وجود

... loading ...

وجود

کراچی مسائل کاجنگل ‘اداروں کی بھرمار،مسائل کے حل کی راہ میں رکاوٹ

بدھ 14 جون 2017 کراچی مسائل کاجنگل ‘اداروں کی بھرمار،مسائل کے حل کی راہ میں رکاوٹ

کراچی کو مسائل کاجنگل کہیں تو کچھ غلط نہیں ہوگا، دنیا کے چند گنجان آباد ترین شہروں میں شمار کیاجانے والے اس شہر کے مکین قدم قدم پر مسائل اور مشکلات کا شکار ہیں، اس شہر کے لوگوں کو نہ تو پینے کا صاف پانی میسر ہے ، نہ اس شہر میں سیوریج کا کوئی مناسب انتظام ہے، اور جہاں تک کوڑا کرکٹ اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا سوال ہے تو یہ نظام تو عرصہ ہوا اپنی افادیت کھوچکاہے اور اب اس شہر میں جابجا کوڑے کرکٹ کے ڈھیر ہی لگے نظر آتے ہیں۔کراچی کو مسائل کاجنگل کہیں تو کچھ غلط نہیں ہوگا، دنیا کے چند گنجان آباد ترین شہروں میں شمار کیاجانے والے اس شہر کے مکین قدم قدم پر مسائل اور مشکلات کا شکار ہیں، اس شہر کے لوگوں کو نہ تو پینے کا صاف پانی میسر ہے ، نہ اس شہر میں سیوریج کا کوئی مناسب انتظام ہے، اور جہاں تک کوڑا کرکٹ اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا سوال ہے تو یہ نظام تو عرصہ ہوا اپنی افادیت کھوچکاہے اور اب اس شہر میں جابجا کوڑے کرکٹ کے ڈھیر ہی لگے نظر آتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل کراچی میں پینے کے پانی اور سیوریج کے نظام کی خرابیوںاور اس کے اسباب کاجائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اجلاس میں ماہرین نے مسائل کاجائزہ لینے کے بعدیہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس شہر کے لوگوں کو درپیش مسائل کابنیادی سبب اس شہر کا بے ہنگم پھیلائو ہے، ماہرین نے مسائل کاجائزہ لینے کے بعد بتایا کہ چونکہ شہر میں رہائشی ضروریات میں اضافے کی وجہ سے اب یہ شہر افقی پھیلائوکی جانب گامزن ہے اور چھوٹے چھوٹے پلاٹوں پر جہاں پہلے ایک منزلہ مکان بنے ہوئے تھے اب 4-4 اور5-6 منزلہ تک عمارتیں تعمیر ہوچکی ہیں اور اس اعتبار سے پانی کی فراہمی اور سیوریج کی نکاسی کاانتظام موجود نہیں ہے اس لیییہ مسائل دن بدن سنگین صورت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ ماہرین کے اس تجزیئے کی روشنی میں 25 مئی کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا جس کے پاس کراچی کے ماسٹر پلان ڈیولپمنٹ کی اتھارٹی بھی موجود ہے اپنے ایک اجلاس میں کراچی میں گرائونڈ پلس ٹو یعنی 3 منزلہ سے زیادہ اونچی عمارتوں کی تعمیر پر فوری طورپر پابندی عاید کرکے مکانوں کے پورشن فروخت کرنے پر پابندی عاید کردی۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے یہ کارروائی سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی میں پانی اور سیوریج کے مسائل کے حوالے سے دیے گئے ایک حکم کی پیروی کرتے ہوئے کی۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اس فیصلے کی وجہ سے کراچی کے بے ہنگم افقی پھیلائو پر قابو پانے میں کسی حد تک مدد مل سکتی ہے اور اس سے شہر میں پانی اور سیوریج کے بڑھتے ہوئے مسائل میں اضافے کا سلسلہ کسی حد تک رک سکتاہے۔لیکن محض بلند وبالا عمارتوں کی تعمیر پر پابندی سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا کیونکہ اس طرح کے فیصلوں سے اس شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے  رہائش کامسئلہ زیادہ سنگین ہوجائے گا اور شہر میںجو پہلے ہی بے ہنگم کچی آبادیوں میں گھرا ہوا ہے مزید کچی آبادیاں وجود میں آناشروع ہوجائیں گی اور ظاہر ہے کہ ان متوقع نئی کچی آبادیوں کے مکینوں کو بھی چونکہ پانی اور سیوریج کی سہولتوں کی ضرورت ہوگی اس لیے یہ مسائل اپنی جگہ نہ صرف یہ کہ موجود رہیں گے بلکہ بے ہنگم کچی آبادیوں کے وجود میں آجانے کی وجہ سے مزید سنگین ہوجائیں گے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ شہر کے ماسٹر پلان کو وقت کی ضرورت کے عین مطابق بنایاجائے اور شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے اعتبار سے شہریوں کوپانی اور سیوریج کی سہولتوں کی فراہمی کی منصوبہ بندی کی جائے۔اس مقصد کے لیے پورے شہر کے لیے ایک بااختیار ادارہ قائم کیاجائے جو بلالحاظ زمینی ملکیت پورے شہر میں تعمیرات ،اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے منصوبہ بندی کرے اور اس ادارے کی منصوبہ بندی کے مطابق تعمیرات کی اجازت بھی ایک ہی ادارے کے تحت دی جائے تاکہ قوانین پر عملدرآمد کرانے میں کوئی قباحت نہ ہو اور اس شہر کو منظم انداز میں ترقی کرنے کاموقع مل سکے۔یہ ادارہ وقتا ً فوقتاً ماسٹر پلان پر نظر ثانی کرتا رہے اور شہر کی بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق اس میں ترمیم وتبدیلی کرتارہے۔ فی الوقت صورت حال یہ ہے کہ یہ شہر کسی ایک ادارے کے ماتحت نہیں ہے بلکہ شہر کے مختلف علاقوں کی منصوبہ بندی اور ان علاقوں کے لوگوں کوبنیادی سہولتوں کی فراہمی کی ذمہ داری مختلف بلدیاتی ، صوبائی ، وفاقی اور فوجی اداروں کے پاس ہے۔ظاہر ہے کہ ان میں سے ہر ادارہ اپنی صوابدید کے مطابق منصوبہ بندی کرتاہے اور اس طرح یہ پورا شہر ان اداروں کی کھینچ تان کی وجہ سے افراتفری کاشکار ہوگیاہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر بلدیات کے زیر انتظام علاقے میں کسی عمارت کی تعمیر پر پابندی عاید کی جاتی ہے تو اس سے ملحق کنٹونمنٹ کے زیر انتظام میں اس سے زیادہ بلند عمارت کی تعمیر کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سڑکوں کی مرمت اور تعمیر کے مسئلے پر ان اداروں کے درمیان حدود کے تنازعہ پر کھینچ تان جاری رہتی ہے، اگر بلدیہ اپنے علاقے میں کوئی سڑک تعمیر کرتی ہے تو اس کے برابر میں واقع کنٹونمنٹ کے علاقے میں سیوریج کے ناقص نظام کی وجہ سے گندہ پانی بلدیہ کی نئی تعمیر کی ہوئی سڑک پر پھیل کر سڑک کوناقابل استعمال بنادیتاہے۔ دوسری جانب شہر کاانتظام بھانت بھانت کے اداروں کے پاس ہونے کی وجہ سے یہ شہر زمینوں اورپراپرٹی کاکاروبار کرنے والوں کے لیے  ایک منفعت بخش کھیل کامیدا ن بن گیاہے اورمختلف تعمیراتی ادارے رشوت اوراثرورسوخ کی بنیاد پر شہر کے مختلف اداروں سے زمینیں الاٹ کراتے ہیں یا پرانی رہائشی اسکیموں کو کمرشل میں تبدیل کراکے ایک دومنزلہ عمارتوں کی جگہ 10-10 منزلہ پلازے تعمیر کرلیتے ہیں ظاہر ہے کہ ایک دومنزلہ عمارت کی جگہ 10 منزلہ عمارت کی تعمیر سے پانی اور سیوریج ،بجلی ،گیس ، پارکنگ اور دیگر بنیاد ی ضروریات بھی اسی قدر بڑھ جاتی ہیں لیکن کوئی ادارہ اس طرح عمارتوں کی تعمیر کی اجازت دیتے ہوئے دوسرے متعلقہ ادارے سے کوئی این او سی حاصل کرنا تو درکنار مشورہ تک کرنا گوارا نہیں کرتا۔اس طرح یہ شہر ایک لاوارث بچے کی شکل اختیار کرگیاہے جس سے فائدہ تو سب اٹھانا چاہتے ہیں لیکن اس کی ذمہ داری اٹھانے کو کوئی تیار نظر نہیں آتا۔ اس شہر کی سڑکوں کے فٹ پاتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کرپٹ افسران کی ملی بھگت سے باقاعدہ بازاروں میں تبدیل ہوچکے ہیں اور ان فٹ پاتھوں پر اب عام آدمی کے لیے چلنا محال ہوگیا ہے، شہر کے سب سے بڑے کاروباری مرکز صدر اب پتھاریداروں کے مکمل کنٹرول میں اور پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اس علاقے سے روزانہ کم وبیش 50 لاکھ روپے بھتے کی شکل میں وصول کرتے ہیں جس کی وجہ اس علاقے کو پتھاریداروں سے پاک کرنے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ تک کے احکامات ہوا میں اڑا دئے جاتے ہیں جب کسی اہم شخصیت کی اس طرف سے گزرنے کا امکان ہوتاہے تو عارضی طورپر گھنٹے دوگھنٹے کے لیے فٹ پاتھوں اور سڑکوں سے پتھارے ہٹادئے جاتے ہیں اور اس کے بعد وہی چال بے ڈھنگی ہوتی ہے، اور کراچی کے وال اسٹریٹ کادرجہ رکھنے والے آئی آئی چندریگر روڈکے فٹ پاتھو ں پر مکمل طورپر اس علاقے میں واقع بااثراخبارات اور میڈیا ہائوسز کا قبضہ ہے جو ان فٹ پاتھوں کو اپنے باپ کی ملکیت کی طرح اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ پیدل چلنے والوں کے لیے کوئی جگہ چھوڑنا بھی گوارا نہیں کرتے ،جبکہ ٹریفک پولیس اہلکار جو عام گاڑیوں کے رکتے ہی اس کاچالان کرنے کے لیے  دوڑتے نظر آتے ہیں ان کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں اور صاف کہتے ہیں کہ ہمیں نوکری کرنا ہے ان کی گاڑیاں ہٹوانے کامطلب نوکری سے ہاتھ دھونا ہوگا۔جب تک یہ صورت حال تبدیل نہیں ہوتی اور اس شہر کوکسی ایک بااختیار ادارے کے ماتحت کرکے اس شہر کے غریبوں امیروں اور بااثر تمام افراد کو ایک ہی قانون کاپابند نہیں بنادیاجاتا اس شہر کے مسائل صرف بلند عمارتوں کی تعمیر  پر پابندی عاید کرکے حل نہیں کئے جاسکتے ۔ امید ہے کہ سندھ کی حکومت اور بلدیہ کے نومنتخب میئر اس پر سنجیدگی سے توجہ دیں گے اور اختیارات کا رونا روکر اپنی ذمہ داریوں کو ایک دوسرے پر ڈالنے کی روش ترک کرکے اس شہر کو حقیقی معنوں میں عالمی سطح کا میٹروپولیٹن شہر بنانے اور اس شہر کے مکینوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے انتطامات پر توجہ دیں گے۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر