وجود

... loading ...

وجود

کلبھوشن کے معاملے پر عالمی عدالت کامایوس کن فیصلہ

جمعه 19 مئی 2017 کلبھوشن کے معاملے پر عالمی عدالت کامایوس کن فیصلہ

بھارتی جاسوس کی سزائے موت کے خلاف بھارت کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے جج رونی ابراہم نے حتمی فیصلہ آنے تک حکم امتناع سنادیا‘ پاکستان میں پچھلے چار عشروں میں ایک درجن سے زیادہ بھارتی جاسوسوں کو سزا ہوئی جن میں بعض کو موت کی سزا سنائی گئی لیکن ان کی سزا پر کبھی عملدرآمد نہیں ہو

اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے خلاف بھارت کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ حتمی فیصلہ آنے تک کلبھوشن کو پھانسی نہیں دی جاسکتی۔بھارتی درخواست پر فیصلہ عالمی عدالت انصاف کے جج رونی اَبراہم نے سنایا، جسے 15 مئی کو محفوظ کیا گیا تھا۔انہوں نے پاکستان کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کر دیا اور کہا کہ عالمی عدالت اس معاملے کی سماعت کا اختیار رکھتی ہے۔
فیصلہ سناتے ہوئے جج رونی ابراہم کا کہنا تھا کہ کلبھوشن کو پاکستانی آرمی ایکٹ کے تحت سزائے موت سنائی گئی جبکہ کلبھوشن یادیو کی جانب سے کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی۔رونی ابراہم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت دونوں 28 دسمبر 1977ء سے ویانا کنونشن کے رکن ہیں اور کوئی بھی اس سے انکار نہیں کرتا۔جج رونی ابراہم نے کہا کہ آرٹیکل 1 کے تحت عدالت کے پاس ویانا کنونشن کی تشریح میں تفریق پر فیصلہ دینے اور اس کیس کو سننے کا اختیار ہے۔فیصلہ سناتے ہوئے جج رونی ابراہم نے بھارت کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی دینی چاہیے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے تک کلبھوشن کو پھانسی نہیں دی جاسکتی۔پاکستان کے وزیر اطلاعات اور آئی ایس پی آر کے ترجمان نے مارچ 2016 ء میں کلبھوشن کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔
پاکستانی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا تھاکہ مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو آرمی ایکٹ کے تحت سزائے موت سنائی گئی ۔ کلبھوشن پہلے ایسے بھارتی شہری نہیں ہیں جنہیں جاسوسی کے الزام میں پاکستان میں سزا سنائی گئی ہو۔
پاکستان میں پچھلے چار عشروں میں ایک درجن سے زیادہ بھارتی جاسوسوں کو سزا ہوئی جن میں بعض کو موت کی سزا سنائی گئی لیکن ان کی سزا پر کبھی عملدرآمد نہیں ہوا۔ البتہ ان میں کئی لوگ جیل سے ہی عالم بالا کی طرف سدھارگئے۔ کلبھوشن پہلا بھارتی جاسوس ہے جس نے پاکستان کے انتہائی پسماندہ صوبے بلوچستان کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنارکھاتھا،اورا سے وہیں سے گرفتار کیا گیا جبکہ ماضی میں اکثر بھارتی جاسوس پنجاب کے مختلف علاقوں سے گرفتار ہوئے۔
کلبھوشن یادیو
یادیو مارچ 2016ء میں پاکستانی عقابوں کے شکنجے میں آیا،تب حکومت نے اسکی گرفتاری کے بعداس کی اعترافی ویڈیو بھی جاری کی جس میں اپنے اعترافی بیان میں وہ کہتا ہے کہ وہ انڈین نیوی کا حاضر سروس افسر ہے اور بلوچستان میں اس کی آمد کا مقصد ان بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات تھی جنہیں انڈیا امداد مہیا کرتا ہے۔
کلبھوشن یادیو نے حسین مبارک پٹیل کا نام اختیار کیا ہوا تھا جو کہ اسکے پاسپورٹ پر بھی درج ہے اور بلوچستان میں ایران کی سرحد سے داخل ہوا تھاجہاں وہ چاہ بہار بندرگاہ میںرہ رہا تھا ۔ پاکستان نے کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔
ماضی میں اکثر بھارتی جاسوس پنجاب کے مختلف علاقوں سے گرفتار ہوئے اور ان کی اکثریت کا تعلق بھارتی پنجاب سے تھا۔ان میں سے سربجیت سنگھ کی رہائی کے لیے بھارت میں مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔
سربجیت سنگھ
سربجیت سنگھ کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے اگست 1990 ء میں گرفتار کیا تھا۔بھارت کا مؤقف تھا کہ نشے میں دھت ایک پنجابی کاشتکار کھیتوں میں ہل چلاتے ہوئے غلطی سے سرحد پار کر گیا تھا۔سربجیت سنگھ کے خلاف فیصل آباد، ملتان اور لاہور میں دھماکوں کے الزامات میں مقدمہ چلایاگیا اور اسے موت کی سزا سنائی گئی۔ پرویز مشرف کے اقتدار کے دوران جب بھارت پاکستان کے مابین جامع مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا تو اس وقت بھارت میں کچھ غیر سرکاری تنظیموں نے سربجیت سنگھ کی رہائی کی مہم چلائی اور کئی بار ایسا لگا کہ حکومتِ پاکستان ان کو رہا کردے گی لیکن مذاکرات کی ناکامی کے بعد سربجیت سنگھ کی رہائی بھی کھٹائی میں پڑ گئی۔بعدازاںسربجیت 2013ء میں کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کے ایک حملے میں زخمی ہو گیا اور جانبر نہ ہو سکا۔ سربجیت سنگھ کی لاش کوبھارت کے حوالے کیا گیا اور بھارت کی حکومت نے سربجیت سنگھ کو سرکاری اعزازات کے ساتھ دفن کیا۔
کشمیر سنگھ
کشمیر سنگھ جب تین عشرے پاکستانی جیلوں میں گزارنے کے بعد واپس بھارت پہنچا تو اس کا بھرپور استقبال کیا گیا۔کشمیر سنگھ 1973ء میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہوا اور جب مختلف جیلوں میں 35 برس گزارنے کے بعد اسے 2008ء میں رہا کیا گیا توبھارت میں اس کا شاندار خیر مقدم کیا گیا۔کشمیر سنگھ کی رہائی میں انسانی حقوق کے کارکن انصار برنی کی کوششوں کا بہت عمل دخل تھا۔ پاکستان میں موجودگی کے دوران کشمیر سنگھ نے ہمیشہ اپنے آپ کو بے قصور قرار دیا لیکن بھارتی سرزمین پر پہنچتے ہی اس نے جاسوسی کا اعتراف کرتے ہوئے پاکستانی ارباب اختیار اور نام نہاد انسانی حقوق کے پرچارکوں کے منہ پر تھپڑ رسید کیا۔
رویندرا کوشک
رویندرا کوشک ایک ایسا بھارتی جاسوس تھا جو 25 برس تک پاکستان میں رہا۔ رویندرا کوشک راجستھان میں پیدا ہوا۔رویندرا کوشک کو بھارت میں ’بلیک ٹائیگر‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جب اسے بھارتی اداروں نے بھرتی کیا تو وہ ایک تھیٹر آرٹسٹ تھا۔ اردو زبان اور مذہب اسلام کے بارے میں خصوصی تعلیم کے بعد وہ کوڈ نیم نبی احمد شاکر کے نام سے پاکستان بھیجا گیا۔برطانوی خبررساں ایجنسی کے مطابق پاکستان بھیجے جانے سے پہلے اس نے مسلمانی شناخت کے طور پر ختنہ بھی کروا لیا۔ وہ نہ صرف بہت کامیابی سے ملک کے معروف تعلیمی ادارے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا، حیرت انگیز طور پر اس نے یہاں شادی بھی کی اور اس کا ایک بچہ بھی تھا۔کراچی یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ پاک فوج میں کلرک کے طور پر بھرتی ہوا اور پھر ترقی کرتے ہوئے کمیشنڈ افسر بن گیا اور پھر وہ مزید ترقی کرتے ہوئے میجر کے عہدے تک بھی پہنچا۔ رویندرا کوشک کی نشاندہی ایک اور بھارتی جاسوس کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئی جسے خصوصی طور پر میجر رویندرا کے ساتھ رابطے کے لیے بھیجا گیا تھا۔رویندرا کوشک کی گرفتاری کے بعد اسے مختلف جیلوں میں سولہ برس تک رکھا گیا اور 2001ء میں جیل میں ہی موت نے اسے آدبوچا۔
رام راج
رام راج سرحد پار پہنچتے ہی پاکستان کے عقابوں کے پنجے میں پھنس گیا،2004ء میں لاہور میں گرفتار ہونے والا رام راج شاید واحد بھارتی جاسوس ہوگا جس کے بارے میںوہ خود زندگی بھرسوچتا رہا ہوگا کہ
؎’’اڑنے بھی نہ پائے تھے کہ گرفتارـہم ہوئے‘‘
اسے6 برس قید کی سزا ہوئی اور جب وہ اپنی سزا کاٹ کر واپس بھارت پہنچاتواتنی آسانی سے ’دشمن ایجنسیوں‘‘ کے ہتھے چڑھنے پر اسے بھارتی اداروں نے بھی ذلت کے مارے پہچاننے سے انکار کر دیا۔حالانکہ وہ پاکستان آنے سے قبل18برس تک بھارت کے خفیہ ادروں میں کام کر چکا تھا۔
سرجیت سنگھ
سرجیت سنگھ نے گرفتار ہونے سے پہلے پاکستان کے 85 دورے کیے تھے ،سرجیت سنگھ نے 30 برس پاکستانی جیلوں میں گزارے۔ سرجیت سنگھ کو 2012 ء میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے رہا کیا گیا اور وہ واپس بھارت پہنچے تو کشمیر سنگھ کے برعکس اس کا کسی نے استقبال نہیں کیا۔ سرجیت سنگھ دعویٰ کرتے رہا کہ اسے پاکستان میں ’را‘ نے بھیجاتھا لیکن کسی نے اسکی بات پر کان نہ دھرا۔
سرجیت سنگھ نے اپنی رہائی کے بعد بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے سے بات کرتے ہوئے بھارتی حکومت کے رویے پر غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ اس نے کہا کہ بھارتی حکومت ان کی غیر موجودگی میں ان کے خاندان کو 150 روپے ماہانہ پینشن ادا کرتی تھی جو اس بات کاثبوت ہے کہ وہ خفیہ ادارے کا ایجنٹ تھا اور وہ گرفتاری سے پہلے 85 بار پاکستان کی سرحد پار کر چکا ہے جہاں وہ اپنے خفیہ سورس سے دستاویزات حاصل کر کے واپس آ جاتا تھا۔
گربخش رام
گربخش رام جب اپنا وقت پاکستان میں پورا کر کے واپس جانے لگاتو وہ عین موقع پر دھر لیا گیا۔بعد ازاں گربخش رام کو 2006ء میں 19 دوسرے بھارتی قیدیوں کے ہمراہ کوٹ لکھپت سے رہائی ملی۔ گربخش رام پاکستان میں شوکت علی کے کوڈ نام سے جانا جاتا تھا۔اس نے اپنے کیے کے بھگتان کے طور پر 18برس تک پاکستانی جیلوں کی ہوا کھائی۔ گربخش رام کو 1990ء میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ کئی برس پاکستان میں گزارنے کے بعد واپس بھارت جا رہا تھا لیکن پاکستان کے خفیہ اداروں کے ہاتھ لگ گیا۔بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گربخش رام نے ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کو وہ سہولتیں دینے سے انکاری ہیں جو سربجیت سنگھ کے خاندان کو ملی ہیں۔ انہوں نے پنجاب کے چیف منسٹر پرکاش سنگھ بادل سے بھی ملاقات کی لیکن انہیں سرکاری ملازمت نہیں دی گئی ہے۔
ونود سانھی
ونود سانھی نے سابق جاسوسوں کی مدد کے لیے تنظیم قائم کر رکھی ہے۔ونود سانھی 1977 ء میں پاکستان میں گرفتار ہوا اور گیارہ برس پاکستانی جیلوں میں گزارنے کے بعد اسے 1988ء میں رہائی ملی۔ونود سانھی نے اب بھارت میں سابق جاسوسوں کی فلاح کے لیے ’جموں ایکس سلیوتھ ایسوسی ایشن‘ نامی تنظیم قائم کر رکھی ہے۔وہ اپنی کہانی بتاتے ہوئے کہتاہے کہ وہ ٹیکسی ڈرائیور تھا جب اس کی ملاقات ایک بھارتی جاسوس سے ہوئی جس نے اسے سرکاری ملازمت کی پیشکش کی۔ اسے پاکستان بھیجا گیا لیکن جب وہ پاکستانی قید سے رہا ہوا تو حکومت نے ان کی مدد نہیں کی۔


متعلقہ خبریں


آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ وجود - پیر 13 اپریل 2026

ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم وجود - پیر 13 اپریل 2026

اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان وجود - پیر 13 اپریل 2026

مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 12 اپریل 2026

سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی وجود - هفته 11 اپریل 2026

امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات وجود - هفته 11 اپریل 2026

فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 11 اپریل 2026

حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی وجود - هفته 11 اپریل 2026

جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان وجود - هفته 11 اپریل 2026

ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان

مضامین
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

ریت کا محل وجود پیر 13 اپریل 2026
ریت کا محل

ریاست ِاسرائیل کا تاریخی و قرآنی تناظر وجود پیر 13 اپریل 2026
ریاست ِاسرائیل کا تاریخی و قرآنی تناظر

چین اور ایران وجود پیر 13 اپریل 2026
چین اور ایران

انسان اپنی سوچ سے نہیں کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے! وجود پیر 13 اپریل 2026
انسان اپنی سوچ سے نہیں کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر