وجود

... loading ...

وجود

نورین لغاری کے داعش سے رابطے‘کئی باتیں خفیہ رکھی جارہی ہیں‘اہل خانہ بھی جھوٹ بولتے رہے

پیر 01 مئی 2017 نورین لغاری کے داعش سے رابطے‘کئی باتیں خفیہ رکھی جارہی ہیں‘اہل خانہ بھی جھوٹ بولتے رہے

پروفیسر عبدالجبار لغاری مسلسل غلط بیانی کرتے رہے کہ ان کی بیٹی صرف نماز پڑھتی ہے، ان کی بہترین دوست ایک ہندو لڑکی ہے اور ان کی بیٹی کو اغواءکیاگیا ہے ‘ نورین لغاری اگرواپس آبھی گئی تو معاشرے میں اسے وہ عزت نہیں ملے گی جوپہلے تھی وہ ہمیشہ مشکوک رہیں گی اور آنے والی زندگی میں کانٹوں پر ہی چلیں گی

سندھ صدیوں سے صوفیوں کی سرزمین کہلاتی ہے اور سندھ میں انتہاپسندی کی کوئی گنجائش نہیں رہی لیکن جیسے وقت اور حالات تبدیل ہوئے ہیں سندھ میں بھی انتہا پسندی اور شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے ۔شکار پور‘ خان پور‘ جیکب آباد اور ڈاکٹر ابراہیم جتوئی پر خودکش حملوں میں بروہی قبیلہ کے چند افراد کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا تو سندھ میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں کہ کیا سندھ کے نوجوان بھی اب شدت پسند ہوگئے ہیں؟ حفیظ بروہی اور عبداللہ بروہی کا نیٹ ورک اتنا مضبوط اور مؤثر ہے کہ وہ براہ راست القاعدہ‘ طالبان اور داعش سے رابطہ کرتے ہیں وہ خودکش حملہ آور تیار کرتے ہیں اور نوجوانوں کو تخریب کاری‘ دہشت گردی کا ایندھن بناتے ہیں۔ اب تو حفیظ بروہی عرف حفیظ پندھرانی اور عبداللہ بروہی کے سروں کی قیمت مقرر کردی گئی ہے اور وہ اب ”موسٹ وانٹیڈ“ کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں ،ابھی سیہون خودکش حملہ کی تحقیقات میں بھی حفیظ بروہی اور عبداللہ بروہی کے نیٹ ورک کی تحقیقات ہورہی تھی کہ اچانک ایک دھماکہ خیز خبر آئی کہ سندھ یونیورسٹی کے پروفیسر عبدالجبار لغاری کی بیٹی اور لیاقت میڈیکل یونیورسٹی جامشورو کے دوسرے سال کی طالبہ نورین لغاری داعش میں شمولیت کے لیے شام پہنچ گئی ہیں۔ پروفیسر عبدالجبار لغاری مسلسل غلط بیانی کرتے رہے کہ ان کی بیٹی صرف نماز پڑھتی ہے، ان کی بہترین دوست ایک ہندو لڑکی ہے اور ان کی بیٹی کو اغواءکیاگیا ہے اور اس نے سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی آرمی چیف کو اپیل کردی کہ نورین لغاری کو واپس لایا جائے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے حکم دیا کہ نورین لغاری کو بازیاب کرایا جائے اور پھر ایک خفیہ ایجنسی نے لاہور میں ایک ایسٹر کے تہوار سے ایک دن قبل ایک گھر پر چھاپہ مار کر ایک دہشت گرد کو ہلاک کردیا۔ ایک کو گرفتار کرلیا اور ایک لڑکی کو بھی برآمد کرلیا، بعد میں اس لڑکی کی شناخت نورین لغاری کے نام سے ہوئی۔ اب ذرا نورین لغاری کے بارے میں جانتے ہیں۔ نورین لغاری کا داعش کی جانب جھکاؤ اس وقت ہوا جب وہ فرسٹ ایئر اورانٹر کی طالبہ تھیں۔ پھر جب وہ کالج سے نکل کر میڈیکل یونیورسٹی میں داخل ہوئیں تو اس نے داعش سے رابطے بڑھادیے جس گھر سے نورین کو برآمد کیاگیا اس گھر میں علی نامی دہشت گرد مارا گیا وہ بھی لیاقت میڈیکل یونیورسٹی میں پڑھتا رہا ہے۔ پروفیسر عبدالجبار لغاری خود بھی انتہا پسندی کی سوچ کے حامل ہیں، ان کے گاؤں کا ماحول بھی انتہائی سخت ہے مگر وہ بیٹی کی گمشدگی کے وقت ایسا دکھانے لگے جیسے وہ لبرل اور اعتدال پسند ہوں ۔ نورین جیسے ہی میڈیکل یونیورسٹی میں آئیں تو انہوں نے داعش سے رابطے بڑھادیے۔ وہ ملکی سلامتی کے اداروں کی نظر میں آگئیں مگر وہ سمجھتی رہیں کہ وہ ملکی سلامتی کے اداروں کو دھوکا دے رہی ہیں۔ ان کی گمشدگی سے قبل وہ کڑی نگرانی میں آچکی ہیں، داعش سے رابطہ رکھنے والوں کے ساتھ وہ ملتی رہیں حتیٰ کہ دو تین مرتبہ حساس اداروں نے نورین لغاری کے گھر پر چھاپہ مارا اور کئی چیزیں برآمد کرلیں۔ پروفیسرجبار لغاری ایس ایس پی حیدرآباد عرفان بلوچ کے پاس گئے اور ان سے شکایت کی ،وہ اپنے ساتھ ایک خاتون ایم پی اے اور ایک پروفیسر کو بھی لے گئے۔ دو مرتبہ تو ایس ایس پی حیدرآباد نے معمولات اور غلط فہمی پر مبنی چھاپہ قرار دیا، تیسری مرتبہ ایس ایس پی نے خاتون ایم پی اے کو چیمبر میں لے جا کر کہا کہ وہ اس معاملہ سے الگ ہوجائیں کیونکہ نورین لغاری کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے وہ داعش سے رابطے میں ہے۔ خیر پھر اسی شام کو پروفیسر جبارلغاری کے دوست پروفیسر کو بھی ایس ایس پی حیدرآباد نے بلاکر کہا کہ نورین لغاری داعش سے رابطے میں ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی متوقع ہے۔ اس پروفیسر نے پروفیسر عبدالجبار لغاری کو جاکر خبردار کردیا، لیکن اس خاندان نے اپنی بیٹی کو نہیں روکا۔ ظاہر بات ہے کہ اس خاندان کی داعش کے لیے ہمدردی تھی اور ان کو پیسہ ملنے کا بھی آسرا تھا۔ پھر نورین لغاری حیدرآباد سے لاہور بذریعہ بس چلی گئیں اور ایک پوسٹ سوشل میڈیا پر رکھی کہ وہ خلافت کی سرزمین (شام) پہنچ گئی ہیں اور خیریت سے ہیں۔ یہ انہوں نے جھوٹ بولا تھا۔ اصل میں وہ جیسے ہی لاہور پہنچیں تو داعش کے دہشت گردوں نے اس کو مال غنیمت سمجھا اور روزانہ اس کا نکاح ایک دہشت گرد سے ہوتا اور صبح اس کو طلاق دے دی جاتی اور پھر اگلی رات وہ ایک شب کی دلہن بن جاتیں، یہ سلسلہ دو ڈھائی ماہ تک چلتا رہا۔ داعش کے دہشت گردوں نے نورین لغاری کو جیتے جی ہی تباہ کردیا، ڈھائی ماہ تک وہ ایک رات کی دلہن بنتی رہی اور دہشت گرد اس کی عزت کے ساتھ کھیلتے رہے پھر وہ تنگ ہوگئیں اور آخر انہوں نے اپنے گھر والوں سے رابطہ کرکے ملکی سلامتی کے اداروں سے رابطہ کیا اور ان کو ایسٹر کے تہوار پر دہشت گردوں کے منصوبہ سے آگاہ کیا تب جاکر چھاپہ مارا گیا اور ایک دہشت گرد ہلاک اور ایک کوگرفتار کیا۔ بعدازاں دوسرے دہشت گرد کو بھی کسی دوسری جگہ سے گرفتار کیاگیا۔ نورین لغاری کا اعترافی بیان بھی ٹی وی چینلز پر نشر ہوچکا ہے۔ اب آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ وہ چاہیں گے کہ نورین لغاری گھر جاکر دوبارہ معمول کی پرامن زندگی گزارسکے اس کے بعد نورین لغاری کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔ نورین لغاری اور اس کے خاندان نے انتہا پسندی کی سوچ رکھ کر سزا بھگت لی ہے اور بدامنی الگ سے مول لی ہے اب یہ سندھ کے لوگوں کے لیے ایک سبق ہے کہ وہ انتہا پسندی کی سوچ رکھیں گے تو پھر ان کا حشر بھی نورین لغاری جیسا ہوگا۔ نورین لغاری اب اگرواپس آبھی گئی تو معاشرے میں اس وہ عزت نہیں ملے گی جو پہلے ملی تھی وہ ہمیشہ مشکوک رہیں گی اور آنے والی زندگی میں وہ کانٹوں پر ہی چلیں گی۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش

تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر