وجود

... loading ...

وجود

ٹیکس بچانے کے لیے اربوں روپے کے تحائف کاتبادلہ 102۱رب روپے کی منی لانڈرنگ

اتوار 30 جولائی 2017 ٹیکس بچانے کے لیے اربوں روپے کے تحائف کاتبادلہ 102۱رب روپے کی منی لانڈرنگ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ایک اہم پیش رفت کے دوران 2 ہزار 7 سو 85 افراد کو نوٹس جاری کردیے، جنہوں نے گزشتہ مالی سال کے دوران تحائف کی مد میں مبینہ طور پر 102 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی۔ایف بی آر کے ایک افسر نے نجی چینل کو بتایا کہ ان افراد کو اپنی آمدنی کے ذرائع بناتے کے لیے کہا گیا۔خیال رہے کہ موجوہ قانون کے تحت تحائف ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں اور بہت سے ایسے افراد جو مالی طور پر مستحکم ہیں، قومی ریونیو میں حصہ ڈالے بغیر ہی اپنی آمدنی، مال اور اثاثوں کی منتقلی کے لیے اس استثنیٰ کو محفوظ طریقہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔اس سلسلے میں جب حال ہی میں تعینات ہونے والے ڈائریکٹر جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن شاد محمود سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھاری تحائف وصول کرنے والوں کو نوٹسز جاری ہونے کی تصدیق کی۔ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کے انکم ٹیکس ریٹرنز ان کے ذرائع آمدن کی توثیق نہیں کرتے، ’ہم ان نوٹسز پر عمل درآمد کروانے کے لیے ریجنل ٹیکس افسران (آر ٹی او) سے قریبی تعاون کررہے ہیں‘۔آر ٹی اوز مذکورہ کیسز کی اسکروٹنی کریں گے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا یہ تحائف جائز ذرائع سے حاصل کیے گئے یا نہیں۔ان مقدمات میں تحائف کی مد میں منی لانڈرنگ شامل ہے جو گزشتہ سال ان افراد کی جانب سے پیش کیے گئے ٹیکس ریٹرنز گوشواروں کی جانچ سے مطابقت نہیں رکھتے، اطلاعات کے مطابق اس اسکینڈل کا انکشاف گزشتہ مالی سال کے دوران جمع کرائے گئے ٹیکس گوشواروں کی چھان بین کے دوران ہوا ، ٹیکس گوشواروں کی چھان بین کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ کروڑوں روپے کی لین دین کرنے والے بعض ادارے قومی خزانے کو بہت کم ٹیکس جمع کراتے ہیں اور نامعلوم تحائف کے نام پر رقم ایک دوسرے کو منتقل کردیتے ہیں،ٹیکس گوشواروں کی چھان بین کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ بعض ٹیکس گزاروں نے اپنے ٹیکس گوشواروں میں آمدنی تو خاصی ظاہر کی ہے لیکن انھوںنے جو ٹیکس ادا کیا وہ ان کی آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، جس کی مزید چھان بین سے ظاہر ہوا کہ اضافی رقم تحائف کے نام پر ادھر ادھر کردی گئی ہے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بیشتر ریٹرنز میں آمدنی ظاہر نہیں کی گئی لیکن آمدنی پر ٹیکس بہت ہی کم ادا کیا گیا تھا۔ان افراد کی مالی دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ ان کا کاروباری لین دین کروڑوں روپے میںہے اور وہ اسی مناسبت سے کروڑوں روپے مالیت کی املاک کے اور بعض کیسز میں اس سے بھی کہیں زیادہ کے مالک ہیں۔حکام کے مطابق اِن لینڈ ریونیو کے انسداد منی لانڈرنگ کے انٹیلی جنس اور انویسٹی گیشن سیل نے ایسے افراد کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ شروع کردیا، جنہوں نے اپنے اثاثوں کو تحائف کی مد میں ظاہر کیا، مذکورہ سیل کی جانب سے جمع کیے گئے اعداو شمار میں انکشاف ہوا ہے کہ 2 ہزار 7 سو 85 امیر افراد نے اپنی 2016 کے ٹیکس کے حوالے سے مالی دستاویزات میں 102 ارب روپے کے تحائف ظاہر کیے۔ان میں سے 3 کیسز میں تحائف کی مالیت ایک ارب سے بھی زائد ہے جبکہ تحائف کی سب سے زیادہ مالیت ایک ارب 70 کروڑ روپے ہے، کم سے کم 8 افراد نے 50 کروڑ روپے سے ایک ارب روپے مالیت کے درمیان تحائف ظاہر کیے۔
تفتیش کے دوران اس طرح تحائف کاتبادلہ کرنے والوں کو ان کی جانب سے دئے گئے تحائف کی مالیت کی بنیاد پرمختلف کٹیگریز میں تقسیم کیاگیا ، ان کٹیگریز میں ایک ارب اور اس سے زیادہ ، اور کم وبیش ایک ارب روپے کے تحائف دینے والوں کے علاوہ تیسری کٹیگری میں ان لوگوں کورکھا گیا جنھوں نے 20کروڑ سے 50کروڑروپے تک کے تحائف کاتبادلہ کیاتھا۔اس کٹیگری میں 97 افراد کی نشاندہی ہوئی ہے۔اسی طرح97ایسے افراد کابھی پتہ چلایاگیاجنھوں نے 10- کروڑ سے20کروڑ روپے کے درمیان رقم کے مساوی مالیت کے تحائف کاتبادلہ کیا تھا، اسی طرح280 ایسے افراد بھی سامنے آئے جنھوں نے5سے 10کروڑ مالیت کے تحائف کاتبادلہ کیاتھااور اپنے ٹیکس گوشواروں میں اس کاباقاعدہ اندراج کیاتھا۔ٹیکس گوشواروں کی چھان بین کے دوران ایک کروڑ سے 5کروڑ روپے تک مالیت کے تحائف کاتبادلہ کرنے والے 2ہزار348 ٹیکس گزاروں کاپتہ چلایاگیا،اس طرح بھاری مالیت کے تحائف کاتبادلہ کرنے والے تمام افراد کے گوشوارے الگ کرلیے گئے ہیں اور اب ان کی مکمل چھان بین کی جائے گی اور جن لوگوں کے بارے میں یہ ثابت ہوجائے گا کہ انھوں نے تحائف کایہ تبادلہ محض ٹیکسوں کی ادائیگی سے بچنے کے لیے کیا ہے ان کے معاملات الگ کرکے اس حوالے سے متعلقہ افراد سے پوچھ گچھ کی جائے گی اورانسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت ان کے خلا ف کسٹمز اور ٹیکسیشن کی خصوصی عدالت میں ریفرنس دائر کئے جائیں گے اور قانون کے مطابق مجرم ثابت ہونے والوں پرنہ صرف یہ کہ بھاری جرمانہ عاید کیاجاسکے گا بلکہ ان کی جائیداد ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو 7سال تک قید کی سزا بھی دی جاسکے گی۔
کسٹمز حکام کے مطابق تحائف کے تبادلے جیسے حربوں کے ذریعے ٹیکس کی ادائیگی سے گریز اور ٹیکس چوری ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ فرد پربھاری جرمانے کے علاوہ 10سال قید بامشقت تک کی سزا بھی دی جاسکے گی اورٹیکس چوری کی مالیت کے اعتبار سے ان کی جائیداد بھی ضبط کی جاسکتی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ایف بی آر کے حکام کی جانب سے 2 ہزار 7 سو 85 بڑی مچھلیوں کی نشاندہی کے بعد ان کے خلاف واقعی کوئی کارروائی کرکے چوری کی گئی ٹیکس کی رقم واپس حاصل کرنے کی کارروائی کو آخری حد تک پہنچایا جاتاہے یا اربوں اور کروڑوں روپے کے تحائف کاتبادلہ کرنے والے یہ بااثر افراد ٹیکس چوری کی نشاندہی کرنے والے ایف بی آر کے ایماندار افسران اورملازمین کوکھڈے لائن لگوا کر خود اسی طرح دندناتے رہیں گے۔


متعلقہ خبریں


مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد وجود - پیر 09 فروری 2026

8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

مضامین
شکسگام ، چین کا حصہ ہے! وجود پیر 09 فروری 2026
شکسگام ، چین کا حصہ ہے!

پروفیسر شاداب احمد صدیقی وجود پیر 09 فروری 2026
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے ! وجود اتوار 08 فروری 2026
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے !

روٹی اور تماشا وجود اتوار 08 فروری 2026
روٹی اور تماشا

ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش وجود اتوار 08 فروری 2026
ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر