وجود

... loading ...

وجود

یورپی یونین سے علیحدگی برطانوی شاہی دور کی طرف لوٹنے کے خواہاں

بدھ 05 اپریل 2017 یورپی یونین سے علیحدگی برطانوی شاہی دور کی طرف لوٹنے کے خواہاں


اب جبکہ برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے فیصلے پر دستخط کرچکی ہیں، یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے معاملات طے کرنے کے لیے یورپی یونین کے ساتھ شروع ہونے والے مذاکرات کے بارے میں قیاس آرائیوں اور تجزیوں کا سلسلہ شروع ہوگیاہے،ان تجزیوں اور قیاس آرائیوں میں یورپی یونین کے ممالک کے ساتھ برطانیہ کے ممکنہ تجارتی تعلقات سر فہرست ہیں ۔تاہم سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد عالمی سطح پر عالمی سیاست میں برطانیہ کاکردار کیاہوگا؟
رپورٹس کے مطابق گزشتہ دنوں برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے گزشتہ دنوں یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے فیصلے پر دستخط کردیے اور اس حوالے سے ایک خط یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ڈسک کو بھی لکھ دیا ہے جس میں ان کو مطلع کردیاہے کہ برطانیہ نے یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ کرلیاہے تاہم برطانیہ یورپی یونین میں شامل ممالک کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات قائم رکھے گا اوریورپی ممالک کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون اور اشتراک کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرنے کا یہ فیصلہ حکمران کنزرویٹو پارٹی کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ کنزرویٹو پارٹی نے آخری دم تک اس فیصلے سے گریز کی کوشش کی اور اس میں ناکامی پر ہی کنزرویٹو پارٹی کے سابق سربراہ ڈیوڈ کیمرون کو پارٹی کی قیادت اور وزارت عظمیٰ دونوں ہی سے ہاتھ دھونا پڑے ، اس صورت حال میںبرطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کے سامنے برطانوی عوام کی رائے کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں تھا۔
وزیر اعظم تھریسا مے نے واضح کیاہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد برطانیہ عالمی سطح پر زیادہ وسیع کردار ادا کرسکے گا جبکہ یورپی یونین سے علیحدگی کے حامی گروپ کا دعویٰ ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد اب برطانیہ کوپوری دنیا میں اپنا وہ سابقہ کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا جس کے ذریعہ برطانیہ دنیا کے وسیع علاقے پر حکمرانی کرتارہاتھا۔
دنیا میں سرکردہ کردار ادا کرنے کے حوالے سے برطانیہ کے کردار کی سوچ بلا شبہ ایک ایسی سوچ ہے جس کی21 ویں صدی میں کوئی گنجائش نظر نہیں آتی ،ایسی سوچ رکھنے والوں کو اپنے نظریات پر نظرثانی کرتے ہوئے آمرانہ سوچ کو ترک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
معروف مؤرخ ڈیوڈ اسٹارکے نے گزشتہ روز برطانوی چینل کے ایک پروگرام میں یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے حوالے اظہار خیال کرتے ہوئے اسے شاہ ہنری ہشتم کی روم سے علیحدگی کے واقعے سے تشبیہ دی اورکہاکہ اس کے بعد ہونے والی اصلاحات کے نتیجے میں برطانیہ کو عروج حاصل ہوتا گیااور اس کی سرحدیں پھیلتی چلی گئیں، اس طرح یورپی یونین سے علیحدگی کو بھی بادشاہت کے ایک نئے دور کا آغاز تصور کیاجانا چاہیے۔
یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کے بعد سے یورپی یونین کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے جو تبصرے اور تجزیے سامنے آرہے ہیں ان سب میں سابقہ شاہانہ سوچ نمایاں نظر آرہی ہے۔تھریسا مے نے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یورپی یونین کے تمام ممالک کے ساتھ برطانیہ کے تجارتی تعلقات کو دوبارہ استوار کرنے اور باہمی تعلقات کو مضبوط ومستحکم بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔تاہم یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد برطانیہ کے مستقبل، بادشاہت کے سابقہ تابناک اور سنہرے دور کی بحالی ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ برطانیہ کے بین الاقوامی تجارتی امور کے وزیر لیم فاکس یورپی ممالک کے ساتھ برطانیہ کے تجارتی روابط کے حوالے سے جو مذاکرات کررہے ہیں اسے وہائٹ ہال کے حکام نے ’’ایمپائر2.0 ‘‘ کا نام دیا ہے۔
دوسری جانب دولت مشترکہ میں شامل ممالک کے ساتھ تجارت پر خصوصی توجہ کی پالیسی سے کئی اور سوال کھڑے ہورہے ہیں۔ان میں سب سے بڑا سوال زبان اور نسل کی بنیادپر تعلقات میں ترجیح دیے جانے کے حوالے سے پیدا ہونے والے اعتراض کا ہے،یہ برطانیہ کا بہت پرانا مسئلہ رہاہے اور اسے سابقہ توسیع پسندانہ شاہی دور کی باقیات کہا جاسکتاہے۔جبکہ یورپی یونین سے علیحدگی کے حامی بادشاہت کے سابق کردار کی بحالی کے حوالے سے اپنے خیالات پر ندامت محسوس نہیں کرتے ۔
بادشاہت کے سابقہ کردار یا دنیا کے بڑے حصے پر بادشاہت کے دور کے کردار کے حوالے سے تشویش کااظہار کرنے والوں کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد اب یورپی ممالک کے ساتھ مستقبل کے تجارتی تعلقات کے حوالے سے بھی وہی شاہانہ سوچ کارفررکھی جائے گی ۔مثال کے طورپر بھارت کے ایک معروف سیاستداں ششی تھروور نے واضح الفاظ میں ہندوستان پر برطانیہ کی 200 سالہ حکمرانی کو لوٹ مار کا دور قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں ’’امپائر2.0 ‘‘ کاغبارہ زمین پر گرکر پھٹ جائے گا۔اس صورت حال میں برطانیہ کو بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات میں اضافے کے لیے بات چیت کرتے ہوئے یہ بات ذہن میںرکھنا ہوگی کہ شاہی برتری قائم کرنے کی سوچ اب قابل عمل نہیں ہوگی۔
تجارت کے شعبے میں اب امریکا اور چین جیسے زبردست ممالک اپنے منصوبوںاور عزائم کے ساتھ سامنے موجود ہیں،یہ عالمی اقتصادی قوتیں نہ صرف یہ کہ برطانیہ کی ’’امپائر2.0 ‘‘ کو خاطر میں لانے کو کبھی تیار نہیں ہوں گی بلکہ ان عالمی طاقتوں اور برطانیہ کے درمیان طاقت کا عدم توازن برطانیہ کی شاہی سوچ کے لیے نقصان دِہ ثابت ہوگا۔
موجودہ صورت حال میں سنجیدگی اور دانش کا تقاضہ یہی ہے کہ برطانیہ کے عوام کو سابقہ شاہی دور کی عظمت کاخواب دکھانے سے گریز کیاجائے اور انہیں اب حقائق کو سمجھنے کاموقع دینے کے ساتھ ہی اس فیصلے کے مثبت پہلوئوںکے ساتھ ہی منفی پہلوئوں سے بھی آگاہ کرنے اور انہیںذہنی طورپر اس کاسامنا کرنے کے لیے تیارکرنا چاہیے ،تاکہ بعد میں انہیں مایوسی کاسامنا نہ کرنا پڑے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ برطانوی سیاستداں خاص طورپر یورپی یونین سے علیحدگی کی بڑھ چڑھ کر وکالت کرنے والے حلقے اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں، یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے پر عملدرآمدکا کیا طریقہ کار اختیار کرتے ہیں،تاہم یہ بات یقینی ہے کہ اس مرحلے پر بالادستی اور حکمرانی اور تسلط کی سوچ بحیثیت مجموعی برطانیہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
اسٹین نیل


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر