... loading ...
حکومت سندھ کی باتیں بھی نرالی ہیں ،ایک کام مکمل ہوتا نہیں تو دوسرا تیسرا کام شروع کرکے نامکمل چھوڑ دیا جاتا ہے اور چوتھا کام شروع کردیا جاتا ہے ۔اس کی تازہ مثال وہ ہے جو گزشتہ دنوں تعمیر نو کے بعد لاڑکانہ شہر میں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ،اور ان سڑکوں پر گٹروں کا پانی آیا تو اس وقت سوشل میڈیا میں دو تصاویر پیش کی گئیں جن کاموازنہ کرتے ہوئے دکھایا گیاہے ۔اس میں ایک تصویر لاڑکانہ شہر کی گلیوں کی تھی تودوسری تصویر موہن جودڑو کی ۔اورحقیقت یہ ہے کہ موہن جو دڑوکی تصویرمیں گلیاں واقعی صاف ستھری اور خوبصورت لگ رہی تھیں ۔یہ تو ان کے اپنے شہر لاڑکانہ کا حال تھا ،لیکن اسی طرح اس حکومت کے جتنے بھی منصوبے ہیں انکے ساتھ یہی حشر کیا جارہا ہے کہ ایک منصوبہ مکمل نہیں ہوا تو دوسرا شروع کردیا گیا۔
محکمہ تعلیم میں سابق وزیر پیر مظہر الحق نے 14 ہزاربھرتیاں کیں ان کو تاحال تنخواہ بھی نہیں مل سکی ۔شاباش ہو نیب کو،جس نے اتنے بڑے میگا اسکینڈل پر پیر مظہر الحق کو کلین چٹ دے دی ،اس پر عوامی حلقے انگشت بدنداں ہوگئے کیونکہ پورے صوبے کے سرکاری افسران اور نوکریاں لینے والے ملازمین کو پتا ہے کہ کہکشاں کلفٹن میں پیر مظہرالحق بذات خود ملازمتیں دینے کے آرڈر دیتے تھے اور جب وہ دادو جاتے تھے تو ٹول پلازہ جامشوروکے پاس ملازمتوں کے آرڈر جاری کرتے اور اس کے بدلے مال بٹورتے ۔اس کے علاوہ محکمہ بلدیات نے 13ہزار نئی بھرتیاں کیں ،ان ملازمین میں سے 80 فیصد کو تاحال کوئی تنخواہ نہیں مل سکی ہے ،ان میں سے اکثر ملازمین عدالتوں میں بھی جا چکے ہیں۔دوسری جانب لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنی مستقلی کا وعدہ حکمرانوں کو یاد دلا دلا کہ تھک چکی ہیں لیکن نہ انکے مسائل حل ہورہے ہیں اور نہ انکی تنخواہیں بروقت ادا ہورہی ہیں ،حکومت سندھ نے ان کو توتنخواہیں دیں نہیںلیکن اچانک یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ آئندہ مالی سال 2017-18میں 25ہزار نئی لیڈی ہیلتھ ورکرز بھرتی کی جائیں گی ۔اب حکومت سندھ سے کوئی پوچھے کہ پہلے محکمہ تعلیم اور محکمہ بلدیات کے 27ہزار ملازمین جو دردرکی ٹھوکریں کھارہے ہیں ،عدالتوں کے چکر کاٹ کر تھک چکے ہیں ،ان کو تو تنخواہیں دی جائیں ،تب جا کر نئی بھرتیاں کی جائیں۔اب پہلے ہی 27ہزار نوجوان دردرکی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ،لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنی مستقلی کا مسئلہ لیے سڑکوں پر ہیں ، آئندہ سال سے 25ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز بھی ان میں شامل ہوجائیں گی ۔بھلا ایسے اقدامات کا کیا فائدہ،جو ظاہری طور پر تو بہتر لگیں لیکن ان کے نتائج خراب نکلیں ،حکومت سندھ دانش مندی کا فیصلہ کیوں نہیں کرتی ۔بھلے چند سو نئے ملازمین بھرتی کرے ، لیکن ان کو بروقت تنخواہ دی جائے اور انہیں تذلیل کا نشانہ نہ بنایا جائے۔حکومت سندھ کو پتا نہیں کس نے مشورہ دیا ہے کہ 25ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز کی بھرتی سے ان کی نیک نامی ہوگی اور ہر جگہ واہ واہ ہوجائے گی اور عام انتخابات میں لوگ زیادہ سے زیادہ ووت پی پی پی کو ہی دیں گے ۔حالانکہ یہ مشورہ پی پی کو سخت مصیبت اور پریشانی میں ڈالے گا کیونکہ بجٹ کے بعد عام انتخابات تک کا وقت 7-8ماہ کا ہوگا، اس عرصے میں اگر لیڈی ہیلتھ ورکرز کو تنخواہیں جاری ہونا شروع نہ ہوسکیں تو پھر وہ احتجاج کریں گی ،اس سے پی پی پی کے لیے شدید سیاسی پریشانی ہوگی اور اس کے ووٹ بنک پر برااثر پڑنے کا خدشہ ہے ،لیکن اب حکومت سندھ کو کون سمجھائے ۔
اس وقت15ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز پہلے ہی اپنے مطالبات کے حصول کے لیے سڑکوں پر آچکی ہیں جو ہر تیسرے ماہ سندھ کے کسی نہ کسی ضلع میں دھرنا دے کر احتجا ج کرتی ہیں ۔پھر کئی گھنٹے سڑکوں پر بیٹھنے کے بعدکسی سرکاری افسر یا وزیر کی یقین دہانی پر احتجاج مؤخر کرتی ہیں۔معصوم بچیاں ہر ضلع میں احتجاج کرچکی ہیں لیکن ان کو تاحال مستقل نہیں کیا گیا اور نہ ہی مستقل بنیادوں پر انکی تنخواہوں کا مسئلہ حل کیا گیا۔اور اب اچانک یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پچھلی لیڈی ہیلتھ ورکرز کو چھوڑو ،نئی ہیلتھ ورکرز بھرتی کرو۔یہ فیصلہ پی پی کو سیاسی طور پر عام انتخابات میں نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا ۔
یہ تو صرف ایک ایشو ہے ، دیگر محکموں میں بھی 60ہزار نئی بھرتیاں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔اس فیصلے پر سندھ بھر میں ایک نیا بحران پیدا ہونے والا ہے اور پھر یہی نوجوان جب عام انتخابات میں سڑکوں پر آئیں گے اور حکومت سندھ کی خراب کارکردگی کو اجاگر کریںگے تو اس وقت پی پی پی کی کیا حالت ہوگی ؟پیپلز پارٹی کو پتہ نہیں ایسے مشورے کون دے رہا ہے جس کی وجہ سے اس کی نیک نامی کے بجائے بدنامی ہورہی ہے ۔اس صورتحال میں جب بجٹ خسارے کا پیش کیا جارہا ہے اور پھر اتنی بڑی تعداد میں ملازمتیں دینے کا صاف مطلب ہے کہ یہ صرف نوجوانوں کو لولی پاپ دینے کا تماشا کیا جارہا ہے ۔پیپلز پارٹی کو اگر عوامی سطح پر مضبوط کرنا ہے تو ایسے اقدامات اٹھانا ہونگے جس سے عوام کو فائدہ ملے ۔اور ایسے منصوبوں سے حکمرانوں کی بھی شہرت اچھی ہوجائے گی ۔لیڈی ہیلتھ ورکرز کو پہلے ہی پریشان کیا جاتا رہا ہے ،کہ جس کی وجہ سے وہ سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ایسے موقع پر نئی 25ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز کی بھرتی عوامی غیض و غضب کو دعوت دینا ہے ۔یہ نہ سمجھا جائے کہ عوام ہر دفعہ پی پی کو ہی ووٹ دیں گے ،ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ بپھرے ہوئے عوام اگراحتجاج پر اتر آئے یا اپنا غصہ ووٹ کے ذریعے نکالا تو پی پی کا حشر بھی خراب ہو جائے گا اور پھر دوبارہ کبھی طاقت بھی حاصل نہیں کرسکے گی ۔
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...