وجود

... loading ...

وجود

محکمہ آبپاشی کا بیڑہ غرق!!

اتوار 02 جولائی 2017 محکمہ آبپاشی کا بیڑہ غرق!!


محکمہ آبپاشی اس لحاظ سے اہمیت کا حامل رہا ہے کیونکہ وہ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ چھوٹی بڑی نہروں کو مضبوط بنانے اور سیلاب سے قبل بچائو کے لیے اقدامات کرتا ہے مگر محکمہ آبپاشی ہمیشہ اپنے مینڈیٹ سے انحراف کے باعث تنقید کا نشانا بنتا رہا ہے۔ سیلاب اور سپرسیلاب آتے ہیں تو بڑی تباہی پھیل جاتی ہے لیکن محکمہ آبپاشی کے کسی ایک بھی اہلکار کو سزا نہیں ملتی۔ محکمہ آبپاشی کو اربوں روپے ملتے ہیں تاکہ دریائے سندھ مضبوط ہو چھوٹے بڑے نہر کے حفاظتی بند ناقابل تسخیر بن جائیں اور سیلاب میں جو پانی آئے اس کو برداشت کرسکے اور کوئی جانی مالی نقصان نہ ہو مگر سندھ میں تین سپر سیلاب آئے ہیں جس کے باعث ہزاروں افراد بے گھر ہوئے، سینکڑوں گھر پانی برد ہوگئے ہیں درجنوں افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ مگرا س حوالے سے آج تک جتنی بھی تحقیقات کی گئیں اس میں محکمہ آبپاشی کے کسی ملازم کو سزا تو دور کی بات ہے انہیں علامتی سزا بھی نہیں مل سکی ہے۔
کشمور سے لے کر ٹھٹھہ تک 2010 کے سپر سیلاب میں دس لاکھ افراد بے گھر ہوئے مگر اس سیلاب میں ناقص اقدامات پر محکمہ آبپاشی کے کسی افسر کو سزا نہ مل سکی۔ سپر سیلاب سے محکمہ آبپاشی کے افسران کو کروڑوں اربوں روپے ضرور ملے اور وہ امیر سے امیر ترین بن گئے۔ محکمہ آبپاشی کی آج کل باگ ڈور آصف علی زرداری کے قریب ترین رشتہ دار حاجی علی حسن زرداری کے ہاتھ میں ہے ۔ سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا تھا کہ حاجی علی حسن زرداری 2008ء میں نواب شاہ میں دودھ فروخت کرتے تھے۔ ان کے پاس سوزوکی پک اپ تھی جس میں وہ ضلع بھر سے دودھ کے ڈبے بھر کر نواب شاہ شہر میں لاتے تھے اور ہوٹلوں، گھروں اور دودھ فروشوں کو فروخت کرتے تھے لیکن 2008ء میں جب حاجی علی حسن زرداری نے غیر اعلانیہ طورپر محکمہ آبپاشی کو سنبھالا ،اُس وقت سے لے کر اب تک وہ کھرب پتی بن چکے ہیں جب انہوں نے دیکھا کہ نیب اور دیگر تحقیقاتی اداروں کی نظر میں آئے تو وہ فوری طورپر لندن چلے گئے جہاں اطلاعات کے مطابق انہوں نے برطانیا کی شہریت لے لی ہے لیکن وہ زیادہ تر وقت دبئی میں گزار رہے ہیں۔ حاجی علی حسن زرداری نے محکمہ آبپاشی کا بیڑا غرق کردیا ہے۔ وہ محکمہ آبپاشی کے ٹھیکے فرضی کمپنیاں بناکر خود لے رہے ہیں ۔ اُنہوں نے اپنا فرنٹ مین اقبال احمد شیخ کو بنا رکھا ہے جو پہلے سب انجینئر تھامگر ساتھ ساتھ چھوٹے ٹھیکے لیتا تھا مگر آج کل اقبال شیخ
بھی ارب پتی بن چکا ہے، کل جو سب انجینئر تھا اور چھوٹا ٹھیکیدار تھا آج وہ اربوں روپے کے ٹھیکے اپنے نام لیتا ہے اور چیف انجینئرز کی پوسٹنگ کراتا ہے۔ حاجی علی حسن زرداری کاوہ دایاں ہاتھ بنا ہوا ہے ۔ رواں سال کے شروع میں ظہیر حیدر شاہ کو حاجی علی حسن زرداری نے روہڑی کینال کے 6 ارب روپے کے ٹھیکے میں سست روی کرنے پر ہٹایا ۔ حالانکہ ان کی ریٹائرمنٹ میں ڈیڑھ ماہ کا وقت باقی تھا اور اس وقت احمد جنید میمن کو نیا سیکریٹری آبپاشی بنادیا گیا۔ حاجی علی حسن زرداری نے اقبال شیخ کے کہنے پر احمد جنید میمن کو اس لیے سیکریٹری آبپاشی بنایا کیونکہ وہ نیب کے ریفرنس کا سامنا کررہے تھے، اُن کو نیب نے گرفتار بھی کیا تھا اور چار ماہ بعد رہا ہوئے تھے مگر سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ نان کیڈر افسران کو سیکریٹری کے عہدے سے ہٹایا جائے تو احمد جنید میمن کو ہٹانا پڑا پھر نوابشاہ سے تعلق رکھنے والے جمال مصطفی شاہ کو سیکریٹری آبپاشی لگادیا گیا۔ یہ تعیناتی اقبال شیخ کی سفارش پر حاجی علی حسن زرداری نے کی تھی حالانکہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قطعی طورپر جمال مصطفی شاہ کوپسند نہیں کرتے کیونکہ جمال مصطفی شاہ مراد علی شاہ کی بہن کو طلاق دے چکے ہیں مگر حاجی علی حسن زرداری کے سامنے مراد علی شاہ نے خاموشی اختیار کرلی۔ چند ہفتوں میں جب نئے سیکریٹری مصطفی جمال شاہ نے اپنی مرضی سے فیصلے کرنا شروع کیے تو ایک مرتبہ پھر اقبال شیخ کی تجویز پر حاجی علی حسن زرداری نے محکمہ آبپاشی میں اسپیشل سیکریٹری کی نئی اسامی پیدا کی اور احمد جنید میمن کو اسپیشل سیکریٹری بنادیا گیا۔ احمد جنید میمن کو ٹھیکوں، ادائیوں اور محکمہ جاتی فنی معاملات کا سربراہ بنادیا گیا اور سیکریٹری آبپاشی جمال مصطفی شاہ کو صرف افسران کی تقرریوں اورتبادلوں تک محدود کیا گیا ہے جس کے باعث محکمہ آبپاشی میں اندرونی طورپر کھنچائو نظر آنے لگا ہے۔ حاجی علی حسن زرداری دبئی میں لارڈ بنے بیٹھے ہیں اور وہاں سے اقبال شیخ کے ذریعہ پورے محکمے کو چلارہے ہیں۔ اب تو محکمہ آبپاشی میں کلرک کا تبادلہ ہوتا ہے تو اس کے لیے بھی اقبال شیخ کے ذریعہ حاجی علی حسن زرداری سے منظوری لی جاتی ہے اور اس اہم محکمہ کے تمام معاملات سے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو دور رکھا گیا ہے جس کے باعث غیر یقینی کی کیفیت میں اضافہ ہورہا ہے۔


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر