وجود

... loading ...

وجود

متحدہ عرب امارات کی اسرائیل کے ساتھ فضائی مشقیں ،دفاعی مبصرین حیران

بدھ 12 اپریل 2017 متحدہ عرب امارات کی اسرائیل کے ساتھ فضائی مشقیں ،دفاعی مبصرین حیران

یونان میں اسرائیل ،امریکا اور اٹلی کی مشترکہ فوجی مشقوں میںمتحدہ عرب امارات بھی شامل ہوگیا،اسرائیل یونان میں قربتیں بڑھ گئیں یو اے ای سفارتی طور پر اسرائیل کو قبول نہیں کرتا،دفاعی مبصرین نے اسرائیلی و متحدہ عرب امارات کی فضائیہ کی مشترکہ مشقیںمعنی خیز قرار دے دیں

یونان کی فضائیہ کے اڈے پر گزشتہ روز اسرائیل، متحدہ عرب امارات ،امریکا اور اٹلی کی مشترکہ فوجی مشقیں شروع ہوگئیں، یہ 4 ملکی فوجی مشقیں ایک ایسے وقت ہورہی ہیں جب امریکا نے حال ہی میں شام پر زبردست فضائی حملہ کرکے اور سیکڑوں میزائل برسا کر اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش کی تھی اور پوری امن پسند دنیا امریکا کے اس عمل کی مذمت کررہی ہے، جبکہ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں ایران کی مستقل موجودگی کے خوف میں مبتلا ہے۔ان فوجی مشقوں کی اہم اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان فوجی مشقوں میں متحدہ عرب امارات کو بھی شامل کیاگیاہے جس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی نہیں ہیں یہ غالباً پہلا موقع ہے کہ مشترکہ فوجی مشقوں میں کسی ایسے ملک کو شامل کیاگیاہو جس کے مشقوں میں شامل کسی ایک فریق کے ساتھ سفارتی تعلقات ہی نہ ہوں یعنی بالفاظ دیگر بول چال ہی بند ہو۔
یونان میں شروع ہونے والی ان فوجی مشقوں کو’’ انیوہوس‘‘2017 کا نام دیاگیا اور اس کامقصد مشقوں میں شامل تمام ممالک کی فضائی قوت کو مضبوط بنانے اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کے علاوہ اپنی اپنی فضائیہ کی خامیوں کو دور کرنا بتایاگیاہے۔
ان مشقوں کے حوالے سے یونان سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق ان میں اسرائیل کے درجنوں طیارے حصہ لے رہے ہیں، مشقوں کے لیے منتخب کیے جانے والے ایئر بیس پر اسرائیل، یونان، امریکا اورمتحدہ عرب امارات کے پرچم لہرارہے ہیں اور مشقوں کے لیے منتخب کردہ نعرہ ’’آگہی کے ساتھ کارروائی‘‘ جگہ جگہ جلی حروف میں درج کیے گئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق مشقوں میں شریک اسرائیلی اور امریکی پائلٹ متحدہ عرب امارات کے پائلٹس کے ساتھ دوستانہ ماحول میں گھلے ملے نظر آتے ہیں اور یہ اندازہ ہی نہیں ہوتاکہ یہ دو ایسے ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کے درمیان سفارتی تعلقات بھی قائم نہیں ہیں یعنی وہ ایک دوسرے کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کرتے۔
توقع ہے کہ یہ مشقیں چند روز میں اختتام پذیر ہوجائیں گی، ان مشقوں کے حوالے سے جو تصاویر سامنے آئی ہیں ان میں متحدہ عرب امارات کے ایف 16 طیارے امریکی فضائیہ کے ٹرانسپورٹ طیاروں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ۔امریکی فوجی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی محکمہ دفاع پنٹاگن نے ان مشقوں میں شرکت کرنے کے لیے12 ایف16C طیارے اور220 پائلٹ اور معاون عملے کے ارکان کو یونان بھیجا ہے۔
امریکی فوجی ذرائع کاکہناہے کہ ان مشترکہ فوجی مشقوں سے حصہ لینے والے ملکوں کے درمیان تعلقات مستحکم ہوں گے اور ان ملکوں کی فضائیہ کو کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فوری کارروائی کے لیے چوکس اور تیار رہنے کی مشق ہوجائے گی۔دفاعی مبصرین نے ان مشقوں میں اسرائیلی فضائیہ کے ساتھ متحدہ عرب امارات کی فضائیہ کی شرکت کو اپنی نوعیت کامنفرد واقعہ قرار دیاہے اور کہاہے کہ اسرائیلی فضائیہ کے ساتھ فوجی مشقوں میں متحدہ عرب امارات کی شرکت معنی خیز ہے۔
کسی ایسے ملک کے ساتھ جس کے ساتھ اسرائیل کے سفارتی تعلقات قائم نہیں فوجی مشقوں میں اسرائیل کی شرکت کا یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے ، کیونکہ گزشتہ سال متحدہ عرب امارات میں ہونے والی فوجی مشقوں میں بھی جسے ’’ریڈ فلیگ ٹریننگ ‘‘ یعنی سرخ پرچم تربیت کا نام دیاگیاتھا،اسپین، پاکستان اور امریکا کے ساتھ اسرائیلی فضائیہ نے حصہ لیاتھا ،گزشتہ سال ہونے والی ان مشقوں میں اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور پاکستان کی شرکت کو اپنی نوعیت کامنفرد واقعہ قرار دیاگیاتھا اور ان مشقوں کو اسرائیل سے پاکستان اورمتحدہ عرب امارات کی دوری ختم کرنے کاایک ذریعہ قرار دیاگیاتھا اوریہ خیال ظاہرکیاگیاتھا کہ امریکا نے متحدہ عرب امارات اور پاکستان کو اسرائیل کے قریب لانے کے لیے ان مشقوں میں ان دونوں ملکوں کی شرکت کااہتمام کیاتھا۔
اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اگرچہ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں اور متحدہ عرب امارات اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا لیکن گزشتہ کچھ عرصے کے دوران غیرملکی میڈیا میں آنے والی خبروں سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ ان دونوں ملکوں کے درمیان اندرون خانہ خفیہ رابطے موجود ہیں۔جبکہ حالیہ برسوں کے دوران اسرائیل نے اپنی فوجی قوت خاص طورپر فضائیہ کو متحرک کرنے پر خصوصی توجہ دی ہے اور ایک ہفتہ قبل بھی اسرائیلی فضائیہ نے ایف 16 طیاروں کے ساتھ قبرص میں ہونے والی فضائی مشقوں میں حصہ لیاتھا ان مشقوں کا مقصد بھی فضائیہ کومتحرک رکھنا اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فوری جوابی کارروائی کے لیے تیار کرنا بتایاگیاتھا۔
اطلاعات کے مطابق اب نومبر میں اسرائیل میں بڑے پیمانے پر فوجی مشقوں کاپروگرام بنایاگیاہے جس میں دیگر ممالک کے علاوہ بھارت ، امریکا ،پولینڈ اور اٹلی شریک ہوں گے۔اسرائیلی روزنامے ہیرٹز کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت نے ان مشقوں کاانتظام سرکاری طورپر کرنے کے بجائے اس کے انتظام کاٹھیکہ دینے اور اس مقصد کے لیے نجی کمپنی کی خدمات حاصل کرنے کافیصلہ کیاہے۔
اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ عامر ایشل نے چند ماہ قبل کہاتھا کہ اسرائیل اور غیر ممالک کے درمیان فوجی تعاون کے اعتبار سے یہ سال بہت اہم ہے کیونکہ اس سال مختلف ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کے بعد اب نومبر میں اسرائیل میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی فوجی مشقیں شروع ہوں گی جس میں 9 ممالک کی فوجیں شریک ہوں گی۔
اسرائیل نے فوجی تعاون کے حوالے سے یونان کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کررکھے ہیں اور اسرائیل حالیہ فوجی مشقوں کے علاوہ اس سے قبل بھی گزشتہ دو برسوں کے دوران یونان کے ساتھ فوجی مشقوںمیںشرکت کرتارہاہے اورمشترکہ فوجی اور فضائی مشقوں کے لیے اپنے طیارے یونان بھیجتا رہا ہے۔ ابھی گزشتہ ہفتہ ہی اسرائیل کے منصوبہ بندی ڈویژن میں غیر ملکی تعلقات سے متعلق شعبے کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل ایرز میسیل نے یونان کے ساتھ فوجی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
اس سے قبل اسرائیل کے ایک سینئر افسر نے اسرائیل اور یونان کے درمیان تعاون فوجی اعتبار سے انتہائی اہمیت کاقرار دیتے ہوئے کہاتھا کہ یونان اور اسرائیل کے فوجی اور اقتصادی مفادات ایک ہیں۔کم وبیش 6 ماہ قبل اسرائیلی ہیلی کاپٹروںکے یانشف اوریاسرنامی اسکواڈرنز نے یونان میں مشترکہ مشقوں میں حصہ لیاتھا اور ان مشقوں کے دوران مائونٹ اولمپس پر اترنے کی مشقیں بھی کی تھیں۔ان مشقوںکامقصد مشکل مقامات پر ہیلی کاپٹر اورفوجیں اتارنے کی صلاحیت حاصل کرنا تھا۔ان مشقوں میں حصہ لینے والے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل جیلاڈ نے ہیرٹز سے باتیں کرتے ہوئے کہاتھا کہ ہمارے پاس صرف مائونٹ ہرمن ہے جبکہ یہاں اس جیسے بہت سے پہاڑ ہیں جہاں ہم ایک دن اترسکتے ہیں۔
ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت وجود - هفته 28 فروری 2026

افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

مضامین
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں وجود هفته 28 فروری 2026
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں

گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر