... loading ...

ٹھوس حقائق پر مبنی علم کے خلاف سیاست دانوں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر تشویش ہے،مظاہرین ،برلن میں 10ہزار شرکا کا سائنسدانوں سے اظہار یکجہتی ٹرمپ کے پیر س معاہدے سے علیحدگی کی دھمکی کے خلاف بھی احتجاج ، آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، کیپ ٹاؤن ، لندن، میڈرڈ، نائیجیریا اور سیول میں بھی ریلیاں
یوم ارض پردنیا کے 600سے زیادہ شہروں میں سائنس دانوں نے ایک ایسے مظاہرے میں حصہ لیا جس کی اس سے پہلے کوئی نظیر موجود نہیں ہے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہیں ٹھوس حقائق پر مبنی علم کے خلاف سیاست دانوں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر تشویش ہے۔ہزاروں سائنس دانوں اور ان کے حامیوں نے ہفتے کے روز دنیا بھر کے اہم شہروں میں اس مظاہرے میں حصہ لیا جن میں آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، کیپ ٹاؤن ، لندن، میڈرڈ، نائیجیریا اور سیول شامل ہیں۔برلن میں مظاہرے کا بندوبست کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کے احتجاجی مارچ میں 10 ہزار سے زیادہ افراد شریک ہوئے۔انہوں نے پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ ہمیں ٹھوس شواہد پیش کرنے والے ماہرین پسند ہیں اور قیاس آرائیاں نہیں بلکہ حقائق اہمیت رکھتے ہیں، وغیرہ۔جنیوا میں مظاہرین نے جو پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ان پر درج تھا کہ سائنس تاریکی میں شمع کی مانند ہے اور سائنس جواب فراہم کرتی ہے۔لندن میں مظاہرین نے سائنس میوزیم سے پارلیمنٹ تک مارچ کیا۔ انہوں نے بھی سائنس کے حق میں بینر اٹھا رکھے تھے۔واشنگٹن کے مظاہرے میں شامل ایک جوہری سائنس دان چیلسا بیرٹریم کا کہنا تھا کہ وہائٹ ہاؤس کی ایک مشیر کیلین کونوے کا’متبادل حقائق’ کا نظریہ تباہ کن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بہت سے سائنس دان اپنی زندگی کے بے حساب گھنٹے حقائق کی کھوج اور بنی نوع انسان کی فلاح کے لیے لیبارٹری میں صرف کرتے ہیں۔ لیکن اب یونیورسٹی میں برس ہا برس کی ریاضت کے بعد ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والوں کی ریسرچ کو یہ کہہ کر مسترد کیا جا رہا ہے کہ اس کی کو ئی اہمیت نہیں رہی۔ یہ سوچ تباہ کن ہے۔ہفتے ہی کے رو ز امریکی سائنس دانوں نے ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سائنس اور تحقیقی امور کے لیے فنڈز کی کٹوتیوں اور ٹھوس شواہد پر مبنی علوم سے ان کے عدم اتفاق کے خلاف مظاہرے میں حصہ لیا۔دارالحکومت واشنگٹن میں یہ مظاہرہ ایک ایسے وقت ہو ا جب دنیابھر میں یوم ارض منایا جا رہاتھا۔ سائنس دانوں نے آب وہوا کی تبدیلی پر مسٹر ٹرمپ کے متفق نہ ہونے اور سائنسی پروگراموں پر وفاقی حکومت کی مجوزہ بجٹ کٹوتیوں کے خلاف احتجاج کیا۔مظاہرے کے شرکا کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کا مارچ غیر گروہی اور غیرجماعتی ہے۔صدر ٹرمپ آب و ہو ا کی تبدیلی کو ایک فریب قرار دیتے ہیں۔ان کی انتظامیہ پیرس کے معاہدے سے علیحدگی کا سوچ رہی ہے۔ اس معاہدے کا مقصد گرین ہاؤس گیسوں کے عالمی اخراج میں بتدریج کمی لانا ہے تاکہ کرہ ارض کو گرم ہونے سے بچایا جا سکے۔ٹرمپ انتظامیہ کے مجوزہ وفاقی بجٹ میں ماحول کے تحفظ کے پروگراموں میں 31 فی صد تک کٹوتیوں کے لیے کہا گیا ہے۔مظاہرے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ سائنس سے متعلق دوسرے امور مثلاً ویکسین ، جینیاتی اصلاح کے پروگراموں اورارتقا ء پر سیاست دانوں کی بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کو بھی تشویش کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
دنیا بھر کے سائنسدانوں نے یہ مظاہرے ایک ایسے وقت شروع کیے ہیں جب کرہ ارض کو آلودگی کی وجہ سے شدید گرمی کاسامنا ہے ،جس کااندازہ حال ہی میں سامنے آنے والی اس رپورٹ سے لگایاجاسکتاہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت کرہ ارض کا اوسطاً درجہ حرارت لگ بھگ وہی ہے جو ایک لاکھ 25000 ہزار سال پہلے اس وقت تھا جب زمین پر ایک گرم دور شروع ہونے سے تباہی آئی تھی۔
2016ء میں بھی مسلسل تیسرے سال دنیا کے درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں بھارت کے کئی علاقوں میں اتنی زیادہ گرمی پڑی جس کی اس سے پہلے کوئی مثال موجود نہیں ہے اور منجمد آرکیٹک میں بڑے پیمانے پر برف پگھلی۔ قطبی اور بلند پہاڑی سلسلوں میں صدیوں پرانے گلیشیئرز پگھلنے میں تیزی آرہی ہے جس سے برف کی پرتیں خطرناک حد تک کم ہونے، طغیانیاں آنے اور سمندر کی سطح بلند ہونے سے کئی ساحلی علاقوں اور جزائر کے ڈوبنے کے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔موسمیات اور آب و ہوا کی تبدیلیوں سے متعلق اداروں کے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ 2016ء میں زمین اور سمندروں کی سطح پر درجۂ حرارت بیسویں صدی کے اوسط درجہ حرارت سے ایک اعشاریہ 69 ڈگری فارن ہائیٹ زیادہ تھا۔سمندروں اور فضا کی نگرانی سے متعلق امریکی ادارے این او اے اے کے مطابق 20 ویں صدی کا اوسط درجہ حرارت 57 درجہ فارن ہائیٹ تھا۔زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کا سبب انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں اور قدرتی موسمی عوامل ایل نینو کے اثرات ہیں جس سے بحرالکاہل کی سطح کے درجہ حرارت نے 2015ء کا ریکارڈ توڑ دیا۔دنیا میں درجہ حرارت کو ناپنے اور اس کا ریکارڈ رکھنے کا سلسلہ 1880ء کے عشرے میں شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد سے گزشتہ تین برسوں کے دوران ریکارڈ کیا جانے والا درجہ حررات ماضی کے مقابلے میں مسلسل بلند چلا آ رہا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 2017ء میں ایل نینو کے موسمی اثرات کے ختم ہونے کے بعد بھی درجہ حرارت میں اضافے کا رجحان جاری رہے گا کیونکہ چین اور امریکا میں بڑے پیمانے پر معدنی تیل جلائے جانے سے فضائی کرہ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ 2015 ء کے آخر میں پیرس میں آب و ہوا کی تبدیلیوں پر ہونے والی ایک کانفرنس میں دنیا کے 200 ملکوں نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد کرہ ارض کے درجہ حرارت کو گھٹا کر صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے دو درجے تک اوپر لانا تھا۔لیکن اب امریکا میں نئی حکومت آنے سے اس معاہدے کے لیے خطرات کھڑے ہو گئے ہیں کیونکہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ آب و ہوا کی تبدیلی یقین نہیں رکھتی اور اسے فریب قرار دے کر، ماحولیات سے متعلق کئی اہم منصوبوں کی فنڈنگ روک چکی ہے۔سمندروں کی سطح کے درجہ حرارت پر نظر رکھنے والے سائنس دانوں کے ایک گروپ کی جانب سے 20 جنوری کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت کرہ ارض کا اوسطاً درجہ حرارت لگ بھگ وہی ہے جو ایک لاکھ 25000 ہزار سال پہلے اس وقت تھا جب زمین پر ایک گرم دور شروع ہونے سے تباہی آئی تھی۔آب و ہوا کی تبدیلی پر کام کرنے والے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سوا لاکھ سال پہلے گرم دور شروع ہونے کے بعد سمندر کی سطح آج کی سطح کے مقابلے میں 6 سے 9 فٹ تک بلند ہو گئی تھی اور بہت سے علاقے غرق ہو گئے تھے۔دنیا کے اوسط درجہ حرارت کا تعین ایک مشکل کام ہے جس کے لیے تقریباً مختلف نوعیت کے 104 پہلوؤں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
امریکی ریاست اوریگان کے شہر کارویلس میں واقع سٹیٹ یونیورسٹی کے سائنس دان جرمی ہوف مین کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں سے حاصل کردہ اعداد و شمار اور قدیم دور کے موسم کے نمونوں کے موازنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سوا لاکھ سال پہلے کرۂ ارض کااوسط درجہ حرارت 1995 ء اور 2014 ء کے عرصے کے دوران کے اوسط درجہ حرارت کے تقریباً برابر تھا۔دکھ کی بات یہ ہے کہ عالمی تباہی کا یہ راستہ ہم نے ترقی کے نام پر اپنی مرضی سے خود چُنا ہے۔
تہمینہ حیات نقوی
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...