وجود

... loading ...

وجود

شریف خاندان اپنے اثاثوں اور ذرائع آمدن کا جواز پیش کرنے میں ناکام

بدھ 12 جولائی 2017 شریف خاندان اپنے اثاثوں اور ذرائع آمدن کا جواز پیش کرنے میں ناکام

متحدہ عرب امارات کی وزارت انصاف نے اہیل اسٹیل جسے بعد میںگلف اسٹیل کا نام دیاگیا، میں طارق شفیع کے25 فیصد شیئرز کی 14 اپریل1980 میں فروخت کے بارے میں معلومات طلب کرنے پر کہ آیا یہ درست ہے یا غلط ،جواب دیا کہ دبئی کی عدالتوں نے 30 مئی2016 کو اس کی چھان بین کی ۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت انصاف نے لکھا ہے کہ ہم آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ دبئی کی عدالتوں کے نظام کے ریکارڈمیںاہیل اسٹیل جسے بعد میں گلف اسٹیل کانام دیاگیا ،کی چھان بین کے بعد درج ذیل تصدیق کی جاتی ہے کہ:۔
1۔1980 میں اہیل اسٹیل جسے بعد میں گلف اسٹیل کانام دیاگیاکے 25 فیصد شیئرز کی 14 اپریل1980 میں فروخت کاکوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے یعنی ایسی کوئی فروخت نہیں ہوئی ۔
2 ۔ اہیل اسٹیل جسے بعد میں گلف اسٹیل کانام دیاگیا،کے 25 فیصد شیئرز کی جناب محمد طارق شفیع کے نام 12 ملین درہم کی کوئی لین دین کبھی ہوئی ہی نہیں۔
3 ۔ایسا کوئی ریکارڈ بھی نہیں ملا جس سے یہ ظاہر ہوتاکہ دبئی کی عدالتوں میں 30 مئی 2016 کو کسی نوٹری پبلک کی جانب سے ایسے کسی ڈاکومنٹ کی تصدیق کی گئی ہو۔
تیسری بات اہیل اسٹل ملز کی اسکریپ مشینری کی جدہ میں2001-2002 میں العزیزہ اسٹیل ملزکے قیام کے لیے دبئی سے جدہ منتقلی کے بارے میں ہے۔
اس حوالے سے ہم آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ دبئی کسٹمز کے ریکارڈ کی چیکنگ کے بعدیہ ظاہرہوا ہے کہ 2001۔2002 کے دوران میں کوئی اسکریپ مشینری دبئی سے جدہ منتقل نہیں کی گئی۔
چوتھی بات:۔ جناب محمد شفیع کی جانب سے جناب فہد بن جاسم بن جابر بن الثانی یا ان کے کسی مقرر کردہ نمائندے کو 1978-1981 کے دوران ایک کروڑ 20 لاکھ درہم کی منتقلی کے بارے میں اور جناب عبداللہ کائید کی جانب سے طارق شفیع کو 1978-1981 کے دوران اہیل اسٹیل ملز کے بقیہ 25 فیصد شیئرزکی فروخت کے ایک کروڑ 20 لاکھ درہم کی ادائی کے حوالے سے بینک ریکارڈ کے حوالے سے ہے۔
سینٹرل بینک نے اطلاع دی ہے کہ سینٹرل بینک کے ریکارڈ میں اس طرح کی رقم کی منتقلی کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔
دستخظ
جج/عبدالرحمان مراد علی بلوشی
ڈائریکٹر انٹرنیشنل کوآپریشن ڈیپارٹمنٹ
رمضان شوگر ملز لمیٹیڈ1993-2015
اتفاق شوگر ملز لمیٹیڈ1990-1996
حمزہ شوگر ملز لمیٹیڈ1994-2001
اتفاق ٹیکسٹائل ملز لمیٹیڈ
1990,1993-1994
16 ۔ ان کمپنیوں کے حوالے سے جے آئی ٹی کو دستیاب ریکارڈ کے حوالے سے ان کمپنیوں کا تفصیلی مالی تجزیہ انیکس II میں ہے:۔
الف۔ یہ کمپنیاں جن میں مدعا علیہان شیئرہولڈرز/ ڈائریکٹرز/ بینی فیشیل مالکان کے طورپر کام کررہے تھے بنیادی طورپر ان کی فیملی کی زیر ملکیت کاروبار ہے، یہ کمپنیاں زیادہ تر1980 سے 1990 کے دوران قائم کی گئیں جب مدعاعلیہ اقتدار میں تھا۔
ب۔مدعا علیہان نے شیئر ہولڈرز کی حیثیت سے اس میں بہت معمولی سرمایہ لگایا اور یہ کمپنیاں زیادہ تربینکوں /مالیاتی اداروں /غیر ملکی مالیاتی اداروں یا بیرون ملک میں قائم اسپیشل پرپز وہیکل کے ذریعے حاصل سرمائے سے قائم کی گئیں۔
ج۔ان کمپنیوں کے ابتدائی مراحل میں فنڈز بطور قرض لیاگیا اور قرض کی یہ رقم دیگر مقاصد پر خرچ کی گئی، پلانٹس اور مشینری لگانے کے لیے غیر ملکی فنڈز جمع کیے گئے، تاہم زیادہ تر کمپنیاں یا تو بند رہیں یا ان کو ان کی پوری استعداد کے مطابق نہیں چلایاگیا اور ان کو نقصان ہوا جس سے ایکویٹی منفی ہوگئی۔ایسی کمپنیوں میں محمد بخش ٹیکسٹائل ملز لمیٹیڈ، حدیبیہ پیپر ملز لمیٹیڈ، حدیبیہ انجینئرنگ کمپنی پرائیوٹ لمیٹڈ ،حمزہ بورڈ ملز لمیٹڈ، مہران رمضان ٹیکسٹائل ملزم لمیٹڈ شامل ہیں۔
د ۔ ناقص کارکردگی اور آپریشنل منافع نہ ہونے کی وجہ سے چند برسوں کے علاوہ منافع کااعلان نہیں کیاگیا،یہ تما م کمپنیاں زیادہ تر نقصان میں رہیں اور گزشتہ کم وبیش 20سال کے دوران ان میں کوئی قابل ذکر کاروبار نہیں ہوا۔
نتیجہ
17۔مذکورہ بالا تفصیلی تجزیئے سے ظاہرہوتاہے کہ مدعاعلیہان نمبر 1,6,7 اور 8 ظاہری اور ظاہر کردہ آمدنی اور دولت کے ذرائع میں نمایاں تفاوت / اور فرق موجود ہے۔پاکستان میں ان کمپنیوں کامالی ڈھانچہ اور ان کی حالت مدعاعلیہان کی حالت اور دولت سے مطابقت نہیں رکھتیںاور مدعاعلیہان کی جانب سے ظاہر کردہ دولت مدعاعلیہان کی جانب سے بظاہر اور اعلان کردہ رقم کے ذرائع سے مطابقت نہیں رکھتی۔
18 ۔مزید براں سعودی عرب میں قائم کمپنی (ہل میٹلز اسٹبلشمنٹ) برطانیا میں قائم کمپنیوں( فلیگ شپ انوسٹمنٹ لمیٹیڈ اور دیگر ) اور متحدہ عرب امارات میں قائم کمپنی (کیپٹل ایف زیڈ ای) کی جانب سے مدعاعلیہ نمبر ایک ،مدعاعلیہ نمبر 7 اور مدعاعلیہ نمبر ایک اور فیملی کو بڑی تعداد میں قرضوں اور تحائف کی بے قاعدہ آمدورفت اجاگر کی گئی ہے۔
19 ۔آف شور کمپنیوں کا کردار بہت اہم ہے کیونکہ اس تفتیش کے دوران کئی آف شور کمپنیوںکا جن میں (نیسکول لمیٹیڈ،نیل سن انٹرپرائز لمیٹیڈ ،الانہ سروسز لمیٹیڈ ،لیم کن ایس اے،کومبر گروپ انکارپورٹیڈ ،ہلٹرن انٹرنیشنل لمیٹیڈ )برطانیا میں ان کے کاروبار سے تعلق کی نشاندہی ہوئی، یہ کمپنیاں دراصل برطانیا میں قائم کمپنیوں کوفنڈز کی منتقلی کے لیے استعمال کی جاتی تھیں جن کی برطانیا میں اس رقم سے خریدی گئی کوئی قیمتی املاک نہیں ہیں اور یہ فنڈز ان کی برطانیا ،کے ایس اے ،متحدہ عرب امارات اور پاکستان کی کمپنیوں میں تقسیم ہوجاتاتھا۔
20 ۔ ان کمپنیوں کے علاوہ مدعاعلیہ نمبر ایک اور 7 نے تحائف /قرضوں کی شکل میں یہ فنڈز وصول کیے جس کامقصد اور وجہ کا وہ جے آئی ٹی کے سامنے جواز پیش نہیں کرسکے۔یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ برطانیا کی یہ کمپنیاں نقصان میں چل رہی تھیںاور ان کو فنڈز کی منتقلی کے لیے یہ تاثر دینے کیلئے استعمال کیاجارہاتھا کہ برطانیاکی قیمتی پراپرٹیز برطانیا میں قائم ان کمپنیوں کے کاروبار کی وجہ سے ہیں ۔
21۔جے آئی ٹی حوالہ دینے پر مجبور ہے :۔
قومی احتساب آرڈیننس 1999کی دفعہ 9(a)(v)
سرکاری عہدے پر فائز کوئی بھی شخص یا کوئی اور فرد کرپشن کامرتکب ہوا یا کرپٹ طریقہ کار اختیار کیا۔
(v) اگر وہ یا اس کاکوئی زیر کفیل یا بے نامی کسی ایسی املاک کامالک ہو یا کسی املاک میں حصہ دار بن جائے یا ناقابل تنسیخ پاور آف اٹارنی حاصل کرے جو اس کی معلوم آمدنی اور ذرائع آمدنی سے مطابقت نہ رکھتا ہو اور جو وہ اپنے ذرائع آمدنی سے حاصل کرنے اور اس کو برقرار رکھنے کی صلاحیت نہ رکھتاہو۔
قومی احتساب آرڈی ننس 1999 کی دفعہ 14(c) :۔
اس آرڈی ننس کی دفعہ 9 کی کلاز (v) کی ذیلی دفعہ (a)کے تحت قابل سزا جرم پر کوئی بھی مقدمہ اس بنیاد پر چلایاجائے گا کہ ملزم یا اس کی معرفت کوئی دوسرا فرد کسی ایسی املاک یااثاثے کا مالک ہے جس کا ملزم کے پاس اطمینان بخش حساب کتاب نہیں ہے خاص طورپر وہ اس شخص کے معلوم اور ظاہر ذریعہ آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتا یا اس جرم کے ارتکاب کے وقت اس کی آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتاتھا،عدالت یہ تصور کرے گی کہ ملزم کرپشن اور کرپٹ عمل کامرتکب ہوا ہے اور اس پر اس کو دی جانے والی سزا صرف تصور کی بنیاد پر دی جانے والی سزا کی بنیاد پر غلط نہیں ہوگی۔
22۔قانون شہادت آرڈر 1984 اور درج ذیل دفعات بھی اس سے متعلق ہیں:۔
122حقیقت خاص طور معلوم حقائق، کو ثابت کرنا متعلقہ شخص کی ذمہ داری ہوگی۔
’’قانون شہادت آرڈر ،1984 کی دفعہ 117 ۔
117 ثابت کرنے کی ذمہ داری(I) جو کوئی یہ چاہتاہے کہ عدالت حقائق کے مطابق قانونی حق یا لائب لیٹی کا موجود حقائق کے مطابق فیصلہ کرے تو اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ حقائق موجود ہیں۔
(2) جب ایک فرد حقائق کی موجودگی ثابت کرنے کاپابند ہے تو یہ کہاجائے گا کہ ثبوت فراہم کرنا متعلقہ شخص کی ذمہ داری ہے۔
قانون شہادت آرڈر1984 کی دفعہ 129 کے تحت عدالت بعض حقائق کے موجودہونے کو فرض کرسکتی ہے ،عدالت کسی معاملے کے بارے میں کسی قسم کے حقائق کی موجودگی اس سے متعلق قدرتی ایونٹس، انسانی طرز عمل ، نجی کاروبار کی بنیادپر حقائق کی موجودگی کو فرض کرسکتی ہے۔
قانون شہادت آرڈر ،1984 کی دفعہ 2(4),(7) اور(8)کے تحت ثبوت کی تعریف:۔
(4) حقیقت پیش نظر معاملے کاجائزہ لینے کے بعد ثابت ہوگی عدالت یا تو اس کے وجود کا یقین کرے گی یا کسی خاص معاملے میں مخصوص حالات کے تحت اسے یقین ہوگا کہ ہوسکتاہے کہ ایسا ہواہوگا۔
(7) جب بھی یہ آرڈر ہو کہ یہ عدالت اس حقیقت کو سمجھتی ہے،تو اسے ثابت شدہ تصور کیاجائے گا یا پھر اسے غلط ثابت کرنے کیلئے ثبوت پیش کرنا ہوگا۔
(8) جب بھی یہ کہا جائے کہ عدالت کسی بات کوحقیقت تصور کرتی ہے تو وہ حقیقت تصور کیاجائے گا ،تاآنکہ اس کو غلط ثابت نہ کردیاجائے۔
22 ۔تمام مدعاعلیہان کی جانب سے آمدنی کے معلوم ذرائع کے بارے میں مطلوبہ معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہنے کی بنیاد پر یہ بات واضح ہے کہ مدعاعلیہان اپنے اثاثوں اور ذرائع آمدنی کا جواز پیش کرنے سے قاصر ہیں۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

پانچ مقدمات،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم وجود - بدھ 26 نومبر 2025

عدالت نے9مئی مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کر دی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 23دسمبر تک ملتوی،بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی ودیگر 5 کیسز کی سماعت کے دور ان 9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات ...

پانچ مقدمات،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے، رپورٹ جمع وجود - بدھ 26 نومبر 2025

بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں ، کسی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت عدالت میں جمع کرادی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں سپرنٹن...

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے، رپورٹ جمع

ضمنی انتخابات ،نون لیگ کاکلین سویپ ،قومی اسمبلی میں نمبر تبدیل وجود - منگل 25 نومبر 2025

مزید 6سیٹیںملنے سے قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 132ہوگئی حکمران جماعت کا سادہ اکثریت کیلئے سب سے بڑی اتحادی پیپلز پارٹی پر انحصار بھی ختم ہوگیا ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے کلین سویپ سے قومی اسمبلی میں نمبر گیم تبدیل ہوگئی ،حکمران جماعت کا سادہ ...

ضمنی انتخابات ،نون لیگ کاکلین سویپ ،قومی اسمبلی میں نمبر تبدیل

2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا وجود - منگل 25 نومبر 2025

غریب صارفین کیلئے ٹیرف 11.72سے بڑھ کر 22.44روپے ہو چکا ہے نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60فیصد، امیروں پر صرف 30فیصد رہ گیا معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا کچا چٹھا کھول دیا،2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا سب سے زیادہ ب...

2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا

مضامین
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اسموگ انسانی صحت کیلئے اک روگ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
اسموگ انسانی صحت کیلئے اک روگ

مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن وجود جمعرات 27 نومبر 2025
مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر