وجود

... loading ...

وجود

مسلم لیگی رہنما احسن اقبال کی اصول پسندی کاپردہ چاک !!!

پیر 07 اگست 2017 مسلم لیگی رہنما احسن اقبال کی اصول پسندی کاپردہ چاک !!!

مسلم لیگ ن کے اعلیٰ عہدیدار احسن اقبال کو پارٹی کاانتہائی اصول پسند ، سنجیدہ ،سب سے زیادہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ایماندار رہنما تصور کرتے ہیں، اور ان کایہی امیج عوام اور میڈیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف نے انھیں منصوبہ بندی کی اہم وزارت کا قلمدان سونپا تھا،جس کابنیادی کام تمام سرکاری محکموں کے لیے حکومت کے منظور اور جاری کردہ فنڈز کوبہتر انداز میں اور انتہائی ایمانداری کے ساتھ استعمال کویقینی بنانا ہے لیکن گزشتہ دنوں سامنے آنے والے حقائق سے پتہ چلتاہے کہ مسلم لیگ کے یہ مسٹر کلین اور اصول پسند نہ تو اصول پسند ہیں اور نہ ہی انھیں مکمل طورپر مسٹر کلین ہی قرار دیا جاسکتاہے۔
وزارت منصوبہ بندی کے حوالے سے سامنے آنے والے انکشافات سے ظاہر ہوتاہے کہ ادارہ جات کو مضبوط بنانے کے ایک پروجیکٹ کے تیسرے فیز کی منظوری دیتے ہوئے مروجہ قواعد وضوابط کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہے۔وزار ت منصوبہ بندی کے ذرائع کے مطابق منصوبہ بندی کمیشن نے جو کہ تمام سرکاری محکموں کے لیے حکومت کے منظور اور جاری کردہ فنڈ کے درست اور بہتر استعمال کو یقینی بنانے کا ذمہ دار ہے ،ادارہ جاتی استحکام سے متعلق ایک منصوبے کے تیسرے فیز کے لیے 35 کروڑ روپے کی منظوری دی ، اس پراجیکٹ کامقصد سابقہ یعنی ریٹائرڈ بیوروکریٹس کو رہائش کی سہولتیں فراہم کرنا اور ان کی رہائش گاہوں کی تزئین وآرائش کرانا ہے۔ذرائع کے مطابق کم وبیش 2 ہفتے قبل سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی نے اس مقصد کے لیے رقم کی منظوری کے مروجہ اور مسلمہ اصولوں اور قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس پروجیکٹ کے پہلے دومرحلوں کی تکمیل کا کوئی ثبوت حاصل کیے بغیر ہی نئے پراجیکٹ کی منظوری دیدی۔ ذرائع کے مطابق سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی نے اس منصوبے کی منظوری دینے سے قبل اس سے قبل منظور کیے گئے دو منصوبوں کی ایولیوایشن رپورٹ بھی طلب نہیں کی اور یہ رپورٹ دیکھنا بھی گوارا نہیں کی۔جبکہ رپورٹس کے مطابق ایسا معلوم ہوتاہے کہ حکومت اس مقصد کے لیے فنڈز کی منظوری دینے کااختیار ہی نہیں رکھتی ۔
دو ہفتہ قبل منظور کیے گئے اس منصوبے کے مطابق اس منصوبے کے لیے مختص نصف سے زیادہ یعنی کم وبیش56 فیصد رقم یعنی 19کروڑ70 لاکھ روپے دفتری مقام کی تزئین نو اور فرنیچر کی خریداری پر خرچ کی جائے گی جبکہ بقیہ 30 فیصد رقم یعنی کم وبیش ساڑھے 10 کروڑ روپے اسپیشلسٹس ، مشیروں اور دیگر افراد کو دیے جائیں گے۔
ذرائع نے دعویٰ کیاہے کہ اس پروجیکٹ کی منظوری سے قبل اس پروجیکٹ کے سابقہ فیز کے پی سی فور طلب کیے جانا چاہئے تھے، منصوبہ بندی کمیشن کے ریکارڈ سے ظاہرہوتاہے کہ پروجیکٹ ڈائریکٹر نے پہلے منظور کیے گئے فیز ون اور ٹو میں سے کسی کابھی پی سی فور جمع نہیں کرایا ہے۔ اس طرح حکومت کو مزید تیسرے فیز کی منظوری کااختیار ہی نہیں تھا۔ذرائع کاکہنا ہے کہ تکنیکی اعتبار سے کسی بھی پروجیکٹ کے کسی نئے فیز کی منظوری کے لیے تمام فروعات کو از سرنو مکمل کرنا ضروری ہوتاہے جس میں نئے مرحلے میں کام کے لیے لوگوں کی خدمات کا حصول بھی شامل ہے۔تاہم پرانا عملہ اس صورت میں نئے فیز میں بھی کام کرسکتاہے اگر وہ احتساب بیورو کی نظر میں نہ ہو یعنی اس پر کسی طرح کی کرپشن کاکوئی الزام نہ ہو۔نئے فیز کے لیے موجودہ عملے کی منظوری کا دیاجانا بھی خلاف قانون ہے کیونکہ ایسا کرنے سے قبل اخبارات میں کوئی اشتہار نہیں دیاگیا۔
ذرائع کاکہنا ہے اس بات کی نظیریں موجود ہیں کہ قانونی لوازمات کے تکمیل کے بغیر بھرتی کیے ہوئے لوگوں سے تنخواہوں اور مراعات کی مد میںان کی وصول کردہ تمام رقم واپس وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع کرانے کے احکامات دیے گئے ہیں ۔اطلاعات کے مطابق اصولی طورپر چیف گورننس کو یہ منصوبہ سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا چاہئے تھا لیکن ان کے بجائے یہ منصوبہ سینٹرل ورکنگ پارٹی کے اجلاس میںترقیاتی بجٹ کے مشیر آصف شیخ نے پیش کیا ،منصوبہ بندی اورترقیات کے سیکریٹری شعیب صدیقی کواس پروجیکٹ کو جاری رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ دیگر تمام فروعی معاملات اور ضروریات بعد میں پوری کردی جائیں گی۔ان کااستدلال تھا کہ یہ پروجیکٹ منصوبہ بندی اورترقیات میں وزارت کے کردار کو اجاگر کرنے کے حوالے سے بہت اہمیت رکھتاہے ۔اس پروجیکٹ کے حوالے سے قانون کی ایک اور خلاف ورزی یہ کی گئی کہ اس پروجیکٹ کے لیے ریٹائرمنٹ کے لیے حکومت کی مقرر کردہ حد 65 سال سے بھی زیادہ عمر کے لوگوں کوبھرتی کیاگیا۔
اطلاعات کے مطابق یہ پروجیکٹ منصوبہ بندی کمیشن اور منصوبہ بندی کی وزارت کو تقویت پہنچانے کے لیے تیار کیاگیاتھا لیکن یہ وزارت منصوبہ بندی کے باقاعدہ ملازمین کی کاوشوں کو نقصان پہنچانے کاسبب بننے لگاتھا۔کیونکہ وزارت منصوبہ بندی میں پبلک انوسٹمنٹ پروگرام کے نام سے پہلے ہی سے اس مقصد کے لیے ایک شعبہ موجود ہے۔لیکن ترقیاتی بجٹ کے مشیر نے جو اطلاعات کے مطابق ایک متوازی سیٹ اپ قائم کیے ہوئے ہیں، یہ تمام حقائق نظر انداز کردیے۔اطلاعات کے مطابق اگرچہ بظاہر سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی نے اس منصوبے کی منظوری 24 جولائی کو دی ہے لیکن دراصل یہ اس اسکیم کی چھٹی مرتبہ توسیع ہے۔ درحقیقت وزارت ترقیات کی ورکنگ پارٹی نے نومبر2006 میں اس منصوبے کی منظوری دی تھی اور اس پر مجموعی طورپر صرف 3 کروڑ 99 لاکھ روپے لاگت آنی تھی لیکن اس منصوبے کے صرف 4 ماہ بعد اس پر نظر ثانی کی گئی اور سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی نے اس کی لاگت میں اضافہ کرنے کی منظوری دیدی اس طرح 3 کروڑ 99 لاکھ روپے لاگت کا یہ منصوبہ 5 کروڑ90 لاکھ روپے کابنادیاگیا۔اپریل 2009 میں اس پر ایک مرتبہ پھر یعنی تیسری مرتبہ نظر ثانی کی گئی اوراس کی لاگت بڑھاکر 14 کروڑ 42 لاکھ روپے کردی گئی ،اس پر چوتھی مرتبہ نظر ثانی مارچ 2015 میں احسن اقبال کی دور وزارت میںکی گئی اور اس کی لاگت 14 کروڑ 42 لاکھ روپے سے بڑھاکر17 کروڑ 89 لاکھ روپے کردی گئی۔ منصوبے پر پانچویں مرتبہ نظر ثانی رواں سال جنوری میں احسن اقبال کی وزارت کے دور ہی میں کی گئی اور اس پروجیکٹ کی لاگت ایک مرتبہ پھر بڑھا کر20 کروڑ روپے کردی گئی اور اب چھٹی مرتبہ احسن اقبال ہی کی دور وزارت میں تھرڈ فیز کے نام سے اس منصوبے کے لیے 35 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔اس طرح گزشتہ 11 سال کے دوران اس منصوبے کی لاگت میں 775 فیصد اضافہ کرکے سرکاری خزانے کو زیر بار کیاگیاہے۔ اب یہاں یہ وضاحت ضروری نہیں کہ اس سے مسلم لیگ کے سب سے زیادہ سنجیدہ اور اصول پسند وزیر کی اصول پسندی کاپردہ چاک ہوچکاہے اور لوگوں کو اس بھولے بھالے چہرے کے پیچھے موجود اصل چہرہ اچھی طرح نظر آگیاہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش

تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر