... loading ...

سندھ میں گندم کی خریداری میں ہمیشہ بے قاعدگیاں کی گئی ہیں، کبھی گندم کی خریداری پر تو کبھی خالی بوری (باردانہ) کی خریداری پر بے قاعدگیاں ہوگئیں ،کبھی تو گندم کو خریدنے کے بعد غائب کرکے باقی بوریوں میں مٹی ڈال کر کاغذی کارروائی کی گئی۔ 2008ءمیں جب پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو اس وقت نادرمگسی کو وزیر خوراک بنایا گیا اس وقت حیرت انگیز ظورپر مالی بے قاعدگی کی حد کر دی گئی۔ پہلے تو خالی بوریاں چھپادی گئیں اور پھر ہر بوری 200 روپے میں فروخت کی گئی اور پھر گندم کا جوریٹ سرکاری طور پر طے ہوا وہ آباد گاروں کو نہ دیا گیا اور ہر چھوٹے بڑے شہر میں ہندو تاجر سے کہا گیا کہ وہ گندم کم نرخ پر خریدیں اور پھر سرکاری ریٹ پر محکمہ خوراک کو فروخت کریں جو منافع ملے گا اس میں 60 فیصد وزیر خوراک کا اور 40 فیصد ہندو تاجر کا ہوگا۔ یوں ایک بوری پر کم از کم ایک ہزار روپے منافع کمایا گیا جو دو تین ارب روپے تک جا پہنچا۔ وزیر خوراک نے بلوچستان سے محکمہ بلدیات کے ایک نان گزیٹیڈ ملازم کو لا کر محکمہ خوراک کا ڈائریکٹر بنا دیا اور پر اس ڈائریکٹر خوراک طالب مگسی نے دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کی اور ایسی لوٹ مار کر کی کہ عقل دنگ رہ جائے ۔یوں پانچ برس تک یہ کھیل کھیلا گیا اور ان پانچوں برسوں میں 10 سے 15 ارب روپے کسانوں سے نکلوا لیے گئے ۔خیر جیسی کرنی ویسی بھرنی، ایسا ہی مکافات عمل نادر مگسی کے ساتھ ہوا جب ایک سپر اسٹور کے مالک نے زیادہ منافع دینے کی لالچ دے کر نادر مگسی سمیت ایک درجن امیر وزراءسے رقم لی اور پھر وہ منظر سے غائب ہوا۔ پتہ چلا کہ اس نے بڑے صاحب کے ساتھ مل کر اس رقم کو دبئی منتقل کیا اور ڈرامہ یہ رچایا کہ یہ رقم لانچوں کے ذریعے دبئی بھیجی جا رہی تھی کہ انہیں کوسٹ گارڈ اور نیوی کے اہلکاروں نے پکڑنے کی کوشش کی تو انہوں نے رقم جلا دی اور خود جان بچا کر واپس کراچی آگئے۔ نادر مگسی کا دور محکمہ خوراک کا سیاہ ترین دور تھا لیکن پھر دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ 2013 ءکے عام انتخابات میں جب نادر مگسی ضلع قمبر۔ شہداد کوٹ سے کامیاب ہوئے تو ان کو وزیر بھی نہ بنایا گیا کیوں کہ ایک تو انہوں نے گندم، خالی بوریوں کی خرید و فروخت میں اربوں روپے کمائے تو اس میں بڑے صاحب اور ان کی ہمشیرہ کو حصہ نہ دیا اور دوسرا یہ کہ جاتے جاتے انہوں نے محکمہ خوراک میں بھرتیاں بھی کیں اور اس میں بھی بہن بھائی کو نظر انداز کیا۔ اسی وجہ سے وہ آج ایک کونے میں خاموش ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ 2013 ءکے بعد جو حکومت سندھ بنی اس میں بھی وہی تماشا شروع کیا گیا۔ پہلے تو سید ناصر شاہ کو وزیر بنایا گیا ،پھر کچھ وقت تو اس محکمہ کا قلمدان مراد علی شاہ کے پاس رہا اب یہ محکمہ نثار کھوڑو کے پاس ہے، نثار کھوڑو ایک سینئر سیاستدان ہیں اور وہ اچھی شہرت رکھنے والے ہیں لیکن ان کا اپنے محکمہ پر کوئی زور نہیں چل رہا۔ اس وقت ڈائریکٹر خوراک محمد بچل راھپوٹو ہیں ان کا تعلق سیہون سے ہے اور وہ مراد علی شاہ کے حلقے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا مراد علی شاہ سے ذاتی تعلق ہے۔ اس مرتبہ ڈائریکٹر خوراک محمد بچل راھپوٹو نے دو ارب روپے کا ٹھیکہ لیا ہے کہ گندم کی خالی بوریاں فروخت کریں گے۔ اور انہوں نے سابق صدر آصف زرداری کے کاروباری شراکت دار انور مجید سے پلاسٹک کی بوریاں لی ہیں۔ پلاسٹک کی بوریاں چونکہ گرمی برادشت نہیں کرتیں اور سخت گرمی میں پھٹ جاتی ہیں تو اس میں پڑی گندم تباہ ہو جاتی ہے۔ لیکن ان کو اس کی پرواہ نہیں ہے کیونکہ ان کو تو ٹھیکہ لینا تھا اور یہ خالی بوریاں انور مجید سے لے کر ان کو بھاری رقم دینا تھی ۔ اب دوسرا مرحلہ گندم کی خریداری کا ہے، اس میں بھی وہی پرانی حکمت عملی بنائی گئی ہے کہ کہیں بھی سرکاری خریداری مرکز نہ کھولا جائے اور گندم ہندو بیوپاریوں کو خریدنے دی جائے اور پھر ان ہندو تاجروں سے یہ گندم سرکاری نرخ پر خرید کر منافع کی رقم بانٹ دی جائے۔ اس دفعہ ڈائریکٹر خوراک نے انور مجید سے رابطہ کرکے ان کے ساتھ معاملہ طے کرلیا اس سے وزیراعلیٰ سندھ بھی خوش ہوگئے ہیں اور صوبائی وزیر خوراک نثار کھوڑو بھی پریشانی سے دور ہوگئے ہیں کیونکہ اب ان کا گندم کی خریداری سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس وقت صوبے کے کاشتکار شدید پریشان ہیں کیونکہ انہوں نے گندم کا جو سرکاری نرخ معلوم کیا تو ان کو اس سے بھی کم نرخ پر ہندو تاجر کو فروخت کرنے پر مجبور ہیں اس سے ان کو بھاری مالی نقصان پہنچ رہا ہے کیونکہ ایک کسان فصل کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرتا ہے اور جب فصل اترتی ہے تو اس کو جو رقم ملتی ہے اس سے وہ کھاد بیج اور زرعی ادویات کی رقم اتار کر باقی بچ جانے والی رقم کو بچا کر منافع کما لیتا ہے اور پھر اگلی فصل کی تیاری کرتا ہے لیکن یہاں تو کھیل ہی نرالا ہے۔ کسانوں کی نمائندہ جماعت پیپلز پارٹی کسانوں کے پیٹ پر لات مار رہی ہے۔ اس مرتبہ بھی گندم کی خریداری کے ہر مرحلے میں کرپشن عروج پر ہے اور حکومت سندھ اس لیے خاموش ہے کیونکہ یہ انور مجید کا قصہ ہے، ان کو روکنے اور کہنے والا کوئی نہیں ہے ،بلکہ حکومت سندھ اندر سے خاموش ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انور مجید کے ملوث ہونے کے باعث بڑے صاحب بھی اس معاملہ کو دیکھ رہے ہیں اور ان کو ان خریداریوں کا پتہ ہے، وہ خوش رہیں تو حکومت سندھ کی خوش قسمتی ہے باقی کسان تکلیف برداشت کرے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔
وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...
میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...
چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...
وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...
ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...
خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...
گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...