... loading ...
نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے ایک مشاورتی اجلاس میں شہباز شریف کو مستقل وزیراعظم بنائے جانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے ۔ تاہم اُن کے رکن اسمبلی منتخب ہونے تک عبوری دور کے لیے شاہد خاقان عباسی کو عارضی طور پر وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو شہبازشریف کے رکن قومی اسمبلی بننے تک 45 دنوں تک وزیراعظم رہ سکیں گے۔اس طرح عملاً مسلم لیگ نون کے برطرف وزیراعظم اور صدر نوازشریف عملاً اپنے حریف جنرل (ر) پرویز مشرف کی مانند فیصلہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ کچھ ایسی ہی صورت حال اُس وقت پیدا ہوئی تھی جب 21 نومبر 2002 کو وزیراعظم کا منصب سنبھالنے والے ظفراللہ جمالی کو 26 جون 2004 کورخصت کرنے کے بعدنئے وزیراعظم کے طور پر شوکت عزیز کو لانے کا فیصلہ کیا گیا تو اُنہیں قومی اسمبلی کا رکن منتخب کرانے تک عبوری دور کے لیے چودھری شجاعت حسین کو وزیراعظم کے طور پر منتخب کرایا گیا۔ اس طرح چودھری شجاعت حسین 30 جون 2004 سے 20 اگست 2004 تک اس منصب پر جلوہ افروز رہے یہاں تک کہ شوکت عزیز قومی اسمبلی کے رکن منتخب نہ ہو گئے۔ صدر مشرف کے اُس دور میں شوکت عزیز 20 اگست 2004 سے 16 نومبر 2007 تک وزارتِ عظمیٰ کے منصف پر فائز رہے۔
عدالتی فیصلے سے برطرف ہونے والےنواز شریف کی زیر صدارت پاکستان مسلم لیگ (ن) کا ایک مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں شہباز شریف کے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے تک عبوری مدت کے لیے وزیراعظم کے طور پر شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف کے نام زیرغور لائے گئے مگر اجلاس میں شاہد خاقان عباسی کے نام پر حتمی طور پر اتفاق کرلیا گیا ۔
مذکورہ اجلاس کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں یہ باتیں بھی گردش میں رہیں کہ شرکاء نے نواز شریف کی قیادت پر مکمل یکجہتی اور اعتماد کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نظریاتی کارکن ہیں اور نواز شریف کے اشارے پر اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہونے کے لئے تیار ہیں لیکن ان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔مسلم لیگ کی تاریخ میں اس طرح کے الفاظ منتخب اراکین سے کم کم سننے کو ملے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق نواز شریف گزشتہ روز ہی شہباز شریف کو ملک کا آئندہ وزیر اعظم بنانے کا عندیہ دے چکے تھے، تاہم اُنہوں نے اپنے اس فیصلے کو مشاورتی اجلاس میں پہلی مرتبہ رکھا اور پھر اسے پارلیمانی اجلاس میں لے کر گئے۔مشاورتی اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ شہبازشریف کو نوازشریف کی نااہلی سے خالی ہونے والی نشست این اے 120 سے الیکشن لڑوا کرمنتخب کرایا جائے گا ۔ مسلم لیگ نون اور شریف خاندان کے لیے یہ ایک بنیادی نوعیت کا مسئلہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر کن کو منتخب کیا جائے۔ شریف خاندان کے لیے پنجاب اُن کے مستقبل کی سیاست کے لیے نہایت اہم ہے۔ اور وہ اس منصب کو کسی بھی دوسرے سیاسی خاندان یا فرد کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اسی لیے جب نوازشریف نے وفاق میں وزارت عظمیٰ کے منصب پر نظریں مرکوز کی تو اُنہوں نے پنجاب کا ہما کسی اور کے سر پر بٹھانے کے بجائے اپنے بھائی کے سر پر ہی بٹھایا۔ اوراب جب وہ وزارت عظمیٰ کے منصب سے ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے نکال باہر کیے گئے ہیں تو اُنہوں نے اس منصب کے لیے اپنے بھائی کو ہی منتخب کیا۔
واضح رہے کہ عدالت سے سزا یافتہ کوئی شخص پارٹی عہدہ نہیں رکھ سکتا اس لیے نواز شریف وزارت عظمیٰ کے ساتھ پارٹی کی صدارت سے بھی فارغ ہوگئے ہیں۔مسلم لیگ نون کے لیے پارٹی کی صدارت کا یہ منصب بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے اور نوازشریف اس منصب پر اپنے بھائی شہباز شریف کے علاوہ کسی اور کو نہیں دیکھنا چاہتے۔ چنانچہ مسلم لیگ ن کی صدارت کے لیے جلد پارٹی کی جنرل کونسل کا اجلاس طلب کیا جائے گا۔اور پارٹی کے جنرل کونسل اجلاس میں شہباز شریف کو ہی نیا صدر بھی نامزد کردیا جائے گا۔
قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...
ایک خاص مقصد کے تحت تھرپارکر اور صوبے پر تنقید کی جاتی ہے،کہا جاتا ہے پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں، کوئی دوسرا صوبہ سندھ سے مقابلہ نہیں جیت سکتا،چیئرمین کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے ،تھر میں پیپلزپارٹی کا کیا گیا کام ان قوتوں کو بہترین جواب ہے...
ان لوگوں نے گمراہ کن ایجنڈے کیلئے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں ایسے گمراہ لوگ سفاک مجرم اور قاتل ہیں،تقریب سے خطاب ملک میں جگہ جگہ علماء کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کے ہاتھوں عالم دین کی شہادت پر مولانا کا شدید ردعمل اسلام آباد(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا کے علا...
فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں بچے خودکش ڈرون ، فضائی حملوں، گولہ باری میں شہید کیے جاچکے ہیں،یونیسیف غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بین ا...
ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...
موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...
پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...
امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...
محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...
ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...