... loading ...

سابق صدر آصف زرداری کے بہنوئی فضل اللہ پیچوہو نے محکمہ تعلیم میں وہ کارنامے سر انجام دیے کہ عقل دنگ رہ جائے ،محکمہ تعلیم میں انہوں نے اپنی ہی مرضی سے ہرفیصلے کےے چاہے وہ فیصلے قانونی تھے یا غیر قانونی ، مگر انہوں نے اس پر عمل کرکے دکھادیا کیونکہ انہیں نتائج کی کوئی پروانہےں رہی۔ رواں مالی سال 2016-17ءکا بجٹ جب وزیر خزانہ (موجودہ وزیر اعلیٰ) سید مراد علی شاہ پیش کررہے تھے تو اس وقت انہوں نے اعلان کردیا کہ حکومت سندھ 2 ہزار ہیڈ ماسٹرز بھرتی کرے گی۔ کسی نے اس وقت کے وزیر خزانہ یا وزیر اعلیٰ سے پوچھا کہ جناب ہیڈ ماسٹر تو گریڈ 17 کا ہوتا ہے آپ کس قانون کے تحت ان کو بھرتی کررہے ہیں؟ گریڈ 17 کی بھرتی کا اختیار تو سندھ پبلک سروس کمیشن کو ہوتا ہے لیکن فضل اللہ پیچوہو کی سفارش کو وہ بھلا کیسے مسترد کرسکتے تھے؟ فضل اللہ پیچوہو نے جال ہی ایسا بچھایا تھا جس میں مراد علی شاہ اور قائم علی شاہ آسانی سے پھنس گئے۔ فضل اللہ پیچوہو نے حکمت عملی یہ بنائی کہ ان ہیڈ ماسٹرز کو کنٹریکٹ پر ہیڈ ماسٹر بنایا جائے گا اور دو سال بعد ان کو ہٹادیا جائے گا ۔یہ عجیب و غریب منطق تھی مگر اس پر اعتراض کون کرتا؟ خیر اخبار میں اشتہار دیا گیا، تجربہ اور تعلیمی اسناد مقرر کی گئیں، ہزاروں اساتذہ نے درخواستیں دیں، اچانک فضل اللہ پیچوہو نے ایک لیٹر جاری کر دیا کہ تجربہ 3 سال کا نہیں بلکہ پانچ سال کا ہونا چاہیے، اخبار میں اشتہار دیتے وقت غلطی ہوگئی اور پھر پانچ سال تجربہ کی بنیاد پر انٹرویو کے لئے اساتذہ کو بلایا گیا جس میں 1500 کامیاب ٹھہرے لیکن یہاں بھی ڈنڈی ماری گئی اور اس طرح پیچیدگی پیدا کی گئی کہ 1050 امیدوار کامیاب قرار پائے ۔آئی بی اے سکھر سے امیدواروں کے انٹرویو کرائے گئے ،جب سندھ پبلک سروس کمیشن جیسا ادارہ ہے تو پھر آئی بی اے یا این ٹی ایس سے انٹرویو لینے کا کیا مطلب تھا؟ مطلب واضح تھا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کا امتحان اگرامیدوار پاس کرلیتے تو وہ میرٹ پر آتے اور رشوت نہ دیتے مگر آئی بی اے کا ٹیسٹ لینے سے قبل یہاں تو ہر امیدوار سے 20 لاکھ روپے طلب کئے گئے جس نے دیے ،اس کی فہرست بناکر آئی بی اے سکھر کو دی گئی ۔آئی بی اے سکھر نے اس میں سے 800 کے قریب امیدواروں کو ہیڈ ماسٹر بننے کا اہل قرار دے دیا، یوں پورا معاملہ تنازعات کی نذر ہوتا گیا۔رہ جانے والے امیدواروں نے اعلیٰ عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا، فضل اللہ پیچوہو کو اصل منصوبہ ناکام ہوتا نظر آرہا تھا ،ایسی صورتحال میں حکومت سندھ بری طرح پھنس گئی ۔ان ہی دنوں میر ہزار خان بجارانی کو وزیر تعلیم بنایا گیا لیکن انہوں نے اس تنازع کو دیکھ کر محکمہ تعلیم کا قلمدان سنبھالنے سے قطعی انکار کردیااور پھر یہ محکمہ چند روز نثار کھوڑو کو دیا گیا لیکن بعد ازاں یہ محکمہ جام مہتاب ڈہر کو دے دیا گیا، جام مہتاب ڈہر کی شہرت اچھی ہے اور انہوں نے خواہ مخواہ خود کو تنازعات میں نہیں الجھایا۔ انہوں نے پوری صورتحال کی چھان بین کرکے بڑے صاحب کو بتادیا کہ جناب اس معاملہ کو ختم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ فضل اللہ پیچوہو سے محکمہ تعلیم واپس لے کر دوسرا محکمہ دے دیا جائے ،ورنہ مصیبت بڑھ جائے گی۔ بڑے صاحب نے بھی محسوس کیا کہ پہلے سندھ ہائی کورٹ سے فضل اللہ پیچوہو کے خلاف فیصلہ آیا ہے، پھر سپریم کورٹ سے بھی ایسے فیصلے آسکتے ہیں۔ اس لئے اس سے بہتر ہے کہ فضل اللہ پیچوہو کو دوسرے محکمے میں بھیجا جائے تب انہوں نے منظوری دے دی اور ان کو محکمہ صحت کا سیکریٹری بنادیا گیا۔ فضل اللہ پیچوہو محکمہ تعلیم سے گئے تو سب نے شکر ادا کیا اور محکمہ تعلیم سے مصیبت بھی ٹل گئی۔اس کے بعد محکمہ تعلیم کے حکام اور حکومت سندھ نے مل بیٹھ کر طے کیا کہ اب گند تو ہوچکا ہے اس گند کو صاف کرنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ ہیڈ ماسٹرز کو بھرتی کیا جائے ،بالآخر 850 ہیڈ ماسٹرز بھرتی کرلیے گئے اور اب ان کو زیبسٹ سے ٹریننگ بھی دلائی جارہی ہے اور اس مقصد کے لئے بجٹ سے ہٹ کر ان ہیڈ ماسٹرز کی تربیت کے لئے پانچ کروڑ روپے کا فند بھی جاری کردیا گیا ہے ۔اس طرح جو کھیل فضل اللہ پیچوہو نے کھیلنے کا آغاز کیا تھا اس میں وہ اپنی پوسٹنگ بھی گنوا بیٹھا مگر سینکڑوں اساتذہ کو عدالت جانے پر مجبور کردیا اور پھر عدالتوں سے جو احکامات آئے وہ حکومت سندھ کے لئے پریشانی کا باعث بنے۔بڑے صاحب نے مجبور ہوکر فضل اللہ پیچوہو کے تبادلے کے احکامات جاری کیے اور پھر حکومت سندھ نے نصف ہیڈ ماسٹرز بھرتی کرکے اپنی جان چھڑالی، مگر اب بھی ایک چارج شیٹ تیار ہوگئی ہے ،جب بھی حکومت تبدیل ہوئی یا عام الیکشن ہوئے تو فضل اللہ پیچوہو کے خلاف یہ کیس نیب یا اعلیٰ عدالتوں میںضرور پیش ہوگا کہ کس قانون کے تحت براہ راست ہیڈ ماسٹر بھرتی کئے گئے اور سندھ پبلک سروس کمیشن کو کیوں بائی پاس کیا گیا؟
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...
ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...
ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...
بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...
شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...
گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...
سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...
واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...
پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...
حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...
خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...