وجود

... loading ...

وجود

تارکین وطن پر امریکی صدر کاایک اور وار،ڈریمر پروگرام کا خاتمہ

هفته 09 ستمبر 2017 تارکین وطن پر امریکی صدر کاایک اور وار،ڈریمر پروگرام کا خاتمہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نوجوان غیر قانونی تارکینِ وطن کو تحفظ دینے کے پروگرام ‘ڈریمر کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جس کے بعد ملک بھر میں اس فیصلے کی شدید مذمت کی گئی ہے اور اس کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں ۔
ڈریمر پروگرام سابق امریکی صدر بارک اوباما نے متعارف کروایا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پروگرام منسوخ کرنے کے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ڈیفیرڈ ایکشن فار چائلڈ ہڈ ارائیولز یعنی ‘ڈاکا نامی پروگرام غیر آئینی ہے اور انھوں نے امید ظاہر کی کہ کانگریس 6 ماہ میں اس کا صحیح حل نکال لے گی۔انھوں نے اس بات پر زور دیاکہ ‘تارکین وطن کے قوانین میں اصولی تبدیلیاں نہیں آسکتیں جب تک کہ انتظامیہ اپنی مرضی سے وفاق کے قوانین کو مسترد کریں ۔واضح رہے کہ پانچ سال قبل سابق صدر اوباما نے ڈاکا پروگرام، جسے ڈریمرز کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے، کو کانگریس کی اجازت کے بغیر نافذ کر دیا تھا۔اس پروگرام کے منسوخ ہونے سے تقریباً 8 لاکھ افراد کے متاثر ہونے کے اندیشہ ہے جن میں سے بیشتر کا تعلق لاطینی امریکی ممالک سے ہے۔اس فیصلے کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں اور نیو یارک میں ٹرمپ ٹاور کے باہر ہونے والے مظاہرے میں پولیس نے درجن بھر افراد کو حراست میں لے لیاتھا۔ڈریمر پروگرام منسوخ ہونے پر سابق صدر اوباما نے اپنے فیس بک پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ‘غلط فیصلہ ہے۔ صدر اوباما کے علاوہ تجارتی رہنماؤں ، سیاستدانوں اور بڑی کمپنیز نے بھی اس فیصلے کو تنقید کا نشانا بنایا ہے۔
ڈریمرپروگرام منسوخ کرنے کا اعلان امریکا کے اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے کیا اور انھوں نے کہا کہ ‘سابق صدر نے تارکین وطن کے بارے میں بنائے گئے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس پروگرام کو نافذ کیا تھا۔صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال صدارتی انتخابی مہم کے دوران تارکین وطن کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ منتخب ہونے کی صورت میں وہ ’’ڈاکا ‘‘کو ختم کر دیں گے۔ اس فیصلے کے بعد جاری کیے گئے بیان میں انھوں نے کہا کہ ‘میں بچوں کو ان کے والدین کے کیے کی سزا دینے کا قائل نہیں ہوں لیکن ہمیں بطور قوم یہ سمجھنا چاہیے کہ امریکا مواقع کا ملک اس لیے ہے کیونکہ اس ملک میں قانون کی پاسداری ہوتی ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ وہ کانگریس میں ریپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹ پارٹی کے اراکین کے ساتھ مل کر ‘تارکین وطن کے قوانین کو از سرِنو ترتیب دیں گے جس کی مدد سے محنتی امریکی شہریوں کو ترجیح دی جائے گی۔سابق صدر اوباما نے فیس بک پر لکھا کہ ‘ان نوجوانوں کو نشانا بنانا غلط ہے کیونکہ انھوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ میکسیکو کی حکومت نے بھی اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس پروگرام سے متاثر ہونے والے اپنے ان شہریوں کی سفارتی مدد کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
بی بی سی کے واشنگٹن میں نمائندے انتھونی زرچر کے مطابق کانگریس میں ’’ ڈاکا ‘‘کے حمایتی اراکین کو مشکل پیش آسکتی ہے کیونکہ وہاں زیادہ تعداد تارکین وطن کے مخالفین کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس کے پاس پہلے ہی سمندری طوفان ہاروی کے بعد کی امدادی کارروائیاں ، ٹیکس نظام کی تصیح جیسے کافی سنگین مسائل کا انبار لگا ہوا ہے۔ڈریمر پروگرام سے مستفید ہونے والے افراد پر اگلے چھ ماہ تک کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔البتہ اب اس پروگرام کے لیے نئی درخواستیں نہیں دی جا سکیں گی۔
اس فیصلے کو ایک سمجھوتے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس پروگرام کے لیے امریکی حکام میں بہت حمایت ہے۔ اسی لیے اس کے متبادل کو تیار کرنا اہم ہے۔ صدر اوباما کے متعارف کرائے گئے’’ ڈاکا ‘‘نامی اس پروگرام کے تحت سینکڑوں نوجوانوں کو ملک بدری سے بچایا جاتا ہے اور انھیں ‘ پڑھنے اور کام کرنے کے پرمٹ دیے جاتے ہیں ۔ تاکہ وہ مفید شہری بن سکیں اور پڑھ لکھ کر یاکوئی ہنر سیکھ کر اپنے وطن اور امریکا کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں ۔
امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر پال رائن نے بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے پر ناگواری کااظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے پولیٹکو کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ا سپیکر پال رائن کو صدر کے فیصلے کے بارے میں اتوار کی صبح بتایا تھا۔ جس پر پال رائن نے کہا تھا کہ وہ’ڈریمر‘ پروگرام منسوخ نہ کریں ۔گزشتہ ہفتے بھی پال رائن نے صدر سے کہا تھا کہ وہ اس پروگرام کو ختم نہ کریں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کو ختم کرنے سے بہت سے نوجوان غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو جائیں گے۔یاد رہے کہ امریکا میں ریپبلکن پارٹی کی قیادت کے کچھ حصے اور کاروباری شخصیات بھی اس پروگرام کو ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں ۔جبکہ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران میں ہی اس پروگرام کو انتہائی غلط قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس پروگرام کو فوراً ختم کر دیں گے۔ تاہم اس کے بعد سے انھوں نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ وہ اس موضوع کو ’انتہائی مشکل‘ پاتے ہیں ۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں ان ’بہترین بچوں ‘ کے ساتھ رحم والا سلوک کریں گے۔کانگریس کو اس پروگرام کا متبادل تیار کرنے کے لیے چھ ماہ کا وقت دینا اس رویے کی عکاسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔بہت سی امریکی کمپنیوں جیسے کہ مائیکروسافٹ اور گوگل نے اس پروگرام کو جاری رکھنے کی حمایت کی ہے۔
ڈاکا پروگرام سے تقریباًساڑھے 7لاکھ نوجوانوں کو امریکا میں رہنے کی عبوری اجازت دی جاتی ہے۔ اس پروگرام میں کوالیفائی کرنے کے لیے درخواست گزار کی عمر 30 سال سے کم ہونا ضروری ہے۔درخواست گزار کو ایف بی آئی کی چھان بین سے بھی گزرنا پڑتا ہے، ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ ہونا ضروری ہے اور انھیں یا تو زیرِ تعلیم ہونا چاہیے یا انھوں نے حال ہی میں تعلیم مکمل کی ہو یا پھر انھوں نے حال ہی میں باعزت طور پر فوجی سروس مکمل کی ہو۔اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈریمر پروگرام ختم کرنے کے اپنے اس فیصلے کے خلاف امریکا کے مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بااثر حلقوں اور خود اپنی پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کے دباؤ کا کس حد تک مقابلہ کرسکیں گے، اور ان کی درخواست پر سینیٹ اس کاکیامتبادل کب پیش کرتی ہے؟


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر