... loading ...

امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کمبوڈیا کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے ویت نام کی جنگ کے دوران امریکا سے حاصل کئے گئے قرض کی رقم سود سمیت واپس نہیں کی تو اس کو اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔دوسری جانب کمبوڈیا کی حکومت کا موقف یہ ہے کہ ویت نام کی جنگ کے دوران امریکا نے کمبوڈیا کی معیشت کو بری طرح تباہ کیااور کمبوڈیا کو لاکھوں پناہ گزینوں کو پناہ دینے پر مجبور کیا جس کی وجہ سے کمبوڈیا کی معیشت پر منفی اثرات پڑے اس لیے امریکا کا اخلاقی فرض ہے کہ اس نے کمبوڈیا کو جو نقصان پہنچایاہے اس کی تلافی کے لیے جنگ کے دورکے اس کے تمام قرض سود سمیت معاف کردے۔
ویت نام کی جنگ کے دوران امریکا نے ویت نام سے آنے والے پناہ گزینوں کی رہائش خوراک اور لباس کا انتظام کرنے کے لیے کمبوڈیا کو لاکھوں ڈالر دیے تھے ۔ویت نام سے یہ پناہ گزین امریکی بمبار B-52 طیاروں کی اندھادھند بمباری کی وجہ سے اپنے گاؤں تباہ وبرباد ہوجانے کی وجہ سے بے گھر ہونے کے سبب پناہ لینے کمبوڈیا پہنچ رہے تھے ۔اس وقت اور اس کے بعد امریکا کی کسی حکومت نے کمبوڈیا پر اس رقم کی واپسی کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا ، جبکہ کمبوڈیا کی حکومت کا شروع ہی سے یہ موقف رہاہے کہ امریکا نے اسے جنگ کے دوران جو امداد دی ہے وہ خود امریکا کے پیدا کردہ مسائل حل کرنے پر خرچ کی گئی اس لیے امریکا کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ نہ صرف قرض کی وہ رقم سود سمیت معاف کرے بلکہ اس کی وجہ سے کمبوڈیا کی معیشت کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان کے ازالے کے لیے ہرجانہ بھی ادا کرے ، امریکا میں اب تک آنے والی کسی بھی حکومت نے اگرچہ کمبوڈیا کی حکومت کا یہ موقف کبھی تسلیم نہیں کیا لیکن قرض کی واپسی کے لیے کبھی زیادہ دباؤ بھی نہیں ڈالا ,اس طرح وقت گزرتا چلا گیا لیکن اب ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت تمام اخلاقی تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کمبوڈیا کی حکومت پر قرض کی واپسی کے لیے دباؤ بڑھارہی اور اب بات دباؤ سے آگے بڑھ کر دھمکیوں تک پہنچ گئی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ حکومت نے کمبوڈیا کو پیغام دیا ہے کہ قرض قرض ہوتاہے اس میں کوئی اخلاقی ذمہ داری نہیں ہوتی ،یہ کمبوڈیاکی حکومت کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکا کا قرض واپس کرنے کا انتظام کرے۔کمبوڈیا کے موجودہ وزیر اعظم ہون سین کو امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا مداح تصور کیاجاتاہے ، انھوںنے گزشتہ فروری میں ڈونلڈ ٹرمپ کو خط لکھاتھا کہ یہ کیسے ہوسکتاہے کہ تم نے ہمارے ملک پر حملہ کیا ،ہمارے بھرے پرے گاؤں کے گاؤں تباہ وبرباد کردیئے، ان پر کھڑی فصلیں تمہاری اندھادھند بمباری کی نذر ہوگئیں جس کی وجہ سے ہم قحط جیسی صورت حال سے دوچار ہوگئے اور پھر جب ہم نے اس صورت حال سے بچنے اور کمبوڈیا کے عوام کو خوراک کی فراہمی کے لیے تم سے چاول، گندم اور تیل وغیرہ حاصل کیا تو اب تم اس کو قرض شمار کرکے ہم سے وہ رقم سود سمیت طلب کررہے ہو ،یہ کہاں کا انصاف ہے ؟لیکن اس کے جواب میں امریکی انتظامیہ نے یہی جواب دیاہے کہ قرض قرض ہوتاہے خواہ وہ کسی بھی مقصد کے لیے لیاجائے۔
1965 سے1973 کے دوران امریکا ویت نام کے ساتھ جنگ لڑتارہا، اس دوران امریکا نے ویت نام میں امریکا کے ساتھ لڑائی میں مصروف کھیمر روج کی سپلائی لائن کاٹنے اور ان کو محصو ر کرکے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے کمبوڈیا کے شمالی علاقے میں کم وبیش 5لاکھ ٹن بم برسائے ،1969 میں رچرڈ نکسن کے دور میں امریکی فوج نے ویت نام سے اپنی فوجیں بحفاظت نکالنے کے لیے وقت حاصل کرنے کی غرض سے کمبوڈیا کی حکومت سے برسرپیکار کھیمر روج کی پیش قدمی روکنے کے لیے جنوبی ویت نام میں بے تحاشہ بمباری کی جس کی وجہ سے کمبوڈیا میں چاول کاشت کرنے والے کاشت کاروں کو اپنے کھیتوں پر کھڑی فصلیں چھوڑ کر جان بچاکر بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا تھا جس کی وجہ سے کمبوڈیا میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی ۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے امریکا نے جو کمبوڈیا کی کمیونسٹ مخالف لون نول حکومت کو سپورٹ کررہاتھا، اس وقت کی حکومت کو امریکا سے چاول ، گندم ،تیل اور دیگر اجناس کی خریداری کے لیے 274 ملین ڈالرکی امداد فراہم کی تھی۔یہ امداد ”امن کے لیے خوراک “ نامی منصوبے کے تحت کمبوڈیا کو دی گئی تھی۔
1990 میں جب کمبوڈیا جنگ کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے بعد کسی حد تک کھڑا ہونے کے قابل ہوا تو امریکا نے اس دور میں دی گئی امداد کی رقم کی واپسی کامطالبہ شروع کردیا ،اس وقت تک قرض کی یہ رقم بڑھتے بڑھتے506 ملین ڈالر تک پہنچ چکی تھی ،نوم پنہہ میں امریکی سفارتخانے کے ایک ترجمان جے رامن کا کہناہے کہ ہم ایسے ملکوں کا قرض معاف نہیں کرسکتے جو قرض ادا کرنے کی صلاحیت اور سکت رکھتے ہیں لیکن قرض واپس نہیں کرنا چاہتے۔
کمبوڈیا کاکہناہے کہ امریکا کی جانب سے کمبوڈیا کی اس وقت کی حکومت کو دیاجانے والا قرضہ ہی غیر قانونی تھا کیونکہ ا س وقت کے شہزادہ نوردم سہانوک کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرنے والی حکومت غیر قانونی تھی ،اور ایک غیر قانونی طورپر قائم ہونے والی حکومت کو امریکا کی جانب سے قرض کی فراہمی کاکوئی جواز ہی نہیں تھا لہٰذا اب امریکا کو اس غیر قانونی حکومت کو دیے گئے قرض کی واپسی کاکوئی جواز نہیں بنتا۔
امریکا کمبوڈیا کی حکومت کایہ موقف بھی تسلیم کرنے کوتیار نہیں کہ وہ امریکی قرض واپس کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا کیونکہ کمبوڈیا نے گزشتہ برسوں کے دوران تیزی سے ترقی کی ہے اور گزشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق اب اس کاشمار دنیا کے متوسط آمدنی والے ممالک میں ہونے لگاہے، اور اس کی سالانہ ملکی پیداوار 19ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کاکہناہے کہ امریکی قرض واپس کرنے سے انکار کی وجہ سے کمبوڈیا کی قرض حاصل کرنے کی حیثیت متاثر ہورہی ہے کیونکہ کسی ایسے ملک کو جو دوسروں کا قرض واپس کرنے سے انکاری ہو آسان شرائط پر قرض کی فراہمی ممکن نہیں رہتی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ اس مسئلے کاکیاحل تلاش کرتی ہے اور کمبوڈیا کو اس حوالے سے کوئی ریلیف دینے پرتیار ہوتی ہے یا نہیں ؟
جولیا ویلس
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...
عدالت نے9مئی مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کر دی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 23دسمبر تک ملتوی،بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی ودیگر 5 کیسز کی سماعت کے دور ان 9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات ...
بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں ، کسی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت عدالت میں جمع کرادی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں سپرنٹن...
مزید 6سیٹیںملنے سے قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 132ہوگئی حکمران جماعت کا سادہ اکثریت کیلئے سب سے بڑی اتحادی پیپلز پارٹی پر انحصار بھی ختم ہوگیا ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے کلین سویپ سے قومی اسمبلی میں نمبر گیم تبدیل ہوگئی ،حکمران جماعت کا سادہ ...
غریب صارفین کیلئے ٹیرف 11.72سے بڑھ کر 22.44روپے ہو چکا ہے نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60فیصد، امیروں پر صرف 30فیصد رہ گیا معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا کچا چٹھا کھول دیا،2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا سب سے زیادہ ب...