... loading ...
جب سے میڈیا آزاد ہوا ہے اور الیکٹرانک میڈیا تیزی سے ترقی کرنے لگا ہے تو کئی اچھی چیزیں بھی ہوئی ہیں، کئی اہم کیس اعلیٰ عدالتوں اور حکومتوں نے حل بھی کیے ، مظلوم کی داد رسی بھی ہوئی ہے اور ظالم کے لیے اب اتنا آسان نہیں ہے کہ وہ نا انصافی اور زیادتی کرے اور پھر وہ معاملہ چھپ جائے۔ لیکن بعض اوقات میڈیا بھی بات سے بتنگڑ بنانے میں دیر نہیں کرتا۔ پچھلے چند برسوں سے ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغوا اور زبردستی کی شادیوں کے تذکرے میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں لیکن کسی نے اس اہم ایشو کی تحقیقات نہیں کی۔ اور پھر روزانہ ایک نئی کہانی میڈیا میں آجاتی ہے، کسی بھی معاشرے میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی کی زور زبردستی شادی کر دی جائے اور معاملات میڈیا میں آجائیں تو اس پر کوئی کارروائی نہ ہو؟ قیام پاکستان سے قبل متحدہ بھارت میں بھی ہندو لڑکیاں لڑکے مسلمان ہوتے تھے، اُس وقت بھی میڈیا اور ہندو برادری شور شرابہ کرتی تھی۔ ایک سکھ نوجوان بوٹا سنگھ نے ضلع سکھر (موجودہ گھوٹکی) کے شہر ڈہرکی کے قریب بھرچونڈی شریف کے بانی حافظ محمد صدیق رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ آکر بیعت کرکے مسلمان ہونے اور اپنا نام عبید اللہ سندھی رکھنے کا اعلان کیا حالانکہ عبید اللہ ایک سکھ تھے ،اس لحاظ سے پنجابی تھے لیکن ایک سندھی بزرگ کے ہاتھوں مسلمان ہو کر اپنے نام کے ساتھ سندھی لکھا اور مرتے دم تک وہ خود کو عبید اللہ سندھی کہلاتے رہے ۔پھر وہ اس پائے کے عالم ہوئے کہ جب جلا وطن تھے تو ریشمی رومال تحریک کی حمایت کی ،افغانستان ، سوویت یونین ، ترکی اور سعودی عرب میں جاکر اسلام کا پیغام پھیلا یا،عبید اللہ سندھی کے بعد پھر بھرچونڈی شریف میں اب تک ہزاروں لاکھوں افراد مسلمان ہوئے ہیں ۔قیام پاکستان سے قبل بھی ہندو مرد اور ہندو عورتیں بھرچونڈی شریف میں مسلمان ہوتے رہے۔ پھر ضلع شکار پور کی درگاہ امروٹ شریف میں بھی ہزاروں کی تعداد میں غیر مسلم کلمہ طیبہ پڑھ کر مسلمان ہوئے۔ پھر سامارو میں پیر ایوب جان سرھندی نے بھی ہزاروں افراد کو مسلمان کیا ہے۔ ہندو لڑکیاں گھر سے کیوں بھاگتی ہیں؟ اور پھر مسلمان ہو کر شادی کرلیتی ہیں؟ اس کی جب تحقیقات کی جائے تو حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ جزئیات کے ساتھ جائزہ لیا جائے توپتہ چلتا ہے کہ ہندو برادری میں جہیز کی لعنت زیادہ ہے، سینکڑوں لڑکیاں بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہوگئی ہیں کیونکہ ان کے ماں باپ کے پاس بھاری بھرکم جہیز نہیں تھا ،اس لیے وہ شادی نہ کرسکیں ۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہندوئوں میں اپنی ذات میں شادی نہیں کی جاتی ظاہر ہے کہ اپنی برادری سے دور شادی ہوگی تو ایک دوسرے کو پہنچانے میں مشکلات ہوگی۔ تیسرا ہندو برادری میں پنچائت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے لیکن پنچائت اس اہم ایشو پر کوئی حکمت عملی نہیں بنا سکی ہے اگر پنچائت یہ فیصلہ کردے کہ جہیز کے بغیر شادیاں کرائی جائیں تو فوری طور پر نصف مسائل حل ہو جائیں گے۔ چوتھا اہم ایشو یہ ہے کہ ہندو برادری میں گھٹن زدہ ماحول ہے، نوجوان لڑکیاں صرف گھر ، قریبی رشتہ دار اور مذہبی عبادت گاہ تک محدود رہ جاتی ہیں ،سندھ میں رہنے والے 99 فیصد ہندو کسی مسلمان کے ساتھ فیملی روابط نہیں رکھتے بلکہ وہ دوستی یا رشتہ مردوں کی حد تک محدود رکھتے ہیں۔ جب ایسے مسائل سامنے ہوں گے تو پھر ان ہندو نوجوان لڑکیوں میں فطری طور پر بغاوت پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے نام نہاد اصولوں اور ضابطوں کو توڑ دیتی ہیں اور پھر جب وہ مسلمان ہو کر شادیاں کرتی ہیں تو اس قدر مضبوط ارادے والی لڑکی ثابت ہوتی ہیں کہ شاید ایسی قوت ارادی کی لڑکیاں مسلمان بھی نہ ہوں۔ وہ جن مسائل کا سامنا کرچکی ہوتی ہیںجس سے بغاوت کے بعد دوبارہ ان ہی مسائل کا سامنا کرنے سے صاف انکار کرتی ہیں۔2013-14 میں ضلع گھوٹکی کی رنکل کماری کی کہانی سپریم کورٹ تک گئی۔ سندھی میڈیا نے زمین آسمان ایک کردیا۔ لیکن رنکل کماری جب سپریم کورٹ گئی تو صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ وہ برضا وخوشی مسلمان ہوئی ہے اور ایک مسلمان نوجوان سے شادی کی ہے اس وقت سینیٹر ہری رام کشوری لال کی سربراہی میں چھان بین کمیٹی بنائی گئی جس نے ایک تاریخی رپورٹ دی جو اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کو پیش کی گئی جس میں انہوں نے ہندو لڑکیوں کی مسلمان ہو کر شادیاں کرنے کے معاملے کو معاشی مسئلہ قرار دیا یعنی جہیز کو جڑ قرار دیا۔ ان تمام عوامل کو دیکھا جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہندو لڑکیوں کو اغوا کرنا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ ہندوئوں کی رہائش گاہیں الگ حویلیوں کی مانند ہیں، وہاں کسی مسلمان کا آنا جانا ممکن ہی نہیں ہے پھر ہندوئوں کے مسلمانوں کے ساتھ فیملی روابط نہیں ہوتے ایسے میں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک مسلمان نوجوان مرد جاکر ہندو برادری کی لڑکی اغوا کرے؟ اور پھر اس کو مسلمان کرکے شادی کرے؟ مسلمان لڑکیاں بھی پسند کی شادی کرتی ہیں لیکن اس میں بھی 15 سے 20 فیصد لڑکیاں اپنے شوہر کو چھوڑ کر واپس ماں باپ کے پاس چلی جاتی ہیں لیکن ایک بھی ہندو لڑکی آج تک واپس ماں باپ کے پاس نہیں گئی قیام پاکستان سے لے کر آج تک ان ہندو لڑکیوں کی بغاوت کو کوئی نہیں روک سکا ہے، آگے کیسے روکی جائے گی؟ ہندو برداری کا فرض ہے کہ وہ اپنے اصل معاملات حل کرے تو شاید لڑکیاں مسلمان ہوکر شادیاں نہیں کریں گی۔
سندھ ہائی کورٹ حیدر آباد کے ایک رکنی بینچ نے حال ہی میں اپنا مذہب تبدیل کرنے والی گل ناز شاہ (رویتا) کو اپنے شوہر نواز علی شاہ کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔
ہندو لڑکی کی جبری مذہب کی تبدیلی اور پھر مسلمان لڑکے سے شادی کے کیس کی سماعت کرنے والے ہائی کورٹ کے جج پہنور گل ناز نے لڑکی کے وکیل اور لڑکی کے والد سترام میگھوار کے وکیل کے دلائل کو کھلی عدالت میں سنا اور بعد ازاں اپنا فیصلہ سنایا۔گل ناز اور ان کے شوہر کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ گل ناز اسلامی قوانین کے مطابق بلوغت کی عمر کو پہنچ چکی ہے لہٰذا اس کی شادی ممکن ہے۔ایک روز قبل ہی گل ناز نے عدالت کو بتایا تھا کہ اس نے اپنی مرضی اسلام قبول کیا ہے اور اپنی خوشی سے کلمہ پڑھا۔
رویتا میگھوار(گل ناز) نے 16جون کو اسلام کوٹ میں مقامی صحافیوں کو بتایا تھا کہ اسے اغوا نہیں کیا گیا تھا بلکہ وہ اپنی مرضی سے نواز علی شاہ کے ساتھ گئی تھیں جبکہ انھوں نے اپنے اور اپنے شوہر کی حفاظت کا مطالبہ بھی کیا تھا۔گل ناز نے اپنے والدین سے اپیل کی کہ اسے اپنے شوہر کے ساتھ خوشی سے رہنے دیا جائے۔20 جون کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گل ناز نے اپنی برادری کے افراد اور سول سوسائٹی کے ارکان سے درخواست کی کہ اس معاملے کو مزید بڑھاوا دینے سے روکا جائے۔اس کا کہنا تھا کہ ‘وہ نواز علی شاہ سے شادی کرکے بہت مطمئن اور خوش ہے اور اب اپنے شوہر کے بغیر نہیں رہ سکتی۔
فیصلے بند کمروں میں نہیں پارلیمانی فورم پر کھل کر مشاورت کرنی چاہیے،قومی یکجہتی کیلئے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوری عمل ناگزیر ہیں، غلط فیصلوں کی مخالفت کی جائے گی، سربراہ جے یو آئی خیبر پختونخوا حکومت بے اختیار ،اہم فیصلے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں،موجودہ حکومت دھاند...
خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کرینگے جس میں ہمارا نقصان ہو، میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا، 5 ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا،وزیراعلیٰ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاق کی ذمہ داری ،جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے...
سیاست سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا پاکستان کے اندر تمام اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، میڈیا نمائندگان سے ملاقات سیکیورٹی ذرائع نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے پاک فوج کے حوالے سے حالیہ بیان کو ان...
ہم حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن ان کی پالیسی کا حصہ نہیں، شازیہ مری سولرپینل صارفین کیساتھ دھوکا ، وہ کیسے اپنا نقصان پورا کریں گے؟میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی نے نیپرا کے نئے سولر نیٹ میٹرنگ قواعد پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئ...
دہشتگردوں نے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے بنوں میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی آئی جی سجاد خان کے مطابق دہشت گردوں نے رات گئے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے۔ سجاد خان نے بتایا...
شہری خود پریشان ، شہر بھر میں گوشت فروشوں کی من مانے نرخ وصولی انتظامیہ کی کارروائیاں بے سود، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا شہری خود ساختہ مہنگائی سے پریشان ہیں، دکانوں پر مٹن، بیف اور چکن کی قیمتیں بے قابو ہو گئیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں مؤثر دکھائی نہیں ...
جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے شہر کو جرائم سے پاک کرنے کی کوششیں جاری ہیں، دہشتگرد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میںزیادہ کارروائیاں کر رہے ہیں،ایڈیشنل آئی جی فرانزک لیب کی سہولت میں وقت لگے گا ، پراجیکٹ کی تکمیل میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے، فتنہ الخوارج اور فتن...
امن ہوگا تو خوشحالی آئیگی، صوبے کے عوام کے حقوق کیلئے ہر شخص کے ساتھ بیٹھوں گا خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے،ہم ڈرنے والے نہیں ،کانووکیشن سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے، صوبے کے عوام کے حقوق کے...
پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت منعقد ہوگا شہباز شریف دورہ جرمنی مکمل کرنے کے بعد وہیں سے واشنگٹن روانہ ہو جائیں گے وزیراعظم شہباز شریف غزہ پیس بورڈ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ذرائع کے مطابق غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ...
8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...
اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...
دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...