وجود

... loading ...

وجود

لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مسائل برقرار 25ہزارنئی لیڈی ہیلتھ ورکرز بھرتی کرنے کی تیاریاں

بدھ 31 مئی 2017 لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مسائل برقرار 25ہزارنئی لیڈی ہیلتھ ورکرز بھرتی کرنے کی تیاریاں

حکومت سندھ کی باتیں بھی نرالی ہیں ،ایک کام مکمل ہوتا نہیں تو دوسرا تیسرا کام شروع کرکے نامکمل چھوڑ دیا جاتا ہے اور چوتھا کام شروع کردیا جاتا ہے ۔اس کی تازہ مثال وہ ہے جو گزشتہ دنوں تعمیر نو کے بعد لاڑکانہ شہر میں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ،اور ان سڑکوں پر گٹروں کا پانی آیا تو اس وقت سوشل میڈیا میں دو تصاویر پیش کی گئیں جن کاموازنہ کرتے ہوئے دکھایا گیاہے ۔اس میں ایک تصویر لاڑکانہ شہر کی گلیوں کی تھی تودوسری تصویر موہن جودڑو کی ۔اورحقیقت یہ ہے کہ موہن جو دڑوکی تصویرمیں گلیاں واقعی صاف ستھری اور خوبصورت لگ رہی تھیں ۔یہ تو ان کے اپنے شہر لاڑکانہ کا حال تھا ،لیکن اسی طرح اس حکومت کے جتنے بھی منصوبے ہیں انکے ساتھ یہی حشر کیا جارہا ہے کہ ایک منصوبہ مکمل نہیں ہوا تو دوسرا شروع کردیا گیا۔
محکمہ تعلیم میں سابق وزیر پیر مظہر الحق نے 14 ہزاربھرتیاں کیں ان کو تاحال تنخواہ بھی نہیں مل سکی ۔شاباش ہو نیب کو،جس نے اتنے بڑے میگا اسکینڈل پر پیر مظہر الحق کو کلین چٹ دے دی ،اس پر عوامی حلقے انگشت بدنداں ہوگئے کیونکہ پورے صوبے کے سرکاری افسران اور نوکریاں لینے والے ملازمین کو پتا ہے کہ کہکشاں کلفٹن میں پیر مظہرالحق بذات خود ملازمتیں دینے کے آرڈر دیتے تھے اور جب وہ دادو جاتے تھے تو ٹول پلازہ جامشوروکے پاس ملازمتوں کے آرڈر جاری کرتے اور اس کے بدلے مال بٹورتے ۔اس کے علاوہ محکمہ بلدیات نے 13ہزار نئی بھرتیاں کیں ،ان ملازمین میں سے 80 فیصد کو تاحال کوئی تنخواہ نہیں مل سکی ہے ،ان میں سے اکثر ملازمین عدالتوں میں بھی جا چکے ہیں۔دوسری جانب لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنی مستقلی کا وعدہ حکمرانوں کو یاد دلا دلا کہ تھک چکی ہیں لیکن نہ انکے مسائل حل ہورہے ہیں اور نہ انکی تنخواہیں بروقت ادا ہورہی ہیں ،حکومت سندھ نے ان کو توتنخواہیں دیں نہیںلیکن اچانک یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ آئندہ مالی سال 2017-18میں 25ہزار نئی لیڈی ہیلتھ ورکرز بھرتی کی جائیں گی ۔اب حکومت سندھ سے کوئی پوچھے کہ پہلے محکمہ تعلیم اور محکمہ بلدیات کے 27ہزار ملازمین جو دردرکی ٹھوکریں کھارہے ہیں ،عدالتوں کے چکر کاٹ کر تھک چکے ہیں ،ان کو تو تنخواہیں دی جائیں ،تب جا کر نئی بھرتیاں کی جائیں۔اب پہلے ہی 27ہزار نوجوان دردرکی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ،لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنی مستقلی کا مسئلہ لیے سڑکوں پر ہیں ، آئندہ سال سے 25ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز بھی ان میں شامل ہوجائیں گی ۔بھلا ایسے اقدامات کا کیا فائدہ،جو ظاہری طور پر تو بہتر لگیں لیکن ان کے نتائج خراب نکلیں ،حکومت سندھ دانش مندی کا فیصلہ کیوں نہیں کرتی ۔بھلے چند سو نئے ملازمین بھرتی کرے ، لیکن ان کو بروقت تنخواہ دی جائے اور انہیں تذلیل کا نشانہ نہ بنایا جائے۔حکومت سندھ کو پتا نہیں کس نے مشورہ دیا ہے کہ 25ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز کی بھرتی سے ان کی نیک نامی ہوگی اور ہر جگہ واہ واہ ہوجائے گی اور عام انتخابات میں لوگ زیادہ سے زیادہ ووت پی پی پی کو ہی دیں گے ۔حالانکہ یہ مشورہ پی پی کو سخت مصیبت اور پریشانی میں ڈالے گا کیونکہ بجٹ کے بعد عام انتخابات تک کا وقت 7-8ماہ کا ہوگا، اس عرصے میں اگر لیڈی ہیلتھ ورکرز کو تنخواہیں جاری ہونا شروع نہ ہوسکیں تو پھر وہ احتجاج کریں گی ،اس سے پی پی پی کے لیے شدید سیاسی پریشانی ہوگی اور اس کے ووٹ بنک پر برااثر پڑنے کا خدشہ ہے ،لیکن اب حکومت سندھ کو کون سمجھائے ۔
اس وقت15ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز پہلے ہی اپنے مطالبات کے حصول کے لیے سڑکوں پر آچکی ہیں جو ہر تیسرے ماہ سندھ کے کسی نہ کسی ضلع میں دھرنا دے کر احتجا ج کرتی ہیں ۔پھر کئی گھنٹے سڑکوں پر بیٹھنے کے بعدکسی سرکاری افسر یا وزیر کی یقین دہانی پر احتجاج مؤخر کرتی ہیں۔معصوم بچیاں ہر ضلع میں احتجاج کرچکی ہیں لیکن ان کو تاحال مستقل نہیں کیا گیا اور نہ ہی مستقل بنیادوں پر انکی تنخواہوں کا مسئلہ حل کیا گیا۔اور اب اچانک یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پچھلی لیڈی ہیلتھ ورکرز کو چھوڑو ،نئی ہیلتھ ورکرز بھرتی کرو۔یہ فیصلہ پی پی کو سیاسی طور پر عام انتخابات میں نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا ۔
یہ تو صرف ایک ایشو ہے ، دیگر محکموں میں بھی 60ہزار نئی بھرتیاں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔اس فیصلے پر سندھ بھر میں ایک نیا بحران پیدا ہونے والا ہے اور پھر یہی نوجوان جب عام انتخابات میں سڑکوں پر آئیں گے اور حکومت سندھ کی خراب کارکردگی کو اجاگر کریںگے تو اس وقت پی پی پی کی کیا حالت ہوگی ؟پیپلز پارٹی کو پتہ نہیں ایسے مشورے کون دے رہا ہے جس کی وجہ سے اس کی نیک نامی کے بجائے بدنامی ہورہی ہے ۔اس صورتحال میں جب بجٹ خسارے کا پیش کیا جارہا ہے اور پھر اتنی بڑی تعداد میں ملازمتیں دینے کا صاف مطلب ہے کہ یہ صرف نوجوانوں کو لولی پاپ دینے کا تماشا کیا جارہا ہے ۔پیپلز پارٹی کو اگر عوامی سطح پر مضبوط کرنا ہے تو ایسے اقدامات اٹھانا ہونگے جس سے عوام کو فائدہ ملے ۔اور ایسے منصوبوں سے حکمرانوں کی بھی شہرت اچھی ہوجائے گی ۔لیڈی ہیلتھ ورکرز کو پہلے ہی پریشان کیا جاتا رہا ہے ،کہ جس کی وجہ سے وہ سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ایسے موقع پر نئی 25ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز کی بھرتی عوامی غیض و غضب کو دعوت دینا ہے ۔یہ نہ سمجھا جائے کہ عوام ہر دفعہ پی پی کو ہی ووٹ دیں گے ،ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ بپھرے ہوئے عوام اگراحتجاج پر اتر آئے یا اپنا غصہ ووٹ کے ذریعے نکالا تو پی پی کا حشر بھی خراب ہو جائے گا اور پھر دوبارہ کبھی طاقت بھی حاصل نہیں کرسکے گی ۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر