وجود

... loading ...

وجود

پاکستان پر حملہ‘ مغربی سرحد پر محاذ آرائی، دلی کابل گٹھ جوڑ کا نتیجہ

پیر 08 مئی 2017 پاکستان پر حملہ‘ مغربی سرحد پر محاذ آرائی، دلی کابل گٹھ جوڑ کا نتیجہ

٭آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے متنبہ کیا تھا کہ دہشت گرد ایک بار پھر افغانستان میں منظم ہوکر وہاں سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔٭دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کے بقول ”کشیدگی کی ایک وجہ امریکا بھی ہے جو نہیں چاہتا کہ یہ خطہ مستحکم رہے، کیونکہ اگر ایسا ہوا تو پھر امریکی افواج کے پاس افغانستان میں رہنے کا کوئی جواز نہیں بچے گا“

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان اپنے اندرونی حالات سے توجہ ہٹانے کے لیے کارروائیاں کر رہا ہے اور مغربی سرحد پر محاذ آرائی دلی کابل گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔سیالکوٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان اپنے اندرونی حالات سے توجہ ہٹانے کے لیے کارروائیاں کر رہا ہے۔ یہ سلسلہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے چل رہا ہے، ہماری کوشش ہے کہ دونوں ممالک میں ہم آہنگی پیدا ہو لیکن دوسری جانب سے مثبت جواب نہیں مل رہا، چمن میں کارروائی کابل اور دلی کی گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔ گزشتہ روز کی کارروائی پر افغانستان کو غلطی کا احساس ہوا ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ ہیں، ہماری خواہش ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان اور افغانستان مل کر لڑیں گے، اس جنگ میں ہمیں چین اور روس سمیت دیگر پڑوسی ملکوں کے تعاون کی بھی ضرورت ہے، جب تک افغان حکومت اپنے ملک کے مفاد کو مدنظر نہیں رکھے گی، ہم افغانستان کے ساتھ تعلقات کے فروغ اور تعاون کی کوششوں کو جاری رکھیں گے، اگر ہماری سرحدوں پر مزید کارروائی کی گئی تو بھر پور جواب دے دیں گے اور ہمارا کوئی نقصان کرے گا پھر ہم بدلہ لیں گے۔ ہماری سرزمین کی خلاف ورزی ہوئی اور نقصان ہوا تو پھر اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
قبل ازیںآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز ایک دفعہ پھر متنبہ کیا تھا کہ دہشت گرد ایک بار پھر افغانستان میں منظم ہورہے ہیں اور وہاں سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے باجوڑ اور مہمند ایجنسی کے دورے میں فوجی جوانوں اور قبائلی عمائدین سے ملاقات کی۔آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے گزشتہ روز غلنئی میں شہید ہونے والے افراد کے بچوں سے بھی ملاقات کی اور شہداکے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے گزشتہ دنوںافغانستان کی جانب سے دہشت گرد حملے پر بروقت کارروائی کرنے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص لیویز کی کارکردگی کو سراہا۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کارروائی کے باعث جانی نقصان کم سے کم ہوا۔آرمی چیف نے خبردار کیا کہ پاکستان مخالف ایجنسیاں خطے کے امن و استحکام سے کھیلنے سے باز رہیں، اس قسم کی مخالفانہ سرگرمیوں کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا جبکہ ہم دوسروں سے بھی یہی توقع کرتے ہیں۔آرمی چیف نے کہا کہ دہشت گرد دوبارہ افغانستان میں منظم ہورہے ہیں اور افغانستان سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، انہوں نے ایک دفعہ پھر افغان حکومت کو مل کر دہشت گردوں کی کوششوں کو ناکام بنانے کی ضرورت کااحساس دلایا۔
آرمی چیف نے قبائلی عمائدین کو یقین دلایا کہ فوج فاٹا میں سڑکیں ، تعلیمی اداراے ،ہسپتال اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ سمیت انفراسٹرکچر میں بہتری کے لیے کام کرتی رہے گی۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاک فوج قبائلی عوام کی خواہشات کے مطابق فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی مکمل حمایت کرتی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی پاکستان کی وزارت برائے خارجہ امور کے ایک عہدے دار نے اسلام آباد میں تعینات افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن سید عبدالناصر یوسفی سے ملاقات کی تھی اور افغانستان میں سرگرم تنظیموں کی جانب سے پاکستان پر حملے کا معاملہ اٹھایا تھا۔ وزارت برائے خارجہ امور کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اقوام متحدہ و یورپین کمیشن (یو این اینڈ ای سی) کی ایڈیشنل سیکریٹری تسنیم اسلم نے کہا تھا کہ پاکستان کو اپنی سرزمین پر دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کی کارروائیوں پر تشویش ہے جو کہ افغانستان میں موجود اپنی پناہ گاہوں سے آپریٹ کررہی ہے۔
دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کو ٹھیک کرنے میں افغانستان غیر سنجیدہ ہے اور جب تک بارڈر مینیجمنٹ اور انٹیلی جنس کے تبادلے کا ایک مو¿ثر نظام نہیں بنے گا، اس وقت تک دونوں ملکوں کے درمیان حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔ڈان نیوز کے پروگرام ‘دوسرا رخ’ میں گفتگو کرتے ہوئے امجد شعیب کا کہنا تھا کہ افغانستان اس وقت بھارت کا آلہ کار بن چکا ہے اور یہی چیز پاک-افغان معاہدوں میں رکاوٹ کا بھی سبب ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘کشیدگی کی ایک وجہ امریکا بھی ہے جو نہیں چاہتا کہ یہ خطہ مستحکم رہے، کیونکہ اگر ایسا ہوا تو پھر امریکی افواج کے پاس افغانستان میں رہنے کا کوئی جواز نہیں بچے گا، جبکہ کچھ لوگ خود افغانستان میں بھی ایسے ہیں جو امن نہیں چاہتے’۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان شروع دن سے پاکستان پر سرحد پار دہشت گرد حملوں کا الزام عاید کرتا آیا ہے، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ خود افغانستان کا 47 فیصد علاقہ آج بھی طالبان کے قبضے میں ہے، لہٰذا ایسے حالات میں انہیں پاکستان سے حملے کرنے کی ضرورت نہیں۔امجد شعیب نے کہا کہ آپریشن ضربِ عضب سے پہلے تک تو یہ بات سمجھ میں آتی تھی کہ دہشت گرد قبائلی علاقوں میں موجود ہیں، لیکن اتنے بڑے پیمانے پر پاک فوج کی کارروائیوں کے بعد وہ علاقہ کلیئر ہوچکا ہے اور موجودہ حالات میں افغان حکومت کی جانب سے اس طرح کے الزامات نامناسب ہیں۔اس سوال پر کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ان حالات کو بہتر کرنے کے لیے پاکستان کو کیا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ چاہے افغانستان ہو یا کوئی اور ملک یہ سب ہمارے دشمن ہیں اور جب تک ایک مشترکہ نظام نہ بنایا جائے تب تک سرحد پر حالات کو مستحکم نہیں کیا جاسکتا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان کے شہر چمن کے علاقوں لقمان اور کلی جہانگیر میں افغان سیکورٹی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں 12 شہری جاں بحق ہوئے، جبکہ فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں سمیت 40 افراد زخمی بھی ہوئے۔واقعے کے بعد پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ‘افغان بارڈر پولیس نے مردم شماری ٹیم کی سیکورٹی پر مامور ایف سی بلوچستان کے اہلکاروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا’۔بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ’افغان انتظامیہ کو پیشگی اطلاع جبکہ مردم شماری کا عمل یقینی بنانے کے لیے سفارتی اور فوجی سطح پر تعاون اور روابط کے باجود بھی افغانستان کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرنے کا سلسلہ جاری ہے’۔بعدازاں افغان فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکت پر افغان ناظم الامور عبدالناصر یوسفی کو دفتر خارجہ طلب کرکے سخت احتجاج کیا گیا تھا۔پاکستان کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ افغانستان فائرنگ کا یہ سلسلہ فوری طور پر ختم کرے اور سرحد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔دوسری جانب پاک فوج کے ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا نے افغان ڈی جی ایم او سے ہاٹ لائن رابطے میں بارڈر پولیس کو افغان حدود میں رکھنے کا انتباہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشیدگی میں کمی کے لیے افغان فورسز کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے۔ اطلاعات کے مطابق افغان ڈی جی ایم او نے چمن کے واقعے کا اعادہ نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن اس طرح کی یقین دہانیوں کی اس وقت تک کوئی حیثیت نہیں جب تک افغان حکومت عملی طورپر بھی اس بات کا اظہار نہیں کرتی ،موجودہ صورت حال میں افغان حکومت کو خود اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ اپنی حکومت کی رٹ قائم رکھنے کے لیے اسے انتشار کی نہیں بلکہ استحکام کی ضرورت ہے اور استحکام اسی وقت آسکتاہے جب افغان حکومت بلاوجہ کے محاذ کھولنے کے بجائے اپنے اندرونی معاملات درست کرنے اور پاکستان جیسے مخلص دوستوں کے ساتھ تعلقات استوار رکھنے کی کوشش کرے۔
توقع کی جاتی ہے کہ افغان حکمراں اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دیں گے اور بھارتی حکمرانوں کے اشاروں پر ناچنے کے بجائے بھارتی جال سے نکل کر اپنی آزادانہ پالیسی تیار کرنے، اپنے دوستوں کا خود انتخاب کرنے اور اپنے معاملات خود چلانے کی کوشش کریں گے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر