وجود

... loading ...

وجود

ہزاروں خواہشیں ایسی ۔۔۔ کیا آپ دولت مند بننا چاہتے ہیں؟؟

اتوار 07 مئی 2017 ہزاروں خواہشیں ایسی ۔۔۔ کیا آپ دولت مند بننا چاہتے ہیں؟؟


دنیا میں شاید ہی کوئی فرد ایسا ملے جو امیر نہ بننا چاہتاہو، غربت اور کسمپرسی کی زندگی سے نجات کاخواہاں نہ ہو اور یہ نہ چاہتاہو کہ بجائے اس کے کہ وہ خود دوسرے کا دست نگر ہو، دوسرے اس کے دست نگر ہوں ،اس مقصد کے حصول کے لیے بعض ناعاقبت اندیش افراد غیر قانونی راستے اختیار کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ ہزارخواہشات کے باوجود کامیابی ہر ایک کی قسمت میں نہیں ہوتی ، امیر ہر ایک نہیں بن سکتا۔
عام طورپرخیال کیا جاتا ہے کہ ہر ایک کو دولت مند بننے یا زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے یکساں مواقع ملتے ہیں مگر کیا یہ خیال واقعی ٹھیک ہے؟یہ خیال بڑی حد تک درست ہے اور یقیناً ایسا ہوتا ہے مگر چند چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ کے دولت مند بننے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔
مستقبل کی پیش گوئی توکوئی بھی نہیں کرسکتا مگر 9 علامات کا جائزہ لیں توآپ کو یہ معلوم ہوسکتاہے کہ آپ میں امیربننے یا نہ بننے کی کتنی صلاحیت موجود ہے یا آپ ان صلاحیتوں سے کس حد تک محروم ہیں۔چند چیزوں یا عادتوں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ زندگی میں کامیابی ممکن ہے یا لگ بھگ ناممکن ہوگی۔
اب ذرا خود اپنا جائزہ لیں کہ کیا یہ عادتیں یا چیزیں آپ کے اندر بھی تو موجود نہیں؟
کمانے کی بجائے بچت پر بہت زیادہ زور
دولت بڑھانے کے لیے بچت بہت ضروری ہوتی ہے مگر اس پر اتنی زیادہ توجہ نہیں مرکوز کرنی چاہیے کہ کمانے کو نظرانداز کرنا شروع کردیا جائے۔ بچت کی عملی حکمت عملیوں کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے تاہم اگر آپ کسی امیر فرد کی طرح سوچنا چاہتے ہیں تو ہاتھ میں موجود پیسوں کے خاتمے پر فکر مند ہونے کے بجائے اس امر پر توجہ مرکوز کریں کہ آپ مزید روپے کیسے کما سکتے ہیں۔ بچت کی اسمارٹ عادات اور آمدنی کے کئی ذرائع مل کر لوگوں کو کروڑ پتی بنانے کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔
سرمایہ کاری کے لیے تیار نہ ہونا
اپنی دولت میں اضافے یامزید روپے کمانے کے مؤثر طریقوں میں سے ان کی سرمایہ کاری کرنا ہے اور اسے جتنا جلد شروع کریں گے انتا ہی بہتر ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اوسطاً ایک کروڑ پتی فرد اپنی آمدنی کا بیس فیصد حصہ سرمایہ کاری پر صرف کرتا ہے، ان کی دولت کا پیمانہ یہ نہیں کہ وہ ہر سال کتنا کماتے ہیں بلکہ کیسے بچت کرتے اور وقت کے ساتھ سرمایہ کاری کرتے ہیں، یہ معنی رکھتا ہے۔ آپ جتنی سرمایہ کاری کریں گے وہ بہتر ہے جس کے لیے مختلف ذرائع ہیں جیسے ریٹائرمنٹ کے لیے ،بچت کے لیے مختلف اکائونٹس میں سرمایہ کاری وغیرہ۔
لگی بندھی تنخواہ پر مطمئن
عام افراد مخصوص اوقات میں کام کرکے لگی بندھی تنخواہ کمانے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ امیر افراد نتائج پر آمدنی کا انتخاب کرتے ہیں اور عام طور پر خود اپنے ملازم ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عام افراد کسی ایک ملازمت کو کرکے اپنی زندگی گزار دیتے ہیں اور تنخواہ میں سالانہ بنیادوں پر اضافے پر ہی مطمئن ہوکر بیٹھ جاتے ہیں اور زندگی میں آگے بڑھ نہیں پاتے۔
چادر سے پائوں باہر نکالنا
اگر آپ اپنی آمدنی سے زیادہ خرچہ کرتے ہیں تو امیر بننے کا خواب بھی نہیں دیکھنا چاہیے، یہاں تک کہ اگر آپ کی آمدنی بڑھ جاتی ہے یا تنخواہ میں اچھا اضافہ ہوتا ہے تو یہ اپنے طرز زندگی کو پرتعیش بنانے کے لیے جواز نہیں۔ اکثر امیر افراد اس وقت تک مہنگی چیزوں کو نہیں خریدتے جب تک ان کی سرمایہ کاری کئی ذرائع سے زیادہ آمدنی فراہم نہیں کرنا شروع کردیتی۔
اپنے نہیں کسی اور کے خواب کی تعبیر کے لیے سرگرداں
اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے کام سے محبت ہونا چاہیے، یعنی اپنے شوق یا خواب کے تعاقب کے لیے پرعزم ہونا چاہیے، بیشتر افراد کسی اور جیسے والدین وغیرہ کے خواب کا تعاقب کرتے ہیں، ماہرین کے مطابق جب آپ کسی اور کے خواب یا مقاصد کے حصول کی کوشش کرتے ہیں تو بتدریج آپ اپنے منتخب کردہ پیشے سے خوش نہیں رہتے، آپ کی کارکردگی سے اس کا اظہار بھی ہونے لگتا ہے اور آپ مالی لحاظ سے مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ایک حد سے آگے نہ بڑھنا
اگر آپ دو لت مند ہونا چاہتے ہیں، کامیاب ہونا چاہتے ہیں یا زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو آپ کو غیریقینی یا تکلیف جیسے احساسات کو استعمال کرنا چاہیے، امیر افراد غیریقینی صورتحال میں بھی مطمئن رہتے ہیں، ماہرین کے مطابق جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی اطمینان متوسط طبقے کے ذہن میں بنیادی مقصد ہوتا ہے، بلند سوچ رکھنے والے جلد یہ سیکھ لیتے ہیں کہ امیر بننا آسان نہیں اور ایک حد تک محدود ہونا تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
دولت کے استعمال کے لیے مقصد نہ ہونا
دولت ایسے ہی ہاتھ نہیں آتی، اس کے لیے کام کرنا پڑتا ہے، اگر آپ بتدریج دولت کو بڑھانا چاہتے ہیں تو آپ کے ذہن میں واضح اور مخصوص مقصد ہونا چاہیے جہاں اسے صرف کیا جاسکے۔ اگر آپ کے ذہن میں مقصد واضح ہو تو توجہ مرکوز کرنے، دلیری، علم اور بہت کچھ کرنے کا حوصلہ پیدا ہوجاتا ہے، ماہرین کے مطابق بیشتر افراد کے زندگی میں آگے نہ بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ انہیں کیا کرنا یا کہاں بڑھنا ہے۔
خرچ پہلے بچت بعد میں
لوگ پیسے کما کر اسے یہاں وہاں خرچ کرنا شروع کردیتے ہیں، جیسے گھر کا کرایہ، یوٹیلیٹی بلز، ٹیکسز اور دیگر، جبکہ آخر میں جو بچتا ہے (اگر بچے) تو اسے بچت کے زمرے میں ڈال دیاجاتا ہے۔ یہ اخراجات ضرور کریں کیونکہ وہ ضروری ہیں مگر پہلے خود کو رقم دیں یا یوں کہہ لیں کہ پہلے بچت کریں اور وہ بھی کم از کم آپ کی آمدنی کے 10 فیصد حصے کے برابر۔ اس طرح آپ کو کفایت شعاری سے زندگی گزارنے کی تربیت بھی حاصل ہوگی۔
امیر بننا ناممکن لگتا ہے
اوسط درجے کے شخص کا خیال ہوتا ہے کہ صرف خوش قسمت افراد امیر بن پاتے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ کسی سرمایہ دارانہ ملک میں آپ کے پاس امیر بننے کا ہر حق ہوتا ہے، مگر اس کے لیے آپ کے اندر عزم ہونا چاہیے۔ سب سے پہلے خود سے سوال کریں کہ میں اپنے طبقے (نچلے یا متوسط) سے اوپر کیوں نہیں اٹھ سکتا، اس کے بعد کچھ بڑا سوچنا شروع کریں، اپنی توقعات بلند کریں گے تو کامیابی بھی قدم چومے گی۔
مذکورہ بالا علامات کا غور سے مطالعہ کریں اور اگر آپ واقعی امیر بننا چاہتے ہیں تو اپنی ان عادتوں کو ترک کرنے کی کوشش کریں جو امیر بننے کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوسکتی ہوں اور اس کے ساتھ ان عادات کو اپنانے کی کوشش کریں جو آپ کو امیر بننے کی سیڑھی پر چڑھنے میں مدد دے سکتی ہوں، یا آپ کو امیر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہوں۔

تہمینہ حیات نقوی


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر