وجود

... loading ...

وجود

نیو فاؤنڈ لینڈ امریکا میں رنگا رنگ کینیڈین فیسٹیول

بدھ 26 اپریل 2017 نیو فاؤنڈ لینڈ امریکا میں رنگا رنگ کینیڈین فیسٹیول

تقریب میں کرشماتی حیثیت کے حامل وزیر اعظم کینیڈاجسٹن ٹروڈو،امریکی صدرکی صاحبزادی ایوانکا بھی اس تقریب میں شریک ہوئیں فیسٹیول کینیڈا کے شہریوں کی طاقت کی علامت، کینیڈین شہریوں کے آئیڈیلز کے اظہار اور نئی امریکی انتظامیہ سے دوستی کی علامت بن گیا

نیو فائونڈ لینڈ کا یہ ایک یادگار دن تھا، یہ ایک یادگار تقریب تھی جس میں امریکا میں مقیم کینیڈا کے مختلف شہروں کے باشندے بلا کسی تفریق کے شریک تھے، ان میں بعض لوگ سردی کی شدت سے بچنے کے لیے سرخ رنگ کے سویٹر پہنے ہوئے تھے، بعض جرسیوں میں ملبوس تھے اور ہاتھوں پر دستانے چڑھائے ہوئے تھے، اس تقریب کے بعض لوگوں کے ہاتھوں میں کینیڈا کا قومی نشان میپل لیف تھا،اور بعض کینیڈا کا پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔
یہ دراصل ایک کنسرٹ پر مشتمل ڈرامہ تھا جس کااسکرپٹ نیو فائونڈ لینڈ میں مقیم کینیڈا کے ایک جوڑے نے لکھا تھا۔اس تقریب کانام ’’ہم بہت دور سے آئے ہیں‘‘ تھا، اس تقریب کامقصد کینیڈین شہریوں کی شائستگی اور تہذیب کا اظہار کرناتھا۔ امریکا میں مقیم کینیڈا کے شہریوں نے توقع سے بڑھ کر پذیرائی کی اور بڑی تعداد میں کینیڈین شہریوں نے، جن میں کیلگری، مانٹریال ،آٹوہ، ونکوور، ٹورنٹو البرٹا اور دیگر شہروں کے لوگ شامل تھے اس تقریب میں شرکت کے لیے ٹکٹ خریدے، کینیڈین میڈیا نے بھی اس تقریب کو توقع سے زیادہ بڑھ چڑھ کر کوریج دی۔
نیوفائونڈلینڈ میں منعقدہ اس تقریب کی ایک خاص بات یہ تھی کہ کینیڈا کے مقبول اور کرشماتی حیثیت کے حامل وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو بھی اپنے 600 دوستوں ، اتحادیوں اور سفارت کاروں کے ساتھ اس تقریب میں شریک ہوئے، اور اس طرح یہ تقریب کینیڈا کے شہریوں کی طاقت کی علامت، کینیڈین شہریوں کے آئیڈیلز کے اظہار اور نئی امریکی انتظامیہ کی جانب سے نیویارک شہر کے قلب میں رات کو اپنے دوستانہ اور امن پسند فطرت کی علامت بن گئی۔
نیوفائونڈلینڈ میں منعقدہ اس تقریب میں کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈوکی نشست امریکی صد ر ڈونلڈ ٹرمپ کی صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ کے ساتھ تھی اور وہ دونوں 100 منٹ کے موسیقی کے اس پروگرام میں برابر بیٹھے موسیقی سے لطف اندوز ہوتے رہے،کینیڈین شہریوں کی جانب سے اس پروگرام کے انعقاد کا نیوفائونڈ لینڈ کے قریب ایک چھوٹے سے گائوں گانڈر کے مکینوں نے بھی خیرمقدم کیا جو 11ستمبر2011 ء کو دہشت گردی کے ایک واقعے کے بعد سیاحوں کی آمد سے محروم ہوچکاتھا کیونکہ اس واقعے کے بعد اس گائوں کی طرف آنے والے سیاحوں کو دوسرے علاقوں کی جانب بھیج دیاگیاتھا۔
نیوفائونڈلینڈ میں منعقدہ اس تقریب کی ایک اور خصوصی بات اس میں بڑی تعداد میں مشہور شخصیات کی شرکت تھی، اس تقریب کے انعقادکا وقت اور تاریخ بہت ہی مناسب تھی کیونکہ اس کی وجہ سے ایوانکا ٹرمپ، اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی آر ہیلے کے ساتھ موجود تھیں جبکہ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو ان کے ساتھ اپنی اہلیہ صوفی کے ساتھ موسیقی سے لطف اندوز ہورہے تھے۔یہ سب کچھ اس ماحول میں ہورہاتھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آرٹس کے لیے سرکاری فنڈز کی فراہمی کی بندش اور 6 مسلمان ممالک کے لوگوں کی امریکا آمد پر پابندی کے ایگزیکٹو آرڈر پیش کرچکے ہیں۔
اگرچہ موسیقی کی اس طرح کی محفلیں کئی سال سے منعقد کی جارہی ہیں لیکن اس سال یہ تقریب ایک ایسے وقت ہورہی تھی جب کینیڈا کے اپنے جنوبی پڑوسی کے ساتھ تعلقات بہت زیادہ خوشگوار نہیں کہے جاسکتے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ شمالی امریکا کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے پر نظر ثانی کا مطالبہ کررہی ہے جبکہ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو اس معاہدے کے حامی ہیں ،امریکا 6 مسلم اکثریتی ملکوں کے باشندوں پر امریکا میں داخلے پر پابندی لگانا چاہتا ہے، جس کی وجہ سے پناہ تلاش کرنے والے کینیڈا کی جانب یلغار کررہے ہیںجہاں ان کاخیر مقدم کیاجارہاہے،ڈونلڈ ٹرمپ کی بجٹ تجاویز کے مطابق امریکی حکومت بڑی نہروں کی صفائی کے پروگرام ختم کردے گی جبکہ ایک کروڑ سے زیادہ کینیڈین باشندے ان ہی نہروں کے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔
اس صورت حال میں تقریب میں آمد کے وقت اور تقریب سے جاتے وقت میڈیا اور لوگوں سے باتیں کرتے ہوئے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کیا ، جسٹن ٹروڈو نے سی بی سی نیوزسے باتیں کرتے ہوئے کہاکہ ہم بہت دور سے آئے ہیں، اس تقریب کو امریکا اورکینیڈاکے درمیان موجود گہری دوستی کا عکاس قرار دیا اورکہا کہ اختلافات اتحادیوں اور دوستوں کے درمیان ہی ہوتے ہیں۔مختلف معاملات پر ہمارا مؤقف ہمیشہ ایک دوسرے سے مختلف رہاہے،لیکن مستقبل کے بارے میں ہماری امیدیں ہماری توقعات، لوگوں کومحفوظ رکھنے کے حوالے سے ہماری ذمہ داریاں، اور اپنے بچوں کے لیے ایک محفوظ اور تابناک مستقبل کی تعمیر ایسی چیزیں ہیں جو ہم سب میں مشترک ہیں اوران کے حوالے سے ہمارے درمیان کوئی اختلاف اور دو رائے نہیں ہیں۔سی بی سی کے نمائندے نے جب وزیر اعظم ٹروڈو سے ریفیوجیز کے مسئلے پر بات کی توجسٹن ٹروڈو نے کہا کہ مجھے معلوم ہے اور میں ہمیشہ سے یہ محسوس کرتاہوں کہ ہمہ جہتی اور تنوع ہماری طاقت ہماری قوت کا سرچشمہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے ملک کو پوری دنیا کے لیے کھول رکھا ہے۔
تقریب میں موجود کینیڈین شہری اس لمحے خوشی اور مسرت کے ساتھ اس بات کااظہار کررہے تھے کہ کینیڈا کس طرح امریکا کے برعکس ریفیوجیز کا خیر مقدم کرتاہے ،انہیں گلے لگاتاہے،مانٹریال سے نیویارک آنے والی ایک 57سالہ خاتون صوفی ڈی کین نے، جو اقوام متحدہ کے اس ترقیاتی پروگرام کے لیے کام کررہی ہیں جو دوسروں کے علاوہ شامی پناہ گزینوں کی مدد کے لیے کام کررہاہے ،کہاکہ کینیڈا یہ جانتااور سمجھتاہے کہ ان لوگوں کو صرف اپنی فیملیز کے لیے ایک محفوظ جگہ کی تلاش ہے،انہوں نے کہا کہ جیسا کہ ہم نے اس تقریب میں دیکھا کہ کینیڈا کے شہری فراخ دل ہیں اور تنوع کو قبول کرنے والے ہیں۔
ایک48 سالہ خاتون رینی بیومونٹ نے جو ونکوور سے کئی سال قبل نیویارک آئی تھیں ایک ایسی شرٹ پہن رکھی تھی جس پر جلی الفاظ میں لکھاتھا میں امیگرنٹ ہوں ،رینی بیومنٹ نے کہا کہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان اختلافات بہت واضح ہیں اور جب تک ہم مذاکرات نہیں کریں گے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکے گا۔
شمالی اونٹاریو کے علاقے کرک لینڈ لیک کے ایک رہائشی لی مک ڈوگل نے جو موسیقی کے اس پروگرام کی کاسٹ میں بھی شامل تھے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ شو، یہ تقریب کینیڈا کے باشندوں کے لیے قابل فخر ہے کیونکہ اس کے ذریعے کینیڈا کے شہریوں نے اپنے مہذب اور فراخدل ہونے کا ثبوت دیاہے۔انہوں نے کہا کہ ہر رات جب ہم آٹوگراف پردستخط کرتے تھے تو آٹوگراف لینے والوں کاتعلق البرٹا یا کینیڈا کے کسی اور علاقے سے ہوتاتھا،یہ کینیڈا کے لیے ایک قابل فخر کہانی پر مبنی تقریب تھی اور لوگ اس میں شریک ہوکربہت پرجوش اور جذبات سے مغلوب تھے۔
اس سے قبل بھی براڈوے پر موسیقی کے ایسے 4 پروگرام منعقد کیے گئے تھے جن میں سے 3ناکام ہوگئے تھے لیکن اس تقریب کی کامیابی نے کینیڈا کے شہریوں کے سر فخر سے بلند کردیے ہیں، کینیڈا کے نیوز میڈیا نے اس کو بھرپور کوریج دی ،یہاں تک کہ نیویارک ٹائمز نے اس پر تبصرہ لکھا اور اس میں کام کرنے والوں اور اس کے مالیاتی پہلوئوں کابھی اپنے تبصرے میں بھرپور طریقے سے جائزہ پیش کیا۔ تقریب میں شریک ایک خاتون سین کوف نے کہا کہ امریکی اور کینیڈا کے اخبارات میں اس تقریب کی بھرپور کوریج سے ہم خود کو دنیا کے اسٹیج پر اس طرح دیکھ کر خوش ہیں۔


متعلقہ خبریں


آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ وجود - پیر 13 اپریل 2026

ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم وجود - پیر 13 اپریل 2026

اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان وجود - پیر 13 اپریل 2026

مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 12 اپریل 2026

سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی وجود - هفته 11 اپریل 2026

امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات وجود - هفته 11 اپریل 2026

فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 11 اپریل 2026

حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی وجود - هفته 11 اپریل 2026

جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان وجود - هفته 11 اپریل 2026

ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان

مضامین
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

ریت کا محل وجود پیر 13 اپریل 2026
ریت کا محل

ریاست ِاسرائیل کا تاریخی و قرآنی تناظر وجود پیر 13 اپریل 2026
ریاست ِاسرائیل کا تاریخی و قرآنی تناظر

چین اور ایران وجود پیر 13 اپریل 2026
چین اور ایران

انسان اپنی سوچ سے نہیں کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے! وجود پیر 13 اپریل 2026
انسان اپنی سوچ سے نہیں کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر