وجود

... loading ...

وجود

یوم ارض پر 600شہروں میں مظاہرے سائنسدانوں نے سیاستدانوں کو آڑے ہاتھوں لیا

منگل 25 اپریل 2017 یوم ارض پر 600شہروں میں مظاہرے سائنسدانوں نے سیاستدانوں کو آڑے ہاتھوں لیا

ٹھوس حقائق پر مبنی علم کے خلاف سیاست دانوں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر تشویش ہے،مظاہرین ،برلن میں 10ہزار شرکا کا سائنسدانوں سے اظہار یکجہتی ٹرمپ کے پیر س معاہدے سے علیحدگی کی دھمکی کے خلاف بھی احتجاج ، آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، کیپ ٹاؤن ، لندن، میڈرڈ، نائیجیریا اور سیول میں بھی ریلیاں

یوم ارض پردنیا کے 600سے زیادہ شہروں میں سائنس دانوں نے ایک ایسے مظاہرے میں حصہ لیا جس کی اس سے پہلے کوئی نظیر موجود نہیں ہے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہیں ٹھوس حقائق پر مبنی علم کے خلاف سیاست دانوں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر تشویش ہے۔ہزاروں سائنس دانوں اور ان کے حامیوں نے ہفتے کے روز دنیا بھر کے اہم شہروں میں اس مظاہرے میں حصہ لیا جن میں آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، کیپ ٹاؤن ، لندن، میڈرڈ، نائیجیریا اور سیول شامل ہیں۔برلن میں مظاہرے کا بندوبست کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کے احتجاجی مارچ میں 10 ہزار سے زیادہ افراد شریک ہوئے۔انہوں نے پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ ہمیں ٹھوس شواہد پیش کرنے والے ماہرین پسند ہیں اور قیاس آرائیاں نہیں بلکہ حقائق اہمیت رکھتے ہیں، وغیرہ۔جنیوا میں مظاہرین نے جو پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ان پر درج تھا کہ سائنس تاریکی میں شمع کی مانند ہے اور سائنس جواب فراہم کرتی ہے۔لندن میں مظاہرین نے سائنس میوزیم سے پارلیمنٹ تک مارچ کیا۔ انہوں نے بھی سائنس کے حق میں بینر اٹھا رکھے تھے۔واشنگٹن کے مظاہرے میں شامل ایک جوہری سائنس دان چیلسا بیرٹریم کا کہنا تھا کہ وہائٹ ہاؤس کی ایک مشیر کیلین کونوے کا’متبادل حقائق’ کا نظریہ تباہ کن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بہت سے سائنس دان اپنی زندگی کے بے حساب گھنٹے حقائق کی کھوج اور بنی نوع انسان کی فلاح کے لیے لیبارٹری میں صرف کرتے ہیں۔ لیکن اب یونیورسٹی میں برس ہا برس کی ریاضت کے بعد ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والوں کی ریسرچ کو یہ کہہ کر مسترد کیا جا رہا ہے کہ اس کی کو ئی اہمیت نہیں رہی۔ یہ سوچ تباہ کن ہے۔ہفتے ہی کے رو ز امریکی سائنس دانوں نے ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سائنس اور تحقیقی امور کے لیے فنڈز کی کٹوتیوں اور ٹھوس شواہد پر مبنی علوم سے ان کے عدم اتفاق کے خلاف مظاہرے میں حصہ لیا۔دارالحکومت واشنگٹن میں یہ مظاہرہ ایک ایسے وقت ہو ا جب دنیابھر میں یوم ارض منایا جا رہاتھا۔ سائنس دانوں نے آب وہوا کی تبدیلی پر مسٹر ٹرمپ کے متفق نہ ہونے اور سائنسی پروگراموں پر وفاقی حکومت کی مجوزہ بجٹ کٹوتیوں کے خلاف احتجاج کیا۔مظاہرے کے شرکا کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کا مارچ غیر گروہی اور غیرجماعتی ہے۔صدر ٹرمپ آب و ہو ا کی تبدیلی کو ایک فریب قرار دیتے ہیں۔ان کی انتظامیہ پیرس کے معاہدے سے علیحدگی کا سوچ رہی ہے۔ اس معاہدے کا مقصد گرین ہاؤس گیسوں کے عالمی اخراج میں بتدریج کمی لانا ہے تاکہ کرہ ارض کو گرم ہونے سے بچایا جا سکے۔ٹرمپ انتظامیہ کے مجوزہ وفاقی بجٹ میں ماحول کے تحفظ کے پروگراموں میں 31 فی صد تک کٹوتیوں کے لیے کہا گیا ہے۔مظاہرے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ سائنس سے متعلق دوسرے امور مثلاً ویکسین ، جینیاتی اصلاح کے پروگراموں اورارتقا ء پر سیاست دانوں کی بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کو بھی تشویش کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
دنیا بھر کے سائنسدانوں نے یہ مظاہرے ایک ایسے وقت شروع کیے ہیں جب کرہ ارض کو آلودگی کی وجہ سے شدید گرمی کاسامنا ہے ،جس کااندازہ حال ہی میں سامنے آنے والی اس رپورٹ سے لگایاجاسکتاہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت کرہ ارض کا اوسطاً درجہ حرارت لگ بھگ وہی ہے جو ایک لاکھ 25000 ہزار سال پہلے اس وقت تھا جب زمین پر ایک گرم دور شروع ہونے سے تباہی آئی تھی۔
2016ء میں بھی مسلسل تیسرے سال دنیا کے درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں بھارت کے کئی علاقوں میں اتنی زیادہ گرمی پڑی جس کی اس سے پہلے کوئی مثال موجود نہیں ہے اور منجمد آرکیٹک میں بڑے پیمانے پر برف پگھلی۔ قطبی اور بلند پہاڑی سلسلوں میں صدیوں پرانے گلیشیئرز پگھلنے میں تیزی آرہی ہے جس سے برف کی پرتیں خطرناک حد تک کم ہونے، طغیانیاں آنے اور سمندر کی سطح بلند ہونے سے کئی ساحلی علاقوں اور جزائر کے ڈوبنے کے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔موسمیات اور آب و ہوا کی تبدیلیوں سے متعلق اداروں کے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ 2016ء میں زمین اور سمندروں کی سطح پر درجۂ حرارت بیسویں صدی کے اوسط درجہ حرارت سے ایک اعشاریہ 69 ڈگری فارن ہائیٹ زیادہ تھا۔سمندروں اور فضا کی نگرانی سے متعلق امریکی ادارے این او اے اے کے مطابق 20 ویں صدی کا اوسط درجہ حرارت 57 درجہ فارن ہائیٹ تھا۔زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کا سبب انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں اور قدرتی موسمی عوامل ایل نینو کے اثرات ہیں جس سے بحرالکاہل کی سطح کے درجہ حرارت نے 2015ء کا ریکارڈ توڑ دیا۔دنیا میں درجہ حرارت کو ناپنے اور اس کا ریکارڈ رکھنے کا سلسلہ 1880ء کے عشرے میں شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد سے گزشتہ تین برسوں کے دوران ریکارڈ کیا جانے والا درجہ حررات ماضی کے مقابلے میں مسلسل بلند چلا آ رہا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 2017ء میں ایل نینو کے موسمی اثرات کے ختم ہونے کے بعد بھی درجہ حرارت میں اضافے کا رجحان جاری رہے گا کیونکہ چین اور امریکا میں بڑے پیمانے پر معدنی تیل جلائے جانے سے فضائی کرہ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ 2015 ء کے آخر میں پیرس میں آب و ہوا کی تبدیلیوں پر ہونے والی ایک کانفرنس میں دنیا کے 200 ملکوں نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد کرہ ارض کے درجہ حرارت کو گھٹا کر صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے دو درجے تک اوپر لانا تھا۔لیکن اب امریکا میں نئی حکومت آنے سے اس معاہدے کے لیے خطرات کھڑے ہو گئے ہیں کیونکہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ آب و ہوا کی تبدیلی یقین نہیں رکھتی اور اسے فریب قرار دے کر، ماحولیات سے متعلق کئی اہم منصوبوں کی فنڈنگ روک چکی ہے۔سمندروں کی سطح کے درجہ حرارت پر نظر رکھنے والے سائنس دانوں کے ایک گروپ کی جانب سے 20 جنوری کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت کرہ ارض کا اوسطاً درجہ حرارت لگ بھگ وہی ہے جو ایک لاکھ 25000 ہزار سال پہلے اس وقت تھا جب زمین پر ایک گرم دور شروع ہونے سے تباہی آئی تھی۔آب و ہوا کی تبدیلی پر کام کرنے والے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سوا لاکھ سال پہلے گرم دور شروع ہونے کے بعد سمندر کی سطح آج کی سطح کے مقابلے میں 6 سے 9 فٹ تک بلند ہو گئی تھی اور بہت سے علاقے غرق ہو گئے تھے۔دنیا کے اوسط درجہ حرارت کا تعین ایک مشکل کام ہے جس کے لیے تقریباً مختلف نوعیت کے 104 پہلوؤں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
امریکی ریاست اوریگان کے شہر کارویلس میں واقع سٹیٹ یونیورسٹی کے سائنس دان جرمی ہوف مین کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں سے حاصل کردہ اعداد و شمار اور قدیم دور کے موسم کے نمونوں کے موازنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سوا لاکھ سال پہلے کرۂ ارض کااوسط درجہ حرارت 1995 ء اور 2014 ء کے عرصے کے دوران کے اوسط درجہ حرارت کے تقریباً برابر تھا۔دکھ کی بات یہ ہے کہ عالمی تباہی کا یہ راستہ ہم نے ترقی کے نام پر اپنی مرضی سے خود چُنا ہے۔
تہمینہ حیات نقوی


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر