وجود

... loading ...

وجود

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی لوٹ مار‘صارفین سے 120 روپے زیادہ وصول کرلیے گئے

پیر 28 اگست 2017 بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی لوٹ مار‘صارفین سے 120 روپے زیادہ وصول کرلیے گئے

حکومت کے زیر انتظام چلنے والی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے صارفین سے لوٹ مار شروع کردی ہے ، اطلاعات کے مطابق صارفین سے ہر ماہ فیول چارجز کی مد میں ایڈوانس بلنگ کے نام پر دگنی رقم وصول کی جاتی ہے اور اس کے بعد ریگولیٹرز نیپرا کے حکم پران کو اس میں سے صرف نصف رقم واپس کی جاتی ہے۔اس طرح ایک اندازے کے مطابق یہ کمپنیاں بجلی کے صارفین سے ہر سال 120 ارب روپے زیادہ وصول کررہی ہیں ۔اس بات کاانکشاف گزشتہ روز بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بلز کے حوالے سے ایک عام سماعت کے دوران ہوا، جب نیشنل الیکٹرک پاورریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو صارفین سے جولائی کے مہینے کے دوران زیادہ بلنگ کے ذریعہ وصول کردہ رقم صارفین کو 1.71 روپے فی یونٹ کی شرح سے مجموعی طورپر 20 ارب روپے واپس کرنے کاحکم دیا۔نیپرا کے حکم کے مطابق یہ رقم صارفین کے اگلے مہینے کے بل میں ایڈجسٹ کرلی جائے گی۔
معاملے کی سماعت مکمل کرتے ہوئے نیپرا کے چیئرمین سیف اللہ چٹھہ نے جب سینٹرل پاؤر پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) سے سوال کیا کہ چھوٹے صارفین کو مدنظر رکھتے ہوئے جنھیں حکومت کی پالیسی کے مطابق فیول کی لاگت کے اعتبار سے ریلیف نہیں دیاجاتاکتنی رقم ادا کرناہوگی تو سی پی پی اے اوراین ٹی ڈی سی کے سربراہان محمد ریحان اور محمد الیاس نے بتایا کہ اس کاا نحصار اس بات پر ہوگا کہ صارفین کتنے عرصے سے بجلی استعمال کررہے ہیں اور ماہ بہ ماہ اس میں کمی بیشی بھی ہوگی۔نیپرا کے ایک افسر نے بتایا کہ صارفین سے جتنی زیادہ رقم وصول کی جاتی ہے اس کے مقابلے میں ان کو نصف رقم واپس کی جاتی ہے،انھوں نے بتایا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے بجلی کمپنیوں کومجموعی طورپر 17.6 ارب روپے کی بچت ہوئی جبکہ گیس کی فراہمی بہتر ہونے کی وجہ سے بھی بجلی تیار کرنے والی کمپنیوں کو اندازے سے2.3 ارب روپے زیادہ کی بچت ہوئی۔ایک اور افسر نے بتایا کہ بجلی استعمال کرنے والے.70 67 فیصد سے زیادہ صارفین 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کے زمرے میں آتے ہیں ۔ عام طورپر بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں زیادہ رقم وصول کرتی ہیں ۔جبکہ اگلے ماہ یہ زیادہ رقم نیپرا کی منظوری سے بل میں ایڈجسٹ کردی جاتی ہے اس طرح بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے اربوں روپے ایڈوانس وصول کرلیتی ہیں جس سے ان کی کیش کی ضروریات پوری ہوتی ہیں اور اس پر انھیں صارفین کوکوئی مارک اپ یا منافع ادا نہیں کرناہوتا۔
یہ بھی بتایا گیا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے غریب گھریلو صارفین اور زرعی مقاصد کے لیے بجلی استعمال کرنے والوں کو بجلی کی نرخ میں رعایت نہ دینے کی پالیسی اختیار کی ہے اور اس حوالے سے منطق یہ بتائی جاتی ہے کہ کم بجلی استعمال کرنے والوں کو پہلے ہی رعایتی قیمت پر بجلی فراہم کی جاتی ہے اس لیے وہ مزید کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ۔
جہاں تک ملک میں بجلی کی تیاری کاتعلق ہے تو ایک اندازے کے مطابق ہمارے ملک میں تیار ہونے والی بجلی کا 41 فیصد حصہ پن بجلی سے حاصل ہونا چاہئے جبکہ34 فیصد حصہ فرنس آئل کے استعمال کے ذریعے حاصل کیاجاناچاہئے لیکن ایک اندازے کے مطا بق پن بجلی کے ذریعے اس وقت ہماری ضرورت کی صرف 30 فیصد اور فرنس آئل کے ذریعے 26 فیصد بجلی پیداکی جاتی ہے۔جبکہ بجلی کی بقیہ ضرورت ایٹمی بجلی گھروں اورکوئلے اور گیس سے تیار کی جانے والی بجلی سے پوری کی جاتی ہے۔
سی پی پی اے کے مطابق نیپرا نے جولائی کے مہینے میں صارفین سے 6.49 روپے فی یونٹ کی شرح سے وصولی کی منظوری دی تھی لیکن بجلی کی تیاری پر فیول کاخرچ صرف 4.78 روپے فی یونٹ رہا اس طرح صارفین سے اضافی وصول کی جانے والی 1.71 فی یونٹ کی شرح سے رقم ان کو واپس کی جانی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق جولائی کے دوران بجلی تیار کرنے والی کمپنیوں نے مجموعی طورپر 12.267 گیگاواٹ بجلی تیار کی اور اس میں 1.73 فیصد بجلی لائن لاسز کی مد میں ضائع ہوگئی جس کی وجہ سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کومجموعی طورپر11.496 گیگاواٹ بجلی فراہم کی جاسکی،اطلاعات کے مطابق جولائی کے دوران بجلی30.8فیصد پن بجلی حاصل کی گئی جوکہ بجلی تیار کرنے کا ارزاں ترین ذریعہ ہے ۔ جولائی کے دوران پن بجلی کی پیداوار جون کے مقابلے میں 0.3 فیصد زیادہ رہی،پانی کے ذریعے حاصل کی جانے والی بجلی کی تیاری پر کوئی خرچ نہیں آتااسی طرح ہوا اور شمسی توانائی کے ذریعے حاصل ہونے والی بجلی بھی بالکل مفت ہوتی ہے۔ان ذرائع سے مجموعی طورپر ملکی ضرورت کی 2.3 فیصد بجلی حاصل کی گئی اس طرح بجلی کی تیار ی پر آنے والے اخراجات میں مجموعی اعتبار سے نمایاں کمی آئی تاہم گزشتہ ماہ کے دوران بجلی کی طلب زیادہ ہونے کی وجہ سے فرنس آئل کے ذریعے مجموعی طورپر 22.34 فیصد کے بجائے 25.6 فیصد بجلی حاصل کی گئی لیکن تیل کی قیمتوں میں کی کی وجہ سے فرنس آئل کے ذریعے پیداکی جانے والی بجلی کی لاگت بھی 9.5 روپے فی یونٹ سے کم ہوکر 9.36 روپے یونٹ رہ گئی جبکہ جولائی کے دوران گیس کے ذریعہ ملک کی مجموعی ضرورت کی 17.17 فیصد بجلی گیس سے تیار کی گئی جس کی لاگت 4.36 روپے فی یونٹ ہوتی ہے۔ایل این جی سے 12.12 فیصد بجلی تیار کی گئی جس کی لاگت7.52 روپے فی یونٹ ہے۔جولائی کے دوران کوئلے کے ذریعے مجموعی طورپر 2.95 فیصد بجلی حاصل کی گئی جس کی لاگت4.3 روپے فی یونٹ بنتی ہے۔ملک میں تیار ہونے والی سب سے مہنگی بجلی ہائی اسپیڈ ڈیزل سے تیار ہونے والی بجلی جس کی لاگت 14.4 روپے فی یونٹ ہے ، تاہم اب کوشش کی جارہی ہے کہ ہوا اور شمسی توانائی کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیاجائے جبکہ پانی جمع کرنے کے نئے ذخائر کی تعمیرکی صورت میں پن بجلی کی شرح میں بھی اضافہ ہوگا جس سے بجلی تیار کرنے کی لاگت میں کمی ہوگی لیکن اب دیکھنایہ ہے کہ حکومت اس کے کتنے فوائد عام صارف تک منتقل کرنے پرتیار ہوتی ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش

تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر