... loading ...

سندھ میں پتہ نہیں کیسے کیسے تجربے کیے جاتے ہیں ،ہر تجربہ سندھ میں ہی آزمایا جاتا ہے۔ یہ بھی اپنی نوعیت کی مثال ہے کہ گریڈ 20 کے پولیس افسر نے آئی جی سندھ پولیس کا چارج سنبھالا اور اگلے ہفتے گریڈ 21 کا پروموشن حاصل کیا۔ یہاں گریڈ 21 کا چیف سیکریٹری جبکہ گریڈ 22 کا چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات بورڈ ہیں، یہاں آئے دن کوئی نہ کوئی تجربہ کیا جاتا ہے۔ ایسا ہی تجربہ سندھ میں وزیر داخلہ رکھ کر کیا جاتا ہے۔ سندھ میں خیر سے اس وقت جو وزیر داخلہ ہیں وہ بے مثال ہیں ،فریال تالپر کہیں جاتی ہیں تو جی حضوری میں ان کا پرس اٹھانے پر شرمندگی کے بجائے فخر محسوس کرتے ہیں ،آصف زرداری اسپتال آتے ہیں تو ان کو گلے لگا کر ملنے یا گر مجوشی سے ہاتھ ملانے کے بجائے ان کو پائوں پڑ کر ملنے میں شرمندگی کے بجائے فخر محسوس کرتے ہیں۔ پورے ملک میں سخت ترین گرمی ہے اور وہ بوھری برادری کی مسجد میں جاتے ہیں تو گرم شال اوڑھ کر دورہ کرتے ہیں اورخود کو کچھ الگ محسوس کراتے ہیں۔ وہ ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے لگتا ہے کہ وہ دوسروں سے منفرد ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ انہیں وہی کچھ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے جو فریال تالپر کہتی ہیں یا پھر آصف علی زرداری کی منشا ہوتی ہے۔ انہوں نے کوئی قابل ذکر فیصلہ یا اقدام نہیں اٹھایا۔ حال ہی میں سہیل انور سیال نے دوبارہ محکمہ داخلہ کا قلمدان سنبھالتے ہی سندھ پولیس سے انوکھا مطالبہ کر دیا ہے۔ فرماتے ہیں ان کو سیکورٹی تھریٹ ہے اس لیے ان کو پولیس ہیڈ آفس میں دفتر دیا جائے اور ان کو بلٹ پروف گاڑی دی جائے۔ مگر سندھ پولیس نے ان کی اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور ان کو نہ تو پولیس ہیڈ آفس میں کوئی دفتر دیا اور نہ ہی ان کو بلٹ پروف گاڑی دی ہے۔ بیچارے تابعدار وزیر داخلہ سہیل انور سیال کو پتہ ہی نہیں ہے کہ تھریٹ (دھمکی) کے لیے باقاعدہ سرکاری ادارے الرٹ جاری کرتے ہیں ،تین بڑی خفیہ ایجنسیاں، آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی کے علاوہ ایف آئی اے، وفاقی وزارت داخلہ یاان کے ماتحت ادارے اور صوبائی سطح پر اسپیشل برانچ، سی ٹی ڈی، ڈسٹرکٹ پولیس سیکورٹی تھریٹ جاری کرتی ہیں تو اس پر صوبائی محکمہ داخلہ اس ادارے کا نام لے کر سیکورٹی الرٹ جاری کرتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ جن کے لیے سیکورٹی الرٹ جاری ہوا ہے، ان کی سیکورٹی سخت کی جائے ۔ لیکن اس معاملے میں مذکورہ بالا کسی بھی ادارے نے کوئی سیکورٹی الرٹ جاری نہیں کیا ،اس صورتحال میں محکمہ داخلہ نے بھی کوئی سیکورٹی الرٹ جاری نہیں کیا بلکہ انہوں نے وزیر داخلہ کو سمجھایا ہے کہ اس طرح کی بات کرکے وہ جگ ہنسائی کا سبب نہ بنیں کیونکہ یہ تھریٹ کوئی معمولی بات نہیں ہوتی ۔اورانہیں بتایا کہ وزیر داخلہ کی اہمیت وزیراعلیٰ کے بعد ہوتی ہے، وزیر داخلہ کو سیکورٹی تھریٹ کے بعد وزیراعلیٰ کو بھی تھریٹ ہوسکتا ہے۔ اس لیے ایسی بات نہ کریں جس کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے ۔وزیر داخلہ کو سندھ پولیس نے سیکورٹی تھریٹ کے لیے بتا دیا ہے اور بلٹ پروف کی گاڑی کے لیے انہیں بتایا گیا ہے کہ جو انہیں پہلے بلٹ پروف گاڑی دی گئی تھی اب وہ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناء اللہ عباسی کو دی جاچکی ہے چونکہ سی ٹی ڈی کا براہ راست نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کے خلاف آپریشن جاری ہے ،کئی نامی گرامی دہشت گرد یا تو مارے جاچکے ہیں یا پھر سلاخوں کے پیچھے ہیں ،اس لیے ان کو بلٹ پروف گاڑی دینا لازمی ہے ۔دوسری بلٹ پروف گاڑی پہلے سے ہی آئی جی سندھ پولیس کو ملی ہوئی ہے اس لیے اگر وزیر داخلہ کو بلٹ پروف گاڑی کی ضرورت ہے تو پھر وہ حکومت سندھ سے کہیں کہ ان کو بلٹ پروف گاڑی فراہم کی جائے ،حکومت سندھ کے پاس بلٹ پروف گاڑیاں بھی ہیں اور فنڈز بھی دستیاب ہیں ،اس جواب کے بعد وزیر داخلہ سہیل انور سیال کو منہ کی کھانی پڑی ہے اور وہ شرم کے مارے اب دونوں ایشوز پر بات کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ وزیر داخلہ کی حیثیت میں انہوں نے غلط بیانی کی کہ ان کو حملوں کا خطرہ ہے حالانکہ یہ بات ایک فیصد بھی سچ نہیں ہے۔ جیسے انہوں نے بات کی ہے ایسے ہی انہوں نے حقائق سامنے آنے پر خاموشی اختیار کی ہے ،اگر مہذب ممالک میں ایسا ہوتا تو ایسے وزیر کو غلط بیانی کرنے پر معافی مانگ کر عہدے سے استعفیٰ دینا پڑتا مگر سندھ میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ وزیر داخلہ کی ضدکے باعث وزیراعلیٰ ہائوس نے جلد بازی میں جو حکم جاری کیا تھا کہ کوئی ایس ایس پی، ڈی سی، ڈی آئی جی اور کمشنر اپنا ہیڈ کوارٹر چھوڑے گا تو اس کے لیے چیف سیکریٹری سے پیشگی اجازت لے گا۔ جب چیف سیکریٹری نے خود کو تنازع سے الگ رکھنے کا مؤقف اختیار کیا تو مجبوراً حکومت سندھ کو یہ حکم واپس لینا پڑا۔ اور پولیس افسران کو کہا گیا کہ وہ ہیڈ کوارٹر چھوڑنے سے قبل آئی جی سندھ پولیس سے پیشگی اجازت لیں یوں وزیراعلیٰ ہائوس کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا ہے۔ وزیر داخلہ سندھ کی اوٹ پٹانگ باتوں سے اب حکومت سندھ بھی پریشان ہوگئی ہے مگر کیا کیا جائے؟ وہ تو آصف زرداری اور فریال تالپر کا لاڈلا ہے ،ان کو کچھ کہنے کا مقصد آصف زرداری اور فریال تالپر کو ناراض کرنا ہے۔ اب وزیر داخلہ سہیل انور سیال حیدر آباد میں جاکر فرماتے ہیں کہ میں وزیراعلیٰ کا امید وار نہیں ہوں۔ ان سے کوئی پوچھے کہ وہ تو 2001 ء میں یونین کونسل کے ناظم کا الیکشن ہارچکے ہیں اور وہ یونین کونسل کے چیئرمین نہیں بن سکتے تو وہ کس طرح وزیراعلیٰ بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...