... loading ...

تقریب میں کرشماتی حیثیت کے حامل وزیر اعظم کینیڈاجسٹن ٹروڈو،امریکی صدرکی صاحبزادی ایوانکا بھی اس تقریب میں شریک ہوئیں فیسٹیول کینیڈا کے شہریوں کی طاقت کی علامت، کینیڈین شہریوں کے آئیڈیلز کے اظہار اور نئی امریکی انتظامیہ سے دوستی کی علامت بن گیا
نیو فائونڈ لینڈ کا یہ ایک یادگار دن تھا، یہ ایک یادگار تقریب تھی جس میں امریکا میں مقیم کینیڈا کے مختلف شہروں کے باشندے بلا کسی تفریق کے شریک تھے، ان میں بعض لوگ سردی کی شدت سے بچنے کے لیے سرخ رنگ کے سویٹر پہنے ہوئے تھے، بعض جرسیوں میں ملبوس تھے اور ہاتھوں پر دستانے چڑھائے ہوئے تھے، اس تقریب کے بعض لوگوں کے ہاتھوں میں کینیڈا کا قومی نشان میپل لیف تھا،اور بعض کینیڈا کا پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔
یہ دراصل ایک کنسرٹ پر مشتمل ڈرامہ تھا جس کااسکرپٹ نیو فائونڈ لینڈ میں مقیم کینیڈا کے ایک جوڑے نے لکھا تھا۔اس تقریب کانام ’’ہم بہت دور سے آئے ہیں‘‘ تھا، اس تقریب کامقصد کینیڈین شہریوں کی شائستگی اور تہذیب کا اظہار کرناتھا۔ امریکا میں مقیم کینیڈا کے شہریوں نے توقع سے بڑھ کر پذیرائی کی اور بڑی تعداد میں کینیڈین شہریوں نے، جن میں کیلگری، مانٹریال ،آٹوہ، ونکوور، ٹورنٹو البرٹا اور دیگر شہروں کے لوگ شامل تھے اس تقریب میں شرکت کے لیے ٹکٹ خریدے، کینیڈین میڈیا نے بھی اس تقریب کو توقع سے زیادہ بڑھ چڑھ کر کوریج دی۔
نیوفائونڈلینڈ میں منعقدہ اس تقریب کی ایک خاص بات یہ تھی کہ کینیڈا کے مقبول اور کرشماتی حیثیت کے حامل وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو بھی اپنے 600 دوستوں ، اتحادیوں اور سفارت کاروں کے ساتھ اس تقریب میں شریک ہوئے، اور اس طرح یہ تقریب کینیڈا کے شہریوں کی طاقت کی علامت، کینیڈین شہریوں کے آئیڈیلز کے اظہار اور نئی امریکی انتظامیہ کی جانب سے نیویارک شہر کے قلب میں رات کو اپنے دوستانہ اور امن پسند فطرت کی علامت بن گئی۔
نیوفائونڈلینڈ میں منعقدہ اس تقریب میں کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈوکی نشست امریکی صد ر ڈونلڈ ٹرمپ کی صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ کے ساتھ تھی اور وہ دونوں 100 منٹ کے موسیقی کے اس پروگرام میں برابر بیٹھے موسیقی سے لطف اندوز ہوتے رہے،کینیڈین شہریوں کی جانب سے اس پروگرام کے انعقاد کا نیوفائونڈ لینڈ کے قریب ایک چھوٹے سے گائوں گانڈر کے مکینوں نے بھی خیرمقدم کیا جو 11ستمبر2011 ء کو دہشت گردی کے ایک واقعے کے بعد سیاحوں کی آمد سے محروم ہوچکاتھا کیونکہ اس واقعے کے بعد اس گائوں کی طرف آنے والے سیاحوں کو دوسرے علاقوں کی جانب بھیج دیاگیاتھا۔
نیوفائونڈلینڈ میں منعقدہ اس تقریب کی ایک اور خصوصی بات اس میں بڑی تعداد میں مشہور شخصیات کی شرکت تھی، اس تقریب کے انعقادکا وقت اور تاریخ بہت ہی مناسب تھی کیونکہ اس کی وجہ سے ایوانکا ٹرمپ، اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی آر ہیلے کے ساتھ موجود تھیں جبکہ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو ان کے ساتھ اپنی اہلیہ صوفی کے ساتھ موسیقی سے لطف اندوز ہورہے تھے۔یہ سب کچھ اس ماحول میں ہورہاتھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آرٹس کے لیے سرکاری فنڈز کی فراہمی کی بندش اور 6 مسلمان ممالک کے لوگوں کی امریکا آمد پر پابندی کے ایگزیکٹو آرڈر پیش کرچکے ہیں۔
اگرچہ موسیقی کی اس طرح کی محفلیں کئی سال سے منعقد کی جارہی ہیں لیکن اس سال یہ تقریب ایک ایسے وقت ہورہی تھی جب کینیڈا کے اپنے جنوبی پڑوسی کے ساتھ تعلقات بہت زیادہ خوشگوار نہیں کہے جاسکتے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ شمالی امریکا کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے پر نظر ثانی کا مطالبہ کررہی ہے جبکہ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو اس معاہدے کے حامی ہیں ،امریکا 6 مسلم اکثریتی ملکوں کے باشندوں پر امریکا میں داخلے پر پابندی لگانا چاہتا ہے، جس کی وجہ سے پناہ تلاش کرنے والے کینیڈا کی جانب یلغار کررہے ہیںجہاں ان کاخیر مقدم کیاجارہاہے،ڈونلڈ ٹرمپ کی بجٹ تجاویز کے مطابق امریکی حکومت بڑی نہروں کی صفائی کے پروگرام ختم کردے گی جبکہ ایک کروڑ سے زیادہ کینیڈین باشندے ان ہی نہروں کے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔
اس صورت حال میں تقریب میں آمد کے وقت اور تقریب سے جاتے وقت میڈیا اور لوگوں سے باتیں کرتے ہوئے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کیا ، جسٹن ٹروڈو نے سی بی سی نیوزسے باتیں کرتے ہوئے کہاکہ ہم بہت دور سے آئے ہیں، اس تقریب کو امریکا اورکینیڈاکے درمیان موجود گہری دوستی کا عکاس قرار دیا اورکہا کہ اختلافات اتحادیوں اور دوستوں کے درمیان ہی ہوتے ہیں۔مختلف معاملات پر ہمارا مؤقف ہمیشہ ایک دوسرے سے مختلف رہاہے،لیکن مستقبل کے بارے میں ہماری امیدیں ہماری توقعات، لوگوں کومحفوظ رکھنے کے حوالے سے ہماری ذمہ داریاں، اور اپنے بچوں کے لیے ایک محفوظ اور تابناک مستقبل کی تعمیر ایسی چیزیں ہیں جو ہم سب میں مشترک ہیں اوران کے حوالے سے ہمارے درمیان کوئی اختلاف اور دو رائے نہیں ہیں۔سی بی سی کے نمائندے نے جب وزیر اعظم ٹروڈو سے ریفیوجیز کے مسئلے پر بات کی توجسٹن ٹروڈو نے کہا کہ مجھے معلوم ہے اور میں ہمیشہ سے یہ محسوس کرتاہوں کہ ہمہ جہتی اور تنوع ہماری طاقت ہماری قوت کا سرچشمہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے ملک کو پوری دنیا کے لیے کھول رکھا ہے۔
تقریب میں موجود کینیڈین شہری اس لمحے خوشی اور مسرت کے ساتھ اس بات کااظہار کررہے تھے کہ کینیڈا کس طرح امریکا کے برعکس ریفیوجیز کا خیر مقدم کرتاہے ،انہیں گلے لگاتاہے،مانٹریال سے نیویارک آنے والی ایک 57سالہ خاتون صوفی ڈی کین نے، جو اقوام متحدہ کے اس ترقیاتی پروگرام کے لیے کام کررہی ہیں جو دوسروں کے علاوہ شامی پناہ گزینوں کی مدد کے لیے کام کررہاہے ،کہاکہ کینیڈا یہ جانتااور سمجھتاہے کہ ان لوگوں کو صرف اپنی فیملیز کے لیے ایک محفوظ جگہ کی تلاش ہے،انہوں نے کہا کہ جیسا کہ ہم نے اس تقریب میں دیکھا کہ کینیڈا کے شہری فراخ دل ہیں اور تنوع کو قبول کرنے والے ہیں۔
ایک48 سالہ خاتون رینی بیومونٹ نے جو ونکوور سے کئی سال قبل نیویارک آئی تھیں ایک ایسی شرٹ پہن رکھی تھی جس پر جلی الفاظ میں لکھاتھا میں امیگرنٹ ہوں ،رینی بیومنٹ نے کہا کہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان اختلافات بہت واضح ہیں اور جب تک ہم مذاکرات نہیں کریں گے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکے گا۔
شمالی اونٹاریو کے علاقے کرک لینڈ لیک کے ایک رہائشی لی مک ڈوگل نے جو موسیقی کے اس پروگرام کی کاسٹ میں بھی شامل تھے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ شو، یہ تقریب کینیڈا کے باشندوں کے لیے قابل فخر ہے کیونکہ اس کے ذریعے کینیڈا کے شہریوں نے اپنے مہذب اور فراخدل ہونے کا ثبوت دیاہے۔انہوں نے کہا کہ ہر رات جب ہم آٹوگراف پردستخط کرتے تھے تو آٹوگراف لینے والوں کاتعلق البرٹا یا کینیڈا کے کسی اور علاقے سے ہوتاتھا،یہ کینیڈا کے لیے ایک قابل فخر کہانی پر مبنی تقریب تھی اور لوگ اس میں شریک ہوکربہت پرجوش اور جذبات سے مغلوب تھے۔
اس سے قبل بھی براڈوے پر موسیقی کے ایسے 4 پروگرام منعقد کیے گئے تھے جن میں سے 3ناکام ہوگئے تھے لیکن اس تقریب کی کامیابی نے کینیڈا کے شہریوں کے سر فخر سے بلند کردیے ہیں، کینیڈا کے نیوز میڈیا نے اس کو بھرپور کوریج دی ،یہاں تک کہ نیویارک ٹائمز نے اس پر تبصرہ لکھا اور اس میں کام کرنے والوں اور اس کے مالیاتی پہلوئوں کابھی اپنے تبصرے میں بھرپور طریقے سے جائزہ پیش کیا۔ تقریب میں شریک ایک خاتون سین کوف نے کہا کہ امریکی اور کینیڈا کے اخبارات میں اس تقریب کی بھرپور کوریج سے ہم خود کو دنیا کے اسٹیج پر اس طرح دیکھ کر خوش ہیں۔
ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...
کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...
شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...
قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...
مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...
پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...
ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...
مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...
دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...
واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...