وجود

... loading ...

وجود

چین میں سب سے بڑا سفارتی اجلاس”دا بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو“

پیر 15 مئی 2017 چین میں سب سے بڑا سفارتی اجلاس”دا بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو“

چین انفرااسٹرکچر کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک کو ملانے کا عزم رکھتا ہے، چین کا منصوبہ ہے کہ ہر سال 150 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کریگا‘ چین کے اس منصوبے پر ملا جلا ردعمل ہے، وسط اور جنوب مشرقی ایشیا کی ریاستیں جیسے کہ قزاقستان اور تاجکستان ہیں تو وہ بہت خوش ہیں‘ بھارت نے شک کا اظہار کیا ہے کہ تجارتی منصوبے بہانہ ہیں اور چین کا اصل منصوبہ بحرِ ہند پر اسٹریٹیجک کنٹرول حاصل کرنا ہے

روس کے صدر ولادیمر پوٹن اور پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف دنیا کے کم وبیش 29 سربراہان مملکت اور 130 ممالک کے 1500 مندوبین کا سال کا سب سے بڑا سفارتی اجلا س چین کے شہر بیجنگ میں شروع ہوچکاہے ،چین نے بیجنگ میں ہونے والے اس اجلاس کو ’دا بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو‘ کانام دیا ہے اور اس کو بجاطورپر اس سال کا سب سے بڑا سفارتی اجلاس قرار دیا جا رہا ہے، اجلاس کا آغاز چین کے صدر شی جن پنگ نے کیا ہے۔
’دا بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو‘ کیا ہے؟
اس پراجیکٹ کو کچھ اس طرح سمجھاتے ہیں: ’یہ پراجیکٹ چین کی جانب سے عالمی سطح پر معاشی مشکلات کے خاتمے کی کوشش ہے۔ یہ وہ گیت ہے جو کسی ایک آواز میں نہیں ہے بلکہ کورس میں ہے‘۔ اس پراجیکٹ کے ذریعے چین تجارت میں اضافہ اور اپنی معیشت کو ایشیا سے باہر کے خطے لے جانا چاہتا ہے۔
ایسا کرنے کے لیے چین بڑے پیمانے پر انفرااسٹرکچر کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک کو ملانے کا عزم رکھتا ہے۔ چند اندازوں کے مطابق چین کا منصوبہ ہے کہ وہ ہر سال 150 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ رواں سال کے آغاز پر ریٹنگ ایجنسی ’فچ‘ کا کہنا تھا کہ 900 بلین ڈالر کے پروجیکٹ کی یا تو منصوبہ بندی کر لی گئی ہے یا ان پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔
ان منصوبوں میں پاکستان میں پائپ لائنز اور بندرگاہ، بنگلہ دیش میں پُل اور روس میں ریلوے کے پروجیکٹ ہیں۔ ان کا مقصد ’جدید سلک روڈ‘ کا قیام ہے جس کے ذریعے تجارت کی جا سکے اور ایک نئے گلوبلائزیشن دور کا آغاز کیا جائے۔
بیلٹ اینڈ روڈ سے مطلب؟
اس اجلاس کے آغاز سے قبل ہی دنیا بھر کے سربراہان چین پہنچ چکے ہیں اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف گزشتہ روز چاروں وزرائے اعلیٰ کے ہمراہ بیجنگ پہنچے تھے۔’دا بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو‘کے دو اہم حصے ہیں۔ ایک ہے جس کو ’سلک روڈ اکنامک بیلٹ‘ کہا جاتا ہے اور دوسرا ہے ’21 ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ۔’21 ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ‘ وہ سمندری راستہ ہے جس کے ذریعے چین اپنے جنوبی ساحل کو وسط ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے ذریعے مشرقی افریقہ اور بحیرہ روم سے ملائے گا۔
چینی صدر شی جن پنگ نے ستمبر 2013ءمیں قزاقستان کی ایک یونیورسٹی میں خطاب کے دوران ’سلک روڈ اکنامک بیلٹ‘ کا باضابطہ اعلان کیاتھا۔ تاہم بعد میں اس منصوبے میں وسعت لائی گئی اور نام بھی تبدیل کر دیا گیا۔چین نے اس پروجیکٹ کے حوالے سے کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں جن میں اہم ترین 62 بلین ڈالر کا چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت پاکستان میں موٹر ویز کا جال بچھانا ہوگا، پاور پلانٹس لگیں گے، فیکٹریاں لگیں گی اور ریلوے کا جال بچھے گا۔پاکستان کے علاوہ چین نے سری لنکا میںبھی 1.1 بلین ڈالر کا منصوبہ شروع کیا ہے، انڈونیشیا میں تیز رفتار ریل لنک اور کمبوڈیا میں صنعتی پارک۔
چین کے اس منصوبے پر ملا جلا ردعمل ہے۔ وسط اور جنوب مشرقی ایشیا کی ریاستیں جیسے کہ قزاقستان اور تاجکستان ہیں تو وہ بہت خوش ہیں۔دوسری جانب بھارت نے شک کا اظہار کیا ہے کہ تجارتی منصوبے بہانہ ہیں اور چین کا اصل منصوبہ بحرِ ہند پر سٹریٹیجک کنٹرول حاصل کرنا ہے۔یہ ایک بہت بڑا پروجیکٹ ہے جس کے ذریعے دنیا کی 65 فیصد آبادی، دنیا کی تین چوتھائی توانائی کے ذخائر اور دنیا کا 40 فیصد جی ڈی پی تک پہنچے گا۔
ایک اندازے کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری پر 46 بلین ڈالر لاگت آئے گی۔ اس منصوبے کے تحت کاشغر کو دو ہزار میل دور گوادر سے جوڑا جائے گا۔ واضح رہے کہ امریکا نے 2002 ءسے اب تک پاکستان میں 33 بلین ڈالر خرچے ہیں جن میں سے دو تہائی سیکورٹی کی مد میں تھے۔اس پروجیکٹ کے بارے میں تفصیلات مبہم ہیں۔ جیسے اس پراجیکٹ کا ایک نقشہ تیار کیا گیا لیکن اس کو بھی جلد ہی منظر عام سے ہٹا دیا گیا۔
پاکستان میں تعینات چینی سفارت کار عموماً ’خاموش‘ سفارتکاری پر عمل پیرا رہے ہیں لیکن چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر عمل درآمد میں تیزی آنے کے ساتھ ساتھ یہی چینی سفارت کار سوشل میڈیا پر اس کے دفاع کے لیے کافی متحرک ہوئے ہیں۔اسلام آباد میں تعینات چین کے سفارت کار محمد لجیان ڑاو نے ٹوئٹر پر اپنے تعارف میں لکھا ہے کہ ’اگر آپ کو چین یا سی پیک سے متعلق معلومات چاہئےں تو مجھے فالو کریں۔’ مئی 2010 ءسے شروع کیے گئے اس چینی اہلکار کے اکاو¿نٹ کی ٹائم لائن اگر دیکھیں تو اس پر بھرپور انداز میں راہداری منصوبے سے متعلق ٹویٹس اور شائع ہونے والی خبروں کی تردید یا وضاحت کی گئی ہے۔
تازہ ترین بحث خیبر پختونخوا کے ضلع دیر پایان میں ایک پن بجلی کے منصوبے پر کام کرنے والے چینی مزدوروں کے بارے میں افواہیں ہیں کہ وہ اس کیمپ کے قیدی ہیں۔ محمد لجیان ڑاو نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے اور اسے دن کا بڑا مذاق قرار دیا۔ پاکستان سائبر فورس نامی اکاو¿نٹ نے محمد لجیان کے حق میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ’انہیں ماضی میں چینی انجینئروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور ایک بات انہیں معلوم ہے کہ چینی ایماندار دوست ہیں‘۔
نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ چینی سفیر اور سیمینارز اور اسلام آباد میں قائم مختلف تھنک ٹینک کے ذریعے بھی آج کل راہداری کے بارے میں ہونے والے ’منفی پروپیگنڈا‘ کو زائل کرنے کی کوشش میں مصرف دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے ہی ایک سمینار میں بات کرتے ہوئے چین کے قائم مقام سفیر نے کہا کہ سی پیک پر کام ٹھیک ہو رہا ہے۔ ’لیکن بعض لوگ اسے بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔پاکستان میں چین کے سفیر نے اپنے اہلکاروں کے ساتھ سی پیک کی پہلی کھیپ کی روانگی پر تصویر کھنچوائی، محمد لجیان ایک اور جگہ پر سی پیک میں پنجاب کو سب منصوبے دینے کے الزام کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’میرے نزدیک بلوچستان کو اس سے زیادہ فائدہ ہوگا تو کیا اس کا نام چین بلوچستان اقتصادی راہداری نہ رکھ لیا جائے‘۔ بلوچستان کے بارے میں ہی ان کا کہنا تھا کہ’ صوبے کی اشرافیہ عام لوگوں کو بےوقوف بنانا چاہتی ہے‘۔
چینی سفیر کی اہلیہ ڈیانہ باو¿ بھی اپنے اکاؤنٹ سے لجیان کے ٹویٹس کو ری ٹویٹ کرتی رہتی ہیں۔ 46 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنے والے چین کے لیے سوشل میڈیا پر سی پیک کے حق متحرک ہونا شاید بڑی ضرورت تھی۔
تہمینہ حیات


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر