء میں شروع ہوئی اور 1654ء میں یہ پایہ تکمیل کو پہنچا۔ عمارت کا چبوترا جو سطح زمین سے کئی فٹ اونچا ہے سنگ مرمر کا ہے۔
اس کی پشت پر دریائے جمنا بہتا ہے اور سامنے کی طرف کرسی کے نیچے ایک حوض ہے جس میں فوارے باغ بھی ہیں۔ اس مقبرے کے اندر ملکہ ممتاز اور شاہ جہاں کی قبریں ہیں۔ ہر سال 30 لاکھ سیاح اس کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں یہ تعداد ہندوستان کے کسی بھی سیاحتی مقام پر آنے والے افراد کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ جبکہ اس عظیم یادگار کو ایک طرف تو ہندو فرقہ پرست مندر بنانے کا دعویٰ کررہے ہیں تو دوسری جانب اس کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جارہی۔
آگرہ میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے باعث محبت کی اس عظیم یادگار کی رنگت سفید سے پیلی ہوگئی ہے۔ یہ انکشاف 2007ء میں ایک رپورٹ میں کیا گیا تھا۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی سے سنگ مرمر پیلا ہوتا جارہا ہے اور اس تاریخی عمارت کی حقیقی خوبصورتی متاثر ہورہی ہے۔ رپورٹ میں تاج محل کی خوبصورتی کو بچانے اور سنگ مرمر کو اس کی اصل شکل میں برقرار رکھنے کے لیے اسے صاف کرنے کی سفارش کی گئی تھی جبکہ آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا کے ماہرین کی تحقیق میں یہ حقیقت سامنے آچکی ہے کہ تاج محل کی جگہ پر کوئی مندر نہ تھا۔
اس حوالے سے بھارتی اخبار ’’ نیوانڈین ایکسپریس‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ بتایا ہے کہ عدالت میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کو اس سے شدید صدمہ پہنچاہے جس کا اظہار سوشل میڈیا پر بھرپور انداز میں کیا گیا ہے۔ بی جے پی آگرہ یونٹ کا کہناہے کہ رواں سال مارچ میں بی جے پی اور آر ایس ایس کی چھ رکنی مشترکہ قانونی ٹیم کے سربراہ بیرسٹر ہری شنکر جین کی جانب سے آگرہ سول کورٹ میں دائر کی گئی پٹیشن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چونکہ سترہویں صدی میں یہ تاریخی عمارت ایک مندر تھا۔
اس لیے عدالت سے استدعا ہے کہ عالمی شہرت یافتہ تاج محل کو قدیم شیو مندر قرار دیا جائے۔ اور اس عمارت کا محکمہ آثار قدیمہ سے لیکر آر ایس ایس کے حوالے کیا جائے تاکہ یہاں مسلمانوں کا داخلہ بند کرکے اس پر تاریخی شیو مندر کا بورڈ لگادیا جائے اوراس مندر میں مقامی و عالمی سیاحوں کاداخلہ بند کرکے ہندوؤں کو پوجا پاٹھ کی اجازت دی جائے۔دراصل عدالتی حکم کے تحت حکومت ہند سے سرکاری موقف مانگا گیا تھا جس پر حکومت نے آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا اور محققین کی ایک ٹیم کو ہندوؤں کے دعوے کی تحقیق کا کام سونپا تھا۔
اس ٹیم نے مسلسل چھ ماہ کی تحقیق کے بعد تحریری طور بی جے پی اور آر ایس ایس کے اس دعوے کو لغو قرار دیکر مسترد کردیا۔ مجموعی اعتبار سے بھارتی حکومت کی تحقیق میں تاج محل کی جگہ کسی مندر یا ہندو مذہبی مقام کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے ہیں۔ اس لیے مرکزی حکومت کے بیان وموقف کے بعد یقین ہے کہ عدالت اس مقدمے کو خارج کردے گی جس میں تاج محل کو مندر قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
تاج محل، مندر کیس میں ایک دلچسپ امریہ بھی ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی چھ رکنی وکلا ٹیم کی جانب سے اس کیس کا مدعی ہندوؤں کے دیو مالائی بھگوان، اگر یشور مہادیو کو بنایا گیا جن کا اس دنیا میں وجود تک نہیں ہے۔ کیونکہ خود ہندو مورخین کے مطابق وہ ایک دیومالائی کردارہے اس کے باوجود سٹی سول کورٹ میں اس کیس کو سماعت کے لیے قبول کر لیا گیا تھا۔
اس پر مسلمانوں میں تشویش پائی جارہی تھی۔ واضح رہے کہ آر ایس ایس او بی جے پی کے وکلاء نے ہندو مورخین کی لکھی کتابوں سے مبینہ تاریخی حوالوں کو بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ تاج محل بھگوان شیو کے مندر پر بنایا گیا تھا۔ حکومت کو ہر سال تاج محل سے 50 کروڑ سے زائد کی آمدنی حاصل ہوتی ہے جس پر ہندو تنظیموں کی نظریں گڑھی ہوئی ہیں اس لیے ان کی کوشش یہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح تاج محل پر قابض ہو جائیں اس طرح سیاحوں کی آمدنی کے ساتھ ساتھ یہاں آنے والے دولت مند ہندو،ہندوعقیدت مند، ذات پات، کے لیے اربوں روپے فراہم کریں گے۔
ہندوستان کے محکمہ آثار قدیمہ نے پہلی بار تسلیم کیا ہے کہ تاج محل مندر نہیں بلکہ اسلامی تاریخی عمارت اور مقبرہ ہے۔ ہندوستانی آثار قدیمہ حکام نے عدالت میں اس بات کے ثبوت میں 1920ء میں جاری کردہ سرکاری نوٹیفیکشن بھی پیش کیا جس میں تاج محل کی حفاظت کو یقینی بنانے کا حکم دیا گیا تھا۔ سروے میں کہا گیا یہ دنیا کا ساتواں عجوبہ ہے اور 1904ء میں برطانوی دور سے اسے ایسی یادگار تاریخی ورثہ قرار دیا گیا تھا جس کی حفاظت کی جانی چاہیے۔ہندوستان کی مرکزی وزارت ثقافت بھی وضاحت کرچکی ہے کہ تاج محل کے مندو ہونے کو کوئی ثبوت نہیں ملا۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر