وجود

... loading ...

وجود

کرپشن کے سنگین الزامات وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے!

جمعرات 27 جولائی 2017 کرپشن کے سنگین الزامات وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے!

وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے بعد اب ان کے ذاتی عملے کے ارکان پر بھی کرپشن کے سنگین الزامات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں ، اور عوامی حلقوں کی جانب سے اب برملا یہ الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں کہ وزیر اعظم کے ذاتی عملے کے ارکان وزیر اعظم سے قربت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اربوں روپے کی کرپشن اور ہیر پھیر میں ملوث ہیں اور وزیر اعظم کے ذاتی عملے میں شمار ہونے کی وجہ سے اینٹی کرپشن، ایف آئی اے اور قومی احتساب بیورو کے موقع پرست حکام نے ان کی کرپشن کی جانب سے آنکھیں بند کرکے انھیں دونوں ہاتھوں سے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم رکھنے کی چھوٹ دی ہوئی ہے۔
وزیراعظم کے ذاتی عملے کی کرپشن کی تازہ ترین مثال ان کے پرنسپل سیکریٹری کی جانب سے راولپنڈی میں تعمیر کرائی جانے والی اس کثیرالمنزلہ عمارت کی شکل میں سامنے آئی ہے جس کی مالیت کم وبیش 12 ارب روپے بتائی جاتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری کی مبینہ کرپشن کاانکشاف راولپنڈی کی وکلابرادری نے کیاہے اور 3 وکلا نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ قومی احتساب بیورو یعنی نیب کو وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری فوادحسن فواد کے خلاف مقدمہ درج کرکے اس بات کی تحقیقات کا حکم دیاجائے کہ فواد حسن فواد نے جو گریڈ 21 کے ایک سرکاری افسر ہیں، یہ عمارت کس طرح تعمیر کرائی اس کے لیے رقم کہاں سے اور کن ذرائع سے حاصل کی گئی؟کیونکہ حکومت کے مروجہ پے اسکیل کے تحت گریڈ 21 کے افسر کو اتنی تنخواہ نہیں ملتی کہ وہ 12 ارب روپے مالیت کی عمارت تعمیر کراسکے۔راولپنڈی کے 3 وکلا خرم محمود ، صابر احمد اورطفیل شہزاد نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی گئی اپنی درخواست میں وزیر اعظم کے داماد کیپٹن(ر) محمد صفدر، فواد حسن ان کے بھائی وقار حسن اور2 دیگر افراد گل زریں خان اور چوہدری قمر کو مدعاعلیہان نامزد کیاہے۔درخواست میں کہاگیاہے کہ راولپنڈی میں یہ خبریں تیزی سے گشت کررہی ہیں کہ وزیرا عظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد نے اپنے بھائی وقار حسن اور 2 دیگر افراد گل زریں خان اور چوہدری قمر کے ساتھ مل کر راولپنڈی کے کمرشل علاقے میں ایک کثیرالمنزلہ عمارت تعمیر کرائی ہے جس کی مالیت 12ارب روپے سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔درخواست میں بتایاگیاہے کہ اس 10 منزلہ عمارت کی 9 منزلیں مبینہ طورپر فواد حسن فواد اور ان کے بھائی کی ملکیت ہیں ۔درخواست میں یہ بھی کہاگیاہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد نے اپنے سیاسی منصب اور وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ اپنے قریبی تعلق کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ایک بینک کو اس عمارت کی تعمیر کے لیے سرمایہ فراہم کرنے پر مجبور کیا۔ راولپنڈی کے وکلاء نے اپنی درخواست میں اس حوالے سے اسٹیٹ بینک پاکستان کے قواعد وضوابط کا بھی حوالے دیاہے جس کے تحت کمرشل بینکوں پرعمارتوں اور پراجیکٹس کی تعمیر کے لیے سرمائے کی فراہمی کے حوالے سے سخت شرائط عاید کی گئی ہیں۔
وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری فوادحسن فواد کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی گئی اس درخواست میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ راولپنڈی اسلام آباد میں ایسی کسی دوسری عمارت یا پراجیکٹ نے اس طرح سے سرمایہ فراہم نہیں کیاہے جس سے واضح ہوتاہے کہ بینک کو سرمایہ فراہم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے مبینہ طورپر اختیارات اورسرکاری عہدے کاغلط استعمال کیاگیاجو کہ کرپشن کاایک بین ثبوت ہے۔
درخواست میں دعویٰ کیا گیاہے کہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری فوادحسن نے راولپنڈی جی پی او کی عمارت کے بالمقابل اس عمارت کے لیے یہ کمرشل پلاٹ حیدر روڈ راولپنڈی پر واقع ایک رہائشی پلاٹ کے بدلے میں حاصل کیاہے جبکہ ان دونوںپلاٹوں کی قیمتوں میں زمین وآسمان کافرق بتایاجاتاہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری فوادحسن فواد کے خلاف دائر کردہ رپورٹ میں استدعا کی گئی ہے کہ نیب کو ہدایت کی جائے کہ وہ اس پورے معاملے کی شفاف طریقے سے تحقیقات کرے اور عمارت کی تعمیر کے لیے حاصل کیے گئے وسائل کاپتہ چلانے کے ساتھ ہی اس بات کابھی سراغ لگائے کہ ایک معمولی رہائشی پلاٹ کے بدلے یہ قیمتی کمرشل پلاٹ کس طرح حاصل کیاگیا اور اس کے پس پشت کیا عوامل کارفرما ہیں؟درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ نیب سے یہ کہاجائے کہ وہ اس بات کابھی پتہ لگائے کہ پلاٹ کی اس منتقلی یا تبدیلی کے عمل میں متعلقہ افراد نے بذات خود یا اپنی اہلیہ یا خاندان کے کسی اور فرد کے نام سے سرکاری خزانے کوکوئی نقصان تو نہیں پہنچایا۔
وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری فوادحسن فواد کے خلاف درخواست میں یہ بھی کہاگیاہے کہ فواد حسن فواد کو اوکاڑہ میں مبینہ طورپر تحفے میں ملنے والی زمین، سٹی پراجیکٹ میں ان کے شیئرز ،لاہور موٹر وے سٹی پراجیکٹ میں ان کے شیئرز اورسی این جی اسٹیشن کے حوالے سے اسپرنٹ انرجی اسکینڈل میں ان کے کردار کی بھی تحقیقات کرائی جائے تاکہ اختیارات اور سرکاری عہدے کے ناجائز استعمال کے حوالے سے شکایات کی حقیقت واضح ہوسکے۔
درخواست میں یہ موقف اختیار کیاگیاہے کہ ایک گریڈ 21 کے افسر کی جانب سے راولپنڈی کے مہنگے ترین کمرشل علاقے میں 12 ارب روپے سے زیادہ مالیت کی عمارت کی تعمیر پر نیب کی خاموشی اور اس معاملے سے چشم پوشی معنی خیز ہے اگر اس حوالے سے کوئی کارروائی نہ کی گئی تو تمام سرکاری افسران کو کھل کھیلنے کی ترغیب ملے گی اور اس معاملے میں نیب کی خاموشی سے تمام دیگر سرکاری افسران کو یہ پیغام جائے گاکہ پاکستان میں کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی ہر ایک کوکھلی چھوٹ حاصل ہے اوراس پر کسی طرح کی روک ٹوک کاکوئی امکان نہیں ہے۔
درخواست گزار کے وکلا نے یہ موقف اختیار کیاہے کہ اس معاملے میں نیب کی جانب سے مجرمانہ خاموشی سے یہ ثابت ہوتاہے کہ نیب صرف جونیئر اور چھوٹے درجے کے افسران اور حکومت کے معتوب افراداور اداروں کے خلاف ہی حرکت میں آتی ہے اور بااثر سرکاری افسران کو اس کی جانب سے کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی کھلی چھوٹ ہے ،نیب کا یہ طرز عمل کسی طور بھی ملک اور عوام کے مفاد میں نہیں ہے اورضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے اور سرکاری حیثیت کا غلط استعمال کرتے ہوئے دولت کے انبار جمع کرنے والوں کاسختی سے احتساب کیاجائے اور ان کی ناجائز ذرائع اور طریقہ کار کے تحت جمع کردہ تمام دولت ان سے واپس لے کر سرکاری خزانے میں جمع کرانے کے ساتھ ہی اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں ملکی قانون کے تحت انھیں سخت سے سخت سزائیں دی جائیںاور ان کی تمام ناجائز دولت اور اثاثے بحق سرکار ضبط کرلیے جائیںاور انھیں فوری طورپر سرکاری عہدوں سے برطرف کرکے آئندہ انھیں کسی بھی سرکاری ملازمت کے لیے نااہل قرار دیاجائے تاکہ عہدوں کے ناجائز استعمال کایہ تسلسل اور سرکاری خزانے کی لوٹ مار کاسلسلہ ختم ہوسکے۔


متعلقہ خبریں


فیلڈ مارشل کا دورۂ تہرن،اہم امریکی پیغام پہنچا دیا،امریکا ، ایران مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میںہوں گے وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

سیدعاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا وفد کے ہمراہ تہران پہنچنے پر پُرتپاک استقبال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کیا، سفارتی اور ثالثی کوششوں کے سلسلے کو آگے بڑھائیں گے آرمی چیف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد ایرانی حکومت کے اعلیٰ ترین حکام سے مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری ...

فیلڈ مارشل کا دورۂ تہرن،اہم امریکی پیغام پہنچا دیا،امریکا ، ایران مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میںہوں گے

پی ای سی ایچ ایس، امتحانی مرکز پر چیئرمین میٹرک بورڈ کا چھاپہ، سینٹر سپرٹنڈنٹ معطل وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

اساتذہ اور والدین کی جانب سے انکشاف کیا گیا تھا کہ امتحانی مرکز میں پیسوں کے عوض نقل کرائی جا رہی ہے نقل کی روک تھام کیلئیزیرو ٹالرنس کی پالیسی برقرار رہے گی،شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ،غلام حسین سوہو چیئرمین میٹرک بورڈغلام حسین سوہو نے پیسوں کے عوض نقل کی شکایت پر گورن...

پی ای سی ایچ ایس، امتحانی مرکز پر چیئرمین میٹرک بورڈ کا چھاپہ، سینٹر سپرٹنڈنٹ معطل

وزیراعلیٰ سندھ کا محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

9لاکھ 73ہزار 900میٹرک ٹن کا مجموعی ہدف مقرر کیا گیاہے،مراد علی شاہ تمام اضلاع اپنے نظام کو فعال بنائیں،بلا تاخیر ہدف حاصل کریں، بریفنگ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم دے دیا۔ترجمان وزیراعلی سندھ کے مطابق سید مراد علی شا...

وزیراعلیٰ سندھ کا محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم

افغان طالبان کی باجوڑ میں آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

افغان طالبان کی کچھ روز سے فتنہ الخوارج کی ایک تشکیل کو پاکستان میں داخل کرانے کی کوشش پاک فوج کی جوابی کارروائی پر افغانستان سے فائر کرنیوالی گن پوزیشن کو تباہ کردیا،سکیورٹی ذرائع افغان طالبان کی باجوڑ میں پاکستانی سول آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید، 3شدید زخمی ہ...

افغان طالبان کی باجوڑ میں آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں ، تازہ حملے میں11فلسطینی شہید وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

3اور 14سال کے دو بچے شہید، اسرائیلی جنگی طیاروں نے پولیس گاڑی کو نشانہ بنایا شاطی پناہ گزین کیمپ کے قریب چوک پر اسرائیلی ڈرون حملے میں کئی افراد نشانہ بنے حماس کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں جس میں اسرائیل کے غزہ پٹی میں تازہ حملے...

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں ، تازہ حملے میں11فلسطینی شہید

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم وجود - بدھ 15 اپریل 2026

کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار وجود - بدھ 15 اپریل 2026

قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف وجود - بدھ 15 اپریل 2026

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس

مضامین
مسلم ،تیرا انداز بدل کیوں نہیں جاتا؟ وجود جمعرات 16 اپریل 2026
مسلم ،تیرا انداز بدل کیوں نہیں جاتا؟

پاکستان کی ثالثی،مودی پر تنقید وجود جمعرات 16 اپریل 2026
پاکستان کی ثالثی،مودی پر تنقید

پیمراقوانین اور ٹی وی نشریات کا زوال وجود جمعرات 16 اپریل 2026
پیمراقوانین اور ٹی وی نشریات کا زوال

اسلام آباد کا سفارتی مشن اورعالمی سیاست میں بڑی تبدیلی کی آہٹ وجود جمعرات 16 اپریل 2026
اسلام آباد کا سفارتی مشن اورعالمی سیاست میں بڑی تبدیلی کی آہٹ

مذاکرات سے مثبت امیدیں وجود بدھ 15 اپریل 2026
مذاکرات سے مثبت امیدیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر