وجود

... loading ...

وجود

امریکہ میں اب انٹرنیٹ بھی غیر محفوظ،ڈونلڈ ٹرمپ نے پرائیویسی ختم کردی

پیر 03 اپریل 2017 امریکہ میں اب انٹرنیٹ بھی غیر محفوظ،ڈونلڈ ٹرمپ نے پرائیویسی ختم کردی


مارچ کے آخری ہفتہ کے دوران جب امریکی عوام ایوان کی انٹیلی جنس کمیٹی کی کارروائی پر نظریں جمائے ہوئے تھے ،ایوان نے انتہائی خاموشی سے آئین کی اس شق کو ختم کرنے کی منظوری دیدی جس کے تحت انٹرنیٹ کی سروس فراہم کرنے والے ادارے صارفین کی تفصیلات کو خفیہ رکھنے کے پابند تھے، اس شق کے خاتمے کے بعد اب امریکی عوام کو انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے ادارے جن میںکوم کاسٹ، ویریزون اورچارٹر شامل ہیں صارفین کی تمام تفصیلات جن میں ان کا ذاتی ڈیٹا ،بینک اکاؤنٹ، لین دین غرض ہر طرح کی تفصیلات کسی کو بھی منتقل کرنے کی آزادی حاصل ہوگئی ہے ۔
امریکی سینیٹ اس بل کی پہلے ہی منظوری دے چکی ہے۔اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ جن کی ایما پر یہ بل سینیٹ اور کانگریس سے منظور کیاگیا ہے کسی بھی وقت اس پر دستخط کرکے اسے نافذ العمل کرسکتے ہیں اور اس سے آن لائن پرائیویسی ختم ہوکر رہ جائے گی۔
اس بل سے صرف کیبل کمپنیوں اور وائر لیس سروس فراہم کرنے والوں کو آپ کی پوری براؤزنگ ہسٹری ،آپ کی شاپنگ کی عادات، آپ کامحل وقوع ،آپ کی سرگرمیوں اور آن لائن آپ کی مصروفیات تک ہی رسائی حاصل کرنے اور ان تفصیلات کو کسی کو بھی منتقل کرنے کی اجازت ہی نہیں مل جائے گی بلکہ اس بل کے ذریعہ وفاقی کمیونی کیشن کمیشن کو صارفین کی پرائیویسی یعنی خلوت کے تحفظ کے لیے اس طرح کا کوئی اور قانون بنانے کا اختیار بھی نہیں رہے گا۔
یہ بل ایف سی سی میں ری پبلکن کی اکثریت اور کانگریس میںری پبلکن ارکان کی کارستانی کا نتیجہ ہے ،اس بل سے یہ پرانا تاثر اور تصور ختم ہوگیاہے کہ آپ آن لائن جو کچھ کرتے ہیں وہ آپ کی ذاتی ملکیت ہے آن لائن سروس فراہم کرنے والے ادارے کی نہیں اور آپ کی خلوت میں دخل اندازی کا کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا۔
امریکی ایوانوں میں موجود ریپبلکن اور ڈیموکریٹس دونوں ہی پارٹیوں کے ارکان برسہابرس سے اس بات پر متفق تھے کہ ایسے وفاقی قوانین ضروری ہیں جن کے ذریعے ٹیلی فون اور دیگر مواصلاتی ذرائع پر لوگوں کی خلوت کاتحفظ کیا جاسکے۔
2016ءمیں اوباما دور میںوفاقی آئینی کمیٹی نے اسی قانون کے تحت انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اس قانون کے دائرہ کار کو وسیع کردیاتھا اور اس کا دائرہ کار انٹرنیٹ اور آن لائن سرگرمیوں تک بڑھادیاگیاتھا اور اس قانون کے تحت انٹرنیٹ پر عام لوگوں کی سرگرمیوں میں کسی کو دخل دینے یا اسے کسی اور کو منتقل کرنے کا حق ختم کردیاگیاتھا لیکن اس قانون کی منظوری کے بعد اب وہ تحفظ ختم ہوگیا ہے، اور انٹرنیٹ کے صارفین کو اپنی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے قانون کی جو چھتری حاصل تھی وہ ان کے سروں سے ہٹالی گئی ہے۔
ایوان میں موجود ڈیموکریٹ ارکان اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والا صارف اپنی انٹرنیٹ کی مصروفیات اور سرگرمیوں کابلاشرکت غیر مالک ہے اور کسی کو اس میں دخل اندازی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔اوباما دور میں بھی وفاقی کمیونی کیشن کمیشن میں موجود ری پبلکن ارکان نے یہ مؤقف اختیار کیاتھا کہ انٹرنیٹ پر عوام کی سرگرمیاں یعنی نیٹ ور ک پر موجود ان کی تفصیلات قابل فروخت ہونی چاہئےں ، اس وقت کمیشن میں اس مسئلے پر باقاعدہ رائے شماری کرائی گئی تھی اور ڈیموکریٹ ارکان نے 3-2 کی اکثریت سے ری پبلکنزکی یہ کوشش ناکام بنادی تھی۔
انٹرنیٹ اور آن لائن وائر لیس سروس کے صارفین کو حاصل یہ تحفظ ختم کیا جانا دراصل کیبل اور ٹیلی فون کمپنیوں کا دیرینہ خواب پورا کرنے کے مترادف ہے جو ہمیشہ سے یہ چاہتی تھیں کہ انہیں صارفین کے پرسنل یعنی خالص ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوجائے اور وہ ان میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ ڈیٹا بلاروک ٹوک فروخت کرسکیں۔ٹیلی فون اور کیبل آپریٹرز کی اس خواہش سے ظاہر ہوتاہے کہ نیٹ ورک اداروں کے سربراہ صارفین کا ڈیٹا فروخت کرکے زیادہ سے زیادہ منافع کمانا چاہتے ہیں تاکہ ان کے شیئر ہولڈرز کو ان کے سرمائے پر زیادہ سے زیادہ رقم مل سکے اور اس طرح ان کا کاروبار وسعت اختیار کرتا چلاجائے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ نیٹ ورک اداروں کے یہ مالکان ایک ایسی چیز فروخت کرنا چاہتے ہیں جو ان کی اپنی نہیں ہے اور اخلاقیات کے کسی بھی اصول کے تحت وہ اس تک رسائی حاصل کرنے کا حق نہیں رکھتے۔
مثال کے طورپر اب اگر آپ اپنے اسمارٹ فون پر کوئی کال کرتے ہیں تو وہ محفوظ ہوتی ہے اورآپ کی فون کمپنی اسے کسی اور کو منتقل یا فروخت نہیں کرسکتی اور کسی کو یہ نہیں بتاسکتی کہ آپ نے اپنے یا کسی کارکی ڈیلرشپ حاصل کرنے کے لیے کسی کو فون کررہے ہیں لیکن اگر یہی کال یہی ڈیوائس آپ انٹرنیٹ پر استعمال کرتے یہ فون کرتے ہیں تو آپ کاانٹرنیٹ فراہم کرنے والا ادارہ آپ کی اس کال سے ایسے دوسرے لوگوں کوآگاہ کردے گا جواپنی کار فروخت کرنا چاہتے ہوں اس طرح آپ کے لیے ایک عذاب کھڑا ہوسکتاہے۔اس سے آپ ذہنی طورپر بھی پریشان ہوں گے اور آپ کاوقت بھی ضائع ہوگا ۔آپ نیٹ ورک کو ماہانہ فیس اس لیے ادا نہیں کرتے کہ آپ کی معلومات آپ کی سرگرمیوں کی اطلاعات اور تفصیلات دوسروں کوفروخت کردی جائیں اور آپ کا کوئی عمل دوسروں سے پوشیدہ نہ رہ سکے۔اس طرح اس بل کو انٹرنیٹ انڈسٹری کے لیے ایک تحفہ قرار دیاجاسکتاہے۔
وفاقی کمیونی کیشن کمیشن نے امریکی عوام کے غم وغصے کو کم کرنے اور یہ ثابت کرنے کے لیے کہ ان کا اہم ڈیٹا محفوظ رہے گا گزشتہ دنوںایک قانون تیار کیاہے جس کے تحت انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں کو صارفین کے حساس ڈیٹا کو جس میں سوشل سیکورٹی نمبر وار کریڈٹ کارڈز کی تفصیلات شامل ہیں مخفی رکھنے اور کسی اور کو منتقل نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ،یہ ہدایت انتہائی منافقانہ ہے کیونکہ2015ءمیں اے ٹی اینڈ ٹی پر ایسے ناکافی انتظامات کرنے پر جس کی وجہ سے اس کے ملازمین 2 لاکھ 80 ہزار صارفین کا ڈیٹا چوری کرکے فروخت کردینے میں کامیاب ہوگئے تھے،25 ملین ڈالر کا جرمانہ عاید کیاجاچکاہے اس لیے یہ تصور کرنا کہ اس ہدایت کے بعد ایسا نہیں ہوگا خام خیالی کے سوا کیاہوسکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد دراصل وہائٹ ہاؤس میں امریکی عوام کوجکڑنے کے لیے جو منصوبے تیار کیے جارہے ہیں اس طرح کے قوانین اور ہدایت عوام کی توجہ ان کی جانب سے ہٹانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہیں۔اگر ڈونلڈ انتظامیہ کسی بھی وقت اس ہدایت یا قانون کو بھی ختم کردے تو کسی کو پتہ بھی نہیں چل سکے گا ،اس ملک میں جہاں پہلے ہی روس کی جانب سے ہیکنگ کے مسئلے کو دبانے اور اوباما کیئر پروگراموں کے خاتمے کے لیے کوششیں کی جارہی ہوں کسی بھی چیز اور بات کی توقع کی جاسکتی ہے۔
اس ملک میں اب منافقت کادور دورہ ہے اور جو شخص وہائٹ ہاؤس کی اونچی کرسی پر براجمان ہے وہ اپنے معاونین کی تمام سرگرمیوں کی مسلسل جاسوسی کاخواہاں ہے تاکہ اسے یہ معلوم ہوسکے کہ اس کا کون سامعاون کیاکررہاہے اور اس سے اس کی اپنی ذات کوکیافائدہ یا نقصان پہنچ سکتاہے۔وہ کسی بھی وقت بخوشی کسی بھی ایسے حکم اور قانون پر دستخط کردے گا جس کے تحت کسی بھی امریکی شہری کی ذاتی معلومات کسی کو بھی فروخت کرنا ناممکن نہیں رہے گا۔ایسا معلوم ہوتاہے کہ کانگریس میں موجود ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی کے ارکان اور ان کے اتحادی صرف اپنی پرائیویسی پر یقین رکھتے ہیں اور وہ اس کے لیے کسی کی بھی خلوت میں دخل اندازی کو غلط تصور نہیں کرتے ،لیکن اس طرح کے قوانین سے خود ان کی خلوت اور پرائیویسی بھی قائم نہیں رہ سکے گی اور اس قانون کی مدد سے ان کے انٹرنیٹ کا ڈیٹا بھی قانون کے تحت قابل فروخت قرار پائے گا اور جب یہ ڈیٹا منظر عام پر آئے گا تو نت نئے اسکینڈلز کابھی انکشاف ہوگا جس سے جان بچانا ان کے لیے آسان نہیں ہوگا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر