وجود

... loading ...

وجود

حمزہ شہباز پنجاب کا تاج پہننے کو تیار

هفته 15 جولائی 2017 حمزہ شہباز پنجاب کا تاج پہننے کو تیار

پاناما ا سکینڈل جب سے سامنے آیا ہے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ( ن) سے جیسے خوشیاں روٹھ گئی ہیں ۔ آئے روز کوئی نا ں کوئی ’’ بُری‘‘ خبر سننے کو ملتی رہتی ہے، یہ بھی پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ ایک برسراقتدار پارٹی کے خلاف کوئی مقدمہ چلایا جارہا ہے اور اس کی تشہیر کے لئے روزانہ رات 8سے 12بجے تک ٹی وی چینلز پر لگنے والی عدالتوں میں حکومت کو گھر بھیجنے کے ’’فیصلے ‘‘ تواتر سے کیے جارہے ہوں ۔حکومت بے بسی کی تصویر بنی دیکھنے اور مانیٹر کرنے کا سوا کچھ نہیں کر پارہی ۔ ایک وقت تھا میڈیا حکومت کے اشارے پر ناچتا تھا۔ آج وقت بدل گیا ہے جب سے الیکٹرانک میڈیا آیا ہے حکومت وقت کو اپنے اشاروں پر ’’نچانے‘‘ کی کوشش کرتا ہے۔ پاناما کا ’’کارنامہ‘‘ بھی صحافیوں کا ہے اور اس کا کریڈٹ بھی صحافیوں کے کھاتے میں جاتا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ قیامِ پاکستان سے آج تک اس ملک کو صرف لوٹا ہی گیا ہے ،احتساب کا نعرہ سننے میں تو بہت بھلا لگتا ہے مگر جب اس کی ’’حقیقت‘‘ کھلتی ہے تو بہت تکلیف دیتی ہے ، پاکستان میں اس نعرے کی بنیاد پر حکومتوں کو چلتا کرنا عام سی بات سمجھی جاتی ہے ۔ایک بار پھر اس نعرے کی آواز اس قدر بلند ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی ۔پاناما نے وفاق ، پنجاب اور بلوچستان کی حکمران جماعت نون لیگ کو شدید پریشانی سے دوچار کررکھا ہے ۔ آج کے پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بحران کی شکار ہے ۔ پاناما جے آئی ٹی نے اپنے تئیں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کے خاندان کو ’’مجرم‘‘ قرار دے کر جسٹس آصف سعید کھوسہ ، جسٹس عظمت سعید شیخ کے ریمارکس ’’گاڈ فادر‘‘ او’’ر سیسیلین مافیا ‘‘ پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے ۔حکمران بھی فیصلے کی بو سونگھ چکے تھے اس لیے اُنہوں نے میڈیا میں واویلا مچانے کے علاوہ کچھ عملی اقدامات بھی اٹھائے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنی بیٹی مریم نواز کو وزیر اعظم ہائوس کی ’’وزیر اعظم‘‘ بنائے رکھا اور اکثر سرکاری و غیر سرکاری اجلاسوں کی صدارت اور ان میں کیے جانے والے فیصلے مریم نواز کا کریڈٹ قرار پائے ، ان فیصلوں میں اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کی حالت ٹھیک کرنا اور تعلیمی معیار بلند کرنا، ملک بھر میں صحت کارڈکا اجراء، خواتین کے مسائل کا حل اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو جاری رکھنا یہ سب مریم نواز کے ’’کارنامے‘‘ شمار ہوں گے ۔وزیرا عظم ہاؤس میں مریم نواز کی سرگرمیوں سے تو پورا ملک آگاہ تھا مگر متوازی طور پر وزیراعلیٰ پنجاب اپنے صاحبزادے کی سیاسی تربیت اور اندازِ حکمرانی میں کس طرح تربیت کر رہے تھے، اس کے اکثر پہلوعام توجہ کا مرکز نہیں بن سکے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بھی اپنے فرزندمیاں حمزہ شہباز کو مستقبل کے وزیر اعلیٰ کے طور پر تربیت دینے کا فیصلہ بہت پہلے کر لیاتھا ۔ جنوبی پنجاب میں دو صوبوں کا قیام ہو یا بلدیاتی اداروں کے لیے میئرز و چیئرمین ضلع کونسلز کا انتخاب یہ سب حمزہ شہباز کی ذمہ داری قرار پائے ۔اب جبکہ پاناما کے حوالے سے سپریم کورٹ کی قائم کردہ جے آئی ٹی اپنی سفارشات کو حتمی شکل دینے کے لئے تیار تھی ، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے میاں حمزہ شہباز کو پنجاب کے 635ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کے اجراء، استعمال ، نظر ثانی اور نگرانی کا اختیار سونپ دیا ۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک مراسلے کے ذریعے تمام صوبائی سیکریٹریز، ڈویژ نل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو حکم جاری کیا گیا ہے کہ وہ تمام ترقیاتی بجٹ کے استعمال اور منصوبوں کی تکمیل کے لیے ایم این اے حمزہ شہباز سے رہنمائی لیں ۔ حمزہ شہباز کی سربراہی میں تشکیل دی گئی صوبائی مانیٹرنگ کمیٹی برائے سالانہ ترقیاتی بجٹ کا ہفتہ وار اجلاس ہوگا۔صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات ، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب ، چیئرمین انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی بورڈ ، وزیر اعلیٰ پنجاب کے سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری ، سیکرٹری
خزانہ پنجاب اور پی ایس او ٹو وزیر اعلیٰ کمیٹی کے ارکان ہیں ، اس مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کمیٹی سمجھتی ہے کہ کسی اور وزیر یا سیکرٹری کو رکن ہونا چاہئے تو وہ اس کو رکن بنانے کی بھی مجاز ہے ، اس کمیٹی کے لیے خط و کتابت محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی ذمہ داری ہے ، خط و کتابت کا ذمہ دار قرار پانے والا محکمہ اور اسکا چیئر مین ہی دراصل ترقیاتی بجٹ کے استعمال اور نگران ہیں ۔تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب نے رولز آف بزنس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ترقیاتی بجٹ کمیٹی قائم کی ہے ۔شہبازشریف کے دور حکومت میں پنجاب میں ترقیاتی کاموں سے انکار ممکن نہیں تاہم قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بڑے عہدوں پر چھوٹے گریڈ کے آفیسرز کی تعیناتی اور وزیر اعلیٰ ہائوس میں بیٹے کی تربیت بھی شریف ’’طرز ‘‘ حکمرانی ہی قرار دی جاسکتی ہے۔ حمزہ شہباز ان چار سال میں بہت متحرک رہے۔ پنجاب کے اکثر ضمنی انتخابات کی جیت کا سہرابھی ان کے سر جاتا ہے مگر ان کو بطور ایم این اے تربیت دلوانا بہرحال غیر قانونی ہی کہلائے گا، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ان کی تربیت چاہتے تھے تو انہیں ممبر قومی اسمبلی بنوانے کی بجائے ممبر صوبائی اسمبلی منتخب کرواکے صوبائی کابینہ میں شامل کرکے تربیت کا انتظام کرتے تو بہتر تھا ۔اب جبکہ پاناماجے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جاچکی ہے تو اس ترقیاتی بجٹ کمیٹی نے کام کی رفتار مزید تیز کردی ہے ۔اورہفتہ وار جائزہ اجلاس کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے ایسا لگتا ہے جیسے حکمران جماعت کو نوشتہ دیوار صاف دکھائی دینے لگا ہو۔ نوازشریف کے وزارت عظمیٰ کا منصب ڈولنے کی صورت میں مرکز میں قیادت کے لیے کون آگے بڑھے گا؟ یہ تو ابھی واضح نہیں۔ مگر پنجاب میں وزیر اعلیٰ کاتاج حمزہ شہباز کے سر سجنے والا ہے۔ یہ تقریباً واضح ہے۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

مضامین
گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر