وجود

... loading ...

وجود

کیاایٹمی ہتھیارپاک بھارت جنگ کا خطرہ ٹالنے کے لیے بھی مؤثر ہیں؟؟

هفته 17 جون 2017 کیاایٹمی ہتھیارپاک بھارت جنگ کا خطرہ ٹالنے کے لیے بھی مؤثر ہیں؟؟

دنیا کے جن ممالک نے جوہری ہتھیار بنائے، اْن کا جواز یہی رہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی موجودگی سے جوہری ہتھیاروں کے حامل مخالف ممالک کے ساتھ جنگ کا خطرہ ٹل جاتا ہے۔ عرف عام میں اسے نیوکلیئر ڈیٹرنس کہا جاتا ہے۔ یہ بات بڑی حد تک درست بھی ہے۔ مثلاً جوہری ہتھیاروں کے حامل ملک برطانیہ اور فرانس میں جنگ کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ان دونوں ممالک میں کوئی سرحدی تنازع بھی موجود نہیں ہے لہذا ان ممالک میں جوہری ہتھیاروں کی موجودگی مؤثر طور پر جنگ کے کسی خطرے کو ٹالنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ ان حالات میں یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ ان دونوں ممالک کے پاس کتنی زیادہ یا کتنی کم تعداد میں جوہری ہتھیار موجود ہیں۔
لیکن جنوبی ایشیا میں صورت حال یکسر مختلف ہے۔ بھارت اور پاکستان دونوں کے پاس 100 سے زائد جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ تاہم ان دونوں ممالک کے درمیان کشمیر کا سرحدی تنازعہ موجود ہے جس کی وجہ سے کئی مرتبہ بھارت اور پاکستان مکمل جنگ کے دہانے تک پہنچ چکے ہیں۔پھر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے بعد اس خطے میں ان ہتھیاروں کی حفاظت اور سلامتی سے متعلق امریکااور دیگر ملک پوری طرح مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔ خاص طور پر امریکا کو یہ خدشہ ہے کہ پاکستان یا بھارت سے جوہری ہتھیاروں کے کچھ حصے یا مکمل ہتھیار غیر ریاستی عناصر کے ہاتھ لگ سکتے ہیں جن سے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ قریبی علاقوں میں ایسی تباہی کا امکان پیدا ہوتا ہے جس کے اثرات کئی دہائیوں تک رہ سکتے ہیں۔ جنوبی ایشامیں جوہری ہتھیاروں کے بارے میں امریکا کی یہ تشویش بیجا نہیں ہے کیونکہ امریکی حکام یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ بھارت اس خطے میں اپنی بالادستی ثابت کرنے کیلئے کسی حد تک بھی جاسکتاہے۔
یہی وجہ ہے کہ بیرونی دنیا بھارت اور پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں شدید دلچسپی رکھتی ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے غلط استعمال کا خطرہ محض جنوبی ایشیا تک ہی محدود نہیں رہا۔ جزیرہ نما کوریا میں بھی شدید نوعیت کے خطرات موجود ہیں کیونکہ شمالی کوریا کے بارے میں بھی یہ تاثر ہے کہ وہ جارحانہ انداز میں جوہری ہتھیاروں اور اْن کے استعمال کیلئے جدید میزائلوں کی تیاری میں مصروف ہے۔ تاہم جس بات کا خوف شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ اگر نیوکلیئر ڈیٹرنس کسی وجہ سے بے اثر ہو جاتا ہے اور جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک میں روایتی ہتھیاروں کی جنگ ہوتی ہے جس میں ایک فریق دوسرے پر حاوی ہوتا ہے تو دوسرا فریق جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا آپشن استعمال کر سکتا ہے۔ یہ بعض حلقوں کیلئے انتہائی خوفناک صورت حال ہے اور امریکا میں بہت سے حلقے محسوس کرتے ہیں کہ اس صورت حال کے امکانات جنوبی ایشیا میں بھرپور انداز میں موجود ہیں۔
امریکا کے معروف تھنک ٹینک یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ فار پیس (USIP) کے جنوبی ایشیا سے متعلق پروگرام کے ڈائریکٹر معید یوسف کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا یا کسی دیگر خطے میں کسی بھی قسم کے جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے ہونے والی تباہی ساری دنیا کیلئے اس قدر زیادہ ہو گی جس کا تصور کرنا بھی محال ہے۔ اس بارے میں امریکا کو لاحق ہونے والی تشویش کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے امریکا کو اپنے اْن شہریوں کے بارے میں تشویش ہے جو خاصی تعداد میں بھارت یا پاکستان میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے دنیا بھر میں ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی بھی امریکا کیلئے باعث تشویش ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کسی ممکنہ ایٹمی جنگ کی صورت میں دنیا مکمل طور پر بدل کر رہ جائے۔ یہ پہلے جیسی قطعاً نہیں رہے گی۔
اْدھر کارنیگی اینڈاؤمنٹ فار انٹرنیشنل پیس سے وابستہ محقق ٹوبی ڈالٹن کو تشویش ہے کہ بھارت اور پاکستان میں کسی بحرانی کیفیت کے دوران جوہری ہتھیاروں کے بارے میں غیر دانشمدانہ یا غلط فہمی پر مبنی فیصلے سے نیوکلیئر ڈیٹرنس کے زائل ہو جانے کا شدید خطرہ بھی موجود ہے۔ یوں جنوبی ایشیا میں نیوکلیئر ڈیٹرنس کے ناکام ہوجانے کے خطرے سے امریکی حلقوں میں خاصی پریشانی پائی جاتی ہے۔ ٹوبی ڈالٹن کاکہنا ہے کہ ایسی کیفیت کسی تیکنکی غلطی، جوہری ہتھیاروں کے حفاظتی نظام میں کسی خرابی یا کمزوری، انسانی خطا یا کسی چین آف کمانڈ میں پیدا ہونے والی غلط فہمی سے جنم لے سکتی ہے اور امریکا میں اس بارے میں شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔
قائد اعظم یونیورسٹی کی پروفیسر ثانیہ عبداللہ کہتی ہیں کہ اگرچہ بھارت نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی کا اعلان کر رکھا ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں رہے گا کیونکہ اگر نوبت جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر پہنچ گئی تو ان کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی برقرار نہیں رہے گی۔ امریکا میں بہت سے حلقے بھی یہ تشویش محسوس کرتے ہیں۔
امریکا کی سابق معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا روبن رافل کہتی ہیں کہ جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کی موجودگی سے امریکا کو ہونے والی تشویش کی کئی وجوہات ہیں جن میں ایک بڑی وجہ یہ سوال ہے کہ کیا بھارت اور پاکستان کی طرف سے تیار کئے جانے والے جوہری ہتھیار فی الواقع بھارت اور پاکستان میں موجود رہیں گے اور انہیں دیگر ممالک کو فراہم نہیں کیا جائے گا؟ پھر ’’اسلامی بم‘‘ کا تصور بھی امریکا میں پریشانی کا باعث ہے۔ روبن رافل کے مطابق اس بات کا امکان موجود ہے کہ اگر پاکستانی میں اسلامی ریاست قائم ہو جاتی ہے تو وہ اپنے جوہری ہتھیار سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک کو بھی فراہم کر سکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ بھارت اور پاکستان دونوں بڑی حد تک غریب اور ترقی پزیر ممالک ہیں جہاں کروڑوں افراد اب بھی خط غربت کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ یوں امریکا کو تشویش ہے کہ اگر ترقی یافتہ اور امیر ملک ان دونوں کو مالی مدد فراہم کر رہے ہیں تو بھارت اور پاکستان کو مالی وسائل جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر صرف نہیں کرنے چاہئیں جن کی نہ تو ان دونوں ملکوں کو ضرورت ہے اور نہ ہی ان کی موجودگی خطے میں استحکام پیدا کر سکتی ہے۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر