وجود

... loading ...

وجود

وزیر اعلیٰ پنجاب نئے کالجوں کے قیام سے گریزاں کیوں؟

پیر 29 مئی 2017 وزیر اعلیٰ پنجاب نئے کالجوں کے قیام سے گریزاں کیوں؟

پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کے برادر خورد بلکہ ٹیلنٹیڈ برادر نے پنجاب میں تعلیم عام کرنے کے عزم کااظہار کرتے ہوئے پڑھا لکھا پاکستان کا نعرہ بلند کیا تھا جس پر پاکستان کے دیگر تمام صوبوں کے عوام نے پنجاب کے عوام کی قسمت پر رشک کا اظہار کیا تھا اور یہ تصور کیاجارہاتھا کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف اپنی اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر پورے پنجاب میں اسکولوں اور کالجوں کاجال بچھا دیں گے اور اب پنجاب کے کسی گاﺅں گوٹھ کے کسی غریب کا بچہ بھی تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔
جہاں تک پنجاب کے دارالحکومت لاہور کا تعلق ہے تو لاہور نہ صرف پاکستان کا اہم تجارتی اور ثقافتی مرکز ہے بلکہ اسے ملکی سیاست میں بھی اہم مقام حاصل ہے۔ لاہور کو کئی حوالوں سے یاد کیا جاتا ہے، جیسے باغوں کا شہر، زندہ دلوں کا شہر، اسی طرح لاہور کو کالجوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے،یہ شہر قیام پاکستان سے قبل ہی علم وادب کامرکز ومحور تصور کیاجاتاتھا اور پنجاب کے دور دراز علاقوں کے لوگ بھی معیاری تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور کارخ کیاکرتے تھے ،کیوں کہ لاہور میں کسی زمانے میں بیشمار کالج موجود تھے جو لاہور کے ساتھ ساتھ دیگر اضلاع کے تشنگانِ علم کی پیاس بجھایا کرتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ لاہور کو پنجاب میں کالجوں کے شہر کالقب مل گیاتھا۔لاہور میں بڑھتی آبادی اور تیزی سے ہونے والی نقل مکانی نے جہاں بے شمار چیزوں کا فقدان پیدا کیا وہاں سرکاری کالجوں کی کمی کا مسئلہ بھی پیدا ہوا۔ لاہور میں اس وقت 56 کے قریب سرکاری کالج موجود ہیں جس میں 34 لڑکیوں کے اور 22 لڑکوں کے کالجز ہیں۔ان تمام کالجوں میں طلبہ کی کل گنجائش 49 ہزار ہے۔ جبکہ صرف لاہور بورڈ سے ہر سال ایک لاکھ40 ہزار سے زائد طالب علم پاس ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال 2016 ءکے میٹرک کے نتائج کے مطابق لاہور بورڈ کے زیر اہتمام امتحان میں 2 لاکھ 14 ہزار 711 طلبہ نے شرکت کی تھی، اور تقریباً 71 فی صد نے کامیابی حاصل کی۔ یعنی ایک لاکھ 53 ہزار کے قریب طالب علم پاس ہوئے۔یعنی صرف لاہور بورڈ کے تقریباً ایک لاکھ سے زائد پاس ہونے والے طالب علموں کے لیے کسی سرکاری کالج میں کوئی گنجائش نہیں۔ اب وہ یا تو کسی نجی کالج میں داخلہ لے، یا اگر غریب ہے اور نجی تعلیم کا خرچ نہیں اٹھا سکتا تو اپنی تعلیم کو خیرباد کہہ دے۔خیال رہے کہ لاہور کے کالجوں میں صرف لاہور بورڈ کے کامیاب طلبہ و طالبات ہی داخلہ نہیں لیتے، بلکہ پنجاب کے دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ، فاٹا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کی بڑی تعداد بھی لاہور کے کالجوں میں زیر تعلیم ہے۔طالب علموں کی اتنی بڑی تعداد (ایک سے ڈیڑھ لاکھ) کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پرائیویٹ شعبے میں 120 سے زائد کالجز قائم ہیں جو تجارتی بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔
موجودہ حکومت نے لاہور میں نئے کالجزکیو ں قائم نہیں کئے؟
لاہور میں 1982ءسے مسلم لیگ کی حکومت قائم ہے۔ اگرچہ لاہور میں ترقیاتی کام ہوا ہے، ٹریفک کے مسائل کو کم کرنے کے لیے کئی سڑکوں کو کشادہ کیا گیا، کئی انڈر پاس اور اوور ہیڈ بِرج تعمیر کیے گئے۔اب کئی سو ارب روپے کی لاگت سے اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، لیکن پتہ نہیں اس بات کی اصل وجہ کیا ہے کہ کیوں لاہور میں (ضرورت کے مطابق) سرکاری کالجوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا، کچھ لوگوں کی رائے میں اس کی اصل وجہ صوبائی حکومت کی عدم توجہی ہے، جس کی وجہ سے شعبہ تعلیم کو مطلوب وسائل ہی فراہم نہیں کیے جاتے؟
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کئی بار خود اعلان کیا ہے کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے گزشتہ الیکشن سے قبل ذہین طالب علموں میں کئی ارب روپے کے لیپ ٹاپ اور سولر لیمپ وغیرہ مفت تقسیم کیے، نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے پوزیشن ہولڈرز طلبہ و طالبات کو دنیا کے کئی ممالک کی سیر کروائی۔ لیکن بنیادی سطح پر جو کام ہونا چاہیے، وہ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نجی کالجوں کی انتظامیہ کافی بااثر ہے اور وہ صوبائی حکومت کے اہم افراد کو نئے کالج قائم کرنے سے روک دیتی ہے تاکہ ان کا کاروبار پھلتاپھولتا اور قائم و دائم رہے۔ جبکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نجی کالجوں کی انتظامیہ کے بااثر ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پنجاب میں نجی اسکول اور کالج چلانے والے کئی اداروں میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے اپنے صاحبزادے حمزہ شہباز اور ان کے بھانجوں، بھانجیوں اور کئی دوسرے قریبی رشتہ داروں کی شیئرز ہیں اور انہیں ا س کے عوض کچھ کیے بغیر ہر مہینے لاکھوں روپے منافع کے طورپر ادا کیے جاتے ہیں ۔ لاہور کے لوگوں کاکہناہے کہ جس طرح عام آدمی دودھ، اور پولٹری کے کام میں شہباز شریف اور نواز شریف کے مفادات کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اسی طرح انہیں تعلیم کو تجارت بنانے کے حوالے سے شریف برداران کے کارناموں کا بھی کوئی علم نہیں ہے۔لاہور کے باوثوق اطلاعات رکھنے والے حلقوں کاکہناہے کہ تعلیمی شعبے کو سونے کا انڈہ دینے والی مرغی بنانے والی شریف فیملی اب نئے لوگوں کو اس شعبے میں قدم جمانے کا موقع نہیں دے رہی ہے اور اس شعبے پر شریف برادران کی اسی گرفت اور اس سے وابستہ ان کے مفادات کی وجہ ہی سے پنجاب میں تعلیم کاکاروبار کرنے والے نجی شعبے کی نگرانی کا کوئی انتظام ہے اور نہ ہی کوئی قاعدہ اور قانون اور اگر ایسا ہے بھی تو وہ یقیناً فائلوں کی حد تک ہی محدود ہے کیونکہ آج تک کسی نے ان پر نہ تو عملدرآمد ہوتے دیکھا ہے اورنہ کسی کو اس پر عملدرآمد کراتے ہوئے دیکھا ہے۔
لاہور شہر میں جو نجی کالج ہیں وہ ہر چیز سے آزاد ہیں، فیسوں کا تعین ہو، اساتدہ کی بھرتی، کالج بلڈنگ کے بائی لاز، ہوسٹلز، لائبریری، تجربہ گاہ، پارکنگ، یا پھر کھیلوں کے میدان، ہر جگہ وہ صرف اپنے مفادات کا خیال پہلے رکھتے ہیں۔ فیسوں، یونیفارم، کتابوں، امدادی کتب کے علاوہ ہر ماہ کوئی نہ کوئی نیا خرچہ تیار کر لیا جاتا ہے کیونکہ ان کی مانیٹرنگ (نگرانی) کے لیے کوئی ادارہ یا تو قائم ہی نہیں یا پھر اپنا کام نہیں کر رہا ہے۔
نجی کالجوں کی فیس اور اس کے عوض طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولتیں
لاہور میں قائم نجی تعلیمی کالجوں کی سالانہ فیس اور دیگر اخراجات ایک لاکھ سے تین لاکھ روپے تک ہےں۔ اس طرح والدین کے ایک بچے کی دو سالہ تعلیم پر 2 سے 6 لاکھ تک خرچ ہو جاتے ہیں۔ لاہور میں نجی کالجوں کی اکثریت نے اپنے طالب علموں کے لیے کوئی ہاسٹل قائم نہیں کیے۔ جس کی وجہ سے دوسرے شہروں کے طلبہ وطالبات شہر میں قائم چھوٹے چھوٹے ہاسٹلز (جو عموماً پانچ /دس مرلہ) کے پرانے رہائشی مکان ہیں میں رہتے ہیں۔کالجوںمیں پڑھانے والے اساتدہ کا کوئی خاص معیار نہیں، اگر ایف اے /بی اے پاس صاحب کو کالج انتظامیہ ایم ایس سی/ایم فل قرار دے تو آپ کو یقین کرنا ہوگا۔
کھیل کے میدان کا بیشتر نجی کالجوں میں کوئی تصور نہیں، زیادہ تر کالجوںکے پاس صرف اپنی عمارت کا صحن ہے جو پانچ دس مرلے پر مشتمل ہوتا ہے۔ (شاید کالج انتظامیہ یہ سوچتی ہے کہ آپ کے بچے اتنے پیسے خرچ کر کے کالج پڑھنے آتے ہیں نہ کہ کھیلنے کے لیے لائبریری اور سائنس کے مضامین کے لیے تجربہ گاہ تو ہوتی ہے، لیکن صرف نام کی کیونکہ جناب کورس کی کتابیں تو مکمل ہوتی نہیں کون مزید کتابوں اور پریکٹیکل کے چکر میں پڑے۔بعض کالجوں کی انتظامیہ بورڈ کے عملی امتحانات کے لیے خاص اہتمام کرتی ہے۔ جس کے لیے طالب علموں کو مزید کچھ رقم خرچ کرنا ہوتی ہے۔ آخر اچھے گریڈز بھی تو لینے ہیں نا!
نجی کالجوں میں مستقل فیکلٹی کا فقدان
نجی کالجوں میں عام طورپرکوئی بھی استاد مستقل نہیں ہوتا بلکہ بعض کالجوں میں تو ماہانہ کی بجائے اساتدہ کو فی پیریڈ پڑھانے کے حساب سے معاوضہ دیا جاتا ہے۔ کئی نجی کالجوں میں سابقہ طلبہ اور غیر تجربہ کار افراد کو بطور اساتذہ بھرتی کر لیا جاتا ہے۔ٹیچرز ٹریننگ کا سرے سے کوئی نظام موجود نہیں، اساتذہ کی تنخواہیں کم ہوتی ہیں۔ نیز چھٹیوں کے دوران اساتذہ کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ جب کہ طلبہ سے بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں۔ چونکہ اساتذہ کی معاشی حالت بہت خراب ہوتی ہے، اس لیے وہ بھی عدم دلچسپی سے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں۔
اگر حکومت کے پاس فنڈز کی کمی ہے تو، یقیناً نئے کالج قائم کرنے کے لیے بھی کافی وسائل کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ بات حیران کن ہے کہ سابقہ صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں وزیر تعلیم ڈاکٹر عطا الرحمٰن کی ہدایت پر ملک بھر میں بے شمار ایسے اسکول جن میں مطلوبہ سہولتیںمیسر تھیں، ان اسکولوںکو ہائیر سکینڈری اسکولوں کا درجہ دیا گیا تھا، جس سے اس علاقے کے طلبہ و طالبات اپنے اسکول سے ہی 12 سالہ تعلیم (ایف اے، ایف ایس سی) مکمل کرتے تھے، لیکن موجودہ حکومت نے ان ہائیر سیکنڈری اسکولوں کواپنے مفادات کے منافی تصور کرتے ہوئے انتہائی غیر محسوس انداز میں کوئی وجہ بتائے بغیر لاہور میں ان تمام ہائیر سکینڈری اسکولوں کو آہستہ آہستہ بند کر دیا۔ حالانکہ وزیر اعلیٰ پنجاب اگر واقعی پنجاب میں تعلیم عام کرنے اور غریبوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں مخلص ہوتے تو وہ پنجاب میں موجود ان ہائیر سیکنڈری اسکولوں کو بند نہ ہونے دیتے۔ اگر ان میں کچھ خامیاں تھیں تو انہیں دور کرنے کی کوشش کرتے اور اگر تعلیمی وسائل موجود نہیں تھے تو موجودہ وسائل کو لیپ ٹاپ تقسیم کر کے تصاویر شائع کرانے کے بجائے کالج میں داخلہ لینے کے خواہشمند مستحق طالب علموں کے اچھے نجی کالج داخلہ کے اخراجات پر خرچ کرتے۔ پنجاب میں تعلیم کے کاروبار سے موجودہ حکومت کی گہری وابستگی کا پتہ اس بات سے بھی چلتاہے کہ صوبائی حکومت ایسے کالج بھی نہ تو قائم کرتی ہے اور نہ ان کے قیام کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو نفع، نقصان کے بغیر چلائے جائیں، یعنی طالب علموں سے صرف اتنی ہی فیس لی جائے جس سے عمارت کا کرایہ، اسٹاف کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات پورے ہوسکیں، یہ فیس پھر بھی نجی کالجوںکی فیس سے کم ہوگی۔ اس طرح کم آمدنی اور متوسط طبقے کے بہت سے بچے اور بچیاں معیاری تعلیم حاصل کر پائیں گے اور تعلیم حاصل کرنا ان کی ناتمام حسرت اور خواہش نہیں بن کر رہ جائے گی۔ لیکن اس طرح کے کالجوں کے قیام سے نجی کالجوں کاکاروبار بری طرح متاثر ہونے کے اندیشے کے تحت ایسا نہیں کیاگیا اور اس کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کا رویہ اختیار کیاجارہاہے۔یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ موجود صوبائی حکومت کے پاس نئے کالج قائم کرنے کے لیے وسائل نہیں لیکن یہ بات قابل قبول نہیں کہ موجود تعلیمی وسائل کو مستحق طلبہ پر خرچ کرنے کے بجائے ’لیپ ٹاپ اسکیم یا پوزیشن ہولڈز کو بیرون ممالک کی سیر‘ پر ضائع کر دیا جائے۔شاید اس سے بڑا ظلم لاہور کے شہریوں کے ساتھ اور کوئی نہیں۔


متعلقہ خبریں


بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل وجود - پیر 11 مئی 2026

دشمن جان لے پاکستان کیخلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک اور تکلیف دہ ہوں گے،معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانیوالی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا خاتمہ کرے،بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا...

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا وجود - پیر 11 مئی 2026

مریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ،پہلے مرحلے میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان جبکہ دوسرے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرکے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی تیسرے میں 30 روزہ مذاکراتی دور میں بڑے سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ہوگی، دونوں ممالک آبنائے ہرمز ک...

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم وجود - پیر 11 مئی 2026

بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر بے بنیاد الزامات لگائے ،شہباز شریف اسلام آباد میں معرکہ حق کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کی مرکزی تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔اسلا...

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا وجود - پیر 11 مئی 2026

ایران میں قیمت 6 روپے فی لیٹر،بنگلہ دیش میں 288 روپے میں دستیاب سری لنکا 370 ،بھارت 302 ،چین میں360 روپے فی لیٹرمیں فروخت حکومت نے رواں ہفتے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحرا...

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ وجود - اتوار 10 مئی 2026

پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 10 مئی 2026

9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید وجود - اتوار 10 مئی 2026

ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد وجود - هفته 09 مئی 2026

حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج وجود - هفته 09 مئی 2026

اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے، وجود - هفته 09 مئی 2026

2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے، وزیر خیبر پختونخوا بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بیرونی سازش کے تحت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،خطاب وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد سے پاک...

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے،

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار وجود - هفته 09 مئی 2026

یو اے ای سے پاکستان کے کسی خاص طبقے کو ڈی پورٹ نہیں کیا جارہا، وزارت داخلہ اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو یہ ملکی قوانین کے مطابق معمول کی کارروائی کا حصہ ہے وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خ...

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج وجود - جمعه 08 مئی 2026

بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج

مضامین
سیاسی تماشا وجود پیر 11 مئی 2026
سیاسی تماشا

ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر وجود پیر 11 مئی 2026
ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر

اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا وجود پیر 11 مئی 2026
اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا

کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت وجود پیر 11 مئی 2026
کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت

دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر! وجود اتوار 10 مئی 2026
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر