وجود

... loading ...

وجود

خلیجی تاجرقطر پر پابندیوں کے خلاف میدان میں آگئے

منگل 20 جون 2017 خلیجی تاجرقطر پر پابندیوں کے خلاف میدان میں آگئے


سعودی عرب کی جانب سے قطر کے خلاف اچانک پابندیوں کے اعلان اور چھ خلیجی ممالک کی جانب سے سعودی عرب کے اس فیصلے کی حمایت میں قطر سے تعلق منقطع کرنے کے منفی اثرات اب قطر سے زیادہ خود خلیجی ممالک میں محسوس کئے جانے لگے ہیں اور خلیجی ممالک کے عوام اور خاص طورپر تاجروں نے ان پابندیوں کو بلاوجہ اور بلاضرورت قرار دے کر اس کے خلاف آواز اٹھانا شروع کردی ہے ۔ خلیجی تاجروں کاکہناہے کہ سعودی عرب کی جانب سے قطر پر دہشت گرد تنظیموں کی مدد اور اعانت کے جو الزامات عاید کئے گئے ہیں وہ خلیج کی کسی بھی ریاست اور خود سعودی عرب کے حکمرانوں پربھی عاید کئے جاسکتے ہیں کیونکہ تیل کی دولت سے مالامال خلیجی ریاستیں اور خود سعودی عرب مختلف ممالک میں کام کرنے والی ایسی تنظیموں کی معاونت کرتی رہی ہیں اور اب بھی کررہی ہیں جن کو ان کے اپنے ممالک میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا اور ان پر خود ان کے اپنے ممالک میں انتہاپسندی کے الزامات عاید کئے جاتے رہے ہیں۔
خلیجی تاجروں نے قطر کے خلاف ناکہ بندی اور اس سے قطع تعلق کئے جانے کے خلاف اپنی آواز سعودی عرب کے شاہی خاندان اور ارباب حکومت تک پہنچانے کیلئے دیگر ذرائع استعمال کرنے کے ساتھ ہی اب امریکا اور دیگر ممالک کے اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات شائع کرانا شروع کردیے ہیں جن میں قطر کے خلاف سعودی حکومت کی کارروائی کو دو حکمراں خاندانوں کے درمیان خاندانی لڑائی قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
بزنس پیپل آف دی عرب ورلڈ ایٹ دی ریٹ آف جی میل ڈاٹ کام کی جانب سے گزشتہ روز نیویارک ٹائمز کے انٹرنیشنل ایڈیشن میں چوتھائی صفحہ کا ایک ایسا ہی اشتہار شائع کرایاگیاہے جس میں قطر کی ناکہ بندی ختم کرنے اور اس پر سے پابندیاں اٹھانے کامطالبہ کیاگیاہے۔اشتہار میں کہاگیاہے کہ سعودی عرب کی زیر قیادت قطر کو تنہا کرنے کی مہم کو اس سے پہلے کہ اس سے بڑا نقصان ہوجائے، ختم ہوجانا چاہئے۔اشتہا ر میں کہاگیاہے کہ ان پابندیوں اور ناکہ بندیوں سے صرف قطر ہی کونقصان نہیں پہنچ رہا ہے بلکہ اس سے تمام خلیجی ممالک اور برادر عرب ممالک کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کاخدشہ ہے۔
عرب ممالک کے تاجروں کی جانب سے نیویارک ٹائمز میں شائع کرائے جانے والے اشتہار میں کہاگیاہے کہ قطری اور سعودی، بحرین اورمتحدہ عرب امارات کی قیادت کے درمیان بعض اختلافات کی بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی ہے ، یہ اختلافات اہم ہیں لیکن ان کی تفصیلات اتنی زیادہ اہم نہیں ہیں اور ان تفصیلات سے معلوم ہوتاہے کہ یہ حکمران خاندانوں کے آپس کے اختلافات ہیں۔اشتہار میں لکھا گیاہے کہ اس خطے کے تمام ممالک نہ صرف مذہب ، ثقافت ،زبان اور کھلی سرحدوں کے حامل ملک ہیں بلکہ اس پابندی سے قبل تک قطر اس خطے کے دو اہم اتحادوں خلیج تعاون کونسل اور عرب لیگ کافعال رکن بھی تھا،ان تمام ممالک کی تاریخ اور شاہی روایات بھی یکساں ہیں،یہی نہیں بلکہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کویت اور اومان کے لوگوں کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں یہاں تک کہ ان کے حکمراں خاندانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ شادیاں بھی کررکھی ہیں۔ایسی صورت میں خلیج تعاون کونسل کے ایک رکن کو اس طرح یکا وتنہا کرنے کی پالیسی سے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے لاکھوں شہری اور ان ممالک میں کام کرنے والے, روزگار کمانے والے لاکھوں سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ بھی جو برسہا برس خلیج کے اس معاشرے میں ایک دوسرے کی خدمت کررہے ہیں بری طرح متاثر ہوں گے۔اس کے علاوہ خلیج کے کم وسیلہ اور نسبتاً غریب ممالک کیلئے اس خطے کے باوسیلہ اور دولت مند ممالک کی فراخدلی بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔اس میں غیر ضروری کمی سے غریب بھائیوں کیلئے دولت مند بھائیوں کی امداد میں کمی اور غریب بھائیوں کی مشکلات اور مصائب میں اضافہ ہوگا۔اس صورت حال میں خلیج کے تمام ارکان کاجن کی حیثیت ایک خاندان کی سی ہے یہ فرض ہے کہ وہ قبل اس کے کہ اس ناکہ بندی اور پابندیوں کے منفی اور تباہ کن اثرات نظر آنا شروع ہوں, آپس کے اختلافات ختم کرانے کیلئے کوششیں شروع کردینی چاہئیں اور یہ اختلافات ختم کرکے یہ ثابت کرنا چاہئے کہ ہم سب ایک ہی خاندان کے فرد ہیں اور ہمیں کوئی تقسیم نہیں کرسکتا۔اشتہار میںکہاگیاہے کہ باہمی اختلافات ختم کرنے کے ان اقدامات سے اس خطے کے تمام بھائیوں, تمام مکینوں کو بلالحاظ فائدہ پہنچے گا۔
اشتہار میں کہاگیاہے کہ بچوں اور چھوٹوں کے درمیان عام طورپر اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں لیکن بچے چھوٹے ہی ہوتے ہیں وہ خاندان کاحصہ ہوتے ہیں اور ان اختلافات کی بنیاد پر ان کو خاندان سے علیحدہ نہیں کیاجاسکتا۔اشتہار میں کہاگیاہے کہ یہ اختلافات ختم کرنے کا واحد مناسب ذریعہ مذاکرات ہیں۔اگر تمام ممالک مذاکرات پر تیار ہوجائیں جس کی کوششیںکویت نے شروع کردی ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ تمام اختلافات پرامن طورپر ختم نہ ہوجائیں اور خلیج تعاون کونسل اور عرب لیگ کااتحاد بچ جائے ،محفوظ رہے اورخلیج کے تمام ممالک کی اپنی خودمختاری اور وقار پر بھی کوئی آنچ نہ آئے۔ اشتہار میں کہاگیاہے کہ خطرہ اس بات کا ہے کہ اگر یہ تادیبی عمل تادیر جاری رہتاہے تو باہمی اختلافات گہرے ہوتے جائیں گے, جڑ پکڑ تے جائیں گے, غلط فہمیاں گہری ہوتی جائیں گی ،فاصلے بڑھتے جائیں گے اور پھر انھیں حل کرنا آسان نہیں رہے گا۔اشتہار میں کہاگیاہے کہ ایسا ہونا شروع ہوچکاہے ، قطر کی ناکہ بندی کے منفی اثرات سامنے آنا شروع ہوچکے ہیںاور صورت حال تیزی سے خطرناک شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔قطر کے بحری ،بری، فضائی مقاطع یہاں تک کہ قطر اور خلیجی ممالک کے درمیان ڈاک سروس کی بندش کی وجہ سے بچے اپنے والدین سے بچھڑ گئے ہیں ،اس سے بین الاقوامی فضائی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہورہی ہے اور خلیجی ممالک کے درمیان تجارت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہاہے۔سرحدوں کے دونوں جانب رہنے والے لاکھوں لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق پامال ہورہے اورلاکھوں افراد کے مسائل ومصائب میں اضافہ ہورہاہے۔تاجروں نے اپنے اشتہارات میں لکھاہے کہ قطر کے خلاف پابندیوں کے حوالے سے بعض اتنے سخت اقدامات کئے گئے ہیں جو تقسیم برلن کے وقت بھی دونوں جانب کے لوگوں پر عاید نہیں کئے تھے جبکہ یہ دونوں ملک نظریاتی طورپر ایک دوسرے کے شدید مخالف تھے۔
اشتہارات میں تاجروں نے موقف اختیار کیاہے کہ سوال یہ نہیں ہے کہ آپس کے بھائیوں کے اس تنازع کو کس طرح طے کیاجاسکتاہے کیونکہ بنیادی طورپر خلیج کے تمام ممالک ایماندار ہیں ،ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تاریخی طورپر مذہب ، ثقافت اور زبان کے مضبوط بندھنوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ اگر کچھ اختلافات پید ا ہوگئے ہیں تو وہ فروعی نوعیت کے ہیں اور انھیں دور کرنا بہت مشکل کام نہیں ہے۔تاجروں نے اشتہار میں لکھاہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ خلیج کے تمام ممالک تیل وگیس کی دولت سے مالامال ہیں، یہ درست ہے کہ ان میں سے بعض ممالک کی تیل کی دولت ختم ہورہی ہے لیکن دیگر ممالک اب بھی اس دولت سے فائدہ اٹھارہے ہیں اور ان کو ہونے والی تیل کی اس آمدنی سے خلیج کے دیگر تمام ممالک ہی نہیں بلکہ خلیج سے باہر کے ممالک بھی استفادہ کررہے ہیں۔تیل کی اس دولت نے خلیج کے ممالک کو بے مثال صنعتی ترقی کاموقع فراہم کیاہے اور آنے والی نسلیں بھی اس سے استفادہ کرتی رہیں گی،مختصر یہ کہ خلیج تعاون کونسل کابنیادی مقصد اپنے اتحاد کو اپنے وجود کو محفوظ کرناہے تاکہ کوئی بیرونی قوت اس اتحاد کوپارہ پارہ کرکے ان کے وجود کو نقصان پہنچانے کے درپے نہ ہوسکے اوراس کونسل کے تمام ممالک اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی نعمتوں سے استفادہ کرتے رہیںاور اپنے دوستوں تک اس کافیض پہنچاتے رہیں۔
اشتہا ر میں کہاگیاہے کہ پوری دنیا میں خلیج کے تمام دوست ممالک اور کثیر الملکی ادارو ں کی ایک ہی رائے ہے کہ خلیج کے اس تنازع کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی نکل سکتاہے، اس مسئلے پر محاذ آرائی اس خطے کے کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہوگی۔اس صورت حال نے اس خطے کے دیگر تمام ممالک کو مشکل صورت حال سے دوچار کردیاہے ان کیلئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیاہے کہ وہ کس کی حمایت کریں اور کس کی مخالفت یا اس پوری صورت حال پر خاموش تماشائی بن کر دیکھتے رہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتاہے۔صورت حال اس حد تک نازک ہوچکی ہے کہ لبنان اور دیگر ممالک کے گرجا گھروںمیںبھی اس صورت حال کے پرامن تصفیے کیلئے دعائیں کی جانے لگی ہیں۔اگر اس مسئلے کا کوئی پرامن حل نہ نکالاجاسکا تو پوری خلیج تعاون کونسل کاوجود بے معنی ہوکر رہ جائے گا، اوراس کی حیثیت ایک کاغذی تنظیم سے زیادہ نہیں رہے گی ۔
اس صورت حال میں کویت کی حکومت قابل تعریف ہے کہ اس نے اس مشکل صورت حال کے باوجود تصفیہ کرانے کی کوششیں شروع کردی ہیںاور اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ کویت کی ان کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔کویت کی ان کوششوں کے نتیجے میں قطر کی ناکہ بندی کرنے والے بعض ممالک نے انسانی بنیادوں پر کچھ رعایتیں دینے کا عندیہ ظاہر کرنا شروع کردیاہے جو کہ موجودہ صورت حال میں ایک بڑی کامیابی ہے اوراس سے سعودی حکومت کے نادر شاہی فرمان کے سبب دونوں جانب پھنسے ہوئے لاکھوں لوگوں کے مسائل ومصائب میں کسی حد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔اس صورت حال میں قطر کو کچھ رعایتیں دینے کاعندیہ دینے والے حکام یقینا لائق ستائش ہیں۔کویت کی کوششوں کے ان ابتدائی نتائج سے مذاکرات کی اہمیت کااندازہ لگایاجاسکتاہے اوراس سے ظاہر ہوتاہے کہ اس موجود کشیدگی میں کمی کرنے اور اس کاخاتمہ کرنے کاواحد راستہ مذاکرات ہیں۔
اشتہار میں کہاگیاہے کہ یہ بات واضح ہے کہ قطر پرسے پابندیاں ہٹانے سے سعودی عرب سمیت اس ناکہ بندی میں سعودی عرب کاساتھ دینے والے تمام ممالک کو بے انتہا فوائد حاصل ہوں گے جبکہ یہ صورت حال جاری رہنے کی صورت میں ان تمام ممالک کو اس کے منفی اور تباہ کن اثرات سے محفوظ رکھنا ممکن نہیں ہوسکے گا۔قطر کو تنہا کرنے کیلئے اچانک اٹھائے جانے والے اس قدم سے اس کی سنگینی کا اندازہ ہوتاہے اس لئے اب اس صورت حال کو ختم کرنے اور کشیدگی کاخاتمہ کرنے کیلئے فیصلہ کن قدم اٹھانا ضروری ہوگیاہے۔ اس سے خطے کے تمام ممالک میں خیرسگالی کا جذبہ بڑھے گا اور اس سے باہمی اتحاد کے ماحول کو بحال کرنے میں نمایاں مدد ملے گی۔جبکہ اس صورت حال کو طول دینے سے کسی کوبھی کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔اس صورت حال کے تحت عرب دنیا کے تاجر مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کے دیرپا حل کے حامی ہیں اور تمام عرب اور خلیجی ممالک سے امید کرتے ہیں کہ وہ سنجیدگی اور متانت کامظاہرہ کرتے ہوئے اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کریں گے اور اس حوالے سے کویت کی جانب سے شروع کی گئی کوششوں کوکامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر