... loading ...
آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ سے جنگ کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے بڑے غور وخوص کے بعد ہما لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے سہیل انور سیال کے سر پر رکھ دی، سہیل انور سیال تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے حالانکہ 2001ء کے بلدیاتی الیکشن میں سہیل انور سیال یونین کونسل کے ناظم کا الیکشن ہار گئے تھے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں سہیل انور سیال کو پی پی کا ٹکٹ نہیں مل سکا تھا لیکن ان کی انتخابی مہم آصف زرداری، فریال تالپور نے چلائی تھی کیونکہ پارٹی ٹکٹ لینے والے امیدوار حاجی الطاف حسین انڑ نے پارٹی سے بغاوت کردی تھی لیکن پارٹی قیادت کی مخالفت کے باوجود الطاف حسین انڑ جیت گئے تھے۔اور آصف علی زرداری، فریال تالپور کی بھرپور حمایت کے باوجود سہیل انور سیال کو شکست فاش ہوئی۔ سہیل انور سیال کو بعدازاں الطاف حسین انڑ کے انتقال کے بعد ضمنی الیکشن میں بلامقابلہ کامیاب کرایا گیا۔یہ بھی ایک عجب معاملہ ہے کہ وہاں جو امیدوارتھے بابو سرور سیال تو فریال تالپورنے سہیل انور سیال کے ساتھ پٹھان گوٹھ آکر بابو سرور سیال کو منایا اور بابو سرور سیال نے گھر آنے والوں کو عزت بخشتے ہوئے دستبرداری کا اعلان کیا۔لیکن سہیل انور سیال نے ایم پی اے اور وزیر بننے کے بعد اُسی پٹھان گوٹھ پر مسلح افراد اور پولیس کے ساتھ مل کر حملہ کرایا جس میں بابو سرور سیال کا بھانجا قتل ہوگیا۔ پھر مکافات عمل سامنے آیا، 90 ارب روپے کے ٹھیکے میں مالی بے قاعدگی کرنے والے ٹھیکیدار اسد کھرل کو جب نیب، حساس اداروں اور رینجرز نے مشترکہ چھاپے میںگرفتار کیا تو سہیل انور سیال نے فوری طورپر فریال تالپور کو اطلاع دی۔ فریال تالپور نے حکم دیا کہ فوری طورپر اسد کھرل کو چھڑوایا جائے، پھر کیا تھا سہیل انور سیال نے اپنے بھائی طارق سیال کو حکم دیا، طارق سہیل نے درجنوں مسلح افراد لے کر چھاپہ مارکر سرکاری ٹیم کوگھیرے میں لے لیا اور ان کو تھانہ جانے پر مجبور کیا اور پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تھانے میں چار گھنٹوں تک یرغمال بنائے رکھا اور بالآخر اسلحہ کے زور پر اسد کھرل کو چھڑالیا گیا، ان کو سہیل انور سیال اور فریال تالپور کی رہائش گاہ پر رکھا گیا، پھر ان ہی دنوں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سید سجاد علی شاہ کے بیٹے بیرسٹر اویس شاہ کو اغواء کرلیا گیا تو پھر اسد کھرل اور چیف جسٹس کے بیٹے کو بازیاب کرانے کے لیے لاڑکانہ میں رینجرز نے آپریشن کیا ،حتیٰ کہ وزیر داخلہ سہیل انور سیال کے گائوں اور لاڑکانہ کی رہائش گاہ پر بھی پکٹ لگاکر آنے جانے والوں کی تلاشی لی گئی۔ بابو سرور سیال نے پریس بیان جاری کرکے تہلکہ مچادیا کہ چیف جسٹس کے بیٹے بیرسٹر اویس شاہ کو سہیل انور سیال نے اغواء کرایا ہے پھر تو ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ بلاآخر چیف جسٹس کے بیٹے کو خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک سے اس وقت بازیاب کرالیا گیا جب مغوی کو افغانستان منتقل کیا جارہا تھا۔ اس کے بعد قومی سلامتی کے ادارے سہیل انور سیال سے ناراض ہوگئے ،پھر حکومت سندھ نے رینجرز کی مدت بڑھانے پر تنازع کھڑا کیا، چند روز تک سندھ اسمبلی کا اجلاس جاری رہا روزانہ ایجنڈا میں رینجرز کی مدت اور اختیارات میں توسیع کا معاملہ شامل کیا گیا لیکن اس قرارداد کو آخری روز منظور کیا گیا۔ اس کے بعد حکومت سندھ میں تبدیلی ہوئی مراد علی شاہ کو نیا وزیراعلیٰ بنایا گیا، ان کی کابینہ میں سہیل انور سیال کو وزیر آبپاشی اور وزیر زراعت بنایا گیا۔ حالانکہ ان کو سیکورٹی کلیئرنس نہیں دی گئی تھی مگر چونکہ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی سادہ اکثریت رکھتی ہے، اس لئے سیکورٹی کلیئرنس کی پروا
نہیں کی ۔سہیل انور سیال نے اسد کھرل کے توسط سے کراچی، دبئی، ملیشیا میں اربوں روپے کے کاروبار شروع کرلیے ہیں اور یہ سب فریال تالپور کی ملکیت ہیں، تاہم سہیل انور سیال اور اسد کھرل نے درمیان میں ڈنڈی بھی ماری ہے اور اپنے بھی خفیہ کاروبار شروع کررکھے ہیں۔ مگر ان کی پی پی کی قیادت میں کتنی اہمیت اور عزت سے اس کا ثبوت دو فوٹو گراف ہیں جس میں ایک طرف وہ فریال تالپور کا دورہ گھوٹکی کے دوران پرس اٹھاکرچل رہے ہیں تو دوسری جانب وہ ایک نجی اسپتال میں آصف علی زرداری کی آمد پر ان کو پائوں پڑکر مل رہے ہیں۔ جب وہ اقتدار کے حصول کے لئے اتنا کرسکتے ہیں تو پھر ان سے کچھ بھی توقع کی جاسکتی ہے۔ پچھلے چند روز سے آصف علی زرداری کی ہدایت پر حکومت سندھ نے آئی جی سندھ سے نئی جنگ شروع کر رکھی ہے، پہلی جنگ 19 دسمبر 2016ء کو شروع کی تھی جس میں حکومت سندھ کو منہ کی کھانی پڑی تھی تو دوسری جنگ مارچ میں شروع کی جو تاحال جاری ہے جس میں بھی حکومت سندھ کو ناکامی ہوئی ہے اب تمام تیر چلانے کے بعد جب آئی جی سندھ کو نہیں ہٹایا گیا تو آئی جی سندھ پولیس نے خود سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور حکم امتناعی ختم کرنے اور وفاقی حکومت جانے کی استدعا کی تو سندھ ہائی کوٹ نے یہ استدعا مسترد کردی تب ،حکومت سندھ اور پی پی کی کیمپوں میں صف ماتم بچھ گئی اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کو وزیراعلیٰ ہائوس بلالیا اور پھر کیا ہوا؟ ایک طوفان کھڑا کردیا گیا، وزیرعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ پر پارٹی قیادت یعنی آصف علی زرداری اور فریال تالپور نے عدم اعتماد کا اظہار کیا اور اپنے وفادار سہیل انور سیال کو فوری طورپر آئی جی سندھ پولیس سے نئی جنگ کے لئے تیار کیا گیا ۔وہ تابعدار ملازم کی طرح سرتسلیم خم کرکے میدان میں کود پڑے اور براہ راست پولیس افسران سے رابطے کیے کہ ان کی صدارت میں اجلاس بلایا گیا ہے۔ اس پر آئی جی نے پولیس افسران کو روکا تو ایڈیشنل آئی جی ٹریفک خادم حسین بھٹی نے آئی جی کو لیٹر لکھ کر اجازت طلب کرلی کہ انہیں وزیر داخلہ کے اجلاس میں بلایا گیا ہے ان کو بتایا جائے کہ وہ جائیں یا نہ جائیں؟ پھر تو میڈیا میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا اور جب وزیر داخلہ کا اجلاس ہوا تو لاڑکانہ، سکھر، نوابشاہ اور حیدر آباد کے ڈی آئی جیز شریک ہوئے مگر کراچی کا کوئی ڈی آئی جی شریک نہ ہوا حتیٰ کہ ایڈیشنل آئی جیز بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے ۔اس کے اگلے روز آئی جی سندھ پولیس نے امن وامان اور ماہ رمضان المبارک کی سیکورٹی کے لئے اجلاس بلایا تو اس اجلاس میں پورے صوبے کے ڈی آئی جیز اور ایڈیشنل آئی جیز شریک ہوئے یوں پولیس افسران نے آئی جی کی قیادت پر اعتماد کیا لیکن وزیر داخلہ سہیل انور سیال کو پارٹی قیادت سے شاباش ملی اور اب پارٹی قیادت صلاح مشورے کررہی ہے کہ موجودہ حکومت میں سہیل انور سیال کو نائب وزیراعلیٰ بنایا جائے یا پھر آئندہ عام الیکشن میں ان کو وزیراعلیٰ بنایا جائے اس لئے ان سے ایسے گھنائونے کام لیے جارہے ہیں۔
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...