وجود

... loading ...

وجود

ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کے جواب میں حکومت پاکستان کی نئی جوابی پالیسی

اتوار 29 اکتوبر 2017 ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کے جواب میں حکومت پاکستان کی نئی جوابی پالیسی

امریکی صدارت کاحلف اٹھانے کے بعد ڈونلڈٹرمپ یوں ہرملک کے بارے سخت زبان استعمال کررہے ہیں مگرپاکستان کے بارے میں وہ ایسالب وہ لہجہ اختیارکیے ہوئے ہیں جوبھارتی سیاستدان کرتے ہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی ان پالیسیوں کے باعث پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوگیا ہے ۔حالانکہ امریکی افواج، سی آئی اے اور پینٹاگون جیسے ادارے پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت کے سامنے بار بار وضاحتیں کررہے ہیں کہ امریکا کبھی بھی پاکستان کے خلاف نہیں جائے گا۔ امریکی پالیسیاں پاکستان کی دوست ہیں اور کسی بھی طور پر پاکستان کو نان نیٹو اتحادی کی حیثیت ختم نہیں ہوگی۔ پاکستان کی فوجی امداد جاری رہے گی یہ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔
حال ہی میں کینیڈا کا ایک شادی شدہ جوڑا پاک فوج نے افغانستان کی سرحد سے بازیاب کرالیا۔ آپریشن کے روز تو افغانستان میں چھپے ہوئے جنگجو فرار ہوگئے لیکن دوسرے روز جیسے ہی پاک فوج کا ایک دستہ دہشت گردوں کی تلاش کے لیے نکلا تو وہاں بارودی سرنگ سے فوجی گاڑی ٹکرانے سے کیپٹن سمیت چار اہلکار شہید ہوگئے۔ تب امریکا، کینیڈا اور دیگر یورپی ممالک نے پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور دنیا اب یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی ہے کہ پاکستان نے نائن الیون سے لے کر اب تک صرف قربانیاں دیتا آرہا ہے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ تو ابھی تک بت بنے ہوئے ہیں وہ پاکستان کی تعریف کرنے کے لیے فی الحال ذہنی طور پر تیار نہیں ہیں اس وجہ سے پاکستان بھی اب اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے کا آغاز کردیا ہے۔ اب اس کی تازہ ترین مثال سامنے آئی ہے وفاقی وزارت داخلہ نے چاروں صوبائی حکومتوں کو ایک لیٹر ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چاروں صوبائی حکومتیں ایساف اور امریکا کے فوجی سازو سامان کی افغانستان سے امریکا اور امریکا سے افغانستان لے جانے اور لے آنے کے لیے معاہدہ ختم ہوچکا ہے اب یہ بتایا جائے کہ اس معاہدے میں ترمیم یا تو سیع کی جائے یا نہیں ؟ صوبے اس بارے میں اپنی رائے دیں تاکہ وفاقی حکومت فیصلہ کرسکے کہ اس ضمن میں کیا حتمی فیصلہ کرکے معاہدہ کی توسیع یا ترمیم کرسکے۔
پہلے جب نائن الیون کے بعد پاکستان میں فوجی اڈے امریکا کو دیے گیے کراچی بندر گاہ سے افغانستان تک فوجی وغیر فوجی سازو سامان آنے، جانے میں صوبوں سے نہیں پوچھا جاتا تھا لیکن جیسے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی تبدیل ہوئی ہے تو حکومت پاکستان نے بھی پالیسی تبدیل کردی ہے اب صوبوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے صوبوں میں سڑکوں کی تباہ حالی کے لیے بھی امریکا سے انفراسٹرکچر ٹیکس طلب کریں اورمطالبہ کریں کہ امریکا چمن سے کراچی تک اور طور خم سے کراچی تک موٹر وے تعمیر کرے اور چاروں صوبائی پولیس کو دس ہزار سے زائد پولیس موبائل یا پولیس وین فراہم کرے تاکہ پولیس امریکی سازو سامان کی سیکورٹی بہتر کرسکے پولیس بکتر بند گاڑیاں بھی طلب کی جائیں ۔
اس کے علاوہ پولیس اہلکاروں کے لیے بلٹ پروف جیکٹ، اچھا اسلحہ اور ٹریننگ طلب کی جائے پہلی دفعہ صوبوں سے رائے لے کر امریکا کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ جیسے امریکا میں ریاستیں خود مختار ہیں اس طرح پاکستان میں بھی صوبوں کو زیادہ خود مختاری ہے اور وہ اپنی رئے کا کھل کر اظہار کرتے ہیں چاروں صوبوں سے امریکی فوجی و غیر فوجی سازو سامان افغانستان آتا جاتا ہے اس لیے صوبوں کی سڑکیں اور سیکورٹی استعمال ہوتی ہے جب سڑکیں بڑی ٹرکوں اور ٹرالر سے تباہ ہوں گی تو صوبے یہ مطالبہ کریں گے کہ ان کے صوبے سے اگر امریکی ٹرکیں آئیں اور جائیں گی تو پھر امریکی حکومت ان کے صوبے کی سرکیں بھی تعمیر کرکے دے بس یہی وہ وجہ ہے کہ وفاقی حکومت مجبور ہے کہ صوبوں کی جب تک رائے مثبت نہیں آے گی امریکا کے ساتھ اس معاہدہ میں ترمیم یا توسیع نہیں ہوسکتی اور امریکا کو بھی پتہ ہے کہ یہ فیصلہ صرف وفاقی حکومت کا نہیں ہے اس میں سیاسی و فوجی قیادت اور صوبوں کی رائے ضرور شامل ہے اب صوبوں نے اپنی رائے تیار کرنا شروع کردی ہے اور امید ہے کہ ایک ماہ میں یہ رائے تیار کرکے وفاقی حکومت کو بھیجی جائے گی۔ پھر چاروں صوبوں کی رائے تو یکجا کرکے ایک جامع رپورٹ تیار کی جائے گی اور امریکی حکام کے سامنے رپورٹ کے نقاط اٹھائی جائیں گے۔ اب دیکھنا
یہ ہے کہ ٹرمپ صوبوں کی رائے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں وہ چاروں صوبائی حکومتوں کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں یا پھر وہ اپنی ضد پر قائم رہتے ہیں یا پھر اپنی پالیسی کا زسرنو جائزہ لیتے ہیں ۔ وفاقی حکومت نے اپنی پالیسی میں چاروں صوبوں کو شامل کر کے امریکا کو سخت پیغام ضرور دیا ہے لیکن یہ موقف مستقبل میں بھی اختیار کیا جائے۔


متعلقہ خبریں


بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے وجود - هفته 18 اپریل 2026

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار وجود - هفته 18 اپریل 2026

لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران وجود - جمعه 17 اپریل 2026

مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س وجود - جمعه 17 اپریل 2026

صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے وجود - جمعه 17 اپریل 2026

متعدد افراد زخمی،مودی کی پالیسیوں کیخلاف علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں شدید جھڑپیں، بھارتی فورسز کی 2گاڑیوں کو آگ لگادی ، فوجیوں کو یرغمال بنالیا مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کیخلاف عوام میں شدید غم و غصہ،علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں۔ بھارت کے اپنے ...

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی وجود - جمعه 17 اپریل 2026

موٹرسائیکل سوار ملزمان فرار ،واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس ٹیم تشکیل آئی جی کا نوٹس، ایڈشنل آئی جی کراچی سے واقعے کی فی الفور تفصیلی رپورٹ طلب کرلی (رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے منگھو پیر میں مدرسے والی نہر کے قریب ڈاکووں کی پولیس اہلکاروں پر ہونے والی ف...

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 17 اپریل 2026

عدالت کی ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر کارروائی سول جج عباس شاہ نے وزیراعلیٰ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی عدالت نے ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وا...

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید وجود - جمعه 17 اپریل 2026

امدادی کارروائیوں کے دوران اسرائیل نے حملہ کر کے 4طبی ورکرز کو قتل کر دیا بنت جبیل میں حزب اللہ، اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ، میڈیارپورٹ جنگ بندی مذاکرات کے باوجود لبنان پراسرائیلی حملے جاری ہیں، لبنان میں 24 گھنٹوں میں مزید 43 شہری شہید کر دیئے گئے ۔غیرملکی میڈیارپ...

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید

مضامین
پاکستان ایک عظیم کردار وجود اتوار 19 اپریل 2026
پاکستان ایک عظیم کردار

بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن وجود اتوار 19 اپریل 2026
بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن

آؤ !! انقلاب لائیں۔۔۔ وجود اتوار 19 اپریل 2026
آؤ !! انقلاب لائیں۔۔۔

مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کاوشیںاور پاکستان کی سفارتکاری وجود اتوار 19 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کاوشیںاور پاکستان کی سفارتکاری

ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا ! وجود هفته 18 اپریل 2026
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر