وجود

... loading ...

وجود

سپر ہائی وے پر مویشی منڈی سج گئی،جانور بے شمار، خریداروں کافقدان

اتوار 20 اگست 2017 سپر ہائی وے پر مویشی منڈی سج گئی،جانور بے شمار، خریداروں کافقدان

اب جبکہ عیدالاضحی کی آمد آمد ہے، کراچی میں سپر ہائی وے پر روایتی مویشی منڈی سج گئی ہے ، منڈی میں اندرون سندھ ،بلوچستان اور پنجاب کے مختلف شہروں سے بے شمار جانور فروخت کے لیے پہنچ گئے ہیں لیکن مویشی مالکان کو شکایت ہے کہ ابھی تک خریداروں کافقدان ہے ، لوگ منڈی میں آرہے ہیں لیکن خریداری بہت کم لوگ کررہے ہیں زیادہ تر لوگ قیمتیں سن کر ہی واپسی کارخ کرتے ہیں اور بھاؤ تاؤ کرنا بھی پسند نہیں کرتے ،مویشی مالکان کاکہناہے کہ خریداروں کی کمی کی وجہ سے اب وہ اپنے اپنے علاقوں کے لوگوں کو مزید جانور کراچی نہ بھیجنے کے پیغام بھیج رہے ہیں کیونکہ مزید جانور آجانے کی صورت میں جانوروں کے ریٹ اور کم ہوجائیں گے جس کی وجہ سے ان کے لیے منافع کمانا تو درکنار اپنی رقم واپس نکالنا بھی مشکل ہوجائے گا۔
عیدالاضحی کے موقع پر کراچی میں سپر ہائی وے پر لگنے والی مویشی منڈی کو ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی تصور کیاجاتاہے اس منڈی کی ایک خاصیت یہ رہی ہے کہ اس منڈی میں ہرطبقے کے لوگوں کو اپنی حیثیت کے مطابق جانور خریدنے کاموقع مل جاتاہے ،رواں سال سپر ہائی وے پر لگائی جانے والی مویشی منڈی 800 ایکڑ اراضی پر پھیلی ہوئی ہے اور اس کو انتظامی طورپر 8 بلاکس میں تقسیم کیاگیا ہے۔ مارکیٹ میں لائے جانے والے مویشیوں کی رجسٹریشن کے اعتبار سے اب تک منڈی میں 70 ہزار سے زیادہ جانور پہنچ چکے ہیں ،جبکہ ملک کے دیگر علاقوں سے ابھی جانوروں کی آمد کاسلسلہ جاری ہے ۔
اس سال بھی ہرسال کی طرح مختلف کیٹل فارمز میں پالے گئے اعلیٰ نسل کے جانوروں کے لیے الگ خیمے نصب کئے گئے جہاں شہر کے متمول اور شوقین افراد خریداری کے لیے پہنچ رہے ہیں ، منڈی کمیٹی کے مطابق اس سال منڈی میں وی آئی پی جانوروں کے لیے مجموعی طورپر 30 خیمے لگائے گئے ہیں جہاں کیٹل فارمز کے اعلیٰ نسل کے جانوروں کو ہر طرح کا آرام فراہم کرنے کا انتظام کیاگیاہے۔کیٹل فارمز مالکان نے اپنے مویشیوں کو گرمی سے بچانے کے لیے باقاعدہ پنکھوں کاانتظام کیاہے، اور جب انھیں کچھ متمول ممکنہ خریدار نظر آتے ہیں تو وہ انھیں کھول کر ٹہلانے کی کوشش بھی کرتے ہیں ، کیٹل فارم مالکان نے ہر سال کی طرح امسال بھی اپنے مویشیوں کے مختلف نام رکھے ہوئے کسی خیمے میں لعل بادشاہ جلوہ افروز ہیں تو کہیں بھورے شہزادے بھوسے چارے پر لگے ہوئے ہیں ، نام اور جثے کے اعتبار سے ان کی قیمتیں بھی ایسی طلب کی جارہی ہیں کہ عام متوسط آدمی شاید پورے سال کی آمدنی جمع کرکے بھی ان کو خریدنے کے قابل نہ ہوسکے۔کیٹل فارمرز کے پالے ہوئے ان اعلیٰ نسل کے بیلوں کی قیمت 6لاکھ سے 16 لالکھ طلب کی جارہی ہے۔یہ قیمت سن کر بیشتر لوگ ان کے ساتھ مفت میں سیلفی لینے پر ہی اکتفا کرتے ہیں اور اسی کو اپنی بڑی کامیابی تصورکرتے ہیں کہ اتنی اعلیٰ نسل کے جانور کے ساتھ کم از کم ان کی سیلفی تو بن گئی جو وہ کسی بھی وقت اپنے دوستوں کو دکھا کر ان پر رعب ڈال سکیں گے۔
سہراب گوٹھ کے قریب لگائی جانے والی یہ مویشی منڈی ملیر کینٹونمنٹ بورڈ کے زیر انتظام لگائی جاتی ہے اور ملیر کنٹونمنٹ بورڈ اس کاانتظام باقاعدہ نیلامی کے ذریعے فروخت کرتاہے ، رواں سال اس کاٹھیکہ حسن برادرز نامی ٹھیکیدار نے حاصل کیاہے ،حسن برادرز نے سید ارشاد احمد شخص کو مارکیٹ کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیاہے،مویشی منڈی کے لیے ملیر کنٹونمنٹ بورڈ کے بنائے گئے قواعد وضوابط اور اصولوں پر پوری طرح عملدرآمد کرنا اور کرانا اور منڈی میں مویشی لانے والوں کو ان سے کئے گئے وعدے کے مطابق سہولتوں کی فراہمی ایڈمنسٹریٹر کی ذمہ داری ہے۔
منڈی میں مویشی لانے والے بیوپاریوں کاکہناہے کہ منڈی کے ٹھیکیدار نے اس سال منڈی میں مویشی لانے کی فیس میں اضافہ کرکے فی جانور ایک ہزار400 روپے کردیاہے جبکہ گزشتہ سال یہ فیس ایک ہزار روپے تھی۔اسی طرح بھیڑ اور بکری پر فیس جو کہ گزشتہ سال 600 روپے تھی امسال 800 روپے کردی گئی ہے۔
منڈی میں مویشی لانے والے بیوپاری فیس میں اس اضافے پر خوش نہیں ہیں رحیم یار خاں سے525 گائے لے کر آنے والے ایک بیوپاری نے مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے فیس میں بے انتہا اضافے پر شدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ہمیں یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ فیس میں اس قدر اضافہ کردیاجائے گا ، انھوں نے کہا کہ اب یہ اضافی رقم ادا کرنے کے ساتھ ہی ہمیں مویشیوں کے لیے چارہ اورپانی بھی منہ مانگی قیمت ادا کرکے حاصل کرنا ہوگا اور یہ تمام خرچ ہم خریداروں ہی سے وصول کریں گے ،جس سے لامحالہ جانوروں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔
حیدرآباد کے قریب واقع علاقے ہسڑی سے جانور لانے والے ایک بیوپاری نے بتایا کہ گزشتہ سال ہمیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا کیونکہ جب منڈی میں خریداری عروج پر ہوتی ہے اسی دوران بارشیں شروع ہوگئی تھیں جس کی وجہ سے مویشی بیمار پڑنا شروع ہوگئے تھے پھر بارش کے بعد پانی کی نکاسی کو مناسب ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے پانی منڈی میں کھڑا رہاجس کی وجہ سے خریداروں نے مارکیٹ کارخ کرنا ہی چھوڑدیاتھا اس لیے مارکیٹ مندی کاشکار ہوگئی ، انھوں نے امید ظاہر کی کہ کیونکہ اس سال منڈی کے عروج پر پہنچنے سے قبل ہی بارش کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے اس لیے خیال ہے کہ انتظامیہ نے پانی کی نکاسی اور جانوروں کو بیماری سے بچانے کے لیے مناسب منصوبہ بندی کرلی ہوگی۔
مارکیٹ کے ٹھیکدار حسن برادرز کی جانب سے مقرر کئے گئے ایڈمنسٹریٹر نے بتایا کہ اس سال بیوپاریوں کی آسانی کے لیے کمیٹی ان کو مفت بجلی فراہم کرنے کے علاوہ فی جانور 16 لیٹر پانی بھی مفت فراہم کررہی ہے جس کی وجہ سے اب انھیں پانی خریدنے پر زیادہ رقم خرچ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔اس کے علاوہ بیوپاریوں کو رفع حاجت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بڑی تعداد میں ٹوائلٹ بھی تعمیر کئے گئے ہیں ،انھوں نے بتایا کہ بارش کی صورت میں جمع ہونے والے پانی کی فوری نکاسی کے لیے سکشن پمپس کا انتظام کیاگیاہے تاکہ پانی کہیں بھی کھڑا نہ رہے اور مویشیوں کی خریدوفروخت میں کسی طرح کی کوئی پریشانی یادقت پیش نہ آئے۔اس کے علاوہ کسی بھی ناگہانی حادثے سے نمٹنے کے لیے مارکیٹ میں ہر وقت ایک ایمبولنس اور آگ بجھانے والی گاڑی موجود رہتی ہے۔ایڈمنسٹریٹر نے بتایا کہ مارکیٹ میں لائے جانے والے جانوروں کوبیماری سے بچانے اور بیمار ہوجانے کی صورت میں ان کی بیماری کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بھی مناسب انتطامات کئے گئے ہیں مویشیوں کے ڈاکٹروں ڈاکٹر رفیق احمد میمن، ڈاکٹر امجد علی شاہ وارڈاکٹر سلیم اللہ کی قیادت میں ڈاکٹروں کی تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو منڈی میں لائے گئے تمام جانوروں کا باقاعدگی سے معائنہ کرتی ہیں ا ور8-8 گھنٹے کی 3 شفٹوں میں کام کررہی ہیں اور بیمار جانوروں کو علیحدہ کرکے ان کو علاج معالجے کی مناسب سہوسلتیں فراہم کی جارہی ہیں ۔انھوں نے کہا کہ مویشی منڈی لائے جانوروں کی دیکھ بھال کرنے اورخریداروں کو صحت مند جانور کی فراہمی ہمارا سرکاری فرض ہے اور ہم یہ فرض پوری طرح نبھارہے ہیں ۔ ایڈمنسٹریٹر نے مویشیوں کے تاجروں سے بھی اپیل کی کہ وہ ایشیا کی اس سب سے بڑی منڈی کی شہرت برقرار رکھنے کے لیے مارکیٹ انتظامیہ سے تعاون کریں ۔

 


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر